🕋 تفسير سورة نوح
(Nuh) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَىٰ قَوْمِهِ أَنْ أَنْذِرْ قَوْمَكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
📘 حضرت نوح غالباً حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے پیغمبر ہیں۔ اس وقت کے بگڑے ہوئے انسانوں کو انہوں نے جو پیغام دیا اس کو یہاں تین لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عبادت، تقویٰ، اطاعتِ رسول۔ یعنی غیر اللہ کی پرستش چھوڑ کر ایک اللہ کی پرستش کرنا، دنیا میں اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا، اور ہر معاملہ میں اللہ کے رسول کو اپنے لیے قابلِ تقلید نمونہ سمجھنا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کی اصل دعوت رہی ہے۔ اور یہی خود قرآن کی اصل دعوت ہے۔
فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُمْ مِدْرَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
وَيُمْدِدْكُمْ بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَلْ لَكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَلْ لَكُمْ أَنْهَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلَّهِ وَقَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
أَلَمْ تَرَوْا كَيْفَ خَلَقَ اللَّهُ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ طِبَاقًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
وَجَعَلَ الْقَمَرَ فِيهِنَّ نُورًا وَجَعَلَ الشَّمْسَ سِرَاجًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
وَاللَّهُ أَنْبَتَكُمْ مِنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
وَاللَّهُ جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ بِسَاطًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُبِينٌ
📘 حضرت نوح غالباً حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے پیغمبر ہیں۔ اس وقت کے بگڑے ہوئے انسانوں کو انہوں نے جو پیغام دیا اس کو یہاں تین لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عبادت، تقویٰ، اطاعتِ رسول۔ یعنی غیر اللہ کی پرستش چھوڑ کر ایک اللہ کی پرستش کرنا، دنیا میں اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا، اور ہر معاملہ میں اللہ کے رسول کو اپنے لیے قابلِ تقلید نمونہ سمجھنا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کی اصل دعوت رہی ہے۔ اور یہی خود قرآن کی اصل دعوت ہے۔
لِتَسْلُكُوا مِنْهَا سُبُلًا فِجَاجًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
قَالَ نُوحٌ رَبِّ إِنَّهُمْ عَصَوْنِي وَاتَّبَعُوا مَنْ لَمْ يَزِدْهُ مَالُهُ وَوَلَدُهُ إِلَّا خَسَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
وَمَكَرُوا مَكْرًا كُبَّارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
وَقَالُوا لَا تَذَرُنَّ آلِهَتَكُمْ وَلَا تَذَرُنَّ وَدًّا وَلَا سُوَاعًا وَلَا يَغُوثَ وَيَعُوقَ وَنَسْرًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
وَقَدْ أَضَلُّوا كَثِيرًا ۖ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا ضَلَالًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
مِمَّا خَطِيئَاتِهِمْ أُغْرِقُوا فَأُدْخِلُوا نَارًا فَلَمْ يَجِدُوا لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْصَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا
📘 حضرت نوح کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں بگاڑ اپنی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ پورے معاشرے میں گمراہ عقائد و خیالات اس طرح چھا گئے تھے کہ جو بچہ اس معاشرہ میں پیدا ہو کر اٹھتا، وہ گمراہی کے خیالات لے کر اٹھتا۔ جب معاشرہ اس درجہ کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں ہوتا کہ ’’طوفان نوح‘‘ کے ذریعہ اس کا خاتمہ کردیا جائے۔
إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا
📘 حضرت نوح کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں بگاڑ اپنی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ پورے معاشرے میں گمراہ عقائد و خیالات اس طرح چھا گئے تھے کہ جو بچہ اس معاشرہ میں پیدا ہو کر اٹھتا، وہ گمراہی کے خیالات لے کر اٹھتا۔ جب معاشرہ اس درجہ کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں ہوتا کہ ’’طوفان نوح‘‘ کے ذریعہ اس کا خاتمہ کردیا جائے۔
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا
📘 حضرت نوح کی دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے زمانہ میں بگاڑ اپنی آخری حد تک پہنچ چکا تھا۔ پورے معاشرے میں گمراہ عقائد و خیالات اس طرح چھا گئے تھے کہ جو بچہ اس معاشرہ میں پیدا ہو کر اٹھتا، وہ گمراہی کے خیالات لے کر اٹھتا۔ جب معاشرہ اس درجہ کو پہنچ جائے تو اس کے بعد اس کے لیے اس کے سوا کچھ اور مقدر نہیں ہوتا کہ ’’طوفان نوح‘‘ کے ذریعہ اس کا خاتمہ کردیا جائے۔
أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاتَّقُوهُ وَأَطِيعُونِ
📘 حضرت نوح غالباً حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے پیغمبر ہیں۔ اس وقت کے بگڑے ہوئے انسانوں کو انہوں نے جو پیغام دیا اس کو یہاں تین لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عبادت، تقویٰ، اطاعتِ رسول۔ یعنی غیر اللہ کی پرستش چھوڑ کر ایک اللہ کی پرستش کرنا، دنیا میں اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا، اور ہر معاملہ میں اللہ کے رسول کو اپنے لیے قابلِ تقلید نمونہ سمجھنا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کی اصل دعوت رہی ہے۔ اور یہی خود قرآن کی اصل دعوت ہے۔
يَغْفِرْ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرْكُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۚ إِنَّ أَجَلَ اللَّهِ إِذَا جَاءَ لَا يُؤَخَّرُ ۖ لَوْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ
📘 حضرت نوح غالباً حضرت آدم کے بعد سب سے پہلے پیغمبر ہیں۔ اس وقت کے بگڑے ہوئے انسانوں کو انہوں نے جو پیغام دیا اس کو یہاں تین لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ عبادت، تقویٰ، اطاعتِ رسول۔ یعنی غیر اللہ کی پرستش چھوڑ کر ایک اللہ کی پرستش کرنا، دنیا میں اللہ سے ڈر کر زندگی گزارنا، اور ہر معاملہ میں اللہ کے رسول کو اپنے لیے قابلِ تقلید نمونہ سمجھنا۔ یہی ہر زمانہ میں تمام پیغمبروں کی اصل دعوت رہی ہے۔ اور یہی خود قرآن کی اصل دعوت ہے۔
قَالَ رَبِّ إِنِّي دَعَوْتُ قَوْمِي لَيْلًا وَنَهَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
فَلَمْ يَزِدْهُمْ دُعَائِي إِلَّا فِرَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
وَإِنِّي كُلَّمَا دَعَوْتُهُمْ لِتَغْفِرَ لَهُمْ جَعَلُوا أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِمْ وَاسْتَغْشَوْا ثِيَابَهُمْ وَأَصَرُّوا وَاسْتَكْبَرُوا اسْتِكْبَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
ثُمَّ إِنِّي دَعَوْتُهُمْ جِهَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔
ثُمَّ إِنِّي أَعْلَنْتُ لَهُمْ وَأَسْرَرْتُ لَهُمْ إِسْرَارًا
📘 حضرت نوح کی دعوت کا لوگوں نے کیوں انکار کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کو حضرت نوح کے مقابلہ میں ان لوگوں کی باتیں زیادہ قابل لحاظ نظر آئیں جو دنیاوی لحاظ سے بڑائی کا درجہ حاصل کیے ہوئے تھے۔ وقت کے بڑوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں دعوت حق کا انکار کیا۔ اور جو چھوٹے تھے انہوں نے اس لیے انکار کیا کہ ان کے بڑے اس کے منکر بنے ہوئے تھے۔
حضرت نوح کے مخالفین نے حضرت نوح کے خلاف بڑی بڑی تدبیریں کیں۔ ان میں سے ایک خاص تدبیر یہ تھی کہ انہوں نے کہا کہ نوح ہمارے اکابر (ود اور سواع اور یغوث اور یعوق اور نسر) کے خلاف ہیں۔ یہ پانچوں قدیم زمانہ کے صالح افراد تھے۔ بعد کو وہ دھیرے دھیرے لوگوں کی نظر میں مقدس بن گئے۔ حتیٰ کہ لوگوں نے انہیں پوجنا شروع کردیا۔ ان کے نام پر لوگوں کو حضرت نوح کے خلاف بھڑکانا آسان تھا۔ چنانچہ انہوں نے یہ کہہ کر آپ کو لوگوں کی نظر میں مشتبہ کردیا کہ آپ بزرگوں کے راستہ کو چھوڑ کر نئے راستہ پر چل رہے ہیں۔