An-Nisaa • UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
﴿ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًۭا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُم بَدَّلْنَٰهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًۭا ﴾
“for, verily, those who are bent on denying the truth of Our messages We shall, in time, cause to endure fire: [and] every time their skins are burnt off, We shall replace them with new skins, so that they may taste suffering [in full] Verily, God is almighty, wise.”
آیت 56 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْہِمْ نَارًا ط کُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُہُمْ بَدَّلْنٰہُمْ جُلُوْدًا غَیْرَہَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ ط یہ بھی ایک بہت بڑی حقیقت ہے جسے میڈیکل سائنس نے دریافت کیا ہے کہ درد کا احساس انسان کی کھال skin ہی میں ہے۔ اس کے نیچے گوشت اور عضلات وغیرہ میں درد کا احساس نہیں ہے۔ کسی کو چٹکی کاٹی جائے ‘ کانٹا چبھے ‘ چوٹ لگے یا کوئی حصہ جل جائے تو تکلیف اور درد کا سارا احساس جلد ہی میں ہوتا ہے۔ چناچہ ان جہنمیوں کے بارے میں فرمایا گیا کہ جب بھی ان کی کھال آتش جہنم سے جل جائے گی تو اس کی جگہ نئی کھال دے دی جائے گی تاکہ ان کی تکلیف اور سوزش مسلسل رہے ‘ جلن کا احساس برقرار رہے ‘ اس میں کمی نہ ہو۔