slot qris slot gacor terbaru slot gacor terbaik slot dana link slot gacor slot deposit qris slot pulsa slot gacor situs slot gacor slot deposit qris
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 56 من سورة سُورَةُ النُّورِ

An-Noor • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَأَقِيمُوا۟ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُوا۟ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَطِيعُوا۟ ٱلرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴾

“Hence, [O believers,] be constant in prayer, and render the purifying dues, and pay heed unto the Apostle, so that you might be graced with God’s mercy.”

📝 التفسير:

خدا کی رحمت یہ ہے کہ دنیا میں غلبہ اور آخرت میں جنت عطا کی جائے۔ جو لوگ خدا کی اس رحمت کا مستحق بننا چاہیں انھیں اپنے اندر تین صفتیں پیدا کرنی چاہئیں۔ ایک اقامت صلوٰۃ۔ اقامت صلوٰۃ صورتاً پنچ وقتہ نماز کا نظام قائم کرنے کا نام ہے۔ اور معنوي طور پر اس کا مطلب یہ هے کہ لوگ خشوع اورتواضع میں جینے والے بنیں، نہ کہ کبر اور سرکشی میں جینے والے۔ اسی طرح زکوٰۃ کی عملی صورت یہ ہے کہ اپنے اموال میں مقررہ شرح کے مطابق سالانہ ایک رقم نکالی جائے اور اس کو بیت المال کے حوالے کیا جائےاور بيت المال نه هونے كي صورت ميں مستحقين كو براهِ راست دے ديا جائے۔ اور زکوٰۃ اپنی معنوی حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ لوگ خود غرض بن کر نہ رہیں بلکہ وہ دوسروں کے خیر خواہ بن کررہیں۔ حتی کہ ان کی خیر خواہی اتنی بڑھے کہ اپنی ذات اور اثاثہ میں وہ دوسروں کا حق سمجھنے لگیں۔ رسو ل کی اطاعت رسول کے زمانے میں ذاتِ رسول کی اطاعت تھی۔ اور بعد کے زمانہ میں سنتِ رسول کی اطاعت۔ اس کامطلب یہ ہے کہ لوگوں کے ليے زندگی کا نمونہ اللہ کا رسول ہو۔ لوگ اپنی زندگی کے تمام معاملات میںصرف رسولِ خدا کو اپنا رہنما سمجھیں۔ رسول کی رائے سامنے آنے کے بعد لوگ اپنی ذاتی رائے سے دست بردار ہوجائیں۔ رسول آگے ہو اور تمام لوگ اس کے پیچھے۔