slot qris slot gacor terbaru slot gacor terbaik slot dana link slot gacor slot deposit qris slot pulsa slot gacor situs slot gacor slot deposit qris
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة المطففين

(Al-Mutaffifin) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَيْلٌ لِلْمُطَفِّفِينَ

📘 آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“ وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی نوید سنائی گئی ہے۔

وَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ

📘 آیت 9{ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ } ”لکھا ہوا دفتر۔“ اس ”کتاب“ سے مراد ایک انسان کی جان اور روح کا وہ ملغوبہ ہے جس میں اس کے اعمال کے اثرات بھی ثبت ہوتے ہیں۔ کسی برے انسان کے مرنے پر متعلقہ فرشتہ وہ ملغوبہ لا کر سجین میں ”جمع“ کرا دیتا ہے۔

الَّذِينَ يُكَذِّبُونَ بِيَوْمِ الدِّينِ

📘 آیت 9{ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ } ”لکھا ہوا دفتر۔“ اس ”کتاب“ سے مراد ایک انسان کی جان اور روح کا وہ ملغوبہ ہے جس میں اس کے اعمال کے اثرات بھی ثبت ہوتے ہیں۔ کسی برے انسان کے مرنے پر متعلقہ فرشتہ وہ ملغوبہ لا کر سجین میں ”جمع“ کرا دیتا ہے۔

وَمَا يُكَذِّبُ بِهِ إِلَّا كُلُّ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ

📘 آیت 12{ وَمَا یُکَذِّبُ بِہٖٓ اِلَّا کُلُّ مُعْتَدٍ اَثِیْمٍ۔ } ”اور نہیں جھٹلاتا اس دن کو مگر وہی کہ جو حد سے بڑھنے والا گناہگار ہے۔“ ایسا شخص سزا و جزا کے دن کو دراصل اس لیے جھٹلاتا ہے کہ وہ اپنے گناہوں اور حرام خوریوں کی وجہ سے اس دن کے احتساب کا سامنا نہیں کرنا چاہتا۔ چناچہ جس طرح بلی سے بچنے کے لیے کبوتر اپنی آنکھیں بند کرلیتا ہے اسی طرح یوم حساب کی جواب دہی سے بچنے کے لیے ایسے لوگ اس دن کے وقوع کا ہی انکار کردیتے ہیں۔

إِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِ آيَاتُنَا قَالَ أَسَاطِيرُ الْأَوَّلِينَ

📘 آیت 13{ اِذَا تُـتْلٰی عَلَیْہِ اٰیٰتُـنَا قَالَ اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ۔ } ”جب اسے پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری آیات تو کہتا ہے کہ یہ تو پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔“ یعنی یہ تو وہی باتیں ہیں جو پچھلے زمانے کے لوگوں سے سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہیں۔

كَلَّا ۖ بَلْ ۜ رَانَ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ مَا كَانُوا يَكْسِبُونَ

📘 آیت 14{ کَلَّا بَلْ سکتۃ رَانَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ۔ } ”نہیں ! بلکہ اصل صورت حال یہ ہے کہ ان کے دلوں پر زنگ آگیا ہے ان کے اعمال کی وجہ سے۔“ اس ’ زنگ ‘ کی تشریح رسول اللہ ﷺ نے یوں فرمائی ہے کہ ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے۔ اگر وہ توبہ کرلے ‘ اس گناہ سے باز آجائے اور استغفار کرے تو اس کے دل کا یہ داغ صاف ہوجاتا ہے ‘ لیکن اگر وہ گناہوں کا ارتکاب کرتا ہی چلا جائے تو وہ داغ بڑھتے جاتے ہیں ‘ یہاں تک کہ سارے دل کو گھیر لیتے ہیں۔“ مسند احمد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ وغیرہ گناہگار اہل ِایمان کے دلوں کے اندر ان کی روحوں کا ”نور“ تو موجود ہوتا ہے لیکن دلوں کے ”شیشے“ زنگ آلود ہوجانے کی وجہ سے یہ نور خارج میں اپنے اثرات نہیں دکھا سکتا۔ جیسے کسی فانوس یا لالٹین کا شیشہ اگر دھوئیں سے سیاہ ہوجائے تو اس کے اندر جلنے والے شعلے کی روشنی باہر نہیں آسکتی اور باہر کی روشنی اندر نہیں جاسکتی۔ انسانی دل کی اس کیفیت کی وضاحت کرتے ہوئے حضور ﷺ نے اس کا علاج بھی تجویز فرمادیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر - روایت کرتے ہیں کہ آنحضور ﷺ نے ارشاد فرمایا : اِنَّ ھٰذِہِ الْقُلُوْبَ تَصْدَأُ کَمَا یَصْدَأُ الْحَدِیْدُ اِذَا اَصَابَہُ الْمَائُ قِیْلَ : یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَا جِلَائُ ھَا ؟ قَالَ : کَثْرَۃُ ذِکْرِ الْمَوْتِ وَتِلَاوَۃُ الْقُرْآنِ 1”ان دلوں کو بھی زنگ لگ جاتا ہے جیسے لوہا پانی پڑنے سے زنگ آلود ہوجاتا ہے“۔ دریافت کیا گیا : یارسول اللہ ! اس زنگ کو دور کس چیز سے کیا جائے ؟ فرمایا : ”موت کی بکثرت یاد اور قرآن مجید کی تلاوت !“

كَلَّا إِنَّهُمْ عَنْ رَبِّهِمْ يَوْمَئِذٍ لَمَحْجُوبُونَ

📘 آیت 15{ کَلَّآ اِنَّہُمْ عَنْ رَّبِّہِمْ یَوْمَئِذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ۔ } ”نہیں ! یقینایہ لوگ اس دن اپنے رب سے اوٹ میں رکھے جائیں گے۔“ قیامت کے دن یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار سے محروم کردیے جائیں گے۔ اس کے برعکس نیکوکار لوگوں کے لیے سورة القیامہ میں یہ خوشخبری سنائی گئی ہے : { وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ - اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ۔ } کہ اس دن کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ میدانِ حشر میں اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ کے دیدار یا اس کی کسی خاص شان کے مشاہدے سے سرفراز فرمایا جائے گا جس کے باعث اس دن کے سخت مراحل ان کے لیے آسان ہوجائیں گے۔ اس حوالے سے ہمارے عام مفسرین کی رائے بھی یہی ہے کہ میدانِ حشر میں بھی مومنین صادقین کو اللہ تعالیٰ کا دیدار کرایا جائے گا۔ آیت زیر مطالعہ سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ اس وقت میدانِ حشر میں کفار و مشرکین بھی کھڑے ہوں گے لیکن انہیں اس نعمت سے محروم کردیا جائے گا۔ میدانِ حشر کے ایسے ہی ایک منظر کی جھلک سورة نٓ کی اس آیت میں بھی دکھائی گئی ہے : { یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّیُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۔ } ”جس دن پنڈلی کھولی جائے گی ‘ اور انہیں پکارا جائے گا اللہ کے حضور سجدے کے لیے ‘ لیکن وہ کر نہیں سکیں گے“۔ یعنی اہل ایمان جو دنیا میں اللہ تعالیٰ کے حضور سجدے کرتے تھے وہ تو اس حکم کو سنتے ہی سجدے میں گرجائیں گے لیکن دوسرے لوگوں کی کمریں تختہ ہو کر رہ جائیں گی ‘ وہ تمام تر خواہش اور کوشش کے باوجود سجدہ نہیں کرسکیں گے۔

ثُمَّ إِنَّهُمْ لَصَالُو الْجَحِيمِ

📘 آیت 16{ ثُمَّ اِنَّہُمْ لَصَالُوا الْجَحِیْمِ۔ } ”پھر انہیں جھونک دیا جائے گا جہنم میں۔“ اس آیت سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ مذکورہ مرحلہ دوزخ میں داخلے سے پہلے کا ہے ‘ یعنی دیدارِ الٰہی سے محروم رکھے جانے کا واقعہ میدانِ حشر میں ہی رونما ہوگا۔

ثُمَّ يُقَالُ هَٰذَا الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ

📘 آیت 17{ ثُمَّ یُـقَالُ ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : یہ ہے وہ چیز جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے !“ دنیا میں تم لوگ جنت ‘ دوزخ اور جزا و سزا کو بڑے شدومد سے جھٹلایا کرتے تھے۔ اب دیکھ لو ! دوزخ اور اس کی سزائیں حقیقت بن کر تمہارے سامنے آگئی ہیں۔

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْأَبْرَارِ لَفِي عِلِّيِّينَ

📘 آیت 17{ ثُمَّ یُـقَالُ ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : یہ ہے وہ چیز جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے !“ دنیا میں تم لوگ جنت ‘ دوزخ اور جزا و سزا کو بڑے شدومد سے جھٹلایا کرتے تھے۔ اب دیکھ لو ! دوزخ اور اس کی سزائیں حقیقت بن کر تمہارے سامنے آگئی ہیں۔

وَمَا أَدْرَاكَ مَا عِلِّيُّونَ

📘 آیت 17{ ثُمَّ یُـقَالُ ہٰذَا الَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ۔ } ”پھر ان سے کہا جائے گا : یہ ہے وہ چیز جس کی تم تکذیب کیا کرتے تھے !“ دنیا میں تم لوگ جنت ‘ دوزخ اور جزا و سزا کو بڑے شدومد سے جھٹلایا کرتے تھے۔ اب دیکھ لو ! دوزخ اور اس کی سزائیں حقیقت بن کر تمہارے سامنے آگئی ہیں۔

الَّذِينَ إِذَا اكْتَالُوا عَلَى النَّاسِ يَسْتَوْفُونَ

📘 آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“ وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی نوید سنائی گئی ہے۔

كِتَابٌ مَرْقُومٌ

📘 آیت 20{ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ } ”لکھا ہوا دفتر۔“ یعنی ان لوگوں کی ارواح کا مقام جن پر ان کے نیک اعمال کے اثرات بھی ثبت ہوں گے۔

يَشْهَدُهُ الْمُقَرَّبُونَ

📘 آیت 21{ یَّشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ } ”وہاں موجود ہوں گے ملائکہ مقربین۔“ ان لوگوں کی ارواح کو ملائکہ مقربین کی صحبت میسر ہوگی۔ اس بلند مقام پر انہیں قیام قیامت تک رکھا جائے گا۔

إِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ

📘 آیت 21{ یَّشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ } ”وہاں موجود ہوں گے ملائکہ مقربین۔“ ان لوگوں کی ارواح کو ملائکہ مقربین کی صحبت میسر ہوگی۔ اس بلند مقام پر انہیں قیام قیامت تک رکھا جائے گا۔

عَلَى الْأَرَائِكِ يَنْظُرُونَ

📘 آیت 21{ یَّشْہَدُہُ الْمُقَرَّبُوْنَ۔ } ”وہاں موجود ہوں گے ملائکہ مقربین۔“ ان لوگوں کی ارواح کو ملائکہ مقربین کی صحبت میسر ہوگی۔ اس بلند مقام پر انہیں قیام قیامت تک رکھا جائے گا۔

تَعْرِفُ فِي وُجُوهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيمِ

📘 آیت 24{ تَعْرِفُ فِیْ وُجُوْہِہِمْ نَضْرَۃَ النَّعِیْمِ۔ } ”تم دیکھو گے ان کے چہروں پر تروتازگی کی علامات۔“ جیسے دنیا میں انسان کی خوشحالی اور آسودگی کے اثرات اس کے چہرے پر نمایاں ہوتے ہیں اسی طرح قیامت کے دن اہل جنت اپنے تروتازہ چہروں سے صاف پہچانے جائیں گے۔

يُسْقَوْنَ مِنْ رَحِيقٍ مَخْتُومٍ

📘 آیت 25{ یُسْقَوْنَ مِنْ رَّحِیْقٍ مَّخْتُوْمٍ۔ } ”انہیں پلائی جائے گی خالص شراب جس پر مہر لگی ہوگی۔“ ہندوستان کے معروف اہل حدیث عالم دین مولانا صفی الرحمن مبارکپوری نے احادیث کے حوالے سے سیرت پر ایک بہت عمدہ کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب کا نام انہوں نے اس آیت سے اخذ کیا ہے۔ انہیں اس کتاب پر شاہ فیصل ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔ الرحیق المختوم کے نام سے یہ کتاب اردو میں ہے اور اس کا انگریزی ترجمہ بھی چھپ چکا ہے۔

خِتَامُهُ مِسْكٌ ۚ وَفِي ذَٰلِكَ فَلْيَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُونَ

📘 آیت 26{ خِتٰمُہٗ مِسْکٌ} ”اس کی مہر ہوگی مشک کی۔“ { وَفِیْ ذٰلِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ۔ } ”اس چیز کے لیے سبقت لے جانے کی کوشش کریں سبقت لے جانے والے۔“ اہل ایمان کو چاہیے کہ وہ دنیا کی حقیر چیزوں کے پیچھے دوڑنے کے بجائے ان دوامی نعمتوں کو حاصل کرنے کے لیے محنت اور مسابقت کریں۔

وَمِزَاجُهُ مِنْ تَسْنِيمٍ

📘 آیت 27{ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ۔ } ”اور اس کی ملونی ہوگی تسنیم سے۔“ اس شراب یعنی رحیق مختوم میں تسنیم کا مشروب بھی ملایا گیا ہوگا۔ اور یہ تسنیم کیا ہے ؟

عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا الْمُقَرَّبُونَ

📘 آیت 27{ وَمِزَاجُہٗ مِنْ تَسْنِیْمٍ۔ } ”اور اس کی ملونی ہوگی تسنیم سے۔“ اس شراب یعنی رحیق مختوم میں تسنیم کا مشروب بھی ملایا گیا ہوگا۔ اور یہ تسنیم کیا ہے ؟

إِنَّ الَّذِينَ أَجْرَمُوا كَانُوا مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا يَضْحَكُونَ

📘 آیت 29{ اِنَّ الَّذِیْنَ اَجْرَمُوْا کَانُوْا مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یَضْحَکُوْنَ۔ } ”یقینا جو مجرم تھے وہ اہل ِ ایمان پر ہنسا کرتے تھے۔“ وہ اہل ایمان کا مذاق اڑایا کرتے تھے کہ دیکھو ان بیوقوفوں کو جنہوں نے آخرت کے موہوم وعدوں پر اپنی زندگی کی خوشیاں اور آسائشیں قربان کردی ہیں۔

وَإِذَا كَالُوهُمْ أَوْ وَزَنُوهُمْ يُخْسِرُونَ

📘 آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“ وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی نوید سنائی گئی ہے۔

وَإِذَا مَرُّوا بِهِمْ يَتَغَامَزُونَ

📘 آیت 30{ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ۔ } ”اور جب یہ ان کے قریب سے گزرتے تھے تو آپس میں آنکھیں مارتے تھے۔“ کہ دیکھو ! یہ ہیں وہ احمق جو جنت کی حوروں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

وَإِذَا انْقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انْقَلَبُوا فَكِهِينَ

📘 آیت 30{ وَاِذَا مَرُّوْا بِہِمْ یَتَغَامَزُوْنَ۔ } ”اور جب یہ ان کے قریب سے گزرتے تھے تو آپس میں آنکھیں مارتے تھے۔“ کہ دیکھو ! یہ ہیں وہ احمق جو جنت کی حوروں کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔

وَإِذَا رَأَوْهُمْ قَالُوا إِنَّ هَٰؤُلَاءِ لَضَالُّونَ

📘 آیت 32{ وَاِذَا رَاَوْہُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَضَآلُّوْنَ۔ } ”اور جب وہ ان اہل ایمان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔“ مخالفین کے ایسے تبصرے طنزیہ بھی ہوسکتے ہیں اور ان میں ہمدردی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے آج کل بھی ہمیں ایسے فقرے اکثر سننے کو مل جاتے ہیں کہ دیکھیں ! یہ اچھا بھلا ذہین نوجوان تھا۔ بورڈ ٹاپ کیا ‘ یونیورسٹی میں گولڈ میڈل لیا ‘ ملازمت بھی بہت اچھی ملی ‘ لیکن پھر اچانک خدا جانے اسے کیا ہوا کہ اس کا رجحان مذہب کی طرف ہوگیا ‘ اس کے بعد تو اس کی ترجیحات ہی بدل گئی ہیں ‘ اب اسے نہ اپنا خیال ہے اور نہ ملازمت کی فکر ‘ بس رات دن اس کے سر پر تبلیغ کی دھن سوار ہے۔ بےچارہ ‘ اچھا خاصا کیریئر تباہ کر کے بیٹھ گیا ہے۔

وَمَا أُرْسِلُوا عَلَيْهِمْ حَافِظِينَ

📘 آیت 32{ وَاِذَا رَاَوْہُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَضَآلُّوْنَ۔ } ”اور جب وہ ان اہل ایمان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔“ مخالفین کے ایسے تبصرے طنزیہ بھی ہوسکتے ہیں اور ان میں ہمدردی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے آج کل بھی ہمیں ایسے فقرے اکثر سننے کو مل جاتے ہیں کہ دیکھیں ! یہ اچھا بھلا ذہین نوجوان تھا۔ بورڈ ٹاپ کیا ‘ یونیورسٹی میں گولڈ میڈل لیا ‘ ملازمت بھی بہت اچھی ملی ‘ لیکن پھر اچانک خدا جانے اسے کیا ہوا کہ اس کا رجحان مذہب کی طرف ہوگیا ‘ اس کے بعد تو اس کی ترجیحات ہی بدل گئی ہیں ‘ اب اسے نہ اپنا خیال ہے اور نہ ملازمت کی فکر ‘ بس رات دن اس کے سر پر تبلیغ کی دھن سوار ہے۔ بےچارہ ‘ اچھا خاصا کیریئر تباہ کر کے بیٹھ گیا ہے۔

فَالْيَوْمَ الَّذِينَ آمَنُوا مِنَ الْكُفَّارِ يَضْحَكُونَ

📘 آیت 32{ وَاِذَا رَاَوْہُمْ قَالُوْٓا اِنَّ ہٰٓؤُلَآئِ لَضَآلُّوْنَ۔ } ”اور جب وہ ان اہل ایمان کو دیکھتے تھے تو کہتے تھے کہ یقینا یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں۔“ مخالفین کے ایسے تبصرے طنزیہ بھی ہوسکتے ہیں اور ان میں ہمدردی کا پہلو بھی ہوسکتا ہے۔ جیسے آج کل بھی ہمیں ایسے فقرے اکثر سننے کو مل جاتے ہیں کہ دیکھیں ! یہ اچھا بھلا ذہین نوجوان تھا۔ بورڈ ٹاپ کیا ‘ یونیورسٹی میں گولڈ میڈل لیا ‘ ملازمت بھی بہت اچھی ملی ‘ لیکن پھر اچانک خدا جانے اسے کیا ہوا کہ اس کا رجحان مذہب کی طرف ہوگیا ‘ اس کے بعد تو اس کی ترجیحات ہی بدل گئی ہیں ‘ اب اسے نہ اپنا خیال ہے اور نہ ملازمت کی فکر ‘ بس رات دن اس کے سر پر تبلیغ کی دھن سوار ہے۔ بےچارہ ‘ اچھا خاصا کیریئر تباہ کر کے بیٹھ گیا ہے۔

عَلَى الْأَرَائِكِ يَنْظُرُونَ

📘 آیت 35{ عَلَی الْاَرَآئِکِلا یَنْظُرُوْنَ۔ } ”وہ تختوں پر بیٹھے ان کا حشر دیکھ رہے ہیں۔“ کہ ابوجہل پر کیا بیت رہی ہے اور ابولہب کو کیسے عذاب کا سامنا ہے۔

هَلْ ثُوِّبَ الْكُفَّارُ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ

📘 آیت 35{ عَلَی الْاَرَآئِکِلا یَنْظُرُوْنَ۔ } ”وہ تختوں پر بیٹھے ان کا حشر دیکھ رہے ہیں۔“ کہ ابوجہل پر کیا بیت رہی ہے اور ابولہب کو کیسے عذاب کا سامنا ہے۔

أَلَا يَظُنُّ أُولَٰئِكَ أَنَّهُمْ مَبْعُوثُونَ

📘 آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“ وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی نوید سنائی گئی ہے۔

لِيَوْمٍ عَظِيمٍ

📘 آیت 1{ وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ۔ } ”ہلاکت ہے کمی کرنے والوں کے لیے۔“ وَیْل کے معنی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کے بھی ہیں اور یہ جہنم کی ایک وادی کا نام بھی ہے۔ ’ طف ‘ لغوی اعتبار سے حقیر سی چیز کو کہا جاتا ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ کم تولنے یا کم ماپنے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مُطَفِّف وہ ہے جو حق دار کو اس کا پورا حق نہیں دیتا بلکہ اس میں کمی کردیتا ہے۔ ظاہر ہے جو شخص ماپ تول میں کمی کرتا ہے وہ اپنے اس عمل کے ذریعے متعلقہ چیز کی بہت تھوڑی سی مقدار ہی ناحق بچا پاتا ہے۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ اتنی حقیر سی چیز کے لیے اپنا ایمان فروخت کر رہا ہے۔ بہرحال اس آیت میں کم تولنے یا کم ماپنے والوں کو آخرت میں بربادی اور جہنم کی نوید سنائی گئی ہے۔

يَوْمَ يَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ

📘 آیت 6{ یَّوْمَ یَـقُوْمُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ } ”جس دن کہ لوگ کھڑے ہوں گے تمام جہانوں کے رب کے سامنے۔“ ناپ تول میں کمی کرتے ہوئے ہاتھ کو ہلکی سی جنبش دینا بظاہر تو ایک معمولی سا عمل ہے لیکن ”تل کی اوٹ میں پہاڑ“ کے مصداق ایسا کرنے والے کی اس حرکت سے ثابت ہوتا ہے کہ یا تو اس کا بعث بعد الموت پر یقین نہیں یا پھر اسے اس کی پروا نہیں کہ اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔

كَلَّا إِنَّ كِتَابَ الْفُجَّارِ لَفِي سِجِّينٍ

📘 آیت 7{ کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ۔ } ”ہرگز نہیں ! یقینا گناہگاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔“ عام طور پر کتاب سے یہاں اعمال نامہ ہی مراد لیا گیا ہے کہ کافر و فاجر لوگوں کے اعمال نامے ”سِجِّین“ میں ‘ جبکہ نیک لوگوں کے اعمال نامے ”عِلِّیّین“ بحوالہ آیت 18 میں ہوں گے۔ تاہم بعض احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ”سجین“ ایک مقام ہے جہاں اہل دوزخ کی روحیں محبوس ہوں گی ‘ جبکہ اہل جنت کی ارواح ”علیین“ میں ہوں گی۔ چناچہ سجین اور علیین کا یہ فرق صرف اعمال ناموں کو رکھنے کے اعتبار سے نہیں ہوسکتا۔ اس حوالے سے میرے غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے خاکی جسم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو روح پھونکی گئی ہے وہ ایک نورانی چیز ہے۔ انسان اچھے برے جو بھی اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی روح پر مترتب ہوتے رہتے ہیں ‘ جیسے آواز کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے ٹیپ کے فیتے ‘ سی ڈی یا مائیکرو کارڈ وغیرہ پر اس آواز کے اثرات نقش ہوجاتے ہیں۔ چناچہ انسانوں کی ارواح جب اس دنیا سے جاتی ہیں تو اعمال کے اثرات اپنے ساتھ لے کر جاتی ہیں۔ ان ”اثرات“ کی وجہ سے ہر روح دوسری روح سے مختلف ہوجاتی ہے اور یوں نیک اور برے انسانوں کی ارواح میں زمین آسمان کا فرق واقع ہوجاتا ہے۔ چناچہ میری رائے میں انسانی ارواح پر ثبت شدہ اثراتِ اعمال کو یہاں لفظ ”کتاب“ سے تعبیر کیا گیا ہے ‘ یعنی انسانی ارواح اعمال کے اثرات لیے ہوئے جب اس دنیا سے جائیں گی تو برے اعمال کے اثرات والی ارواح کو سجین میں رکھا جائے گا۔ سجن کے معنی ”جیل خانہ“ کے ہیں۔ گویا برے لوگوں کی ارواح کو وہاں کسی جیل نما جگہ میں بند کردیا جائے گا ‘ جیسے ضلعی انتظامیہ کے ”محافظ خانے“ میں پرانی فائلوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔

وَمَا أَدْرَاكَ مَا سِجِّينٌ

📘 آیت 7{ کَلَّآ اِنَّ کِتٰبَ الْفُجَّارِ لَفِیْ سِجِّیْنٍ۔ } ”ہرگز نہیں ! یقینا گناہگاروں کے اعمال نامے سجین میں ہوں گے۔“ عام طور پر کتاب سے یہاں اعمال نامہ ہی مراد لیا گیا ہے کہ کافر و فاجر لوگوں کے اعمال نامے ”سِجِّین“ میں ‘ جبکہ نیک لوگوں کے اعمال نامے ”عِلِّیّین“ بحوالہ آیت 18 میں ہوں گے۔ تاہم بعض احادیث سے پتا چلتا ہے کہ ”سجین“ ایک مقام ہے جہاں اہل دوزخ کی روحیں محبوس ہوں گی ‘ جبکہ اہل جنت کی ارواح ”علیین“ میں ہوں گی۔ چناچہ سجین اور علیین کا یہ فرق صرف اعمال ناموں کو رکھنے کے اعتبار سے نہیں ہوسکتا۔ اس حوالے سے میرے غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ انسان کے خاکی جسم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو روح پھونکی گئی ہے وہ ایک نورانی چیز ہے۔ انسان اچھے برے جو بھی اعمال کرتا ہے اس کے اثرات اس کی روح پر مترتب ہوتے رہتے ہیں ‘ جیسے آواز کی ریکارڈنگ کرتے ہوئے ٹیپ کے فیتے ‘ سی ڈی یا مائیکرو کارڈ وغیرہ پر اس آواز کے اثرات نقش ہوجاتے ہیں۔ چناچہ انسانوں کی ارواح جب اس دنیا سے جاتی ہیں تو اعمال کے اثرات اپنے ساتھ لے کر جاتی ہیں۔ ان ”اثرات“ کی وجہ سے ہر روح دوسری روح سے مختلف ہوجاتی ہے اور یوں نیک اور برے انسانوں کی ارواح میں زمین آسمان کا فرق واقع ہوجاتا ہے۔ چناچہ میری رائے میں انسانی ارواح پر ثبت شدہ اثراتِ اعمال کو یہاں لفظ ”کتاب“ سے تعبیر کیا گیا ہے ‘ یعنی انسانی ارواح اعمال کے اثرات لیے ہوئے جب اس دنیا سے جائیں گی تو برے اعمال کے اثرات والی ارواح کو سجین میں رکھا جائے گا۔ سجن کے معنی ”جیل خانہ“ کے ہیں۔ گویا برے لوگوں کی ارواح کو وہاں کسی جیل نما جگہ میں بند کردیا جائے گا ‘ جیسے ضلعی انتظامیہ کے ”محافظ خانے“ میں پرانی فائلوں کے انبار لگے ہوتے ہیں۔

كِتَابٌ مَرْقُومٌ

📘 آیت 9{ کِتٰبٌ مَّرْقُوْمٌ۔ } ”لکھا ہوا دفتر۔“ اس ”کتاب“ سے مراد ایک انسان کی جان اور روح کا وہ ملغوبہ ہے جس میں اس کے اعمال کے اثرات بھی ثبت ہوتے ہیں۔ کسی برے انسان کے مرنے پر متعلقہ فرشتہ وہ ملغوبہ لا کر سجین میں ”جمع“ کرا دیتا ہے۔