slot qris slot gacor terbaru slot gacor terbaik slot dana link slot gacor slot deposit qris slot pulsa slot gacor situs slot gacor slot deposit qris slot qris bokep indo xhamster/a> jalalive/a>
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير الآية 35 من سورة سُورَةُ النِّسَاءِ

An-Nisaa • UR-TAZKIRUL-QURAN

﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَٱبْعَثُوا۟ حَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهِۦ وَحَكَمًۭا مِّنْ أَهْلِهَآ إِن يُرِيدَآ إِصْلَٰحًۭا يُوَفِّقِ ٱللَّهُ بَيْنَهُمَآ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًۭا ﴾

“And if you have reason to fear that a breach might occur between a [married] couple, appoint an arbiter from among his people and an arbiter from among her people; if they both want to set things aright, God may bring about their reconciliation. Be­hold, God is indeed all-knowing, aware.”

📝 التفسير:

جہاں بھی آدمیوں کا کوئی مجموعہ ہو، خواہ وہ خاندان کی صورت میں ہو یا مملکت کی صورت میں، ضروری ہے کہ اس کے اوپر سردار اور سربراہ ہو، اور یہ سربراہ لازماً ایک ہی ہوسکتا ہے۔ دنیا کے بارے میں اللہ کا بنایا ہوا جو منصوبہ ہے اس میں خاندان کی سربراہی کے لیے مرد کو متعین کیاگیا ہے اور اسی کے لحاظ سے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ مرد کی بناوٹ اور عورت کی بناوٹ میں جو حیاتیاتی اور نفسیاتی فرق ہے وہ اللہ کے اسی تخلیقی منصوبہ کی مطابقت میں ہے۔ اب اگر کچھ لوگ اللہ کے منصوبہ کے خلاف چلیں تو وہ صرف بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ خدا کا کارخانہ تو مرد اور عورت کو بدستور اپنے منصوبہ کے مطابق بناتا رہے گا جس میں ’’قوامیت‘‘ کی صلاحیتیں مرد کو دی گئی ہوں گی اور ’’اطاعت‘‘ کی صلاحیتیں عورت کو۔ جب کہ ان کے معاشرتی استعمال میں خدائی تخلیق کی رعایت نہ ہورہی ہوگي۔ ایسے ہر تضاد کا نتیجہ اس دنیا میں صرف بگاڑ ہے۔ بہترین عورت وہ ہے جو اللہ کے تخلیقی منصوبہ میںاپنے کو شامل کرتے ہوئے مرد کی برتری تسلیم کرلے۔ اسی طرح بہترین مرد و ہ ہے جو اپنی برتر حيثيت کی بنا پر اس حقیقت کو بھول نہ جائے کہ خدا اس سے بھی زیادہ برتر ہے۔ خدا كي عدالت میں عورت مرد کا کوئی فرق نہیں، یہ فرق تمام تر صرف انتظام دنیا کے اعتبار سے ہے، نہ کہ آخرت میںتقسیم انعامات کے اعتبار سے۔ مرد کوچاہیے کہ وہ عورت کے حق میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا پورا اہتمام کرے۔ کوئی عورت اگر ایسی ہو جو مرد کی انتظامی بڑائی کو نہ مانے تو ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ مرد کے اندر انتقام کا جذبہ ابھر آئے یا وہ الزمات لگا کر عورت کو بدنام کرے۔ کوئی بھی برتری کسی کو انصاف کی پابندی سے بری الذمہ نہیں کرتی۔ البتہ خصوصی حالات میں مرد کو یہ حق ہے کہ عورت کے اندر اگر وہ سرتابی دیکھے تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ یہ اصلاح اولاً سمجھانے بجھانے سے شروع ہوگی۔ پھر دباؤ ڈالنے کے لیے ترکِ کلام اور ترک ِتعلق کیا جاسکتا ہے،وغيره۔ دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حَکَم (arbitrator)بنانے پر راضی ہوجائیں۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طورپر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گا جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔