🕋 تفسير سورة الحديد
(Al-Hadid) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ سَبَّحَ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
📘 آیت 1 { سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”تسبیح کرتی ہے اللہ کی ہر وہ شے جو آسمانوں میں ہے اور زمین میں ہے۔“ ان سورتوں المُسَبِّحات کا یہ مضمون بہت اہم ہے۔ آگے چل کر سورة الحشر اور سورة الصف میں یہ آیت ”مَا فِیْ“ کے اضافے کے ساتھ اس طرح آئے گی : { سَبَّحَ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِج } اور پھر سورة الجمعہ اور سورة التغابن میں مزید ُ پرزور انداز میں فعل مضارع کے ساتھ یوں آئے گا : { یُسَبِّحُ لِلّٰہِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ }۔ کائنات کی ہرچیز کس طرح اللہ کی تسبیح کرتی ہے ؟ اس کی ایک صورت تو ”تسبیح حالی“ کی ہے جو ہماری سمجھ میں آتی ہے کہ ہرچیز اپنی زبان حال سے اللہ کی تسبیح کر رہی ہے۔ اس کی مثال ایک تصویر ہے جو اپنے مصور کے کمال فن یا عدم مہارت پر دلالت کرتی ہے۔ چناچہ جس طرح ایک خوبصورت تصویر زبان حال سے اپنے مصور کی تعریف کرتی نظر آتی ہے اسی طرح اس کائنات کا ذرّہ ذرّہ اپنے وجود سے گواہی دے رہا ہے کہ میرا پیدا کرنے والا ‘ میرا صانع ‘ میرا خالق ‘ میرا مصور ہر عیب سے پاک ‘ ہر نقص سے بالا اور ہر لحاظ سے کامل و اکمل ہے ‘ اس کے علم ‘ اس کی قدرت اور اس کی حکمت میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہے۔ دوسری صورت ”زبانی تسبیح“ کی ہے جو کہ خود قرآن مجید سے ثابت ہے۔ سورة حٰمٓ السَّجدۃ کی آیات 20 اور 21 میں قیامت کے اس منظر کا ذکر ہے جب انسانوں کے اعضاء ان کے خلاف گواہی دے رہے ہوں گے۔ اس پر وہ لوگ حیرت سے اپنی کھالوں سے پوچھیں گے کہ تم نے ہمارے خلاف گواہی کیوں دی ؟ جواب میں ان کی کھالیں کہیں گی : { اَنْقَطَنَا اللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْطَقَ کُلَّ شَیْئٍ } آیت 21 کہ آج اس اللہ نے ہمیں بھی زبان دے دی ہے جس نے ہر شے کو زبان دی ہے۔ اس کے علاوہ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہرچیز کو اپنی تسبیح کے لیے ایک طریقہ تفویض کر رکھا ہے : { تُسَبِّحُ لَہُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَالْاَرْضُ وَمَنْ فِیْہِنَّ وَاِنْ مِّنْ شَیْئٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ وَلٰکِنْ لاَّ تَفْقَہُوْنَ تَسْبِیْحَہُمْ } آیت 44”اسی کی تسبیح میں لگے ہوئے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور وہ تمام مخلوق بھی جو ان میں ہے۔ اور کوئی چیز نہیں مگر یہ کہ وہ تسبیح کرتی ہے اس کی حمد کے ساتھ ‘ لیکن تم نہیں سمجھ سکتے ان کی تسبیح کو۔“ بہرحال کائنات کی ہرچیز اپنی زبان حال سے بھی اللہ کی تسبیح کر رہی ہے اور اللہ کی عطا کردہ اپنی مخصوص زبان سے بھی اس کی تعریف و توصیف میں مشغول و مصروف ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تسبیح کی اور صورتیں بھی ہوسکتی ہیں جو کہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہیں۔ { وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ۔ } ”اور وہ بہت زبردست ہے ‘ کمال حکمت والا۔“ ان سورتوں میں اللہ تعالیٰ کے یہ دو اسماء اکٹھے ایک ساتھ بہت تکرار کے ساتھ آئے ہیں۔ اسمائے حسنیٰ کا یہ جوڑا معنوی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ العزیز وہ ہستی ہے جس کا اختیار مطلق ہو۔ ہم جانتے ہیں کہ انسانی سطح پر مطلق العنانیت کا تجربہ ہمیشہ بہت تلخ رہا ہے۔ عملی طور پر ہمارے ہاں ہمیشہ یہی ہوتا ہے کہ جہاں مطلق العنانیت آتی ہے ‘ وہاں اختیارات کا ناجائز استعمال ضرور ہوتا ہے۔ بلکہ پولیٹیکل سائنس کا تو اس حوالے سے آزمودہ فارمولا یہ ہے : " Authority tends to corrupt and absolute authority corrupts absolutely."چنانچہ جب کسی ملک کا آئین بنایا جاتا ہے اور معاشرے کے لیے قوانین وضع کیے جاتے ہیں تو متعلقہ ماہرین کی ساری کوشش اختیارات کو مشروط کرنے اور ان میں توازن قائم کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ ایسی صاحب اختیار ہستی ہے جس کے اختیارات کی نہ تو کوئی حد ہے اور نہ ہی اس کے اختیارات کسی شرط سے مشروط ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ ”الحکیم“ بھی ہے۔ وہ اپنے مطلق اختیارات میں خود ہی اپنی حکمت سے توازن قائم رکھتا ہے۔ چناچہ ہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ زبردست ہے ‘ وہ اپنی تمام مخلوقات پر غالب ہے ‘ اس کے اختیارات مطلق ہیں ‘ لیکن اس کا کوئی کام ‘ اس کا کوئی عمل اور اس کا کوئی فیصلہ حکمت سے خالی نہیں ہوتا۔
وَمَا لَكُمْ أَلَّا تُنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلِلَّهِ مِيرَاثُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا يَسْتَوِي مِنْكُمْ مَنْ أَنْفَقَ مِنْ قَبْلِ الْفَتْحِ وَقَاتَلَ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْظَمُ دَرَجَةً مِنَ الَّذِينَ أَنْفَقُوا مِنْ بَعْدُ وَقَاتَلُوا ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ
📘 آیت 10{ وَمَالَـکُمْ اَلاَّ تُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلِلّٰہِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم خرچ نہیں کرتے اللہ کی راہ میں ‘ جبکہ اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی وراثت !“ یہ جو تم بڑے بڑے محل تعمیر کر رہے ہو اور فیکٹریوں پر فیکٹریاں لگاتے چلے جا رہے ہو ‘ ان سے آخر کب تک استفادہ کرو گے ؟ تم تو آج ہو کل نہیں ہو گے۔ تمہارے بعد تمہاری اولاد میں سے بھی جو لوگ ان جائیدادوں کے وارث بنیں گے وہ بھی اپنے وقت پر چلے جائیں گے۔ پھر جو ان کے وارث بنیں گے وہ بھی نہیں رہیں گے۔ بالآخر تمہارے اس سب کچھ کا اور پوری کائنات کا حقیقی وارث تو اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ تو جب یہ سب کچھ تم نے ادھر ہی چھوڑ کر چلے جانا ہے تو پھر غیر ضروری دولت اکٹھی کرنے میں کیوں وقت برباد کر رہے ہو ؟ اور کیوں اسے سینت سینت کر رکھ رہے ہو ؟ واضح رہے کہ انفاق سے مراد یہاں انفاقِ مال بھی ہے اور بذل نفس جان کھپانا بھی۔ یہ نکتہ قبل ازیں آیت 7 کے مطالعے کے دوران بھی زیر بحث آیا تھا اور اب اگلے فقرے میں مزید واضح ہوجائے گا : { لَا یَسْتَوِیْ مِنْکُمْ مَّنْ اَنْفَقَ مِنْ قَـبْلِ الْفَتْحِ وَقٰــتَلَ } ”تم میں سے وہ لوگ جنہوں نے انفاق کیا اور قتال کیا فتح سے پہلے وہ فتح کے بعد انفاق اور قتال کرنے والوں کے برابر نہیں ہیں۔“ وضاحت کے لیے یہاں انفاق اور قتال کا ذکر الگ الگ آگیا ہے۔ یعنی ’ انفاق ‘ مال خرچ کرنے کے لیے اور ’ قتال ‘ جان کھپانے کے لیے۔ چناچہ یہاں واضح کردیا گیا کہ آیت 7 میں جس انفاق کا ذکر ہوا تھا اس سے مال و جان دونوں کا انفاق مراد تھا اور ظاہر ہے انفاقِ جان کا سب سے اہم موقع تو قتال ہی ہے۔ میدانِ جنگ سے غازی بن کر لوٹنے کا انحصار تو حالات اور قسمت پر ہے ‘ لیکن میدانِ کارزار میں اترنے کا مطلب تو بہرحال یہی ہوتا ہے کہ اس مرد مجاہد نے اپنی نقد جان ہتھیلی پر رکھ کر قربانی کے لیے پیش کردی۔ اس آیت میں خاص بات یہ بتائی گئی ہے کہ وہ اہل ایمان جنہوں نے ابتدائی دور میں اس وقت قربانیاں دیں جبکہ اسلام کمزور تھا اور مسلمانوں کی طاقت بہت کم تھی ‘ ان کا مقام و مرتبہ بہت بلند ہے۔ وہ اور بعد کے مسلمان جنہوں نے یہی اعمال بعد میں سرانجام دیے ‘ ثواب و مرتبہ میں برابر نہیں۔ { اُولٰٓـئِکَ اَعْظَمُ دَرَجَۃً مِّنَ الَّذِیْنَ اَنْفَقُوْا مِنْم بَعْدُ وَقٰــتَلُوْا } ”ان لوگوں کا درجہ بہت بلند ہے ان کے مقابلے میں جنہوں نے انفاق اور قتال کیا فتح کے بعد۔“ { وَکُلًّا وَّعَدَ اللّٰہُ الْحُسْنٰی وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۔ } ”اگرچہ ان سب سے اللہ نے بہت اچھا وعدہ فرمایا ہے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔“ حضور ﷺ کی سربراہی میں کفر و باطل سے جنگ میں پہلی واضح فتح تو صلح حدیبیہ تھی جس کو اللہ تعالیٰ نے خود فتح مبین قرار دیا : { اِنَّا فَتَحْنَا لَکَ فَتْحًا مُّبِیْنًا۔ } الفتح۔ یہ فتح مبین مسلمانوں کو 6 ہجری میں عطا ہوئی جبکہ ظاہری فیصلہ کن فتح انہیں 8 ہجری میں فتح مکہ کی صورت میں حاصل ہوئی۔ چناچہ اس آیت میں فتح کے ذکر سے یہ واضح ہوتا ہے کہ سورة الحدید کم از کم 6 ہجری یعنی صلح حدیبیہ کے بعد نازل ہوئی۔ اب سنیے ‘ کھلے اور بیدار دل کے ساتھ ایک اہم پکار ! ذرا دھیان سے سنیے ! میرا خالق ‘ آپ کا خالق ‘ میر 1 مالک ‘ آپ کا مالک اور پوری کائنات کا مالک کیا ندا کر رہا ہے ؟
مَنْ ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ وَلَهُ أَجْرٌ كَرِيمٌ
📘 آیت 1 1{ مَنْ ذَا الَّذِیْ یُـقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا } ”کون ہے جو اللہ کو قرض دے قرض حسنہ ؟“ { فَیُضٰعِفَہٗ لَہٗ وَلَــہٗٓ اَجْرٌ کَرِیْمٌ۔ } ”کہ وہ اس کے لیے اسے بڑھاتا رہے اور اس کے لیے بڑا باعزت اجر ہے۔“ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اور بھلا کون اجر دے سکتا ہے ؟ ایسا منافع اور بھلا کہاں سے مل سکتا ہے ؟ چناچہ اے اہل ایمان ! آگے بڑھو ! لبیک کہو اپنے رب کی اس پکار پر ! اور اپنا مال اور اپنا وقت قربان کر دو اس کی رضا کے لیے ! اپنی صلاحیتیں اور اپنی جان کھپا دو اس کی راہ میں ! یہاں پر یہ نکتہ ایک دفعہ پھر سے ذہن نشین کر لیجیے کہ انفاقِ مال اور انفاقِ جان ایک اعتبار سے ایک ہی چیز ہے۔ مال اور جان کے باہمی تعلق کو اس پہلو سے بھی سمجھنا چاہیے کہ ایک شخص اپنی جان ‘ یعنی جسمانی قوت ‘ ذہانت اور دیگر صلاحیتوں کی مدد سے مال کماتا ہے۔ پھر اپنے اس مال سے ایک طرف وہ اپنی جان کی بقا کا سامان پیدا کرتا ہے تو دوسری طرف اسی کی مدد سے وہ دوسروں کی قوت ‘ ذہانت اور دیگر صلاحیتوں کو خریدنے کی استعداد بھی حاصل کرلیتا ہے۔ اسی طرح انسان کی مہلت زندگی یعنی ”وقت“ بھی اس کی دولت ہے جس کے ذریعے سے وہ مال کماتا ہے۔ چناچہ عام طور پر کہا جاتا ہے : time is money کہ وقت اصل دولت ہے۔ گویا انسان کی جان ‘ اس کا مال اور وقت باہم یوں متعلق و مربوط ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کے انفاق میں عملی طور پر باقی دو چیزوں کا انفاق بھی شامل ہوتا ہے۔ چناچہ یہاں جس انفاق کی بات ہو رہی ہے اس میں آپ کا مال ‘ آپ کا وقت ‘ آپ کی جسمانی قوت ‘ ذہانت ‘ فطانت ‘ جان وغیرہ سب شامل ہیں۔ اب اگلی آیات میں روز محشر کے اس مرحلے کا نقشہ دکھایا جا رہا ہے جب منافقین کو چھانٹ کر سچے اہل ایمان سے الگ کردیا جائے گا۔ اس مرحلے کو ہمارے ہاں عموماً ”پل صراط“ کا مرحلہ کہا جاتا ہے۔ میدانِ حشر کا یہ نقشہ ذہن میں رکھیے کہ وہاں مختلف مواقع پر مختلف قسم کے لوگوں کی چھانٹی ہوتی چلی جائے گی۔ اس چھانٹی کے عمل کو سمجھنے کے لیے بجری بنانے والے کرشرز crushers میں لگی چھلنیوں کی مثال ذہن میں رکھیے۔ جس طرح ان مشینوں میں لگی مختلف قسم کی چھلنیاں مختلف سائز کے پتھروں کو الگ کرتی چلی جاتی ہیں بالکل اسی طرح میدانِ محشر میں مختلف مراحل پر مختلف قسم کے انسان بھی اپنے اعتقادات و اعمال کی بنیاد پر الگ ہوتے چلے جائیں گے۔ چناچہ سب سے پہلی چھانٹی میں تمام کفار و مشرکین کو الگ کرلیا جائے گا۔ پھر کسی مرحلے پر ایمان کے دعوے داروں میں سے سچے مومنین اور منافقین کو الگ الگ کرنے کے لیے چھانٹی کی جائے گی اور یہی وہ مرحلہ ہے جس کا نقشہ آئندہ آیات میں دکھایا جا رہا ہے۔ اس چھانٹی کے لیے تمام مسلمانوں کو گھپ اندھیرے میں پل صراط پر سے گزرنا ہوگا جس کے نیچے جہنم بھڑک رہی ہوگی۔ جن لوگوں کے دلوں میں سچا ایمان تھا اور انہوں نے ایمان کی حالت میں نیک اعمال بھی کیے تھے ‘ ان کے قلوب اور داہنے ہاتھوں سے اس وقت نور پھوٹ رہا ہوگا اور وہ اس روشنی میں راستہ پار کر کے جنت میں پہنچ جائیں گے۔ لیکن جو لوگ دنیا میں سچے ایمان سے محروم رہے اور اعمالِ صالحہ کی پونجی بھی ان کے پاس نہیں ہوگی ‘ وہ خواہ دنیا میں مسلمانوں ہی کے ساتھ شریک رہے ہوں اور خواہ وہ مسلمانوں کے بڑے بڑے قائدین بن کر رہے ہوں اس وقت وہ روشنی سے محروم کردیے جائیں گے۔ اس حالت میں وہ ٹھوکریں کھاتے جہنم میں گرتے چلے جائیں گے۔ آئندہ آیات میں اس مرحلے کا تفصیلی نقشہ کھینچا گیا ہے۔ اس کے بعد روز محشر کے اس مرحلے کی ایک جھلک سورة التحریم کی آیت 8 میں بھی دکھائی گئی ہے۔
يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَىٰ نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
📘 آیت 12{ یَوْمَ تَرَی الْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰی نُوْرُھُمْ بَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَبِاَیْمَانِھِمْ } ”جس دن تم دیکھو گے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو کہ ان کا نور دوڑتا ہوگا ان کے سامنے اور ان کے داہنی طرف“ بعض مفسرین کی رائے کے مطابق ”یَوْمَ“ سے پہلے ”اُذْکُرْ“ محذوف ہے۔ یعنی ذرا تصور کرو اس دن کا جس دن مومن مردوں اور مومن عورتوں پر یہ عنایت خاص ہوگی۔ ان کے سامنے ان کے ایمان کا نور ہوگاجب کہ داہنی طرف اعمالِ صالحہ کی روشنی ہوگی۔ یہ مضمون سورة التحریم میں مکرر آئے گا۔ وہاں اس پر ‘ ان شاء اللہ ‘ قدرے تفصیل سے گفتگو ہوگی۔ { بُشْرٰٹکُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا } ”ان سے کہا جائے گا : آج تمہارے لیے بشارت ہے ان جنتوں کی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ‘ تم رہو گے اس میں ہمیشہ ہمیش۔“ { ذٰلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ } ”یقینا یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔“
يَوْمَ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالْمُنَافِقَاتُ لِلَّذِينَ آمَنُوا انْظُرُونَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُورِكُمْ قِيلَ ارْجِعُوا وَرَاءَكُمْ فَالْتَمِسُوا نُورًا فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُورٍ لَهُ بَابٌ بَاطِنُهُ فِيهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهُ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَابُ
📘 آیت 13{ یَوْمَ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَالْمُنٰفِقٰتُ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوا انْظُرُوْنَا نَقْتَبِسْ مِنْ نُّوْرِکُمْ } ”جس دن کہیں گے منافق مرد اور منافق عورتیں ایمان والوں سے کہ ذرا ہمارا انتظار کرو کہ ہم بھی تمہاری روشنی سے فائدہ اٹھالیں۔“ اس صورت حال کو یوں سمجھیں جیسے کچھ مسافر ایک خطرناک جنگل کے اندر تنگ پگڈنڈی پر گھپ اندھیرے میں سفر کر رہے ہوں۔ ان میں سے جن لوگوں کے پاس ٹارچ ہے وہ تو تیز تیز قدموں کے ساتھ پگڈنڈی پر رواں دواں ہیں ‘ لیکن جن کے پاس ٹارچ نہیں ہے ‘ وہ ان کی منتیں کر رہے ہیں کہ خدا را ذرا رکو ‘ ذرا ٹھہرو ‘ ہم پر عنایت کرو ‘ ہمیں بھی ساتھ لے لو۔ نَقْتَبِسْ کا مادہ قبس ہے ‘ جس کے لغوی معنی ہیں کسی کی آگ سے چنگاری لے کر اپنی آگ جلانا۔ لفظ ”اقتباس“ اردو میں quotation کے معنی میں مستعمل ہے۔ آپ نے اپنے مضمون میں کسی اور کی تحریر سے اقتباس شامل کیا تو گویا آپ نے کسی کے چولہے کی ایک چنگاری لا کر اپنے چولہے میں شامل کی ہے۔ { قِیْلَ ارْجِعُوْا وَرَآئَ کُمْ فَالْتَمِسُوْا نُوْرًا } ”کہا جائے گا : لوٹ جائو پیچھے کی طرف اور تلاش کرو نور !“ انہیں بتادیا جائے گا کہ یہ نور یہاں سے نہیں ملتا۔ اس وقت جن لوگوں کے پاس تمہیں نور نظر آ رہا ہے وہ اسے دنیا سے کما کر لائے ہیں۔ چناچہ اب اگر تمہیں اس کی ضرورت محسوس ہورہی ہے تو اس کے لیے تمہیں واپس دنیا میں جانا ہوگا اور وہاں جاکر اسے تلاش کرنا ہوگا ‘ جس کا اب کوئی امکان نہیں ہے۔ یہاں پر یہ لطیف نکتہ بھی لائق توجہ ہے کہ منافقین روشنی کے لیے درخواست تو اہل ایمان سے کریں گے لیکن اس کا جواب کوئی اور دے گا۔ کیونکہ یہاں قَالُوْا نہیں بلکہ قِیْلَ کہا جائے گا کا صیغہ آیا ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ اہل ایمان کی مروت اور شرافت سے بعید ہوگا کہ وہ انہیں کورا جواب دیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کوئی فرشتہ انہیں ان کی مذکورہ درخواست کا جواب دے گا۔ { فَضُرِبَ بَیْنَھُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ} ”پھر ان کے درمیان ایک فصیل کھڑی کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔“ { بَاطِنُہٗ فِیْہِ الرَّحْمَۃُ وَظَاھِرُہٗ مِنْ قِبَلِہِ الْعَذَابُ۔ } ”اس فصیل کی اندرونی جانب رحمت ہوگی اور اس کے باہر کی طرف عذاب ہوگا۔“ یعنی اس دیوار کے اندر کی طرف رحمت باری تعالیٰ کا نزول شروع ہوجائے گا ‘ اہل ایمان کی ابتدائی مہمان نوازی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا ‘ جبکہ اس فصیل کے باہر کی طرف عذاب الٰہی کا نزول شروع ہوجائے گا۔ اس طرح اس چھلنی سے گزار کر منافقین کو سچے اہل ایمان سے الگ کرلیا جائے گا۔ اب اگلی دو آیات میں منافقت کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ مرض کیسے پیدا ہوتا ہے اور اس کی پیتھالوجی کیسے ارتقاء پاتی ہے۔
يُنَادُونَهُمْ أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ ۖ قَالُوا بَلَىٰ وَلَٰكِنَّكُمْ فَتَنْتُمْ أَنْفُسَكُمْ وَتَرَبَّصْتُمْ وَارْتَبْتُمْ وَغَرَّتْكُمُ الْأَمَانِيُّ حَتَّىٰ جَاءَ أَمْرُ اللَّهِ وَغَرَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ
📘 آیت 14{ یُــنَادُوْنَھُمْ اَلَمْ نَـکُنْ مَّـعَکُمْ } ”وہ منافق انہیں پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟“ ہم تمہارے ساتھ مسجد نبوی ﷺ میں نمازیں پڑھا کرتے تھے۔ عیدوں کی نمازوں میں بھی ہم تمہارے ساتھ ہوتے تھے۔ ہم نے تمہارے ساتھ فلاں فلاں مہمات میں بھی حصہ لیا۔ ہر جگہ ‘ ہر مقام پر ہم تمہارے ساتھ ہی تو تھے۔ پھر آج تمہارے اور ہمارے مابین اتنا فرق و تفاوت کیوں ہے ؟ { قَالُوْا بَلٰی } ”وہ کہیں گے : ہاں کیوں نہیں ! تم تھے تو ہمارے ساتھ ہی۔“ { وَلٰـکِنَّکُمْ فَتَنْتُمْ اَنْفُسَکُمْ } ”لیکن تم نے اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں فتنے میں ڈالا“ فتنہ کیا ہے ؟ قرآن مجید میں فتنے کی تین نسبتیں بیان کی گئی ہیں۔ کہیں تو اللہ تعالیٰ اس کی نسبت اپنی طرف کرتا ہے کہ ہم نے ان کو فتنے میں ڈالا ہے کہ ہم آزما کر ظاہر کردیں کہ کون کھرا ہے ‘ کون کھوٹا ہے۔ دوسری نسبت ان کفار کی طرف کی گئی جو مسلمانوں کو ستا رہے تھے اور انہیں فتنے میں ڈال رہے تھے۔ تیسری نسبت یہ ہے کہ انسان اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالتا ہے۔ یعنی جو لوگ اہل و عیال اور متاع دنیوی کی محبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں اور ان کی محبت کو اللہ کی محبت پر ترجیح دیتے ہیں وہ اپنے آپ کو فتنے میں مبتلا کرلیتے ہیں۔ اس فتنے کا ذکر سورة التغابن میں بایں الفاظ فرمایا گیا : { اِنَّمَآ اَمْوَالُـکُمْ وَاَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ} آیت 15 ”بلاشبہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے حق میں فتنہ ہیں“۔ اللہ تعالیٰ ‘ اس کے رسول ﷺ اور جہاد فی سبیل اللہ کے مقابلے میں اپنے مال و متاع اور اہل و عیال کو عزیز ترجاننا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ یہاں پر سورة التوبہ کی یہ آیت بھی ذہن میں تازہ کرلیں :{ قُلْ اِنْ کَانَ اٰبَآؤُکُمْ وَاَبْنَآؤُکُمْ وَاِخْوَانُکُمْ وَاَزْوَاجُکُمْ وَعَشِیْرَتُکُمْ وَاَمْوَالُ نِ اقْتَرَفْتُمُوْہَا وَتِجَارَۃٌ تَخْشَوْنَ کَسَادَہَا وَمَسٰکِنُ تَرْضَوْنَہَآ اَحَبَّ اِلَیْکُمْ مِّنَ اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَجِہَادٍ فِیْ سَبِیْلِہٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰی یَاْتِیَ اللّٰہُ بِاَمْرِہٖ وَاللّٰہُ لاَ یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۔ } ”اے نبی ﷺ ! ان سے کہہ دیجیے کہ اگر تمہارے باپ ‘ تمہارے بیٹے ‘ تمہارے بھائی ‘ تمہاری بیویاں اور بیویوں کے لیے شوہر ‘ تمہارے رشتہ دار اور وہ مال جو تم نے بہت محنت سے کمائے ہیں ‘ اور وہ تجارت جس کے مندے کا تمہیں خطرہ رہتا ہے ‘ اور وہ مکانات جو تمہیں بہت پسند ہیں ‘ اگر یہ سب چیزیں تمہیں محبوب تر ہیں اللہ ‘ اس کے رسول اور اس کے راستے میں جہاد سے ‘ تو انتظار کرو یہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ سنا دے۔ اور اللہ ایسے فاسقوں کو راہ یاب نہیں کرتا۔“ اس آیت نے گویا ایک ترازو نصب کر کے اس کے ایک پلڑے میں آٹھ اور دوسرے میں تین محبتیں رکھ دی ہیں۔ اب ہر کوئی اپنے اپنے پلڑوں کی کیفیت کو دیکھ کر اندازہ لگا سکتا ہے کہ وہ کہاں کھڑا ہے۔ تو اے گروہ منافقین ! تم خود بتائو تم نے اپنی زندگیوں میں ان میں سے کونسے پلڑے کو جھکا کر رکھا تھا ؟ آٹھ محبتوں والے پلڑے کو یا اللہ و رسول ﷺ اور جہاد کی محبت والے پلڑے کو ؟ ظاہر ہے دنیا میں تم لوگ دنیاداری کے تقاضوں کو ‘ اپنے مال و منال اور اہل و عیال کو اللہ کی رضا اور اس کے رسول ﷺ کی محبت پر ترجیح دیتے رہے ہو۔ یہ تمہارا اپنا فیصلہ تھا۔ یہ فیصلہ کرکے تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا اور اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ { وَتَرَبَّصْتُمْ } ”اور تم گومگو کی کیفیت میں مبتلا ہوگئے“ یہ وہی لفظ ہے جو سورة التوبہ کی مذکورہ بالا آیت کے آخر میں فَتَرَبَّصُوْا آیا ہے۔ تَرَبُّص کے معنی انتظار کے بھی ہیں کہ آدمی کسی جگہ پر ٹھٹک کر کھڑا ہوجائے۔ ایمان و عمل کے معاملے میں یہ ”انتظار“ ہی دراصل فتنہ ہے۔ یہ ایمان کی ڈانواں ڈول کیفیت کا نام ہے جس کی وجہ سے آدمی فیصلہ نہیں کرسکتا کہ آگے بڑھوں یا نہ بڑھوں ! آگے بڑھتا ہوں تو جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہوتے ہیں اور رکتا ہوں تو باز پرس کا ڈر ہے۔ ایسی صورت حال میں وہ سوچنے لگتا ہے کہ کچھ دیر انتظار کرتا ہوں ‘ اگر خطرہ ٹل گیا تو آگے بڑھ جائوں گا ‘ ورنہ پیچھے مڑ جائوں گا۔ اور باز پرس ہوگی تو جھوٹ بول کر جان بچا لوں گا۔ { وَارْتَبْتُمْ } ”اور تم لوگ شکوک و شبہات میں پڑگئے“ پھر تمہاری منافقت کا مرض بڑھ کر اگلے مرحلے میں داخل ہوگیا۔ یعنی پہلے اللہ کے مقابلے میں مال و اولاد کی محبت نے فتنے میں ڈالا ‘ اس کا نتیجہ ”تربُّص“ گومگو کی کیفیت کی صورت میں سامنے آیا۔ پھر اس کے بعد ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب بچے کھچے ایمان میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھنے شروع ہوگئے کہ کیا پتا قیامت آئے گی بھی کہ نہیں ! معلوم نہیں یہ مر کر زندہ ہونے کی باتیں سچی اور واقعی ہیں یا محض افسانے ہیں ! یہ دنیا تو ایک حقیقت ہے ‘ لیکن آخرت کا کیا اعتبار ! یہاں کا عیش اور یہاں کے مزے تو نقد ہیں۔ اس آرام و آسائش کو اگر میں آخرت کے موہوم وعدے پر قربان کر دوں تو پتا نہیں اس کا اجر ملے گا بھی یا نہیں ! اس کے بعد اس مرض کی آخری نشانی بتائی گئی : { وَغَرَّتْکُمُ الْاَمَانِیُّ } ”اور تمہیں دھوکے میں ڈال دیا تمہاری خواہشات نے“ ان خواہشات کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔ وہ بڑے بڑے گناہگاروں کو بخش دیتا ہے۔ ہم جو بھی ہیں ‘ جیسے بھی ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کے محبوب ﷺ کی امت ہیں۔ بالکل ایسا ہی زعم یہودیوں کو بھی تھا کہ ہم اللہ کے محبوب و برگزیدہ بندے ہیں : We are the chosen people of the Lord۔ چناچہ تم لوگ اپنی انہی خوش فہمیوں میں مگن رہے۔ اس مرحلے میں اگر کبھی توبہ کرنے اور روش تبدیل کرنے کا خیال تمہیں آیا بھی تو خوشنما آرزوئوں wishful thinkings کے تصور نے تمہارے ضمیر کو تھپک تھپک کر پھر سے سلا دیا۔ { حَتّٰی جَآئَ اَمْرُ اللّٰہِ وَغَرَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ۔ } ”یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا اور تمہیں خوب دھوکہ دیا اللہ کے معاملے میں اس بڑے دھوکے باز نے۔“ یعنی شیطان لعین نے تم لوگوں کو اللہ کے نام پر دھوکہ دیا۔ اس حوالے سے سورة لقمان میں ہم یہ تنبیہہ پڑھ چکے ہیں : { فَلَا تَغُرَّنَّکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَاوقفۃ وَلَا یَغُرَّنَّکُمْ بِاللّٰہِ الْغَرُوْرُ۔ } ”تو دیکھو ! تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے دنیا کی زندگی اور دیکھنا ! تمہیں دھوکے میں نہ ڈال دے اللہ کے حوالے سے وہ بڑا دھوکے باز۔“ زیر مطالعہ اس آیت میں بہت جامع انداز میں منافقت کے مدارج اور مراحل کے بارے میں بتادیا گیا ہے۔ مرض کا نقطہ آغاز مال و اولاد کی حد سے بڑھی ہوئی محبت سے ہوتا ہے۔ ان چیزوں میں انہماک کی وجہ سے انسان کے دل میں اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور جہاد کی محبت بتدریج کم ہوتی چلی جاتی ہے۔ اس صورت حال کے نتیجے میں تَرَبَّصکی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ جس کی وجہ سے ایمان کے اندر شکوک و شبہات کے رخنے پڑجاتے ہیں اور یہ وہ مرحلہ ہے جب نفاق اپنی اصلی شکل میں نمودار ہو کر دل میں مستقل ڈیرے جما لیتا ہے۔
فَالْيَوْمَ لَا يُؤْخَذُ مِنْكُمْ فِدْيَةٌ وَلَا مِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ مَأْوَاكُمُ النَّارُ ۖ هِيَ مَوْلَاكُمْ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيرُ
📘 آیت 15{ فَالْیَوْمَ لَا یُؤْخَذُ مِنْکُمْ فِدْیَۃٌ وَّلَا مِنَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”تو آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ہی کافروں سے۔“ ان الفاظ میں گویا واضح کردیا گیا کہ دنیا میں تمہارا شمار بیشک مسلمانوں میں ہوتا رہا تھا لیکن یہاں تمہارا حشر کافروں کے ساتھ ہوگا۔ دنیا میں تو منافق خود کو مسلمان ہی کہتا ہے اور قانوناً بھی وہ مسلمان ہی شمار ہوتا ہے ‘ لیکن اللہ خوب جانتا ہے کہ اس کا دل ایمان سے خالی ہے اور وہ صرف ایک زبانی عقیدہ dogma لیے پھرتا ہے۔ ظاہر ہے جب دل میں ایمان ہی نہیں تو اس کے نیک اعمال بھی ریاکاری اور دکھاوے پر مبنی ہیں۔ چناچہ ایسے لوگوں کو ان کے نیک اعمال کا بھی بالکل کوئی اجر نہیں ملے گا۔ بہرحال میدانِ محشر میں یہ لوگ نور سے محروم ہوں گے اور ان کا حشر کافروں کے ساتھ ہوگا۔ { مَاْوٰٹکُمُ النَّارُ ھِیَ مَوْلٰـٹکُمْ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ۔ } ”تمہارا ٹھکانہ آگ ہے ‘ وہی تمہاری غم خوار ہے ‘ اور وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔“ ”مَاْوٰی“ سے مراد ہے پناہ گاہ ‘ جس کی طرف انسان کسی خطرے سے بچنے کے لیے دوڑتا اور لپکتا ہے۔ یہاں طنزاً فرمایا کہ اب تمہاری پناہ گاہ اور ٹھکانہ یہی آگ ہے۔ اسی طرح یہاں ”مَوْلٰی“ کا لفظ بھی طنزاً استعمال ہوا ہے۔ مَوْلٰی کا مطلب ہے ہمدرد ‘ مونس و غم خوار ‘ غم گسار ‘ مددگار ‘ دوست ‘ پشت پناہ ‘ دمساز ‘ ساتھی وغیرہ۔ چناچہ فرمایا کہ اب یہی آگ تمہاری ہمدرد ‘ غم گسار اور خبرگیری کرنے والی ہے ‘ دکھ درد کہنا ہے تو اس سے کہو ‘ نالہ و شیون ہے تو اسی سے کرو ! مزید فرمایا کہ وہ بہت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ ”مَصِیْر“ کا مطلب ہے لوٹنے کی جگہ ‘ وہ جگہ جہاں انسان بانجامِ کار پہنچا دیا جائے۔۔۔۔ اَعَاذَنَا اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ !
۞ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِكْرِ اللَّهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ وَلَا يَكُونُوا كَالَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ
📘 اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ہر اس شخص سے سوال کر رہے ہیں جس نے اب تک کی یہ سب باتیں پڑھ کر یا سن کر اپنے دل میں اتار لی ہیں۔ سوال و خطاب کا یہ بہت جذباتی انداز ہے :آیت 16{ اَلَمْ یَاْنِ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُھُمْ لِذِکْرِ اللّٰہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ } ”کیا ابھی وقت نہیں آیا ہے اہل ایمان کے لیے کہ ان کے دل جھک جائیں اللہ کی یاد کے لیے اور اس قرآن کے آگے کہ جو حق میں سے نازل ہوچکا ہے ؟“ یہاں قرآن کے بارے میں فرمایا گیا : { وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ } یہی بات سورة بنی اسرائیل میں زیادہ ُ پرزور انداز میں فرمائی گئی ہے : { وَبِالْحَقِّ اَنْزَلْنٰـہُ وَبِالْحَقِّ نَزَلَ } آیت 105 ”اور ہم نے اس کو نازل کیا ہے حق کے ساتھ اور یہ نازل ہوا ہے حق کے ساتھ۔“ دین یا نیکی کے معاملے میں فیصلہ کرتے ہوئے انسان ہمیشہ تاخیر و تعویق سے کام لیتا ہے کہ یہ کرلوں ‘ وہ کرلوں ‘ بس اس کے بعد اپناطرزِ زندگی درست کرلوں گا ! ابھی ذرا بچیوں کے ہاتھ پیلے کرلوں ! بس ذرا یہ بچوں کی تعلیم مکمل ہو لے وغیرہ وغیرہ۔ اور دیکھا جائے تو بچوں کی تعلیم ہے کیا ؟ صرف دنیا بنانے اور دنیا کمانے کے علم و فن کی تحصیل ! گویا جس کوئے ملامت کے طواف میں خود ساری عمر برباد کردی انہی راستوں پر اپنی اولاد کو گامزن کرنے کے خواب دیکھے جا رہے ہیں ! پھر یوں بھی ہوتا ہے کہ بچوں کے کیریئرز بنانے کے جنون میں انہیں کچی عمر میں برطانیہ اور امریکہ بھیجنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ وہاں جا کر بچے جب ”ترقی“ کی منازل طے کرتے کرتے اس ”مقام“ پر پہنچ جاتے ہیں کہ مذہب و اخلاق سے اپنے تعلق کو باعث عار سمجھنے لگتے ہیں تو پھر یہ لوگ بیٹھ کر روتے ہیں اور لادینی تہذیب و تمدن کو کو ستے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اس سوال پر لازم ہے کہ ہم سب اپنے اپنے ضمیر کی عدالت میں پیش ہو کر خود سے پوچھیں کہ کیا ہماری زندگیوں میں وہ وقت ابھی نہیں آیا کہ ہم اللہ اور قرآن کے احکام کے سامنے جھک جائیں ؟ { وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَبْلُ } ”اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی“ { فَطَالَ عَلَیْھِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ } ”تو جب ان پر ایک طویل مدت گزر گئی تو ان کے دل سخت ہوگئے۔“ یہاں پر { فَقَسَتْ قُلُوْبُھُمْ } کے یہ الفاظ پڑھتے ہوئے سورة البقرۃ کی آیت 74 کا وہ حصہ بھی ذہن میں تازہ کرلیں جس میں بنی اسرائیل کو مخاطب کرکے فرمایا گیا : { ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُـکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً } ”پھر تمہارے دل سخت ہوگئے اس سب کچھ کے بعد ‘ پس اب تو وہ پتھروں کی مانند ہیں ‘ بلکہ سختی میں ان سے بھی زیادہ شدید ہیں۔“ { وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ۔ } ”اور ان کی اکثریت اب فاسقوں پر مشتمل ہے۔“ آیت زیر مطالعہ کے الفاظ { وَلَا یَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ اُوْتُوا الْکِتٰبَ مِنْ قَـبْلُ } میں واضح طور پر بتادیا گیا کہ بنی اسرائیل بھی تمہاری طرح اپنے زمانے کی امت ِمسلمہ تھے۔ ان کی روش کو بھی تم جانتے ہو اور ان کے انجام سے بھی تم آگاہ ہو۔ دیکھ لو ! اگر تم نے اب بھی توبہ نہ کی اور اپنی روش تبدیل نہ کی تو یہ مت بھولو کہ ان کی طرح تمہیں بھی نشان عبرت بنایا جاسکتا ہے۔ اس ڈانٹ کے بعد اب اگلی آیت میں ہمت افزائی کی جا رہی ہے کہ دیکھو ! اگر تم سمجھتے ہو کہ تمہارے دل کی ”زمین“ ایمان کی فصل کے قابل نہیں رہی ‘ تو بھی تمہیں گھبرانے یا مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔
اعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ قَدْ بَيَّنَّا لَكُمُ الْآيَاتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
📘 آیت 17{ اِعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰہَ یُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا } ”جان لو کہ اللہ زندہ کردیتا ہے زمین کو اس کے مرنے کے بعد۔“ تم اکثر دیکھتے ہو کہ بےآب وگیاہ بنجر زمین پر جب بارش برستی ہے تو اس کے ذرے ذرے میں زندگی رواں دواں ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اگر تم لوگ بھی خلوص نیت کے ساتھ توبہ کر لوگے اور اللہ کے حضور جھک جائو گے تو وہ اپنی نظر رحمت سے تمہارے دلوں کی زمین کو بھی ازسر نو زندگی بخش دے گا اور اسے پھر سے ایمان کی فصل کے قابل بنا دے گا۔ { قَدْ بَیَّنَّا لَـکُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ } ”ہم نے تو تمہارے لیے اپنی آیات خوب واضح کردی ہیں تاکہ تم عقل سے کام لو۔“ لہٰذا تم عقل سے کام لیتے ہوئے اس مثال سے سبق سیکھو ! تم خوب سمجھتے ہو کہ فصلیں کب برباد ہوتی ہیں اور زمینیں کیونکر بنجر بنتی ہیں ‘ تمہیں بنجر زمینوں کو پھر سے سرسبز و شاداب بنانے کا نسخہ بھی معلوم ہے۔ یہی نسخہ ذرا اپنے دل کی زمین پر بھی آزمائو اور اس زمین کو بھی پھر سے آباد کرنے پر کمر ہمت باندھو۔ توکل علی اللہ کا سرمایہ اکٹھا کرو ‘ انفاق فی سبیل اللہ کے ہل چلا کر حب مال کے جھاڑ جھنکاڑ سے جان چھڑائو ‘ پھر اللہ کی اطاعت و محبت کے بیج بو کر اس کے ذکر کے پانی سے مسلسل آبیاری کرتے چلے جائو اور دل میں یقین رکھو کہ اللہ مردہ زمینوں کو پھر سے زندہ کردیا کرتا ہے۔
إِنَّ الْمُصَّدِّقِينَ وَالْمُصَّدِّقَاتِ وَأَقْرَضُوا اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا يُضَاعَفُ لَهُمْ وَلَهُمْ أَجْرٌ كَرِيمٌ
📘 آیت 18{ اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَھُمْ وَلَھُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ۔ } ”یقینا صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور جو قرض دیں اللہ کو قرض حسنہ ‘ ان کو کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا اور ان کے لیے بڑا باعزت اجر ہے۔“ سورة البقرۃ کے رکوع 35 اور 36 کے مطالعہ کے دوران بھی یہ نکتہ واضح کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے مال خرچ کرنے کی دو مدیں ہیں۔۔۔۔ یعنی ایک صدقہ اور دوسری انفاق فی سبیل اللہ یا اللہ کے لیے قرض حسنہ۔ چناچہ وہ مال جو اللہ کی رضا کے لیے غربائ ‘ مساکین ‘ بیوائوں ‘ یتیموں ‘ بیماروں ‘ مسافروں ‘ مقروضوں ‘ محتاجوں اور ضرورت مند انسانوں کی مدد اور حاجت روائی کے لیے خرچ کیا جائے وہ صدقہ ہے۔ اسی مفہوم میں سورة التوبہ کی آیت 60 میں زکوٰۃ کو بھی ”صدقہ“ قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ زکوٰۃ بنیادی طور پر غرباء و مساکین اور محتاجوں کے لیے ہے۔ اس میں اللہ کے لیے فی سبیل اللہ صرف ایک مد رکھی گئی ہے۔ اس حوالے سے دوسری اصطلاح ”انفاق فی سبیل اللہ“ یا اللہ کے لیے قرض حسنہ کی ہے۔ واضح رہے کہ یہ باقاعدہ ایک اصطلاح کی بات ہو رہی ہے ‘ ورنہ عرفِ عام میں تو صدقہ بھی فی سبیل اللہ ہی ہے ‘ کیونکہ وہ بھی اللہ کے لیے اور اس کی رضاجوئی کے لیے ہی دیا جاتا ہے۔ بہرحال ایک باقاعدہ اصطلاح کے اعتبار سے انفاق فی سبیل اللہ ایسا انفاق ہے جو اللہ کے دین کے لیے ‘ دین کی نشرو اشاعت کے لیے اور اس کے غلبہ و اقامت کی جدوجہد کے لیے کیا جائے اور یہی وہ انفاق ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنے ذمہ قرض قرار دیتا ہے۔ اللہ کی مشیت سے مردہ زمین کے زندہ ہوجانے کے ذکرکے بعد یہاں صدقہ اور اللہ کے لیے قرض حسنہ کی ترغیب میں گویا دل کی مردہ زمین کو پھر سے ایمان کی فصل کے لائق بنانے کی ترکیب پنہاں ہے۔ یعنی اگر تم نے دل کی مردہ زمین کو زندہ کرنا ہے تو اس میں انفاقِ مال کا ہل چلائو اور اس میں سے ُ حب ِدنیا کی جڑوں کو کھود کھود کر نکال باہر کرو۔ یقین رکھو کہ جیسے جیسے تم اللہ کی رضا کے لیے مال خرچ کرتے جائو گے ‘ ویسے ویسے تمہارے دل کی زمین میں ایمان کی فصل جڑیں پکڑتی چلی جائے گی۔ دنیا کی محبت کو میں عام طور پر گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دیا کرتا ہوں۔ جس طرح گاڑی کو بریک لگی ہو تو وہ حرکت میں نہیں آسکتی ‘ اسی طرح اگر دنیا کی محبت آپ کے دل میں پیوست ہوچکی ہے تو اس میں اللہ کے راستے پر گامزن ہونے کی امنگ پیدا نہیں ہوسکتی۔ چناچہ دل کی گاڑی کو رضائے الٰہی کی شاہراہ پر رواں دواں کرنے کے لیے اس کی بریک سے پائوں اٹھانا بہت ضروری ہے۔ یعنی اس کے لیے مال کی محبت کو دل سے نکالنا ناگزیر ہے۔ اور اس محبت کو دل سے نکالنے کی ترکیب یہی ہے کہ اپنے مال کو زیادہ سے زیادہ اللہ کے راستے میں خرچ کیا جائے۔
وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ ۖ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ
📘 آیت 19{ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖٓ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ وَالشُّھَدَآئُ عِنْدَ رَبِّھِمْ } ”اور جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر وہی ہیں صدیق اور شہداء اپنے رب کے پاس۔“ یعنی وہ لوگ جو صدقات کے ذریعے اور اللہ کو قرض حسنہ دے کر اپنے دلوں سے مال کی محبت اور اس کی نجاست کو دھو ڈالتے ہیں ‘ وہ جب ایمانِ حقیقی سے سرشار ہوتے ہیں تو اب ان کے لیے مقام صدیقیت اور مرتبہ ٔ شہادت تک پہنچنے کا راستہ کھلا ہوا ہے۔ صدقہ و خیرات اور انفاق فی سبیل اللہ سے اگر دل کی گاڑی کی بریک کھل گئی اور یہ گاڑی ایمانِ حقیقی کے راستے پر رواں دواں ہوگئی تو پھر اہل ایمان میں سے ہر کوئی اپنی ہمت اور کوشش کے مطابق اس راستے کی منازل طے کرنے کے قابل ہوجائے گا۔ سیاقِ مضمون کے اعتبار سے اس آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر تم نے انفاقِ مال کے ذریعے مال کی محبت کو دل سے نکال کر اللہ کی محبت سے اپنے دل کو آباد کرلیا تو ایمانِ حقیقی تمہارے دلوں میں راسخ ہوتا چلا جائے گا۔ اس کے بعد تم اپنی اپنی کوششوں اور اپنی اپنی طبائع کے مطابق ترقی کرتے چلے جائو گے۔ ترقی کے اس راستے میں تم میں سے بعض لوگ شہادت کے مقام پر بھی فائز ہوسکتے ہیں اور بعض صدیقیت کا مرتبہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ یہ وہی اعلیٰ مراتب ہیں جن کا ذکر سورة النساء کی اس آیت میں ہوا ہے :{ وَمَنْ یُّطِـعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَ وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا۔ } ”اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور رسول ﷺ کی تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں معیت حاصل ہوگی ان کی جن پر اللہ کا انعام ہوا یعنی انبیاء کرام ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین ‘ اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے !“ چنانچہ تم ہمت کرو ‘ اپنے اپنے دل کی گاڑی کی بریک کھولو ‘ ایمان کا ایکسلریٹر accelerator دبائو اور اللہ کے راستے پر نکل پڑو۔ اس ایکسلریٹر کو تم جتنا بڑھاتے چلے جائو گے اسی نسبت سے تمہاری منزل قریب سے قریب تر ہوتی چلی جائے گی۔ انسانی مزاج اور طبائع کے اعتبار سے مقام صدیقیت اور مقام شہادت کی تفصیل جاننے کے لیے ملاحظہ ہو سورة مریم کی آیت 41 کی تشریح۔ { لَھُمْ اَجْرُھُمْ وَنُوْرُھُمْ } ”ان کے لیے ہوگا ان کا اجر اور ان کا نور۔“ انہیں اللہ کے ہاں سے اجر بھی ملے گا اور نور بھی۔ نور تو میدانِ حشر میں پل صراط سے گزرنے کے لیے ملے گا ‘ جبکہ اجر جنت میں داخلے اور اس میں درجات کی بلندی کے لیے ملے گا۔ { وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۔ } ”اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی دوزخ والے ہیں۔“
لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يُحْيِي وَيُمِيتُ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 آیت 2 { لَـہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”اسی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی۔“ آیت کے آغاز میں جو حرفِ جار ”ل“ آیا ہے یہ تملیک کے لیے بھی ہوسکتا ہے اور استحقاق کے لیے بھی۔ یعنی آسمانوں اور زمین کی بادشاہی de facto بھی اسی کی ہے اور de jure بھی۔۔۔ اسی کو حاکمیت کا حق پہنچتا ہے اور بالفعل بھی وہی حاکم ہے۔ اسی کو حق پہنچتا ہے کہ وہ مالک ہو اور بالفعل بھی وہی مالک ہے۔ اس سورة مبارکہ میں دین کا ذکر خصوصی طور پر بطور ایک نظام کے کیا گیا ہے اور یہ نظام صرف حکومت الٰہیہ کے زیر سایہ ہی قائم ہوسکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس سورت میں اللہ کی ایسی صفات بار بار نمایاں کی گئی ہیں جن کا تعلق طاقت ‘ حکومت ‘ قدرت اور اختیار سے ہے۔ { یُحْیٖ وَیُمِیْتُ وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ } ”وہی زندہ رکھتا ہے ‘ وہی مارتا ہے۔ اور وہ ہرچیز پر قادر ہے۔“ اس سورة مبارکہ کی پہلی چھ آیات پورے قرآن حکیم میں اس اعتبار سے منفرد و ممتاز ہیں کہ ان میں اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات کا ذکر فلسفے اور منطق کی سطح پر جامع ترین انداز میں ہوا ہے۔ لیکن ظاہر ہے یہ موقع ایسی تفصیلات میں جانے کا نہیں۔
اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
📘 آیت 20{ اِعْلَمُوْٓا اَنَّـمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھْوٌ وَّزِیْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌ بَیْنَـکُمْ وَتَـکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ } ”خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل ‘ دل لگی کا سامان اور ظاہری ٹیپ ٹاپ ہے اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش ہے۔“ گزشتہ سطور میں دنیا کی محبت کو گاڑی کی بریک سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ُ حب ِدنیا انسان کو اللہ کے راستے پر چلنے سے ایسے روک دیتی ہے جیسے ایک گاڑی کو اس کی بریک جامد و ساکت کردیتی ہے۔ اب اس آیت میں اس بریک یعنی حب دنیا کی اصل حقیقت کو بےنقاب کیا گیا ہے۔ تو آیئے اس آیت کے آئینے میں دیکھئے انسانی زندگی کی حقیقت کیا ہے ؟ انسانی زندگی کا آغاز کھیل کود لعب سے ہوتا ہے۔ بچپن میں انسان کو کھیل کود کے علاوہ کسی اور چیز سے کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ باپ امیر ہے یا غریب ‘ اس کا کاروبار ٹھیک چل رہا ہے یا مندے کا شکار ہے ‘ بچے کو اس سے کوئی سروکار نہیں ہوتا ‘ اسے تو کھیلنے کو دنے کا موقع ملتے رہنا چاہیے اور بس۔ پھر جب وہ لڑکپن کی عمر teenage کو پہنچتا ہے تو اس کا کھیل کود محض ایک معصوم مشغولیت تک محدود نہیں رہتا ‘ بلکہ اس میں کسی نہ کسی حد تک تلذذ sensual gratification کا عنصر بھی شامل ہوجاتا ہے۔ اس مشغولیت کو آیت میں لَـھْو کا نام دیا گیا ہے۔ یہاں یہ نکتہ بھی قابل غور ہے کہ عام طور پر قرآن میں انسان کی دنیوی زندگی کی حقیقت بیان کرنے کے لیے لَہْو و لَعب کی ترکیب استعمال ہوئی ہے ‘ لیکن یہاں ان الفاظ کی ترتیب بدل دی گئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں عمر کی تقسیم کے حساب سے انسانی زندگی کے مراحل کا ذکر ہو رہا ہے اور اس حوالے سے لعب یعنی کھیل کود کا مرحلہ پہلے آتا ہے جبکہ اس میں لَـہْو کا عنصر بعد کی عمر میں شامل ہوتا ہے۔ جوانی کی اسی عمر میں انسان پر اپنی شخصیت کی ظاہری ٹیپ ٹاپ زِیْنَۃ کا جنون سوار ہوتا ہے۔ عمر کے اس مرحلے میں وہ شکل و صورت کے بنائو سنگھار ‘ ملبوسات وغیرہ کی وضع قطع ‘ معیار اور فیشن کے بارے میں بہت حساس ہوجاتا ہے۔ پھر اس کے بعد جب عمر ذرا اور بڑھتی ہے تو تَفَاخُرٌ بَیْنَکُمْکا مرحلہ آتا ہے۔ یہ انسانی زندگی کا چوتھا اور اہم ترین مرحلہ ہے۔ اس عمر میں انسان پر ہر وقت تفاخر کا بھوت سوار ہوتا ہے ‘ اور وہ عزت ‘ شہرت ‘ دولت ‘ گھر ‘ گاڑی وغیرہ کے معاملے میں خود کو ہر قیمت پر دوسروں سے برتر اور آگے دیکھنا چاہتا ہے۔ اس کے بعد جب عمر ذرا ڈھلتی ہے تو تَـکَاثُــرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِکا دور آتا ہے۔ اس دور میں انسان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں۔ تفاخر کے دور میں تو سوچ یہ تھی کہ کچھ بھی ہوجائے مونچھ نیچی نہیں ہونی چاہیے ‘ لیکن اب سوچ یہ ہے کہ مال آنا چاہیے ‘ مونچھ رہے یا نہ رہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس عمر میں پہنچ کر انسان اپنے مفاد کے معاملے میں بہت حقیقت پسند realistic ہوجاتا ہے ‘ بلکہ جوں جوں بڑھاپے کی طرف جاتا ہے ‘ اس کے دل میں مال و دولت کی ہوس بڑھتی چلی جاتی ہے۔ حتیٰ کہ ایک مرحلے پر اسے خود بھی محسوس ہوجاتا ہے کہ اب وہ پائوں قبر میں لٹکائے بیٹھا ہے مگر اس کی ھَلْ مِنْ مَّزِیْد کی خواہش ختم ہونے میں نہیں آتی۔ انسان کی اسی کیفیت کو سورة التکاثر میں یوں بیان فرمایا گیا ہے : { اَلْھٰٹکُمُ التَّـکَاثُرُ - حَتّٰی زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ۔ } ”لوگو ! تم کو مال کی کثرت کی طلب نے غافل کردیا ‘ یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔“ بہرحال وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں ‘ لیکن عمر کے ہر مرحلے میں کسی ایک چیز کی دھن اس کے ذہن پر سوار رہتی ہے۔ اس موضوع پر یہ قرآن حکیم کی واحد آیت ہے اور اس اعتبار سے بہت اہم اور منفرد ہے ‘ مگر حیرت ہے کہ انسانی زندگی کے نفسیاتی مراحل کے طور پر اسے بہت کم لوگوں نے سمجھا ہے۔ آیت کے اگلے حصے میں انسانی اور نباتاتی زندگی کے مابین پائی جانے والی مشابہت اور مماثلت کا ذکر ہے۔ یہ مضمون قرآن مجید میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے کہ نباتاتی سائیکل Botanical cycle اور انسانی زندگی کے سائیکل Human life cycle دونوں میں بڑی گہری مشابہت اور مناسبت ہے۔ اس تشبیہہ سے انسان کو دراصل یہ بتانا مقصود ہے کہ اگر تم اپنی زندگی کی حقیقت سمجھنا چاہتے ہو تو کسان کی ایک فصل کے سائیکل کو دیکھ لو۔ اس فصل کے دورانیہ میں تمہیں اپنی پیدائش ‘ جوانی ‘ بڑھاپے ‘ موت اور مٹی میں مل کر مٹی ہوجانے کا حقیقی نقشہ نظر آجائے گا۔ { کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَبَاتُہٗ } ”انسانی زندگی کی مثال ایسے ہے جیسے بارش برستی ہے تو اس سے پیدا ہونے والی روئیدگی کسانوں کو بہت اچھی لگتی ہے“ { ثُمَّ یَھِیْجُ } ”پھر وہ کھیتی اپنی پوری قوت پر آتی ہے“ { فَتَرٰٹہُ مُصْفَرًّا } ”پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوجاتی ہے“ { ثُمَّ یَکُوْنُ حُطَامًا } ”پھر وہ کٹ کر چورا چورا ہوجاتی ہے۔“ اس تشبیہہ کے آئینے میں انسانی زندگی کی مکمل تصویر دیکھی جاسکتی ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو خوشیاں منائی جاتی ہیں۔ پھر وہ جوان ہو کر اپنی پوری قوت کو پہنچ جاتا ہے۔ پھر عمر ڈھلتی ہے تو بالوں میں سفیدی آجاتی ہے اور چہرے پر جھریاں پڑجاتی ہیں۔ پھر موت آنے پر اسے زمین میں دبادیا جاتا ہے جہاں وہ مٹی میں مل کر مٹی ہوجاتا ہے۔ لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ یہ تشبیہہ صرف دنیوی زندگی کی حقیقت کو سمجھنے کے لیے ہے۔ تم اشرف المخلوقات ہو ‘ نباتات نہیں ہو ‘ تمہاری اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے جو کہ دائمی اور ابدی ہے اور اس کی نعمتیں اور صعوبتیں بھی دائمی اور ابدی ہیں۔ لہٰذا عقل اور سمجھ کا تقاضا یہی ہے کہ تم اپنی آخرت کی فکر کرو۔ { وَفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ وَّمَغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٌ } ”اور آخرت میں بہت سخت عذاب ہے اور یا پھر اللہ کی طرف سے مغفرت اور اس کی رضا ہے۔“ رسول اللہ ﷺ کی دعوت کے ابتدائی دور کا ایک خطبہ ”نہج البلاغہ“ میں نقل ہوا ہے۔ اس کے اختتامی الفاظ یوں ہیں : … ثُمَّ لَتُحَاسَبُنَّ بِمَا تَعْمَلُوْنَ ، ثُمَّ لَتُجْزَوُنَّ بِالْاِحْسَانِ اِحْسَانًا وَبِالسُّوْئِ سُوْئً ، وَاِنَّھَا لَجَنَّـۃٌ اَبَدًا اَوْ لَنَارٌ اَبَدًا 1”… پھر لازماً تمہارے اعمال کا حساب کتاب ہوگا اور پھر لازماً تمہیں بدلہ ملے گا اچھائی کا اچھا اور برائی کا برا۔ اور وہ جنت ہے ہمیشہ کے لیے یا آگ ہے دائمی۔“ { وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ۔ } ”اور دنیا کی زندگی تو سوائے دھوکے کے ساز و سامان کے اور کچھ نہیں ہے۔“ تمہاری دنیوی زندگی کی حقیقت تو بس یہی ہے ‘ لیکن تم ہو کہ اس حقیقت کو فراموش اور نظر انداز کیے بیٹھے ہو۔ تمہارے دل میں نہ اللہ کی یاد ہے اور نہ آخرت کی فکر۔ بس تم اس عارضی اور دھوکے کی زندگی کی آسائشوں میں مگن اور اسی کی رنگینیوں میں گم ہو۔ یاد رکھو ! یہ طرز عمل غیروں کی پہچان تو ہوسکتا ہے ‘ ایک بندئہ مومن کے ہرگز شایانِ شان نہیں ہے۔ بقول علامہ اقبال : ؎کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مومن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق !
سَابِقُوا إِلَىٰ مَغْفِرَةٍ مِنْ رَبِّكُمْ وَجَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ أُعِدَّتْ لِلَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
📘 آیت 21{ سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ } ”ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو اپنے رب کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان اور زمین جیسی ہے۔“ دنیا کمانے میں تو تم لوگ خوب مسابقت کر رہے ہو۔ اس میدان میں تو تم ہر وقت ع ”ہے جستجو کہ خوب سے ہے خوب تر کہاں !“ کی فکر میں لگے رہتے ہو۔ عارضی دنیا کی اس مسابقت کو چھوڑو ‘ اپنی یہی صلاحیتیں اللہ کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے صرف کرو۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے محنت کرو اور اس منزل میں بہتر سے بہتر مقام پانے کے لیے دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرو۔ جنت کی وسعت کی مثال کے لیے یہاں ”کَعَرْضِ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ“ جبکہ سورة آل عمران کی آیت 133 میں ”عَرْضُھَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضُ“ کے الفاظ آئے ہیں۔ موجودہ دور میں سائنس کی حیرت انگیز ترقی کے باوجود ابھی تک ارض و سماء کی وسعت کے بارے میں انسان کا علم نہ ہونے کے برابر ہے۔ بہرحال اب تک میسر ہونے والی معلومات کے مطابق اس کائنات میں ارب ہا ارب کہکشائیں ہیں۔ ہر کہکشاں کی وسعت اور ایک کہکشاں سے دوسری کہکشاں کے فاصلے کو کروڑوں نوری سالوں پر محیط تصور کیا گیا ہے۔ اسی طرح ہر کہکشاں میں اَن گنت ستارے ‘ ہمارے نظام شمسی solar system جیسے بیشمار نظام اور ہماری زمین جیسے لاتعداد سیارے ہیں۔ اسی طرح ہر ستارے کی جسامت اور ایک ستارے سے دوسرے ستارے تک کے فاصلے کا اندازہ بھی نوری سالوں میں کیا جاسکتا ہے۔ یہاں اس آیت میں آسمان اور زمین کی وسعت سے مراد پوری کائنات کی وسعت ہے جس کا اندازہ کرنا انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ بہرحال اس مثال سے جنت کی وسعت کے تصور کو انسانی ذہن کی سطح پر ممکن حد تک قابل فہم بنانا مقصود ہے۔ اس حوالے سے میرا گمان یہ ہے واللہ اعلم ! کہ قیامت برپا ہونے کے بعد پہلی جنت اسی زمین پر بنے گی اور اہل جنت کی ابتدائی مہمانی نُزُل بھی یہیں پر ہوگی۔ اس کے بعد اہل جنت کے درجات و مراتب کے مطابق ان کے لیے آسمانوں کے دروازے کھولے جائیں گے۔ اس حوالے سے سورة الاعراف کی اس آیت میں واضح فرما دیا گیا ہے : { اِنَّ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَاسْتَکْبَرُوْا عَنْھَا لَا تُفَتَّحُ لَھُمْ اَبْوَابُ السَّمَآئِ…} آیت 40 کہ اللہ تعالیٰ کی آیات کو جھٹلانے اور ان کے بارے میں تکبر کرنے والوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے۔ بہرحال اس کے بعد اہل جنت کو ان کے مراتب کے مطابق اس جنت میں منتقل کردیا جائے گا جس کی وسعت کا یہاں ذکر ہوا ہے۔ اہل جنت کو وہاں جانے کے لیے کسی راکٹ وغیرہ کی ضرورت نہیں ہوگی ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ انہیں اسی انداز سے آسمانوں پر لے جائے گا جیسے محمد رسول اللہ ﷺ سفر معراج میں زمین سے ساتویں آسمان تک چلے گئے تھے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام ساتویں آسمان سے زمین پر آتے ہیں۔ { اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ } ”وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔“ ”اِعداد“ بابِ افعال کے معنی ہیں کسی خاص مقصد کے لیے کسی چیز کو تیار کرنا۔ یعنی وہ جنت بڑے اہتمام سے تیار کی گئی ہے ‘ سجائی اور سنواری گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ { ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۔ } ”یہ اللہ کا فضل ہے جس کو بھی وہ چاہے گا دے گا۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔“ ”فَضْل“ سے مراد ہے اللہ کی طرف سے بغیر استحقاق کے دی جانے والی شے۔ اس کے بالمقابل اجرت اور اجر کے الفاظ عام استعمال ہوتے ہیں ‘ جن کا مطلب ہے بدلہ ‘ جو کسی محنت اور مزدوری کا نتیجہ ہوتا ہے۔ لیکن قرآن مجید میں بالعموم جہاں بھی جنت کا تذکرہ آیا ہے وہاں لفظ ”فَضْل“ استعمال ہوا ہے۔ گویا قرآن مجید کا تصور یہ ہے کہ انسان مجرد اپنے عمل کے ذریعے سے جنت کا مستحق نہیں بن سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کی دست گیری نہ کرے۔٭ اب اگلی آیت میں دنیوی زندگی میں پیش آنے والی تکالیف و مشکلات کو قابل برداشت بنانے کا نسخہ بتایا جا رہا ہے۔ دراصل اہل ایمان کو جس راستے کی طرف بلایا جا رہا ہے وہ بہت کٹھن اور صبر آزما راستہ ہے۔ یہ انفاق ‘ جہاد اور قتال کا راستہ ہے اور اس کی منزل ”اقامت دین“ ہے ‘ جس کا ذکر آگے آیت 25 میں آ رہا ہے۔ اس اعتبار سے آیت 25 اس سورت کے ذروئہ سنام climax کا درجہ رکھتی ہیں۔ بہرحال اہل ایمان جب اس راستے پر گامزن ہوں گے تو آزمائشیں ‘ صعوبتیں اور پریشانیاں قدم قدم پر ان کے سامنے رکاوٹیں کھڑی کریں گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا اٹل قانون ہے جس کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشادِربانی ہے : { وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِط } آیت 155 ”اور ہم تمہیں لازماً آزمائیں گے کسی قدر خوف اور بھوک سے اور مالوں اور جانوں اور ثمرات کے نقصان سے“۔ جبکہ سورة آل عمران میں اس قانون کا ذکر ان الفاظ میں بیان ہوا ہے : { لَتُـبْـلَوُنَّ فِیْٓ اَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْقف وَلَـتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْـکِتٰبَ مِنْ قَـبْلِکُمْ وَمِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَکُوْآ اَذًی کَثِیْرًاط } آیت 186 ”مسلمانو ! یاد رکھو تمہیں لازماً آزمایا جائے گا تمہارے مالوں میں بھی اور تمہاری جانوں میں بھی ‘ اور تمہیں لازماً سننا پڑیں گی بڑی تکلیف دہ باتیں ان لوگوں سے بھی جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی اور ان سے بھی جنہوں نے شرک کیا“۔ چناچہ مشکلات و مصائب کی اس متوقع یلغار کے دوران اہل ایمان کو سہارا دینے کے لیے یہ نسخہ بتایاجا رہا ہے :
مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَبْرَأَهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
📘 آیت 22{ مَـآ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلَا فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَـبْلِ اَنْ نَّــبْرَاَھَا } ”نہیں پڑتی کوئی پڑنے والی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری اپنی جانوں میں مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں درج ہے ‘ اس سے پہلے کہ ہم اسے ظاہر کریں۔“ اَصَابَ یُصِیْبُ آپڑنا ‘ نازل ہونا سے اسم الفاعل ”مُصِیْب“ ہے اور اس کی مونث ”مُصِیْبَۃ“ ہے ‘ جس کے معنی ہیں نازل ہونے یا آپڑنے والی شے۔ چناچہ لغوی اعتبار سے تمام حوادث ‘ واقعات ‘ کیفیات جو ہم پر وارد ہوتی ہیں ‘ وہ سب کی سب اس میں شامل ہوجائیں گی ‘ لیکن عام طور پر یہ لفظ تکلیف دہ ‘ ناگوار اور ناپسندیدہ چیزوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس آیت کی رو سے مصیبتیں دو قسم کی ہیں۔ یا تو آفاتِ ارضی و سماوی یعنی آفاقی مصیبتیں ‘ جو زمین پر بڑے پیمانے پر نازل ہوتی ہیں ‘ مثلاً سیلاب ‘ زلزلے ‘ طوفانِ باد و باراں وغیرہ ‘ یا انسانوں کی اپنی جانوں پر کوئی مصیبت آن پڑتی ہے ‘ مثلاً کوئی بیماری یا کوئی عارضہ لاحق ہوگیا یا کوئی حادثہ پیش آگیا۔ یہاں واضح فرما دیا گیا کہ دنیا میں جہاں کہیں بھی انسانوں پر اجتماعی یا انفرادی طور پر کسی بھی شکل میں کوئی مصیبت ‘ آفت یا تکلیف آتی ہے اس کے معرض وجود میں آنے سے قبل اس کی پوری تفصیل اللہ کے علم قدیم میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ { اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ} ”یقینا یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔“ انسانوں کو یہ بات بیشک عجیب یا مشکل لگے ‘ مگر اللہ کا علم مَا کَانَ وَمَا یَکُوْنُ پر محیط ہے۔ اس کے لیے کائنات کی ایک ایک چیز کا پوری تفصیل سے احاطہ کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ یہ بات تم لوگوں کو بھلا کیوں بتائی جا رہی ہے ؟ اس لیے :
لِكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ ۗ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ
📘 آیت 23{ لِّکَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰی مَا فَاتَکُمْ } ”تاکہ تم افسوس نہ کیا کرو اس پر جو تمہارے ہاتھ سے جاتا رہے“ کوئی اچھا موقع ہاتھ سے نکل جانے پر انسان رہ رہ کر افسوس کرتا اور پچھتاتا ہے کہ اگر میں اس وقت یوں کرلیتا تو میرا یہ کام ہوجاتا ‘ اگر فلاں شخص فلاں وقت فلاں رکاوٹ کھڑی نہ کردیتا تو میں فلاں نقصان سے بچ جاتا وغیرہ وغیرہ۔ ایسے پچھتاوے بعض اوقات زندگی کا روگ بن جاتے ہیں۔ لیکن اگر اللہ اور اس کے فیصلوں پر انسان کا ایمان مضبوط ہو تو وہ اپنے بڑے سے بڑے نقصان کو بھی یہ کہہ کر بھلا دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو میرے حق میں ایسا ہی منظور تھا اور اس چیز کے میرے ہاتھ سے نکل جانے میں ہی خیر تھی ‘ کیونکہ میرے لیے کیا بہتر ہے اور کیا بہتر نہیں ہے اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ سورة البقرۃ کی یہ آیت اس بارے میں بہت واضح ہے :{ وَعَسٰٓی اَنْ تَـکْرَہُوْا شَیْئًا وَّہُوَخَیْرٌ لَّــکُمْ وَعَسٰٓی اَنْ تُحِبُّوْا شَیْئًا وَّہُوَ شَرٌّ لَّــکُمْ وَاللّٰہُ یَعْلَمُ وَاَنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ۔ } ”اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی شے کو ناپسند کرو اور وہ تمہارے لیے بہتر ہو ‘ اور ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو پسند کرو درآنحالیکہ وہی تمہارے لیے بری ہو۔ اور اللہ جانتا ہے ‘ تم نہیں جانتے۔“ { وَلَا تَفْرَحُوْا بِمَا اٰتٰٹـکُمْ وَاللّٰہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ۔ } ”اور اس پر اترایا نہ کرو جو وہ تمہیں دے دے ‘ اور اللہ کو بالکل پسند نہیں ہیں اترانے والے اور فخر کرنے والے۔“ ایسی کسی صورت میں انسان کے لیے اترانے کا جواز اس لیے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے جو کچھ بھی دیا جاتا ہے دراصل اس کی آزمائش کے لیے دیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے ہمیں اس حقیقت کو کسی وقت بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس دنیا میں ہمیں جو نعمت ‘ صلاحیت یا دولت ملتی ہے اس کے لیے ہمیں جواب دہ ہونا ہے۔ چناچہ جس انسان کے پاس دنیوی نعمتوں کی جس قدر بہتات ہوگی جوابدہی کے حوالے سے اس کی ذمہ داری بھی اسی حد تک بڑھ جائے گی۔ اکائونٹس کی زبان میں ایسی ذمہ داری کو liability کہا جاتا ہے۔ جب کسی محکمے یا ادارے کی balance sheet تیار ہوتی ہے تو اس ادارے کو ملنے والا سرمایہ liability کے کھاتے میں لکھا جاتا ہے۔ کھاتے میں liability کا اندراج ہوجانے کے بعد اس کی ایک ایک پائی کا حساب دینا اس ادارے کی ذمہ داری ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ انسان کو دنیا میں جو کچھ دیتا ہے وہ اس کے ذمہ liability ہے۔ کل قیامت کے دن اس میں سے ہرچیز کا آڈٹ ہونا ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ بندے سے پوچھے گا کہ تمہیں جو مال دیا گیا تھا بتائو اس کا تم نے کیا کیا ؟ میری طرف سے دی گئی قوت ‘ ذہانت اور دوسری صلاحیتوں کو کہاں کہاں صرف کیا ؟ دنیا بنانے میں کھپایا یا آخرت کمانے میں لگایا ؟ اس احتساب یا آڈٹ کا تصور کر کے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے اپنے کھاتے کی فکر کرنی چاہیے۔ جیسے آج ہمارے بہت سے لوگ ورلڈ بینک ‘ آئی ایم ایف اور بین الاقوامی سطح کے دوسرے اداروں میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں اور لاکھوں ڈالر تنخواہ وصول کر رہے ہیں۔ ان کے نزدیک یقینا یہ بہت بڑے اعزاز اور فخر کی بات ہے ‘ لیکن ایسے لوگوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ کس کی چاکری کر رہے ہیں ؟ اور کس کی رتھ میں گھوڑے بن کر جتے ہوئے ہیں ؟ ظاہر ہے وہ باطل نظام کی خدمت کر رہے ہیں اور اسی نظام سے اپنی خدمت کا معاوضہ وصول کر رہے ہیں۔ پھر ایسے لوگوں کو یہ بھی سوچنا چاہیے کہ آخرت کے آڈٹ کے وقت وہ اپنی balance sheet کو کیسے justify کریں گے۔ چناچہ انسان کو مال و دولت اور دوسری نعمتوں پر اترانے کے بجائے ان کے حساب کتاب کی فکر کرنی چاہیے اور یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ چیزیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش کے طور پر دی گئی ہیں۔ اگر وہ اس آزمائش میں ناکام ہوگیا تو یہی نعمتیں آخرت میں اس کے گلے کا طوق بن جائیں گی۔ اس حوالے سے امام احمد بن حنبل - کا ایک واقعہ بہت عبرت انگیز ہے۔ آپ رح کو خلیفہ وقت کی طرف سے ”خلق ِقرآن“ کے مسئلے پر جیل میں ڈالا گیا۔ خلیفہ آپ رح سے اپنی مرضی کا فتویٰ حاصل کرنا چاہتا تھا اور اس کے لیے خلیفہ کے حکم پر جیل میں آپ رح پر بےپناہ تشدد ہوا۔ روایات میں آتا ہے کہ جس انداز میں آپ رح کو پیٹا جاتا تھا ایسی مار کسی ہاتھی کو پڑتی تو وہ بھی بلبلا اٹھتا ‘ مگر اس بےرحم تشدد کو آپ رح نے ایسے حوصلے اور صبر سے برداشت کیا کہ کبھی آنکھوں میں آنسو تک نہ آئے۔ مگر جب نئے خلیفہ کے دور میں آپ رح کو جیل سے رہا کیا گیا اور خلیفہ کے ایلچی آپ رح کی خدمت میں اشرفیوں کے تھیلے لے کر حاضر ہوئے تو ان تھیلوں کو دیکھ کر آپ رح رو پڑے۔ آپ رح نے روتے ہوئے اللہ کے حضور عرض کی کہ اے اللہ ‘ یہ آزمائش بہت سخت ہے ! میں اس سے عہدہ برآ ہونے کے قابل نہیں ہوں ‘ مجھے اس امتحان میں مت ڈال ! اس حوالے سے دوسری انتہا پر برصغیر کے قوم فروشوں کی مثال بھی ہمارے سامنے ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ برصغیر میں انگریزوں نے بڑی بڑی جاگیروں ‘ عہدوں اور خطابات کے ذریعے یہاں کے لوگوں کو خریدا اور حکمرانوں کے ہاتھوں بکنے کے بعد وہ لوگ اپنی قوم سے غداری کر کے اپنے آقائوں کی حکومت کو مضبوط کرنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ بہرحال یہ ہر انسان کا اپنا فیصلہ ہے کہ اس کی ترجیح دنیا ہے یا آخرت ؟
الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ۗ وَمَنْ يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
📘 آیت 24{ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْـبُخْلِ } ”جو لوگ بخل سے کام لیتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کا مشورہ دیتے ہیں۔“ جو شخص اپنی دولت پر اتراتا ہے وہ اسے بہت سنبھال سنبھال کر بھی رکھتا ہے ‘ کیونکہ اسی دولت کے بل پر تو اس کی اکڑ قائم ہوتی ہے۔ چناچہ وہ اس دولت کو بچا بچا کر رکھتا ہے اور نہ صرف خود بخل سے کام لیتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے روکتا ہے۔ دراصل اسے یہ اندیشہ لاحق ہوتا ہے کہ جب دوسرے لوگ اللہ کی راہ میں بڑھ چڑھ کر خرچ کریں گے تو اس کے بخل کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ اس لیے وہ دوسروں کو بڑے مخلصانہ انداز میں سمجھاتا ہے کہ میاں ذرا اپنی ضروریات کا بھی خیال رکھو ‘ تم نے تو اپنے دونوں ہاتھ کھلے چھوڑ رکھے ہیں۔ آخر تمہارے ہاں چار بیٹیاں ہیں ‘ ان کے ہاتھ بھی تم نے پیلے کرنے ہیں۔ آج کی بچت ہی کل تمہارے کام آئے گی… ! { وَمَنْ یَّـتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۔ } ”اور جو کوئی رخ پھیرے گا تو وہ سن رکھے کہ اللہ بےنیاز اور اپنی ذات میں خود ستودہ صفات ہے۔“ وہ غنی ہے ‘ اسے کسی کی احتیاج نہیں ہے۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اگر وہ اقامت دین کی جدوجہد میں اپنے جان و مال سے شریک نہ ہوگا تو یہ کام نہیں ہوگا۔ اسے کسی کی حمد و ثنا کی بھی کوئی احتیاج نہیں ہے ‘ وہ اپنی ذات میں خودمحمود ہے۔
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ
📘 اب آرہی ہے وہ آیت جو اس پوری سورة مبارکہ کا نقطہ عروج یاذروئہ سنام climax ہے۔ اس آیت کا مضمون خصوصی طور پر آج کے مسلمانوں کے لیے بہت اہم ہے۔ اس لیے کہ آج ہمارے ہاں دین کا اصل تصور مسخ ہوچکا ہے اور یہ آیت دین کے درست تصور کو اجاگر کرتی ہے۔ دراصل انگریزوں کی غلامی کے دور میں ہم مسلمانوں کے ذہنوں میں دین کا عام تصور یہی تھا کہ حکومت انگریز کی ہے تو ہوتی رہے ‘ ہمیں کیا ! ہم نے تو نمازیں پڑھنی ہیں اور روزے رکھنے ہیں۔ اس دور میں برصغیر کے ایک بہت بڑے عالم نے کہا تھا کہ ہمیں کوئی ایسا کام نہیں کرنا چاہیے جس سے انگریزوں کو ہماری طرف سے کوئی تشویش لاحق ہو ‘ اس لیے کہ انہوں نے ہمیں مذہبی آزادی دے رکھی ہے۔ یعنی انگریز ہمیں نمازیں پڑھنے ‘ روزے رکھنے ‘ حج ادا کرنے اور داڑھیاں رکھنے سے نہیں روکتا۔ مذہبی آزادی کی اسی وکالت پر علامہ اقبال نے یہ پھبتی چست کی تھی : ؎ملاّ کو جو ہے ہند میں سجدے کی اجازت ناداں یہ سمجھتا ہے کہ اسلام ہے آزاد ! ظاہر ہے انگریز مسلمانوں کو مراسم عبودیت ادا کرنے اور داڑھیاں بڑھانے سے کیوں منع کرتے ؟ اس سے انہیں بھلا کیا خطرہ ہوسکتا تھا۔ ملک میں قانون تو تاجِ برطانیہ کا نافذ تھا ‘ دیوانی اور فوجداری عدالتیں اسی قانون کے مطابق فیصلے کر رہی تھیں۔ اس ماحول میں اسلام کہاں تھا اور قرآنی قوانین کی کیا حیثیت تھی ؟ عام مسلمانوں کو اس سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ وہ تو بس اسی پر مسرور و مطمئن تھے کہ انہیں ”مکمل“ مذہبی آزادی حاصل ہے۔ بہرحال انگریز کی غلامی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمارا تصوردین سکڑتے سکڑتے صرف چند عبادات اور رسومات rituals تک محدود ہوگیا۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں آج بھی تصور دین یہی ہے کہ نماز پڑھو ‘ روزے رکھو ‘ ہو سکے تو حج کرو ‘ قرآن خوانی کی محفلیں سجائو اور بس ! اور جہاں تک سودی کاروبار اور حرام خوریوں کا تعلق ہے یہ دنیوی معاملات ہیں ‘ اسلام کا ان سے کیا لینا دینا ؟ ہاں سال بہ سال عمرہ کر کے پچھلے گناہوں سے پاک ہوجایا کرو ‘ جیسے ہندو گنگا میں نہا کر اپنے زعم میں اپنے سارے پاپ دھو ڈالتے ہیں۔ اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر جب آپ اس آیت کا مطالعہ کریں گے تو آپ کو دین کا روایتی تصور لڑکھڑاتا ہوا محسوس ہوگا۔ اس آیت کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اس میں ڈنکے کی چوٹ انقلاب کی بات کی گئی ہے ‘ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ ایسی بےباک اور عریاں انقلابی عبارت پوری انسانی تاریخ کے کسی انقلابی لٹریچر میں موجود نہیں ہے۔ اس تمہید کے بعد آیئے اب اس آیت کا مطالعہ کریں اور اس کے ایک ایک لفظ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔آیت 25{ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ } ”ہم نے بھیجا اپنے رسولوں کو واضح نشانیوں کے ساتھ“ { وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ } ”اور ہم نے ان کے ساتھ کتاب اور میزان اتاری“ یہاں تین چیزوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے جو رسولوں کے ساتھ بھیجی گئیں : 1 بینات 2 کتاب ‘ اور 3 میزان۔۔۔۔ ان میں سب سے پہلی چیز ”بینات“ ہے۔ ”بیِّن“ اس شے کو کہتے ہیں جو اَز خود ظاہر اور نمایاں ہو اور اسے کسی دلیل اور وضاحت کی حاجت نہ ہو۔ ع ”آفتاب آمد دلیل ِآفتاب !“ یہ لفظ عام طور پر رسولوں کے تذکرے میں معجزات کے لیے آتا ہے۔ ”کتاب“ کا لفظ عام فہم اور بالکل واضح ہے ‘ جبکہ ”میزان“ سے مراد اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ نظام ہے جس میں حقوق و فرائض کا توازن موجود ہے۔ کسی معاشرے میں اگر حقوق و فرائض کے مابین توازن ہوگا تو وہ معاشرہ صحیح رہے گا ‘ اور اگر اس کے اندر عدم توازن راہ پا گیا تو اسی کا نام ظلم ‘ عدوان ‘ زیادتی اور ناانصافی ہے۔ { لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ } ”تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔“ یہ ہے اس کتاب یعنی قرآن مجید کے نزول کا اصل مقصد۔ اب اس کے مقابلے میں اپنی موجودہ صورت کا بھی جائزہ لیں کہ ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں سے قرآن کو کسی حد تک ”بےدخل“ کرچکے ہیں۔ کیا قرآن اس لیے نازل ہوا تھا کہ قرآن خوانی کی مجالس سجا لی جائیں ؟ یا حسن ِقراءت کی محافل کا اہتمام کرلیا جائے ‘ یا اس کی آیات کی خطاطی کی نمائشیں لگائی جائیں ‘ یا چالیس من وزنی قرآن سونے کی تاروں سے لکھ کر لوگوں کی زیارت کے لیے رکھ دیا جائے۔۔۔۔ اور زندگی باطل نظام کے تحت ہی بسر کی جائے ؟ اس حوالے سے مولانا ماہر القادری کی زبان سے قرآن کا یہ شکوہ کس قدر حقیقت پر مبنی ہے : ؎یہ میری عقیدت کے دعوے ‘ قانون پہ راضی غیروں کے یوں بھی مجھے رسوا کرتے ہیں ‘ ایسے بھی ستایا جاتا ہوں !ظاہر ہے قرآن تو ایک ضابطہ زندگی اور ایک نظام حکومت لے کر آیا ہے۔ یہ اپنے ماننے والوں سے تقاضا کرتا ہے کہ وہ اس کے نظام کو عملی طور پر اپنے ملک اور معاشرے میں قائم کریں ‘ اس کی لائی ہوئی میزان کو نصب کریں اور اس کی دی ہوئی شریعت کے مطابق اپنے فیصلے کریں ع ”گر یہ نہیں تو بابا پھر سب کہانیاں ہیں !“ اس آیت کا مطالعہ کرتے ہوئے یہاں درج ذیل آیات کو بھی دہرانے کی ضرورت ہے۔ سورة آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ نے خود اپنے بارے میں فرمایا : { قَائِمًام بِالْقِسْطِط } آیت 18 کہ میں عدل و قسط کو قائم کرنے والا ہوں۔ سورة النساء میں اہل ایمان کو باقاعدہ حکم دیا گیا : { یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنِ بِالْقِسْطِ شُھَدَآئَ لِلّٰہِ } آیت 135 ”اے اہل ایمان ! کھڑے ہو جائو پوری قوت کے ساتھ عدل کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے گواہ بن کر“۔ سورة المائدۃ میں الفاظ کی ترتیب بدل کر یہی حکم پھر سے دہرایا گیا : { یٰٓــاَیـُّـھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنِ لِلّٰہِ شُھَدَآئَ بِالْقِسْطِز } آیت 8 ”اے اہل ایمان ! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بن جائو“۔ پھر سورة الشوریٰ میں حضور ﷺ سے اعلان کروایا گیا : { وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَـکُمْط } آیت 15 ”مجھے حکم ہوا ہے کہ میں تمہارے مابین عدل قائم کروں“۔ پھر سورة الشوریٰ ہی میں فرمایا گیا : { اَللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَط } آیت 17 ”اللہ وہ ہستی ہے جس نے نازل فرمائی کتاب حق کے ساتھ اور میزان بھی“۔ یعنی سورة الشوریٰ کی اس آیت میں بھی کتاب اور میزان نازل کرنے کا ذکر ایک ساتھ آیا ہے۔ اس حوالے سے سورة المائدۃ کی یہ آیت خصوصی اہمیت کی حامل ہے : { قُلْ یٰٓـاَھْلَ الْکِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا التَّوْرٰٹۃَ وَالْاِنْجِیْلَ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَـیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْط } آیت 68 ”اے نبی ﷺ ! آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل کتاب ! تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے جب تک تم قائم نہیں کرتے تورات کو اور انجیل کو اور اس کو جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے تمہارے رب کی طرف سے“۔ سورة المائدۃ کی اس آیت کے مطالعہ کے دوران میں نے کہا تھا کہ مسلمان ”تورات و انجیل“ کی جگہ لفظ ”قرآن“ رکھ کر اس آیت کو اس طرح پڑھ کر دیکھیں اور پھر اللہ تعالیٰ کے سامنے خود ہی اپنی حیثیت کا تعین کریں : ”قُلْ یٰٓـاَھْلَ الْقُرآنِِ لَسْتُمْ عَلٰی شَیْئٍ حَتّٰی تُقِیْمُوا الْقُرْآنَ وَمَا اُنْزِلَ اِلَـیْکُمْ مِّنْ رَّبِّکُمْ“ کہ اے قرآن والو ! تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے جب تک تم قائم نہیں کرتے قرآن کو اور اس کو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ہے۔۔۔ تم قرآن کی تلاوت کر کے سمجھ لیتے ہو کہ تم نے قرآن کا حق ادا کردیا ‘ یا تراویح میں قرآن ختم کر کے فخر محسوس کرتے ہو کہ تم نے بڑا تیر مار لیا ‘ چاہے تم نے اس کا ایک حرف بھی نہ سمجھا ہو۔ یاد رکھو ! جب تک تم قرآن کے احکام کو عملی طور پر خود پر نافذ نہیں کرتے ہو اور قرآن کے نظام عدل کو اپنے ملک و معاشرہ میں قائم نہیں کرتے ہو ‘ قرآن پر ایمان کے تمہارے زبانی دعوے کی کوئی حیثیت نہیں۔ قرآن کے نظام عدل و قسط کے حوالے سے یہ حقیقت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ معاشرے کے مراعات یافتہ طبقات کے لیے یہ نظام کسی قیمت پر قابل قبول نہیں ہوگا۔ اس لیے جونہی اس کے قیام کے لیے ٹھوس کوششوں کا آغاز ہوگا یہ طبقات ان کوششوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے آموجود ہوں گے۔ ظاہر ہے جن سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے مفادات vested interests پرانے نظام کے ساتھ وابستہ ہیں ‘ وہ کب چاہیں گے کہ معاشرے میں عدل و انصاف کا دور دورہ ہو۔ اگرچہ اس حوالے سے بھی تاریخ میں استثنائی مثالیں موجود ہیں۔ مثلاً حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عثمان غنی اپنے معاشرے کے اونچے طبقے سے تعلق رکھتے تھے ‘ اس کے باوجود ان دونوں حضرات رض نے اپنے مفادات ‘ کاروبار اور سٹیٹس کی پروا کیے بغیر حق کی آواز پر بلاتاخیر لبیک کہا۔ لیکن مجموعی طور پر اشرافیہ اور دولت مند طبقہ ہمیشہ نظام عدل کے قیام کی کوشش میں سب سے بڑی رکاوٹ بنتا ہے۔ مراعات یافتہ طبقات کی سرتوڑ کوشش ہوتی ہے کہ موجودہ نظام کے اندر کوئی تبدیلی نہ آئے۔ چناچہ باطل نظام کی بیخ کنی اور نظام عدل و قسط کے قیام کی جدوجہد کے لیے اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والوں کو راستے سے ہٹانا بھی ضروری ہے۔ چناچہ آیت کے اگلے حصے میں ایسے عناصر کی سرکوبی کا نسخہ بتایا جا رہا ہے : { وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ } ”اور ہم نے لوہا بھی اتارا ہے ‘ اس میں شدید جنگی صلاحیت ہے اور لوگوں کے لیے دوسری منفعتیں بھی ہیں۔“ نوٹ کیجیے ! نہ کوئی لگی لپٹی بات کی گئی ہے اور نہ ہی معذرت خواہانہ اسلوب اپنایا گیا ہے۔ جو بات کہنا مقصود تھی وہ دو ٹوک انداز میں ڈنکے کی چوٹ کہی گئی ہے۔ اسی لیے میں نے کہا تھا کہ یہ ”عریاں ترین“ انقلابی عبارت ہے۔ ظاہر ہے جب انقلاب اپنا راستہ بنائے گا اور جب ظالمانہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کا مرحلہ آئے گا تو خون بھی ضرور بہے گا اور کچھ سر بھی کچلنے پڑیں گے۔ یہ انقلاب کا ناگزیر مرحلہ ہے ‘ اس کے بغیر انقلاب کی تکمیل ممکن ہی نہیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کے نظام عدل کے لیے انقلاب کی بات ہو رہی ہے جو ساری کائنات کا خالق اور مالک ہے۔ یہاں تو ہم آئے دن دیکھتے ہیں کہ دنیا میں خود انسان عدل انسانی کے اپنے تصور کی ترویج و تنفیذ کے لیے طاقت کا بےدریغ استعمال کرتے ہیں ‘ مخالف ممالک کا گھیرائو کرتے ہیں ‘ ان پر بےرحمانہ پابندیاں عائد کرتے ہیں۔ ”امن کے لیے جنگ“ War for Peace کا نعرہ لگا کر کمزوروں پر چڑھائی کرتے ہیں اور پھر ملکوں کے ملک برباد کر کے رکھ دیتے ہیں ‘ اور ستم بالائے ستم یہ کہ اس قتل و غارت اور بربریت کو وہ وقت کی اہم ضرورت اور عین انصاف سمجھتے ہیں۔ اس کائنات کا خالق اور مالک بھی اللہ ہے اور زمین پر حکمرانی کا حق بھی اسی کا ہے۔ اسی نے اپنی تمام مخلوق کو اپنا تابع فرمان بنایا ہے اور اسی نے انسان کو ایک حد تک اختیار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اسی اختیار کی وجہ سے انسان اکثر من مانی کرتے ہوئے اس کی حکمرانی کے مقابلے میں اپنی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اسی وجہ سے زمین میں فساد برپا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ فساد کو پسند نہیں کرتا۔ وہ زمین میں عدل و انصاف کی ترویج اور اپنے قانون کی حکمرانی چاہتا ہے۔ اس کے لیے اس کی مشیت یہی ہے کہ اس کے حق حکمرانی کو چیلنج کرنے والے باغیوں کو حق کی طاقت کے ذریعے سے کچل دیا جائے : { بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَـیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌ} الانبیائ : 18 ”بلکہ ہم حق کو دے مارتے ہیں باطل پر تو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے ‘ تو جبھی وہ نابود ہوجاتا ہے“۔ بہرحال اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ اس کا یہ کام اس کے نام لیوا کریں۔ اس کے نام لیوا حق کے علمبردار بن کر اللہ کے باغیوں کا مقابلہ کریں ‘ باطل نظام کو بزور بازو اکھاڑ پھینکیں اور اللہ کی زمین پر اللہ کی حکمرانی کو یقینی بنائیں۔ آیت زیر مطالعہ میں لوہے کا ذکر اسی حوالے سے آیا ہے کہ اہل حق حالات و زمانہ کی ضرورت کے مطابق اپنے تمام وسائل بروئے کار لاتے ہوئے سامانِ حرب تیار کریں ‘ رائج الوقت ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں اور باطل کے مقابلے کے لیے مطلوبہ طاقت فراہم کریں۔ لیکن اس انقلابی عمل میں سب سے اہم سوال افرادی قوت کی فراہمی کا ہے ‘ اور اس عمل کی ابتدا دعوت و تبلیغ سے ہوگی۔ رسول اللہ ﷺ نے مکہ میں بارہ سال تک مسلسل دعوت و تبلیغ کا کام کیا۔ حق کو قبول کرنے والے افراد کی تربیت کی ‘ انہیں منظم کیا اور جب مطلوبہ افرادی قوت فراہم ہوگئی تو آپ ﷺ نے اللہ کی مشیت کے عین مطابق طاقت کے اس ”کوڑے“ کو باطل کے سر پر یوں دے مارا کہ اس کا بھیجا نکال کے رکھ دیا۔ آج بھی یہ کام اگر ہوگا تو اسی طریقے سے ہوگا جس طریقے سے حضور ﷺ نے اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام نے کیا۔ آج بھی اہل حق کو اسی طرح جانیں قربان کرنا ہوں گی ‘ تکلیفیں جھیلنا پڑیں گی ‘ گھر بار چھوڑنے پڑیں گے اور جان و مال کے نقصانات برداشت کرنا پڑیں گے۔ گویا یہ انتہائی مشکل کام ہے اور اہل حق کی بےدریغ قربانیوں کے بغیر اس کا پایہ تکمیل تک پہنچنا ممکن نہیں۔ { وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَہٗ بِالْغَیْبِ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ } ”اور تاکہ اللہ جان لے کہ کون مدد کرتا ہے اس کی اور اس کے رسولوں کی غیب میں ہونے کے باوجود۔ یقینا اللہ بہت قوت والا ‘ بہت زبردست ہے۔“ ”تاکہ اللہ جان لے“ کا مفہوم یہ ہے تاکہ اللہ تعالیٰ دکھادے ‘ ظاہر کر دے ‘ ممیز کر دے کہ کون ہے وہ جو غیب کے باوجود اللہ اور اس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ گویا حق و باطل کی جنگ کے دوران جو مردانِ حق لوہے کی طاقت کو ہاتھ میں لے کر اللہ کے دین کے غلبے کے لیے میدان میں آئیں گے وہی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مددگار ہوں گے۔ دراصل اللہ کے دین کو غالب کرنا بنیادی طور پر حضور ﷺ کا فرضِ منصبی ہے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو اسی مقصد کے لیے مبعوث فرمایا : { ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ } الصف : 9 ”وہی ہے اللہ جس نے بھیجا اپنے رسول محمد ﷺ کو الہدیٰ اور دین حق کے ساتھ ‘ تاکہ وہ غالب کر دے اس کو کل ُ کے کل دین پر“۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ حضور ﷺ کے اس مشن میں تمام اہل ِ ایمان آپ ﷺ کے دست وبازو بنیں ‘ بلکہ سورة الصف میں تو اس کے لیے براہ راست حکم آیا ہے : { یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْٓا اَنْصَارَ اللّٰہِ } آیت 14 ”اے اہل ایمان ! اللہ کے مددگار بن جائو۔“ یہ مضمون سورة الصف میں مزید وضاحت کے ساتھ آئے گا۔ لیکن اس حوالے سے یہاں یہ اہم نکتہ سمجھ لیجیے کہ آیت زیر مطالعہ میں غلبہ دین کی تکمیل اور نظام عدل و قسط کی تنفیذ کے لیے تین چیزوں کا ذکر ہوا ہے : بینات ‘ کتاب اور میزان : { لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ } یعنی حضور ﷺ سے پہلے رسولوں کو اس مشن کے لیے بینات معجزات ‘ کتاب اور میزان کے ساتھ بھیجا جاتا رہا ‘ جبکہ حضور ﷺ کو اس مشن کے لیے صرف دو چیزیں الہدیٰ اور دین الحق عطا کی گئیں : { ھُوَ الَّذِیْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ } التوبۃ : 33 ‘ الفتح : 28 اور الصف : 9۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حضور ﷺ کے لیے بینات معجزات اور الکتاب ایک ہوگئے۔ یعنی الہدیٰ قرآن آپ ﷺ کی کتاب بھی ہے ‘ اسی میں قانون ہے اور یہی آپ ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ بھی ہے ‘ جبکہ آپ ﷺ کی رسالت میں میزان شریعت مکمل ہو کر ”دین الحق“ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا وَإِبْرَاهِيمَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ ۖ فَمِنْهُمْ مُهْتَدٍ ۖ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ
📘 اس سورة مبارکہ کا اصل مضمون تدریجاً آگے بڑھتا ہوا آیت 25 پر اپنے نقطہ عروج climax پر پہنچ گیا ہے۔ اب آئندہ آیات میں گویا اس مضمون کا ضمیمہ اور تکملہ آ رہا ہے قبل ازیں کبھی میں بغرض تفہیم اس کے لیے anti climax کی اصطلاح استعمال کرتا رہا ہوں ‘ لیکن اب میں سمجھتا ہوں کہ یہ اصطلاح مناسب نہیں ہے۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر مناسب ہوگا کہ متعلقہ آیات کے مطالعے سے پہلے اس مضمون کی روح کو اچھی طرح سے سمجھ لیا جائے۔ ظاہر ہے زمین پر اللہ کے قانون کی حکمرانی اور معاشرے میں عدل و انصاف کی ترویج شیطان پر بہت بھاری ہے۔ اس لیے اس نے اس ”انقلاب“ کا راستہ روکنے کے لیے یہ چال چلی کہ مخلص اہل ایمان کی توجہ ترک دنیا اور رہبانیت کی طرف مبذول کرا دی ‘ تاکہ اسے انسانوں کے معاشرے میں ننگا ناچ ناچنے کی کھلی چھٹی مل جائے۔ اہل ایمان کے دلوں میں اللہ کی محبت ‘ دنیا سے بےرغبتی اور آخرت کی طلب کے جذبے کا نتیجہ تو یہ نکلنا چاہیے کہ وہ اللہ کی فوج کے سپاہی بن کر اقامت دین کی جدوجہد کے علمبردار بن جائیں اور نتائج سے بےپرواہوکر ہر زماں ‘ ہر مکاں شیطانی قوتوں کے خلاف برسرپیکار رہیں ‘ لیکن شیطان نے ایسے لوگوں کو رہبانیت کا سبق پڑھادیا کہ اللہ والوں کا دنیا کے جھمیلوں سے کیا واسطہ ؟ انہیں تو چاہیے کہ وہ دنیا اور علائق دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں کی غاروں میں بیٹھ کر اللہ کی عبادت کریں اور اللہ کے ہاں اپنے درجات بلند کریں۔ ظاہر ہے ایسی رہبانیت دین کی اصل روح کے خلاف ہے۔ غلبہ دین کی جدوجہد کی راہ میں مصیبتیں جھیلنے ‘ اس میدان میں شیطانی قوتوں سے نبردآزما ہونے کے لیے مال و جان کی قربانیاں دینے اور خانقاہوں میں بیٹھ کر عبادت و ریاضت کی سختیاں برداشت کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ اللہ کے راستے میں جہاد کی سختیاں برداشت کرنے سے معاشرے سے ظلم وناانصافی کا خاتمہ ہوتا ہے ‘ انسانیت عدل و انصاف کے ثمرات سے بہرہ ور ہوتی ہے اور ماحول میں فلاح و خوشحالی کے پھول کھلتے ہیں ‘ جبکہ رہبانیت کی راہ میں اٹھائی گئی تکالیف سے دنیا اور اہل دنیا کو کسی قسم کا فائدہ پہنچنے کا کوئی امکان نہیں۔ بہرحال شیطان کا یہ وار عیسائیت کے حوالے سے بہت کارگر ثابت ہوا۔ اس کے نتیجے میں عیسائیوں کے ہاں نہ صرف خانقاہی نظام کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی بلکہ اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ”رہبانیت“ اعلیٰ ترین ذریعہ اور وسیلہ قرار پائی۔ History of Christian Monasticism پر لکھی گئی یورپین مصنفین کی بڑی بڑی ضخیم کتابیں عیسائی راہبوں اور رہبانیت کے بارے میں عجیب و غریب تفصیلات سے بھری پڑی ہیں۔ اس کے بعد اسلام میں جب خلافت کی جگہ ملوکیت نے لے لی اور احیائِ خلافت کی چند کوششیں ناکامی سے دوچار ہوئیں تو مسلمانوں کے ہاں بھی رہبانیت کے طور طریقے رائج ہونا شروع ہوگئے۔ اس کی عملی صورت یہ سامنے آئی کہ مخلص اہل ایمان اور اہل علم لوگ بادشاہوں اور سلاطین کے رویے کی وجہ سے امت کے اجتماعی معاملات سے لاتعلق ہو کر گوشہ تنہائی میں جا بیٹھے۔ البتہ ان کے شاگردوں اور عقیدت مندوں نے ان سے اکتسابِ فیض کا سلسلہ جاری رکھا۔ اس طرح رفتہ رفتہ اہل اللہ اور اہل علم کی مسندوں نے خانقاہوں کی شکل اختیار کرلی۔ سلاطین وامراء نے اپنے مفاد کے لیے ان خانقاہوں کی سرپرستی کرنی شروع کردی۔ ایسی خانقاہوں کے لیے بڑی بڑی جاگیریں مختص کردی گئیں تاکہ خانقاہ اور اس سے متعلقہ تمام لوگوں کے اخراجات احسن طریقے سے پورے ہوتے رہیں اور یہ لوگ حکومت کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کے بجائے اطمینان کے ساتھ چلہ کشیوں اور اپنی روحانی منازل طے کرنے میں مصروف و مشغول رہیں۔ دوسری طرف ان خانقاہوں سے متعلقہ لوگوں کے ہاں بھی رفتہ رفتہ دین و دنیا کا یہ تصور جڑ پکڑتا گیا کہ حکومت کرنا اور اجتماعی معاملات نپٹانا سلاطین و امراء کا کام ہے ‘ ہمیں ان معاملات سے کیا سروکار ؟ ہمارا کام تو دینی تعلیمات کی اشاعت اور لوگوں کی روحانی اصلاح کرنا ہے ‘ تاکہ وہ اچھے مسلمان اور اللہ کے مقرب بندے بن سکیں۔ یوں دین اسلام کا اصل تصور دھندلاتا گیا اور اس کی جگہ خانقاہی نظام کی حوصلہ افزائی ہوتی رہی۔ دین کا درست تصور اور انبیاء و رسل کی بعثت کا اصل مقصد تو وہی ہے جو ہم گزشتہ آیت میں پڑھ چکے ہیں : { لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ } ”تاکہ لوگ عدل و انصاف پر قائم ہوجائیں۔“ چناچہ آئندہ آیات میں ایک تو یہ نکتہ واضح کیا گیا ہے کہ انسانیت نے ”رہبانیت“ کا غلط موڑ کب اور کیسے مڑا ‘ اور ساتھ ہی مسلمانوں کو متنبہ کیا جا رہا ہے کہ اے مسلمانو ! بیشک دنیا سے بےرغبتی اختیار کرنا اور دنیا کے مقابلے میں آخرت بنانے کی فکر اختیار کرنا ہی دین کا اصل جوہر ہے ‘ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ تم راہب بن کر تمدن کی زندگی کو خیرباد کہہ دو ‘ بن باس لے لو ‘ اور جنگلوں میں جا کر چلے کاٹنا شروع کر دو ‘ پہاڑوں کی چوٹیوں اور غاروں میں جا کر تپسیائیں کرو ‘ یا خانقاہوں میں گوشہ نشین ہو جائو۔ تمہیں تو دنیا کی منجدھار میں رہتے ہوئے دوسروں کو زندگی کی ضمانت فراہم کرنی ہے۔ تمہیں تو جہاد فی سبیل اللہ کے ذریعے دنیا میں حق کا بول بالا کرنا ہے۔ ظلم و ناانصافی کو جڑ سے اکھاڑ کر معاشرے میں عدل و انصاف کا نظام قائم کرنا ہے ‘ اور اپنے ارد گرد ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جس میں مظلوم کو اس کا حق ملے اور ظالم کو سر چھپانے کی جگہ نہ مل سکے۔ اس کے لیے تمہارے سامنے اُسوئہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام کا قائم کردہ معیار بطور نمونہ موجود ہے۔ حضور ﷺ نے عرب کے معاشرے کو حق و انصاف کا جو معیارعطا کیا تھا اس کی جھلک حضرت ابوبکر صدیق رض کی اس تقریر میں بھی دیکھی جاسکتی ہے جو آپ رض نے لوگوں سے بیعت خلافت لینے کے فوراً بعد کی تھی۔ آپ رض نے بحیثیت امیر المومنین اپنے پہلے خطاب میں عدل و انصاف کے بارے میں اپنی ترجیح واضح کرتے ہوئے فرمایا تھا : ”لوگو ! تمہارا کمزور شخص میرے نزدیک بہت قوی ہوگا جب تک کہ میں اسے اس کا حق نہ دلوا دوں اور تمہارا قوی شخص میرے نزدیک بہت کمزور ہوگا جب تک کہ میں اس سے کسی کا حق وصول نہ کرلوں“۔ اسی طرح اس ضمن میں حضرت ربعی بن عامر رض کے وہ الفاظ بھی بہت اہم ہیں جو آپ رض نے ایرانی افواج کے سپہ سالار رستم کو مخاطب کرتے ہوئے کہے تھے۔ قادسیہ کے محاذ پر اسلامی افواج کے سپہ سالار حضرت سعد بن ابی وقاص رض نے جنگ سے پہلے ایرانیوں کے ساتھ مذاکرات کے لیے حضرت ربعی بن عامر رض کو بھیجا تھا۔ رستم نے ان سے سوال کیا تھا کہ تم لوگ یہاں کیا لینے آئے ہو ؟ اس پر انہوں نے اپنے مشن کی وضاحت ان الفاظ میں کی تھی :اِنَّ اللّٰہ ابتعثنا لنخرج العباد من عبادۃ العباد الی عبادۃ ربِّ العباد ‘ ومن ضیق الدُّنیا الی سِعَۃ الآخرۃ ومن جور الادیان الی عدل الاسلام ”ہمیں اللہ نے بھیجا ہے تاکہ ہم بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر بندوں کے رب کی غلامی میں لے آئیں ‘ اور انہیں دنیا کی تنگی سے نکال کر آخرت کی کشادگی سے ہم کنار کریں ‘ اور باطل نظاموں سے نجات دلا کر اسلام کے عادلانہ نظام سے روشناس کرائیں۔“ یہ ہے اس مضمون کا لب لباب جو اس سورت کے آخر میں مرکزی مضمون کے ضمیمے کے طور پر بیان ہوا ہے۔ اب اگلی آیت سے اس مضمون کی تمہید شروع ہو رہی ہے۔آیت 26{ وَلَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّاِبْرٰھِیْمَ } ”ہم نے ہی بھیجا تھا نوح علیہ السلام کو بھی اور ابراہیم علیہ السلام کو بھی“ { وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِھِمَا النُّبُوَّۃَ وَالْکِتٰبَ } ”اور ہم نے انہی دونوں کی نسل میں رکھ دی نبوت اور کتاب“ حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر عذاب کے بعد انسانیت کی نسل حضرت نوح علیہ السلام کے تین بیٹوں حضرت سام ‘ حضرت حام اور حضرت یافث سے چلی تھی۔ چناچہ حضرت نوح علیہ السلام کے بعد جو انبیاء بھی آئے وہ آپ علیہ السلام ہی کی نسل سے تھے۔ البتہ قرآن میں صرف سامی رسولوں کا تذکرہ ہے ‘ آپ علیہ السلام کے دوسرے دو بیٹوں کی نسلوں میں مبعوث ہونے والے پیغمبروں کا ذکر قرآن میں نہیں آیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام خود بھی حضرت نوح علیہ السلام ہی کی نسل سے تھے ‘ لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل میں جو انبیاء و رسل - آئے ان کا ذکر قرآن میں تخصیص کے ساتھ آپ علیہ السلام کی نسل یا ذریت کے حوالے سے ہوا ہے۔ آج حضرت ابراہیم علیہ السلام کو گزرے تقریباً پانچ ہزار برس ہوچکے ہیں۔ اس دوران آپ علیہ السلام کی اولاد کہاں کہاں پہنچی اور کس کس علاقے میں آباد ہوئی ‘ یہ اپنی جگہ تحقیق کا ایک مستقل موضوع ہے ‘ لیکن اس آیت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ علیہ السلام کی نسل جس جس علاقے میں بھی آباد ہوئی ان تمام علاقوں میں انبیاء آتے رہے۔ { فَمِنْھُمْ مُّھْتَدٍ وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ } ”تو ان کی نسل میں کچھ تو ہدایت یافتہ بھی ہیں ‘ لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔“
ثُمَّ قَفَّيْنَا عَلَىٰ آثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّيْنَا بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيلَ وَجَعَلْنَا فِي قُلُوبِ الَّذِينَ اتَّبَعُوهُ رَأْفَةً وَرَحْمَةً وَرَهْبَانِيَّةً ابْتَدَعُوهَا مَا كَتَبْنَاهَا عَلَيْهِمْ إِلَّا ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَايَتِهَا ۖ فَآتَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا مِنْهُمْ أَجْرَهُمْ ۖ وَكَثِيرٌ مِنْهُمْ فَاسِقُونَ
📘 آیت 27{ ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَـیْنٰـہُ الْاِنْجِیْلَ } ”پھر ہم نے بھیجے ان کے نقش قدم پر اپنے بہت سے رسول علیہ السلام اور پھر ان کے پیچھے بھیجا ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو اور اسے ہم نے انجیل عطا فرمائی“ آیت 26 اور 27 میں حضرت نوح ‘ حضرت ابراہیم اور دوسرے انبیاء و رسل - کا ذکر تمہید کے طور پر آیا ہے۔ موضوع کے اعتبار سے اصل میں یہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تذکرہ کرنا مقصود ہے جن کے پیروکاروں نے رہبانیت کی ابتدا کی تھی۔ { وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَــۃً وَّرَحْمَۃً } ”اور جن لوگوں نے اس کی پیروی کی ہم نے ان کے دلوں میں بڑی نرمی اور رحمت پیدا کردی۔“ رافت اور رحمت ملتے جلتے مفہوم کے دو الفاظ ہیں۔ رافت دراصل وہ انسانی جذبہ ہے جس کے تحت انسان کسی کو تکلیف میں دیکھ کر تڑپ اٹھتا ہے۔ بقول امیر مینائی ؎خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیرؔسارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے !یعنی یہ جذبہ ٔ رافت ہی ہے جس کی وجہ سے انسان کسی کے درد کو اپنا درد سمجھتا ہے ‘ جبکہ رحمت کا جذبہ انسان کو ترغیب دیتا ہے کہ وہ دوسرے انسان کی تکلیف دور کرنے کے لیے کوشش کرے۔ گویا رافت کا جذبہ بنیادی طور پر انسان کے دل میں تحریک پیدا کرتا ہے اور اس کے ردّعمل reflex action کا اظہار جذبہ رحمت کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس اعتبار سے رافت اور رحمت باہم تکمیلی complementary نوعیت کے جذبات ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے گویا تصدیق فرمائی گئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ماننے والوں کے دلوں کو خصوصی طور پر رافت و رحمت کے جذبات سے مزین کیا گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خود بھی مزاج کے اعتبار سے انتہائی نرم اور رقیق القلب تھے ‘ آپ علیہ السلام کی شخصیت میں سختی کا عنصر بالکل نہیں تھا۔ آپ علیہ السلام کی شخصیت کے اس پہلو کا اندازہ اس مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک دفعہ آپ علیہ السلام نے ایک شخص کو چوری کرتے دیکھا تو پوچھا کہ کیا تم چوری کر رہے ہو ؟ اس نے کہا نہیں میں چوری تو نہیں کر رہا۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا : اچھا تو پھر میری آنکھ نے غلط دیکھا ہے۔ چناچہ آپ علیہ السلام کی شخصیت کے زیر اثر آپ علیہ السلام کے حواریین کی طبیعتوں میں بھی رافت ‘ رحمت ‘ رقت ِ قلب اور شفقت کے غیر معمولی جذبات پیدا ہوگئے تھے۔ یہ جذبات بلاشبہ اپنی جگہ مستحسن ہیں۔ خود حضور ﷺ کے بارے میں بھی اللہ تعالیٰ نے سورة التوبہ میں فرمایا ہے کہ آپ ﷺ اہل ایمان کے حق میں بہت نرم دل اور شفیق ہیں : { بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَئُ وْفٌ رَّحِیْمٌ۔ } رافت اور رء وف ایک ہی مادے سے ہیں۔ بہرحال شیطان نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کے مزاج کی نرمی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کے ان جذبات کا رخ رہبانیت کی طرف موڑ دیا۔ { وَرَھْبَانِیَّۃَ نِابْتَدَعُوْھَا } ”اور رہبانیت کی بدعت انہوں نے خود ایجاد کی تھی“ { مَا کَتَـبْنٰـھَا عَلَیْھِمْ اِلاَّ ابْتِغَآئَ رِضْوَانِ اللّٰہِ } ”ہم نے اسے ان پر لازم نہیں کیا تھا مگر اللہ کی خوشنودی کی تلاش میں“ اس فقرے کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یہ رہبانیت انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اختیار کی تھی ‘ اس میں ان کی کسی بدنیتی کا عنصر شامل نہیں تھا۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ ہم نے تو ان پر کچھ لازم نہیں کیا تھا سوائے اس کے کہ وہ اللہ کی رضا تلاش کریں۔ لیکن انہوں نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے نفس کشی self annihilation ‘ ترکِ دنیا ‘ رہبانیت اور تجرد بغیر نکاح کے کی زندگی بسر کرنے کا راستہ اختیار کرلیا۔ بہرحال حقیقت میں یہ اللہ کی رضا کا راستہ نہیں تھا۔ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا درست راستہ تو جہاد کا راستہ ہے : { وَابْتَغُوْا اِلَـیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجَاھِدُوْا فِیْ سَبِیْلِہٖ } المائدۃ : 35 ”اللہ کا قرب تلاش کرو اور اس کی راہ میں جہاد کرو !“ یعنی باطل کو ملیامیٹ کرنے ‘ حق کو غالب کرنے ‘ ظلم و ناانصافی کو اکھاڑ پھینکنے اور عدل و قسط کو قائم کرنے کے لیے اللہ کے مجاہد بن جائو ! اس راستے پر چلتے ہوئے جان و مال کی قربانیاں دو ‘ فاقے برداشت کرو اور ہر طرح کی تکالیف و مشکلات کا سامنا کرو۔ بہرحال شیطان نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں کو اللہ کے مقرب بننے اور اس کی رضا تلاش کرنے کا یہ راستہ ان کی نظروں سے اوجھل کر کے رہبانیت کے راستے پر ڈال دیا تاکہ اللہ کے نیک اور مخلص بندے تمدن کے معاملات سے لاتعلق رہیں اور معاشرے کے اندر ابلیسیت کے ننگے ناچ کو روکنے ٹوکنے والا کوئی نہ ہو۔ دنیا میں ظالموں اور شریروں کو کھلی چھوٹ حاصل ہو اور ان کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہو۔ علامہ اقبال نے ”ابلیس کی مجلس شوریٰ“ میں اس کی بہترین تعبیر کی ہے کہ ابلیس نے اپنے چیلے چانٹوں کو ہدایات دیتے ہوئے ”مومن“ کے بارے میں کہا کہ ؎مست رکھو ذکر و فکر صبح گا ہی میں اسے پختہ تر کر دو مزاجِ خانقاہی میں اسے ! { فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا } ”پھر وہ اس کی رعایت بھی نہ کرسکے جیسا کہ اس کی رعایت کرنے کا حق تھا۔“ دراصل انسان کے لیے اپنے اوپر کوئی غیر فطری پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کرلینا تو آسان ہے مگر پھر ساری عمر اس فیصلے کو نبھانا بہت مشکل ہے۔ یہی مشکل رہبانیت کا راستہ اختیار کرنے والے لوگوں کو پیش آئی۔ راہب اور راہبائیں بظاہر تو مجرد زندگی بسر کرنے کا عہد کرتے لیکن پھر فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر زناکاریوں میں ملوث ہوجاتے۔ ان کے اس طرزعمل کا نتیجہ یہ نکلا کہ راہب خانوں کے تہہ خانے حرامی بچوں کے قبرستان بن گئے۔ History of Christian Monasticism پر لکھی گئی کتابوں میں اس بارے میں لرزہ خیز تفصیلات ملتی ہیں۔ دراصل انسان کے جنسی جذبے کو غیر فطری طور پر دبانا ایسا ہی ہے جیسے بہتے دریا پر بند باندھنا۔ دریا کے پانی کو مناسب راستہ دے کر تو اس پر بند باندھا جاسکتا ہے لیکن دریا کے پورے پانی کو روکنا کسی طور پر بھی ممکن نہیں۔ ظاہر ہے اگر کہیں کوئی ایسی کوشش ہوگی تو اس کے خطرناک نتائج نکلیں گے۔ یہ لوگ خود تسلیم کرتے ہیں کہ انسان کا جنسی جذبہ بہت منہ زور ہے۔ سگمنڈ فرائڈ عیسائیوں کے گھر کا آدمی ہے اور اس کی گواہی گویا ”شَھِدَ شَاھِدٌ مِّنْ اَھْلِھَا“ کا درجہ رکھتی ہے۔ انسان کے جنسی جذبے کو وہ تمام جذبات پر غالب اور باقی تمام جذبات کا محرک قرار دیتا ہے۔ اگرچہ میں ذاتی طور پر فرائڈ کے اس تجزیے سے متفق نہیں ہوں اور میری یہ رائے اکیلے فرائڈ یا اس کے اس تجزیے کے بارے میں ہی نہیں ‘ بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ بیشتر مغربی فلاسفر انسانی زندگی پر فلسفیانہ بحث کے دوران اکثر غلط بینی اور کج روی کا شکار ہوگئے ہیں۔ جیسے فرائڈ کو ہر طرف سیکس ہی سیکس نظر آیا ‘ کارل مارکس کی نظریں انسان کے پیٹ پر مرکوز ہو کر رہ گئیں ‘ جبکہ ایڈلر صاحب کو انسان کے بڑا بننے کا جذبہ urge to dominate ہی ہر طرف چھایا ہوا دکھائی دیا۔ بہرحال مذکورہ فلاسفرز نے اپنے اپنے مطالعے اور تجزیے میں انسانی زندگی کے کسی ایک پہلو پر ضرورت سے زیادہ زور دیا ہے اور بہت سے دوسرے اہم پہلوئوں کو بالکل ہی نظر انداز کردیا ہے۔ لہٰذا ان کی ایسی آراء جزوی طور پر ہی درست تسلیم کی جاسکتی ہیں۔ بہرحال اگر یہ درست نہ بھی ہو کہ انسان کا جنسی جذبہ اس کے تمام جذبوں پر غالب اور اس کے باقی تمام جذبوں کا محرک ہے تو بھی اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ انسان کا یہ جذبہ بہت منہ زور ہے اور اس کو غیر فطری طریقے سے قابو میں لانا ممکن نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے اس جذبے کو نظم و ضبط میں لانے کے لیے نکاح کا فطری راستہ تجویز کیا ہے۔ رہبانیت کے لیے اختیار کیے گئے طور طریقے زیادہ تر چونکہ غیر فطری تھے اس لیے اسے اختیار کرنے والے لوگ اس کا حق ادا کرنے میں بری طرح ناکام رہے۔ { فَاٰ تَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْھُمْ اَجْرَھُمْ } ”تو ہم نے ان میں سے ان لوگوں کو ان کا اجر دیا جو ایمان لے آئے۔“ ایک رائے کے مطابق یہ عیسائیوں کے ان لوگوں کا ذکر ہے جو حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے کے زمانے میں صاحب ایمان تھے ‘ لیکن اس سے ایک مفہوم یہ بھی نکلتا ہے کہ ان میں سے جو لوگ نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لا کر مسلمان ہوگئے انہیں ان کا اجر دیا جائے گا۔ { وَکَثِیْـرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ۔ } ”لیکن ان کی اکثریت فاسقوں پر مشتمل ہے۔“
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ
📘 آیت 28{ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ } ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس کے رسول ﷺ محمد ﷺ پر ایمان لائو !“ اس آیت کی تفسیر دو طرح سے کی گئی ہے۔۔۔ ایک تو یہ کہ یہاں ”یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا“ کا خطاب محمد رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانے والوں سے ہے۔ ان سے فرمایا جا رہا ہے کہ تم محض زبان سے آپ ﷺ کی نبوت کا اقرار کر کے نہ رہ جائو بلکہ صدق دل سے ایمان لائو اور اپنے ایمان کو پختہ کرو۔ حضور ﷺ پر سچے ایمان کا معیار آپ ﷺ کے اُسوئہ حسنہ کی پیروی ہے۔ سورة الاحزاب میں اہل ایمان سے فرمایا گیا : { لَقَدْ کَانَ لَـکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰہِ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ} آیت 21 ”تمہارے لیے اللہ کے رسول ﷺ میں ایک بہترین نمونہ ہے“۔ تم لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے اسوہ کو دیکھو ‘ آپ ﷺ کی زندگی کے معمولات کو اپنے لیے مشعل راہ بنائو اور اپنی زندگیوں میں ویسا توازن پیدا کرو جیسا کہ آپ ﷺ کی زندگی میں توازن تھا۔ دیکھو ! حضور ﷺ نے ترک دنیا کا طریقہ نہیں اپنایا۔ آپ ﷺ نے نکاح کیے ‘ آپ ﷺ کی اولاد بھی ہوئی ‘ آپ ﷺ نے بھرپور زندگی گزاری ‘ اس کے باوجود آپ ﷺ نے اپنی زندگی کی تمام توانائیاں اور تمام صلاحیتیں غلبہ دین کی جدوجہد کی نذر کردیں۔ تم پر بھی لازم ہے کہ تم لوگ اللہ کے رسول ﷺ کے اس اسوہ کی پیروی کرو۔ حضور ﷺ کے اسوہ کے حوالے سے یہ اہم نکتہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ جیسے آپ ﷺ کا اتباع ضروری ہے ‘ ویسے ہی اس اتباع میں توازن قائم کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر کسی نے حضور ﷺ کی تمام سنتوں کو اپنا لیا لیکن اتباع کرتے ہوئے ہر سنت کی مطلوبہ ترجیح اور اہمیت کا خیال نہ رکھا تو گویا وہ شخص حضور ﷺ کے اسوہ کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا۔ اس نکتہ کو اس مثال سے سمجھیں کہ ایک طبیب نے آپ کو چند دوائیوں پر مشتمل ایک نسخہ لکھ کردیا۔ ان میں سے ایک دوائی کا مطلوبہ وزن ایک چھٹانک ہے ‘ دوسری کا ایک تولہ اور تیسری کا ایک ماشہ۔ اب اگر آپ اپنی پسند سے تولہ والی دوائی کا وزن ایک چھٹانک کرلیں اور چھٹانک والی دوائی کا وزن ایک تولہ کرلیں تو وہ نسخہ ‘ نسخہ شفا نہیں رہے گا ‘ نسخہ ہلاکت بن جائے گا۔ اس لیے صرف یہ اطمینان کافی نہیں کہ فلاں عمل آپ ﷺ کی سنت سے ثابت ہے ‘ بلکہ سنت و سیرت ِنبوی ﷺ کو اس اعتبار سے دیکھنا چاہیے کہ حضور ﷺ نے اپنی زندگی مجموعی طور پر کس طرح گزاری۔ آپ ﷺ کی زندگی میں کس چیز کی کتنی اہمیت تھی ؟ آپ ﷺ نے کس عمل کو کتنا وقت دیا ؟ آپ ﷺ کی ترجیحات کیا تھیں ؟ آپ ﷺ کی ترجیحات میں بنیادی نوعیت کی چیزیں کون سی تھیں اور کون سی چیزوں کو ثانوی حیثیت حاصل تھی ؟ واضح رہے کہ اگر کسی نے حضور ﷺ کے اسوہ کا اتباع کرتے ہوئے اس اعتبار سے توازن برقرار نہ رکھا تو اس کا طرزعمل حضور ﷺ کے اسوہ کے اتباع کے بجائے ذاتی پسند و ناپسند کا معاملہ بن جائے گا۔ سیاق وسباق کے اعتبار سے آیت زیر مطالعہ کے اس حصے کا ایک مفہوم اور بھی ہے۔ پچھلی آیت میں چونکہ اہل کتاب کا ذکر ہے ‘ اس لیے اس حوالے سے اس خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے۔ اس پہلو سے اس فقرے کو اس طرح سمجھنا چاہیے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پیروکاروں میں سے جن لوگوں کے اندر اپنے سابقہ ایمان کی کچھ رمق موجود ہے ‘ ان سے کہا جا رہا ہے کہ اے وہ لوگو جو پہلے سے اللہ پر ایمان رکھتے ہو اب اس اللہ کا تقویٰ اختیار کرتے ہوئے اس کے آخری رسول ﷺ پر بھی ایمان لے آئو ! اگر تم ایسا کرو گے تو : { یُؤْتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ } ”وہ تمہیں دہرا حصہ عطا کرے گا اپنی رحمت سے“ اہل کتاب کے ایسے لوگوں کے لیے ہم سورة القصص میں بھی یہ خوشخبری پڑھ چکے ہیں : { اُولٰٓـئِکَ یُـؤْتَوْنَ اَجْرَھُمْ مَّرَّتَیْنِ } آیت 54 کہ اگر یہ لوگ نبی آخر الزماں ﷺ پر ایمان لائیں گے تو انہیں دہرا اجر ملے گا۔ { وَیَجْعَلْ لَّــــکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ } ”اور وہ تمہیں ایسا نور عطا فرمائے گا جس کو لے کر تم چل سکوگے“ اس سے ایک تو وہ نور مراد ہے جس کا ذکر قبل ازیں آیت 12 میں ہوچکا ہے کہ ُ پل صراط سے گزرتے وقت تمہیں نور عطا کیا جائے گا جس کی مدد سے تم آسانی سے جنت میں پہنچ جائو گے۔ لیکن اس کے علاوہ اس سے مراد یہاں ایمان بالرسول اور اُسوئہ رسول ﷺ کے اتباع کا وہ نور بھی ہے جو اہل ایمان کو دنیوی زندگی میں بھی نصیب ہوتا ہے۔ اس نکتے کو سمجھنے کے لیے آیت کے الفاظ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ کو ذہن میں دوبارہ تازہ کرلیں اور سمجھ لیں کہ یہاں اصل زور emphasis ایمان بالرسول ﷺ پر ہے۔ اس حوالے سے آیت کے اس حصے کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر تم لوگ اُسوئہ رسول ﷺ کو مضبوطی سے تھامے رکھو گے تو تمہیں عملی زندگی میں ایک ایسی روشنی عطا ہوگی جو تمہیں کبھی بھٹکنے نہیں دے گی۔ خاص طور پر تم رہبانیت جیسی بدعت میں ملوث ہونے سے محفوظ رہو گے۔ چونکہ زیر مطالعہ آیات کا تعلق اقامت ِدین اور اقامت ِعدل و قسط کے مضمون سے ہے اس لیے سیاق مضمون کے اعتبار سے آیت کے اس حصے میں یہ مفہوم بھی پایا جاتا ہے کہ اگر تمہیں نظام عدل و قسط کے قیام کی منزل پر پہنچنے کے لیے رہنمائی اور روشنی درکار ہے تو وہ تمہیں ایمان بالرسول ﷺ اور منہجِ انقلابِ نبوی ﷺ سے ملے گی۔ اور اگر تم نے اپنا یہ ایمان پختہ کرلیا اور منہج نبوی کو اپنا راستہ بنا لیا تو اس راستے پر ہم تمہیں ایسا نور عطا کریں گے جس کی راہنمائی میں تمہارے لیے کسی غلطی ‘ کوتاہی یا منزل سے بھٹکنے کا کوئی امکان نہیں رہے گا۔۔۔۔ چناچہ اگر ہمیں عدل و قسط کے قیام کے لیے انقلاب برپا کرنے کی جدوجہد کرنی ہے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو اس جدوجہد میں اپنا تن من دھن کھپا دینے کی توفیق عطا فرمائے ! تو ہمیں اس کے لیے روشنی اور راہنمائی انقلابِ نبوی ﷺ کے منہج سے حاصل ہوگی۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ہم حضور ﷺ کے راستے سے ہٹ کر کوئی راستہ اختیار کریں گے تو کبھی منزل پر نہیں پہنچ پائیں گے : ؎خلافِ پیمبر ﷺ کسے راہ گزید کہ ہرگز بمنزل نخواہد رسید سورة المائدۃ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًاط } آیت 48 کہ ہم نے تم میں سے سب کے لیے علیحدہ علیحدہ شریعتیں اور علیحدہ علیحدہ منہاج بنائے ہیں۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کا منہاج تلاش کریں اور جب تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو پھر ہمیں یقین کرلینا چاہیے کہ ”جا ایں جاست !“ جس جگہ کی ہمیں تلاش ہے وہ جگہ یہی ہے۔ یعنی ہمیں راہنمائی چاہیے ‘ ہدایت چاہیے یا غلبہ دین کی جدوجہد میں کامیابی چاہیے تو یہ سب کچھ ہمیں سیرت محمدی ﷺ سے ہی ملے گا۔ اس یقین کے بعد ہمیں اپنا تن من دھن سیرت محمدی ﷺ کے اتباع میں کھپا دینے پر کمربستہ ہوجانا چاہیے اور ایسا کرتے ہوئے ہمیں زیرزمین تیل تلاش کرنے والی کمپنی کی مثال پیش نظر رکھنی چاہیے۔ ایسی کسی کمپنی کے ماہرین کو اگر کسی جگہ کے بارے میں گمان ہو کہ یہاں سے تیل ملنے کا امکان ہے تو وہ صرف اس گمان اور امکان کی بنیاد پر کروڑوں روپے اس جگہ کی ڈرلنگ پر صرف کردیتے ہیں۔ لیکن ہمارا تو ایمان ہے ‘ ہمیں تو یقین ہے کہ ”جا ایں جاست“۔ تو پھر ہم کیوں نہ اپنا سب کچھ اس راہ میں نچھاور کردیں ! { وَیَغْفِرْلَـکُمْ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”او وہ تمہیں بخش دے گا ‘ اور اللہ بہت بخشنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔“ اگر تم لوگوں نے منہاجِ محمدی ﷺ کو اپنے لیے مشعل راہ بنا لیا تو تمہارا رخ سیدھا ہوگیا ‘ مجموعی طور پر تم سیدھے راستے پر آگئے۔ اب اگر اس راستے پر چلتے ہوئے کوئی خطا یا کوئی لغزش ہوگی تو توبہ کا دروازہ کھلا ہے : { اِنَّمَا التَّوْبَۃُ عَلَی اللّٰہِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓئَ بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِکَ یَتُوْبُ اللّٰہُ عَلَیْہِمْط } النساء : 17”اللہ کے ذمے ہے توبہ قبول کرنا ایسے لوگوں کی جو کوئی بری حرکت کر بیٹھتے ہیں جہالت اور نادانی میں پھر جلد ہی توبہ کرلیتے ہیں ‘ تو یہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرمائے گا۔“ چنانچہ اگر تم سچے دل سے توبہ کرتے رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری خطائیں اور لغزشیں معاف کرتا رہے گا۔ وہ بہت بخشنے والا اور بہت رحم کرنے والا ہے۔
لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
📘 آیت 29{ لِئَــلاَّ یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَ لاَّ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْ ئٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰہِ } ”یہ اس لیے ہے تاکہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ لیں کہ اللہ کے فضل پر اب ان کا کوئی حق نہیں ہے“ گزشتہ آیت کی تشریح کے دوران میں نے ذکر کیا تھا کہ { یٰٓــاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ } کے خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے۔ یہ بات اس آیت میں اب بالکل واضح ہوگئی ہے۔ جن مفسرین کا ذہن اس طرف نہیں گیا کہ گزشتہ آیت میں خطاب کا رخ اہل کتاب کی طرف بھی ہے انہیں زیر مطالعہ آیت کا ترجمہ کرتے ہوئے یہ کہنا پڑا کہ یہاں لِئَــلاَّ میں لاَ زائد ہے اور اصل میں یہاں مراد لِکَیْ یَعْلَمَ ہے۔ چونکہ ان لوگوں کے نزدیک گزشتہ آیت صرف مسلمانوں سے خطاب کر رہی ہے ‘ اس لیے انہوں نے زیر مطالعہ آیت کا ترجمہ یوں کیا ہے : ”تاکہ اہل کتاب کو اچھی طرح معلوم ہوجائے کہ اب انہیں کوئی قدرت حاصل نہیں ہے اللہ کے فضل پر۔“ بہرحال میں نے گزشتہ آیت میں اہل کتاب سے خطاب کے پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے زیر مطالعہ آیت کا جو ترجمہ کیا ہے اس کا مفہوم یہ ہے کہ اہل کتاب یہ نہ سمجھ بیٹھیں کہ ان کے لیے اب اللہ کے فضل کے حصول کا کوئی راستہ رہا ہی نہیں ‘ بلکہ انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے لیے راستہ تو اب بھی کھلا ہے۔ وہ آئیں ‘ خود کو محمد رسول اللہ ﷺ کے قدموں میں ڈال دیں ‘ قرآن پر ایمان لائیں اور اللہ کے فضل میں حصہ دار بن جائیں۔ یہی بات انہیں سورة بنی اسرائیل میں بھی بایں الفاظ کہی گئی ہے : { عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یَّرْحَمَکُمْج } آیت 8 ”ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے“۔ یعنی بیشک تم اللہ کے بہت لاڈلے تھے اور اب تم اپنے طرزعمل کی وجہ سے راندئہ درگاہ ہوگئے ہو ‘ لیکن تمہارا ربّ اب بھی تم پر رحمت فرمانے پر آمادہ ہے۔ بس تم آخری نبی حضرت محمد ﷺ اور آخری آسمانی کتاب قرآن پر ایمان لے آئو اور اس کی رحمت کے مستحق بن جائو۔ بلکہ اس سے اگلی آیت میں مزید واضح فرما دیا گیا : { اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ } آیت 9 ”یقینا یہ قرآن راہنمائی کرتا ہے اس راہ کی طرف جو سب سے سیدھی ہے“۔ اب ہدایت کا ”شاہ درہ“ تو بس قرآن ہی ہے ‘ چناچہ آئو اور اس راستے سے ہوتے ہوئے اللہ کے قصر رحمت میں داخل ہوجائو۔ بہرحال آیت زیر مطالعہ میں اہل کتاب پر واضح کردیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے دروازے ان پر بند نہیں ہوگئے ‘ یہ دروازے ان کے لیے اب بھی کھلے ہیں۔ { وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۔ } ”اور فضل یقینا اللہ کے ہاتھ میں ہے ‘ وہ جس کو چاہتا ہے دیتا ہے۔ اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔“
هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ وَالظَّاهِرُ وَالْبَاطِنُ ۖ وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
📘 آیت 3{ ہُوَالْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاہِرُ وَالْبَاطِنُ } ”وہی اول ہے ‘ وہی آخر ہے ‘ وہی ظاہر ہے ‘ وہی باطن ہے۔“ ایک انسان کے لیے اس کیفیت کو سمجھنا یقینا مشکل ہے کہ ہر زمان ‘ ہر مکان اگر وہ ہی وہ ہے تو پھر باقی سب کیا ہے۔ غالب ؔنے اس صورت حال سے متعلق انسانی حیرت کا اظہار ان الفاظ میں کیا ہے : ؎جبکہ تجھ بن نہیں کوئی موجود پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے ؟اس آیت کے بارے میں امام رازی رح کا درج ذیل قول بہت فکر انگیز ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے اس آیت کو پڑھ کر وہ جلالِ ذات کے رعب کے باعث ساکت و ششدر ہوئے کھڑے ہیں۔ لکھتے ہیں : اِعْلَمْ اَنَّ ھٰذا المَقامَ مقامٌ غامِضٌ عمیقٌ مُہیبٌ”جان لو کہ یہ بہت مشکل ‘ بہت گہرا اور بڑا ُ پرہیبت مقام ہے !“ اس کی حقیقت کا سمجھنا آسان کام نہیں ہے۔ گویا بقول شاعر ع ”ہشدار کہ رہ بر دمِ تیغ است قدم را !“ اس راستے پر خبردار ہو کر چلنا ‘ اب تمہار اپائوں تلوار کی دھار پر آگیا ہے ! صوفیاء نے ”وحدت الوجود“ کا فلسفہ اسی آیت سے اخذ کیا ہے ‘ لیکن یہ فلسفے کا بھی مشکل ترین مسئلہ ہے۔ ”وحدت الوجود“ کی تعبیر میں کچھ لوگوں نے ”ہمہ اوست“ کا تصور گھڑا ہے جس کے کفر و شرک ہونے میں کسی اہل علم کو اختلاف نہیں ہے۔ بہرحال ”وحدت الوجود“ کے بارے میں یہ حقیقت بھی واضح رہنی چاہیے کہ یہ عام لوگوں کی سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے۔ البتہ میں نے اپنے مذکورہ دروس میں اپنی حد تک اس کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے اور پروفیسر یوسف سلیم چشتی مرحوم 1896۔ 1984 ئ سے مجھے اپنی اس وضاحت کی سند بھی مل چکی ہے۔ ایک مرتبہ اسی سورت کے میرے ایک درس میں پروفیسر صاحب بھی موجود تھے۔ درس کے بعد مجھ سے کہنے لگے کہ اس ”وحدت الوجود“ کے مسئلے کو پڑھتے پڑھاتے اور سمجھتے سمجھاتے مجھے پچاس برس ہوگئے ہیں ‘ لیکن آپ نے اس ایک درس میں اسے جس انداز میں واضح کیا ہے میں آج تک نہیں کرسکا۔ یہاں ان سطور میں اس مسئلے کی وضاحت کرنا میرے لیے ممکن نہیں۔ تفصیل معلوم کرنے کے خواہش مند حضرات سورة الحدید پر میرے متعلقہ دروس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ بہرحال اس آیت کا آسان مفہوم یہ ہے کہ یہ کائنات ”حادث“ ہے۔ ایک وقت تھا جب یہ موجود نہیں تھی اور جب یہ موجود نہیں تھی اس وقت کون موجود تھا ؟ ظاہر ہے اللہ اس وقت بھی موجود تھا۔ تو اس کائنات کا آغاز کہاں سے ہوا ؟ اللہ سے ! پھر ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب اس کائنات میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا۔ { کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ۔ } الرحمن ”جو کوئی بھی اس زمین پر ہے فنا ہونے والا ہے۔“ تو جب یہ سب کچھ نہیں رہے گا تو اس وقت کون موجود ہوگا ؟ { وَیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ۔ } الرحمٰن ”اور باقی رہے گا صرف تیرے رب کا چہرہ جو بہت بزرگی والا اور بہت عظمت والا ہے۔“ تو جب کچھ نہیں رہے گا تو اللہ اس وقت بھی موجود ہوگا۔ تو پھر ”آخر“ کون ہوا ؟ ظاہر ہے کہ اللہ ! اب یوں سمجھیں کہ اول اور آخر کے مابین ظاہر بھی وہ ہے اور باطن بھی وہ ہے۔ اس مشکل مضمون کو درج ذیل حدیث نے عام لوگوں کے لیے آسان کردیا ہے۔ حضور ﷺ اکثر یہ دعا کیا کرتے تھے : اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمَاوَاتِ وَرَبَّ الْاَرْضِ وَرَبَّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ ‘ رَبَّـنَا وَرَبَّ کُلَّ شَیْئٍ ‘ فَالِقَ الْحَبِّ وَالنَّوٰی ‘ وَمُنْزِلَ التَّوْرَاۃِ وَالْاِنْجِیْلِ وَالْفُرْقَانِ ‘ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ کُلِّ شَیْئٍ اَنْتَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِہٖ ‘ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ الْاَوَّلُ فَلَیْسَ قَبْلَکَ شَیْئٌ وَاَنْتَ اْلآخِرُ فَلَیْسَ بَعْدَکَ شَیْئٌ وَاَنْتَ الظَّاھِرُ فَلَیْسَ فَوْقَکَ شَیْئٌ وَاَنْتَ الْبَاطِنُ فَلَیْسَ دُوْنَکَ شَیْئٌ 1 ”اے اللہ آسمانوں اور زمین کے رب ! اے عرش عظیم کے مالک ! اے ہمارے رب اور ہرچیز کے پروردگار ! اے دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والے اور تورات ‘ انجیل اور فرقان کو نازل کرنے والے ! میں ہرچیز کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضہ قدرت میں ہے۔ اے اللہ ! تو ہی اوّل ہے ‘ پس تجھ سے پہلے کوئی چیز نہ تھی اور تو ہی آخر ہے ‘ تیرے بعد کوئی چیز نہ ہوگی ‘ اور تو ہی ظاہر ہے ‘ تجھ سے بالاتر کوئی چیز نہیں ‘ اور تو ہی ایسا باطن ہے کہ تجھ سے مخفی کوئی چیز نہیں۔“ { وَہُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ } ”اور وہ ہرچیز کا علم رکھتا ہے۔“ جب ہر زمان ‘ ہر مکان وہ ہی وہ ہے ‘ وہ ظاہر بھی ہے اور باطن بھی تو کائنات کی کوئی ذرہ بھر چیز بھی اس سے پوشیدہ کیسے ہوسکتی ہے ! بلکہ وہ تو انسان کے دل میں پیدا ہونے والے خیالات سے بھی آگاہ ہے۔ اس حوالے سے سورة قٓ کی یہ آیت ہم پڑھ چکے ہیں : { وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہٖ نَفْسُہٗ وَنَحْنُ اَقْرَبُ اِلَـیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ۔ } ”اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہم خوب جانتے ہیں جو اس کا نفس وسوسے ڈالتا ہے ‘ اور ہم تو اس سے اس کی رَگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہیں“۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ کے ہرچیز پر قادر عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ ہونے کا اعلان ہوا ہے ‘ جبکہ زیر مطالعہ آیت میں اس کے علم ِکل ُ کا بیان ہے کہ اسے ہرچیز کا علم ہے وَھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ اللہ تعالیٰ کی یہ دو صفات ایسی ہیں جن کا ذکر قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔
هُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۖ وَهُوَ مَعَكُمْ أَيْنَ مَا كُنْتُمْ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
📘 آیت 4{ ہُوَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ } ”وہی ہے جس نے پیدا کیا آسمان اور زمین کو چھ دنوں میں ‘ پھر وہ متمکن ہوا عرش پر۔“ { یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا } ”وہ جانتا ہے جو کچھ داخل ہوتا ہے زمین میں اور جو کچھ نکلتا ہے اس سے ‘ اور جو کچھ اترتا ہے آسمان سے اور جو کچھ چڑھتا ہے اس میں۔“ بالکل یہی الفاظ اس سے پہلے سورة سبا کی آیت 2 میں بھی آ چکے ہیں۔ اس فقرے میں بہت سی چیزوں کا احاطہ ہوگیا ‘ مثلاً زمین میں پانی جذب ہوتا ہے ‘ مختلف قسم کے بیج بوئے جاتے ہیں ‘ ُ مردے دفن ہوتے ہیں۔ اسی طرح آسمان سے بارش نازل ہوتی ہے اور فرشتے احکامِ الٰہی لے کر اترتے ہیں۔ آسمان کی طرف چڑھنے کی مثال بخارات کی ہے ‘ اور پھر فرشتے بھی فوت ہونے والے انسانوں کی ارواح اور دنیا کے حادثات و واقعات کی رپورٹس لے کر اوپر جاتے ہیں۔ { وَہُوَ مَعَکُمْ اَیْنَ مَا کُنْتُمْ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ۔ } ”اور تم جہاں کہیں بھی ہوتے ہو وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ اسے دیکھ رہا ہے۔“ جو کچھ اچھے یا برے اعمال تم کرتے ہو اللہ تعالیٰ بذاتِ خود ان کا چشم دید گواہ ہے۔
لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ
📘 آیت 5{ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اسی کی ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی ”بادشاہی“ کے بارے میں تکرار و تاکید کا خصوصی اسلوب ملاحظہ ہو۔ آیت 2 کے ہوبہو الفاظ یہاں پھر دہرائے گئے ہیں۔ اس مضمون کے حوالے سے یہ نکتہ بھی سمجھنے کا ہے کہ جس طرح اللہ کے علاوہ کوئی اور معبود نہیں اسی طرح اس کے علاوہ کوئی اور حاکم و مقتدر بھی نہیں۔ چناچہ جس طرح اللہ کو اکیلے معبود کے طور پر ماننا ضروری ہے ‘ اسی طرح توحید کا تقاضا یہ بھی ہے کہ اللہ کی زمین پر صرف اسی کی بادشاہی قائم ہو اور اس کے تمام احکام عملاً نافذ ہوں۔ { وَاِلَی اللّٰہِ تُرْجَعُ الْاُمُوْرُ۔ } ”اور تمام معاملات اسی کی طرف لوٹا دیے جائیں گے۔
يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ ۚ وَهُوَ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
📘 آیت 6{ یُوْلِجُ الَّـیْلَ فِی النَّہَارِ وَیُوْلِجُ النَّہَارَ فِی الَّـیْلِ } ”وہ پرو لاتا ہے رات کو دن میں اور پرولاتا ہے دن کو رات میں۔“ یہ مضمون ان ہی الفاظ کے ساتھ قرآن حکیم میں متعدد بار آیا ہے۔ { وَہُوَ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ۔ } ”اور وہ جانتا ہے اس کو بھی جو سینوں کے اندر ہے۔“ نوٹ کیجیے ! ان آیات میں اللہ تعالیٰ کے علم کا ذکر بہت تکرار کے ساتھ ہوا ہے ‘ پہلے فرمایا : { وَہُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٌ۔ } پھر فرمایا : { یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا…} آیت 4 اور اب یہاں اس آیت میں بتایا گیا کہ وہ سینوں کے رازوں کا بھی علم رکھتا ہے۔ ان چھ ابتدائی آیات پر مشتمل یہ ُ پرشکوہ تمہید گویا ایک اعلان ہے کہ خبردار ! تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ تم یہ کس کا کلام پڑھ رہے ہو ‘ کس سے ہم کلام ہو رہے ہو ! ان تمہیدی آیات میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و جلالت ‘ اس کی قدرت ‘ اس کی بادشاہی اور خصوصی طور پر اس کے علم کا تعارف ہے۔ یہ گویا توحید فی العقیدہ کا بیان ہے۔ توحید کا یہ عقیدہ عملی میدان میں بندوں سے کیا تقاضا کرتا ہے اس کا ذکر اب آگے آ رہا ہے۔ چناچہ اگلی آیات میں توحید کے دو بنیادی تقاضے بتائے گئے ہیں۔
آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَأَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ ۖ فَالَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَأَنْفَقُوا لَهُمْ أَجْرٌ كَبِيرٌ
📘 آیت 7{ اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَاَنْفِقُوْا مِمَّا جَعَلَکُمْ مُّسْتَخْلَفِیْنَ فِیْہِ } ”ایمان لائو اللہ پر اور اس کے رسول ﷺ پر اور خرچ کرو ان سب میں سے جن میں اس نے تمہیں خلافت عطا کی ہے۔“ خلافت کے حوالے سے انسان کو سب سے زیادہ اختیار تو اپنے جسم پر عطا کیا گیا ہے۔ اس میں اس کے مختلف اعضاء ہیں ‘ طاقت جسمانی ‘ طلاقت لسانی ‘ ذہانت و فطانت اور دوسری بہت سی صلاحیتیں ہیں۔ پھر مال و دولت ‘ اولاد اور دوسری بیشمار نعمتیں ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کو معبود ماننے کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ان خداداد صلاحیتوں اور نعمتوں کو اللہ کی رضا کے لیے اس کے راستے میں خرچ کرنے کے لیے ہر وقت کمر بستہ رہے۔ واضح رہے کہ ”نفق“ کا لفظ مال و دولت خرچ کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے اور جان خرچ کردینے کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ نَفَقَتِ الدَّرَاھِمکے معنی ہیں رقم ختم ہوگئی اور نَفَقَ الْفَرس کے معنی ہیں گھوڑا مرگیا۔ یہاں یہ آیت پڑھتے ہوئے ضروری ہے کہ سورة الحجرات کی اس آیت کو بھی ذہن میں تازہ کرلیں : { اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجَاہَدُوْا بِاَمْوَالِہِمْ وَاَنْفُسِہِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الصّٰدِقُوْنَ۔ } ”مومن تو بس وہی ہیں جو ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ پھر شک میں ہر گز نہیں پڑے اور انہوں نے جہاد کیا اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں۔ یہی لوگ ہیں جو اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہیں۔“ ان دونوں آیات میں دو دو مطالبات آئے ہیں ‘ پہلا مطالبہ دونوں میں مشترک ہے یعنی { اٰمِنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ } ایمان لائو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ‘ جیسا کہ ایمان لانے کا حق ہے۔ جبکہ دوسرے مطالبے کے حوالے سے سورة الحجرات کی مذکورہ بالا آیت میں جہاد کا ذکر ہے کہ اپنے جان و مال کے ساتھ جہاد کرو ‘ اور زیر مطالعہ آیت میں ہر اس چیز کے انفاق کا حکم ہے جس پر انسان کو خلیفہ بنایا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس میں انفاقِ مال بھی شامل ہے اور بذل نفس یعنی انفاقِ جان بھی۔ { فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَاَنْفَقُوْا لَھُمْ اَجْرٌ کَبِیْرٌ۔ } ”پس جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور انہوں نے اپنے مال و جان کو خرچ کیا ‘ ان کے لیے بہت بڑا اجر ہے۔“ جس خوش نصیب نے مذکورہ دونوں مطالبات پورے کردیے ‘ یعنی اسے یقین والا ایمان بھی نصیب ہوگیا اور اس نے اپنی زیر ملکیت ہرچیز کو اللہ کی رضا کے لیے پیش بھی کردیا تو اس کے گویا وارے نیارے ہوگئے۔ وہ بہت بڑے اجر کا مستحق ٹھہرا۔۔۔۔ - - مضمون کے حوالے سے یہاں آیات کے ربط و نظم کی خوبصورتی اور مندرجات کی ترتیب ملاحظہ کیجیے کہ پہلے ایک آیت میں دو مطالبات کا ذکر کر کے ان کے بارے میں ترغیب دی گئی ہے۔ اب اس کے بعد ان میں سے ہر مطالبے سے متعلق دو دو آیات اس طرح آرہی ہیں کہ پہلی آیت میں زجر یعنی ڈانٹ ڈپٹ کا انداز ہے ‘ جبکہ دوسری میں راہنمائی اور ترغیب دی گئی ہے۔
وَمَا لَكُمْ لَا تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ ۙ وَالرَّسُولُ يَدْعُوكُمْ لِتُؤْمِنُوا بِرَبِّكُمْ وَقَدْ أَخَذَ مِيثَاقَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ
📘 آیت 8{ وَمَالَکُمْ لَا تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ } ”اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم نہیں ایمان رکھتے اللہ پر !“ یہ پہلے مطالبے یعنی ”ایمان“ سے متعلق گویا زجر و ملامت اور ایک طرح سے تنبیہہ کا انداز ہے۔ { وَالرَّسُوْلُ یَدْعُوْکُمْ لِتُؤْمِنُوْا بِرَبِّکُمْ } ”جبکہ رسول محمد ﷺ تمہیں دعوت دے رہے ہیں کہ تم ایمان رکھو اپنے رب پر“ ہمارے رسول ﷺ ابھی تمہارے مابین موجود ہیں ‘ اور وہ تم لوگوں کو براہ راست ایمان کی دعوت دے رہے ہیں۔ { وَقَدْ اَخَذَ مِیْثَاقَکُمْ } ”اور دیکھو ! وہ تم سے عہد بھی لے چکا ہے“ اگر تم ایمان کے دعوے دار ہو تو ذرا غور کرو کہ تم نے اپنے رب کے ساتھ کتنے عہد کر رکھے ہیں۔ ایک عہد تو وہ تھا جو اللہ تعالیٰ نے تم سے عالم ارواح میں لیا تھا : { اَلَسْتُ بِرَبِّکُمْ } ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟“ اور تم سب نے اس سوال کے جواب میں { بَلٰی } کہا تھا بحوالہ الاعراف : 172۔ اس کے بعد تم { سَمِعْنَا وَاَعَطْنَا } بحوالہ البقرۃ : 285 و المائدۃ : 7 کا عہد بھی کرچکے ہو۔ اس عہد ِاطاعت کے علاوہ تم نے اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو اللہ کے ہاتھ بیچنے کا عہد بھی کر رکھا ہے : { اِنَّ اللّٰہَ اشْتَرٰی مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَھُمْ وَاَمْوَالَھُمْ بِاَنَّ لَھُمُ الْجَنَّۃَ…} التوبۃ : 111 ”یقینا اللہ نے خرید لی ہیں اہل ایمان سے ان کی جانیں بھی اور ان کے مال بھی اس قیمت پر کہ ان کے لیے جنت ہے“۔ تو تم لوگ اپنے رب کے ساتھ کیے ہوئے اپنے وعدوں اور معاہدوں کا تو لحاظ کرو : { اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ۔ } ”اگر تم حقیقتاً مومن ہو !“ یہ ڈانٹ سننے کے بعد ہر بندئہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے گریبان میں جھانکے اور اپنا جائزہ لے کہ کیا اس کے دل میں حقیقی ایمان موجود ہے یا کچھ خلا سا ہے ؟ الحمد لِلّٰہ ہم سب مسلمان تو ہیں ‘ کسی نہ کسی درجے میں نماز روزہ وغیرہ کا تقاضا بھی پورا کر رہے ہیں ‘ لیکن اللہ کرے ہمیں احساس ہوجائے اور ہم اپنا اپنا جائزہ لیں کہ اسلام کے ساتھ ساتھ کیا ابھی تک ہمیں حقیقی ایمان بھی نصیب ہوا ہے یا نہیں ! اور اگر کسی کو یہ محسوس ہو کہ واقعی اس کے دل میں اس پہلو سے ابھی خلا موجود ہے تو پھر اسے یہ معلوم کرنے کے لیے بھی تگ و دو کرنی چاہیے کہ وہ یقین والا ایمان کہاں سے ملے گا۔ اگلی آیت میں اس حوالے سے راہنمائی فرمائی جا رہی ہے۔
هُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ عَلَىٰ عَبْدِهِ آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ لِيُخْرِجَكُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۚ وَإِنَّ اللَّهَ بِكُمْ لَرَءُوفٌ رَحِيمٌ
📘 آیت 9{ ھُوَ الَّذِیْ یُـنَزِّلُ عَلٰی عَبْدِہٖ اٰیٰتٍم بَـیِّنٰتٍ لِّـیُخْرِجَکُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ } ”وہی تو ہے جو اپنے بندے ﷺ پر یہ آیات بینات نازل کر رہا ہے تاکہ نکالے تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف۔“ یعنی یقین والے ایمان کا منبع و سرچشمہ اللہ کی یہ کتاب ہے۔ اگر تم اس کتاب کو سمجھ کر پڑھو گے ‘ اس پر فکرو تدبر کرو گے تو تمہارے اندر ایک ہلچل برپا ہوجائے گی ‘ تمہاری روح کے تاروں میں خود بخود سرسراہٹ پیدا ہوگی اور تم خود محسوس کرو گے۔ بقولِ اقبال ؎مضطرب باغ کے ہر غنچے میں ہے بوئے نیاز نغمے بےتاب ہیں تاروں سے نکلنے کے لیے تو ذرا چھیڑ تو دے ‘ تشنہ مضراب ہے ساز طور مضطر ہے اسی آگ میں جلنے کے لیے !دراصل ایمان تمہاری روح کے اندر خفتہ dormant حالت میں پہلے سے موجود ہے۔ بس اسے فعال active کرنے کی ضرورت ہے۔ اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان کو فعال کرنے کا نسخہ پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے ‘ یعنی آیات قرآنیہ۔ { وَاِنَّ اللّٰہَ بِکُمْ لَـرَئُ وْ فٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”اور یقینا اللہ تمہارے حق میں بہت رئوف اور رحیم ہے۔“ وہ تمہارے حال پر نہایت ہی شفیق اور مہربان ہے۔ اس آیت میں واضح طور پر بتادیا گیا کہ ایمانِ حقیقی کا منبع اور سرچشمہ قرآن ہے۔ اس سے پہلے سورة الشوریٰ میں ہم پڑھ آئے ہیں کہ خود حضور ﷺ کو بھی ایمان قرآن مجید ہی سے ملا :{ وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَـآ اِلَـیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا مَا کُنْتَ تَدْرِیْ مَا الْکِتٰبُ وَلَا الْاِیْمَانُ وَلٰـکِنْ جَعَلْنٰـہُ نُوْرًا نَّہْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآئُ مِنْ عِبَادِنَا وَاِنَّکَ لَتَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۔ } ”اور اے نبی ﷺ ! اسی طرح ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے ایک روح اپنے امر میں سے۔ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ‘ لیکن اس قرآن کو ہم نے ایسا نور بنایا ہے جس کے ذریعے سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں۔ اور آپ یقینا سیدھے راستے کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔“یعنی اس سے پہلے نہ تو آپ ﷺ تورات سے واقف تھے اور نہ ہی آپ ﷺ انجیل کے بارے میں کچھ جانتے تھے۔ آپ تو امی تھے۔ لیکن جب ہم نے قرآن کریم کو نور بنا کر آپ ﷺ کے دل پر اتارا تو اس سے آپ ﷺ کا باطن نور ایمان سے جگمگا اٹھا اور آپ ﷺ نوعِ انسانی کے لیے روشنی کا مینار بن گئے۔ اب آپ ﷺ لوگوں کو ہدایت دیں گے اور انہیں سیدھے راستے کی طرف بلائیں گے۔ اسی مضمون کو مولانا ظفر علی خان نے بڑی خوبصورتی اور سادگی سے یوں بیان کیا ہے : ؎وہ جنس نہیں ایمان جسے لے آئیں دکانِ فلسفہ سے ڈھونڈے سے ملے گی عاقل کو یہ قرآں کے سیپاروں میں ان دو آیات میں پہلے مطالبے یعنی ”ایمان“ سے متعلق پہلے ڈانٹ پلائی گئی کہ تمہارا ایمان پختہ کیوں نہیں ہے ؟ یہ ڈھل مل ایمان لیے کیوں پھر رہے ہو جس میں شکوک و شبہات کے کانٹے چبھے ہوئے ہیں ؟ اگر تمہارے ایمان میں کمزوری ہے تو اس کمزوری کو دور کیوں نہیں کرتے ہو ؟ کمزور ایمان کے ساتھ گزارا کیوں کر رہے ہو ؟ پھر دوسری آیت میں راہنمائی بھی کردی گئی کہ ایمان کی کمزوری کو دور کرنے اور حقیقی ایمان کے حصول کے لیے قرآن کی طرف رجوع کرو ! قرآن کا یہی مطالبہ ہم سے بھی ہے۔ اس حوالے سے ایک اہم بات ہمیشہ کے لیے پلے باندھ لیجیے کہ قرآن کا ترجمہ پڑھنے سے نہ تو قرآن دل میں اترتا ہے اور نہ ہی اس سے جذبے کو تحریک ملتی ہے۔ ترجمہ پڑھنے سے آپ کچھ آیات کا مفہوم تو سمجھ لیں گے اور کچھ معلومات بھی آپ کو حاصل ہوجائیں گی ‘ مگر قرآن آپ کے دل کے تاروں کو چھوئے گا نہیں ‘ اور نہ ہی اس کی تاثیر آپ کی روح تک پہنچے گی۔ لہٰذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ قرآن آپ کی روح کو فیوضِ ملکوتی سے سیراب اور آپ کے دل کو نور ایمانی سے منورکرے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ قرآن کو اس کی زبان میں پڑھیں اور سمجھیں۔ بقول اقبال : ؎ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب ِکشاف ! ظاہر ہے کسی کے ضمیر پر قرآن کا نزول تبھی ممکن ہے جب وہ قرآن کی زبان یعنی عربی سے واقف ہوگا اور قرآن کے الفاظ اور اس کی عبارت کو براہ راست سمجھے گا۔ اس کے لیے وہ پڑھے لکھے حضرات جو عربی زبان سے نابلد ہیں خصوصی طور پر اللہ کے ہاں جواب دہ ہوں گے کہ وہ اپنی زندگی میں ایک سے بڑھ کر ایک علوم و فنون سیکھتے رہے لیکن قرآن کی زبان سیکھنے کے لیے انہوں نے کوئی منصوبہ بندی اور کوئی کوشش نہ کی۔ ایسے تمام حضرات کو میرا مشورہ ہے کہ وہ اپنی زندگی کا ایک سال اس کام کے لیے ضرور وقف کریں اور کم از کم اس حد تک عربی زبان ضرور سیکھیں کہ قرآن مبین کو پڑھتے ہوئے انہیں اس کی آیات بینات کا مفہوم تو معلوم ہو۔ خواہش مند حضرات اس مقصد کے لیے قرآن اکیڈمی کے تحت چلنے والے رجوع الی القرآن کورس میں داخلہ لے سکتے ہیں۔ یہ تو تھی توحید کے پہلے مطالبے ایمان سے متعلق ڈانٹ ڈپٹ اور راہنمائی۔ اور اب دوسرے مطالبے سے متعلق ڈانٹ :