Al-Kahf • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ وَمَا نُرْسِلُ ٱلْمُرْسَلِينَ إِلَّا مُبَشِّرِينَ وَمُنذِرِينَ ۚ وَيُجَٰدِلُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِٱلْبَٰطِلِ لِيُدْحِضُوا۟ بِهِ ٱلْحَقَّ ۖ وَٱتَّخَذُوٓا۟ ءَايَٰتِى وَمَآ أُنذِرُوا۟ هُزُوًۭا ﴾
“But We send [Our] message-bearers only as heralds of glad tidings and as warners - whereas those who are bent on denying the truth contend [against them] with fallacious arguments, so as to render void the truth thereby, and to make My messages and warnings a target of their mockery.”
آیت 56 وَمَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِيْنَ اِلَّا مُبَشِّرِيْنَ وَمُنْذِرِيْنَ یہ مضمون جو یہاں سب رسولوں کے متعلق جمع کے صیغے میں آیا ہے سورة بنی اسرائیل میں حضور کے لیے صیغۂ واحد میں یوں آیا ہے : وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ الاَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا ”اور اے محمد ! ہم نے نہیں بھیجا آپ کو مگر مبشر اور نذیر بنا کر۔“وَيُجَادِلُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بالْبَاطِلِ لِيُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ یہ لوگ باطل کے ساتھ کھڑے ہو کر حق کو شکست دینے کے لیے مناظرے اور کٹ حجتیاں کر رہے ہیں۔