slot qris slot gacor terbaru slot gacor terbaik slot dana link slot gacor slot deposit qris slot pulsa slot gacor situs slot gacor slot deposit qris
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 26 من سورة سُورَةُ النُّورِ

An-Noor • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ ٱلْخَبِيثَٰتُ لِلْخَبِيثِينَ وَٱلْخَبِيثُونَ لِلْخَبِيثَٰتِ ۖ وَٱلطَّيِّبَٰتُ لِلطَّيِّبِينَ وَٱلطَّيِّبُونَ لِلطَّيِّبَٰتِ ۚ أُو۟لَٰٓئِكَ مُبَرَّءُونَ مِمَّا يَقُولُونَ ۖ لَهُم مَّغْفِرَةٌۭ وَرِزْقٌۭ كَرِيمٌۭ ﴾

“[In the nature of things,] corrupt women are for corrupt men, and corrupt men, for corrupt women - just as good women are for good men, and good men, for good women. [Since God is aware that] these are innocent of all that evil tongues may impute to them, forgiveness of sins shall be theirs, and a most excellent sustenance!”

📝 التفسير:

خبیثات سے مراد خبیث کلمات ہیں اور اسی طرح طیبات سے مراد طیب کلمات۔مطلب یہ ہے کہ محض کسی کے برا کہنے سے کوئی شخص برا نہیں ہوجاتا۔ آدمی خود جیسا ہو ویسی ہی بات اس کے اوپر چسپاں ہوتی ہے۔ برے لوگ اچھے لوگوں کے بارے میں بری بات کہیں تو ایسی بات آخرکار خود کہنے والے پر پڑتی ہے اور اچھے لوگ اس سے پوری طرح بری الذمہ ہوجاتے ہیں۔ جو لوگ اپنی ذات میںاچھے ہوں وہ دنیا میں بھی جھوٹے الزامات سے بری ہو کر رہتے ہیں۔ اور آخرت میں تو ان کا بری ہونا بالکل یقینی ہے۔ آخرت میں انھیں مزید اضافہ کے ساتھ خدا کے انعامات ملیںگے۔ کیوں کہ ان کے خلاف ناحق باتیں دراصل اس بات کی قیمت تھیں کہ انھوںنے اپنے آپ کو ناحق سے کاٹا اور اپنے آپ کو پوری طرح حق کے ساتھ وابستہ کیا۔