An-Nisaa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ إِن تَجْتَنِبُوا۟ كَبَآئِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًۭا كَرِيمًۭا ﴾
“If you avoid the great sins, which you have been enjoined to shun, We shall efface your [minor] bad deeds, and shall cause you to enter an abode of glory.”
فرمایا :آیت 31 اِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَآءِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّاٰتِکُمْ ہم تمہیں ان سے پاک صاف کرتے رہیں گے۔ تم جو بھی نیک کام کرو گے ان کے حوالے سے تمہاری سیّئات خود بخود دھلتی رہیں گی۔وَنُدْخِلْکُمْ مُّدْخَلاً کَرِیْمًا یہ مضمون سورة الشُوریٰ میں بھی آیا ہے اور پھر سورة النجم میں بھی۔ واضح رہے کہ قرآن حکیم میں اہم مضامین کم از کم دو مرتبہ ضرور آتے ہیں اور یہ مضمون قرآن میں تین بار آیا ہے۔دوسرا مسئلہ انسانی معاشرے میں فضیلت کا ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ایک جیسا تو نہیں بنایا ہے۔ کسی کو خوبصورت بنا دیا تو کسی کو بدصورت۔ کوئی صحیح سالم ہے تو کوئی ناقص الاعضاء ہے۔ کسی کا قد اونچا ہے تو کوئی ٹھگنے قد کا ہے اور لوگ اس پر ہنستے ہیں۔ کسی کو مرد بنا دیا ‘ کسی کو عورت۔ اب کوئی عورت اندر ہی اندر کڑھتی رہے کہ مجھے اللہ نے عورت کیوں بنایا تو اس کا حاصل کیا ہوگا ؟ اسی طرح کوئی بدصورت انسان ہے یا ٹھگنا ہے یا کسی اور اعتبار سے کمتر ہے اور وہ دوسرے شخص کو دیکھتا ہے کہ وہ تو بڑا اچھا ہے ‘ تو اب اس پر کڑھنے کے بجائے یہ ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے جو کچھ دیا ہے اس پر صبر اور شکر کرے۔ اللہ کا فضل کسی اور پہلو سے بھی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا وہ ارادہ کرے کہ میں نیکی اور خیر کے کاموں میں آگے بڑھ جاؤں ‘ میں علم میں آگے بڑھ جاؤں۔ اس طرح انسان دوسری چیزوں سے ان چیزوں کی تلافی کرلے جو اسے میسر نہیں ہیں ‘ بجائے اس کے کہ ایک منفی نفسیات پروان چڑھتی چلی جائے۔ اس طرح انسان احساس کمتری کا شکار ہوجاتا ہے اور اندر ہی اندر کڑھتے رہنے سے طرح طرح کی ذہنی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔ ذہنی الجھنوں ‘ محرومیوں اور ناکامیوں کے احساسات کے تحت انسان اپنا ذہنی توازن تک کھو بیٹھتا ہے۔ چناچہ دیکھئے اس ضمن میں کس قدر عمدہ تعلیم دی جا رہی ہے