slot qris slot gacor terbaru slot gacor terbaik slot dana link slot gacor slot deposit qris slot pulsa slot gacor situs slot gacor slot deposit qris
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة الروم

(Ar-Rum) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الم

📘 آیت 69 وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ط ”جو لوگ ہمارے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور ہماری راہ میں جہاد کر رہے ہیں انہیں مطمئن رہنا چاہیے کہ ہم انہیں بےسہارا نہیں چھوڑیں گے ‘ ہم انہیں اپنے راستوں کی بصیرت عطا فرمائیں گے۔ یہ ان سے ہمارا پختہ وعدہ ہے۔وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ”جن لوگوں کا اللہ پر ایمان ہے اور ان کا ایمان ”احسان“ کے درجے تک پہنچ چکا ہے ‘ پھر اللہ کی راہ میں وہ اپنا تن من اور دھن قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار بھی رہتے ہیں ‘ اللہ کبھی انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اس کی تائید و نصرت ہر وقت ان کے ساتھ رہے گی۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم۔۔

ثُمَّ كَانَ عَاقِبَةَ الَّذِينَ أَسَاءُوا السُّوأَىٰ أَنْ كَذَّبُوا بِآيَاتِ اللَّهِ وَكَانُوا بِهَا يَسْتَهْزِئُونَ

📘 مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ط ”اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات ایک مقصد کے تحت پیدا کی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اقرار ہر وہ شخص کرتا ہے جو چشم بصیرت سے کائنات کا نظام دیکھتا ہے۔ چناچہ سورة آل عمران کی آیت 191 میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ جب وہ کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں تو بےاختیار پکار اٹھتے ہیں : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج ”اے ہمارے پروردگار ! ہم سمجھ گئے ہیں کہ تو نے یہ سب کچھ عبث پیدا نہیں فرمایا۔“

اللَّهُ يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ ثُمَّ إِلَيْهِ تُرْجَعُونَ

📘 آیت 11 اَللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ”یہ الفاظ قرآن حکیم میں بار بار آئے ہیں۔ یُعِیْدُہٗ فعل مضارع ہے اور اس لحاظ سے اس میں حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے معنی پائے جاتے ہیں۔ اگر اس کا ترجمہ فعل حال میں کیا جائے تو دنیا میں مخلوقات کی بار بار پیدائش reproduction مراد ہوگی ‘ جیسے ایک فصل بار بار کٹتی ہے اور بار بار پیدا ہوتی ہے ‘ جبکہ فعل مستقبل کے ترجمے کی صورت میں اس کا مفہوم عالم آخرت میں انسانوں کے دوبارہ جی اٹھنے تک وسیع ہوجائے گا۔

وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُبْلِسُ الْمُجْرِمُونَ

📘 آیت 11 اَللّٰہُ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ ”یہ الفاظ قرآن حکیم میں بار بار آئے ہیں۔ یُعِیْدُہٗ فعل مضارع ہے اور اس لحاظ سے اس میں حال اور مستقبل دونوں زمانوں کے معنی پائے جاتے ہیں۔ اگر اس کا ترجمہ فعل حال میں کیا جائے تو دنیا میں مخلوقات کی بار بار پیدائش reproduction مراد ہوگی ‘ جیسے ایک فصل بار بار کٹتی ہے اور بار بار پیدا ہوتی ہے ‘ جبکہ فعل مستقبل کے ترجمے کی صورت میں اس کا مفہوم عالم آخرت میں انسانوں کے دوبارہ جی اٹھنے تک وسیع ہوجائے گا۔

وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ مِنْ شُرَكَائِهِمْ شُفَعَاءُ وَكَانُوا بِشُرَكَائِهِمْ كَافِرِينَ

📘 آیت 13 وَلَمْ یَکُنْ لَّہُمْ مِّنْ شُرَکَآءِہِمْ شُفَعٰٓؤُا وَکَانُوْا بِشُرَکَآءِہِمْ کٰفِرِیْنَ ”جب وہ دیکھیں گے کہ جن سے انہوں نے امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں وہ ان کی کسی قسم کی کوئی مدد نہیں کر رہے تو وہ ان کے منکر ہوجائیں گے۔

وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يَوْمَئِذٍ يَتَفَرَّقُونَ

📘 آیت 14 وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَءِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ ”بنی نوع انسان کی یہ تقسیم polarization کس بنیاد پر ہوگی ؟ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَهُمْ فِي رَوْضَةٍ يُحْبَرُونَ

📘 آیت 14 وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَءِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ ”بنی نوع انسان کی یہ تقسیم polarization کس بنیاد پر ہوگی ؟ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

وَأَمَّا الَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَلِقَاءِ الْآخِرَةِ فَأُولَٰئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ

📘 آیت 14 وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَءِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ ”بنی نوع انسان کی یہ تقسیم polarization کس بنیاد پر ہوگی ؟ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

فَسُبْحَانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ وَحِينَ تُصْبِحُونَ

📘 آیت 14 وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَءِذٍ یَّتَفَرَّقُوْنَ ”بنی نوع انسان کی یہ تقسیم polarization کس بنیاد پر ہوگی ؟ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔

وَلَهُ الْحَمْدُ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَعَشِيًّا وَحِينَ تُظْهِرُونَ

📘 آیت 18 وَلَہُ الْحَمْدُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَعَشِیًّا وَّحِیْنَ تُظْہِرُوْنَ ”ان دونوں آیات میں صبح ‘ شام ‘ رات اور دن ڈھلنے کے اوقات کا ذکر کر کے پانچوں نمازوں کے اوقات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

يُخْرِجُ الْحَيَّ مِنَ الْمَيِّتِ وَيُخْرِجُ الْمَيِّتَ مِنَ الْحَيِّ وَيُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ وَكَذَٰلِكَ تُخْرَجُونَ

📘 آیت 19 یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ ”مثلاً انڈے میں بظاہر زندگی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے ‘ لیکن اس میں سے اللہ کی قدرت سے زندہ چوزہ برآمد ہوتا ہے۔وَیُخْرِجُ الْمَیِّتَ مِنَ الْحَیِّ ”مثلاً مرغی جاندار ہے اور اس سے انڈا برآمد ہوتا ہے جو بظاہر بےجان ہے۔ اسی طرح زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ برآمد ہونے کی بہت سی مثالیں ہمارے ارد گرد موجود ہیں۔وَیُحْیِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِہَاط وَکَذٰلِکَ تُخْرَجُوْنَ ”جس طرح اللہ تعالیٰ بظاہر مردہ زمین سے فصلیں اور دوسرے نباتات نکالتا ہے اسی طرح وہ تمہیں بھی اس میں سے نکال کر حاضر کرلے گا ‘ چاہے تمہارے اجزاء تحلیل ہو کر کسی بھی شکل میں ہوں اور کہیں بھی ہوں۔

غُلِبَتِ الرُّومُ

📘 آیت 69 وَالَّذِیْنَ جَاہَدُوْا فِیْنَا لَنَہْدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ط ”جو لوگ ہمارے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور ہماری راہ میں جہاد کر رہے ہیں انہیں مطمئن رہنا چاہیے کہ ہم انہیں بےسہارا نہیں چھوڑیں گے ‘ ہم انہیں اپنے راستوں کی بصیرت عطا فرمائیں گے۔ یہ ان سے ہمارا پختہ وعدہ ہے۔وَاِنَّ اللّٰہَ لَمَعَ الْمُحْسِنِیْنَ ”جن لوگوں کا اللہ پر ایمان ہے اور ان کا ایمان ”احسان“ کے درجے تک پہنچ چکا ہے ‘ پھر اللہ کی راہ میں وہ اپنا تن من اور دھن قربان کرنے کے لیے ہر وقت تیار بھی رہتے ہیں ‘ اللہ کبھی انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اس کی تائید و نصرت ہر وقت ان کے ساتھ رہے گی۔بارک اللّٰہ لی ولکم فی القرآن العظیم ‘ ونفعنی وایاکم بالآیات والذِّکر الحکیم۔۔

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ إِذَا أَنْتُمْ بَشَرٌ تَنْتَشِرُونَ

📘 آئندہ آیات کا اسلوب اور انداز بہت منفرد ہے۔ ان میں اللہ کی خلاقیّ کی علامات اور اس کی رحمت کے مظاہر کا ذکر تکرار کے ساتھ اس طرح ہوا ہے کہ ہر آیت کے آغاز میں وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اور آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ دہرائے گئے ہیں۔ قبل ازیں اس سے ملتا جلتا ا انداز ہم سورة النمل اور سورة الشعراء میں بھی دیکھ آئے ہیں۔ سورة النمل کے پانچویں رکوع میں بھی آفاقی و انفسی آیات الٰہیہ کا ذکر اسی طرح تکرار کے ساتھ کیا گیا ہے اور ہر آیت کے آخر میں ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِکے الفاظ آئے ہیں۔ جبکہ سورة الشعراء میں ایک تسلسل کے ساتھ عبرت انگیز تاریخی حقائق و بصائر کا ذکر ہوا ہے اور ہر واقعہ کے آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ کی تکرار ہے۔

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

📘 آئندہ آیات کا اسلوب اور انداز بہت منفرد ہے۔ ان میں اللہ کی خلاقیّ کی علامات اور اس کی رحمت کے مظاہر کا ذکر تکرار کے ساتھ اس طرح ہوا ہے کہ ہر آیت کے آغاز میں وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اور آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ دہرائے گئے ہیں۔ قبل ازیں اس سے ملتا جلتا ا انداز ہم سورة النمل اور سورة الشعراء میں بھی دیکھ آئے ہیں۔ سورة النمل کے پانچویں رکوع میں بھی آفاقی و انفسی آیات الٰہیہ کا ذکر اسی طرح تکرار کے ساتھ کیا گیا ہے اور ہر آیت کے آخر میں ءَاِلٰہٌ مَّعَ اللّٰہِکے الفاظ آئے ہیں۔ جبکہ سورة الشعراء میں ایک تسلسل کے ساتھ عبرت انگیز تاریخی حقائق و بصائر کا ذکر ہوا ہے اور ہر واقعہ کے آخر میں اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ کے الفاظ کی تکرار ہے۔

وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِلْعَالِمِينَ

📘 وَاخْتِلَافُ اَلْسِنَتِکُمْ وَاَلْوَانِکُمْ ط ”پوری دنیا کے انسانوں کے درمیان بولی جانے والی طرح طرح کی زبانوں کے اندر پایاجانے والا تنوّع بھی اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اسی طرح مختلف خطوں میں بسنے والے انسانوں کے مختلف رنگ بھی اس کی صناعی اور خلاقی کے مظاہر کی مثالیں ہیں کہ کس طرح ایک ہی نسل سے تعلق کے باوجود کوئی زرد رو ہے تو کوئی سرخ رو ‘ کوئی سفید فام ہے تو کوئی سیاہ فام۔

وَمِنْ آيَاتِهِ مَنَامُكُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَابْتِغَاؤُكُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَسْمَعُونَ

📘 آیت 23 وَمِنْ اٰیٰتِہٖ مَنَامُکُمْ بالَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَابْتِغَآؤُکُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط ”تمہارا رات کے وقت سونا ‘ دوپہر کے وقت قیلولہ کرنا ‘ اور پھر آرام کے ان اوقات کے علاوہ معاشی دوڑ دھوپ میں سرگرم عمل رہنا بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت اور قدرت کی نشانیوں میں سے ہے۔اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ ”یہ سب نشانیاں یقیناً ان لوگوں کے لیے ہیں جو انسانی کانوں یعنی دل کے کانوں سے سنتے ہیں ‘ نہ کہ محض حیوانی کانوں سے۔

وَمِنْ آيَاتِهِ يُرِيكُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَطَمَعًا وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَيُحْيِي بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

📘 آیت 24 وَمِنْ اٰیٰتِہٖ یُرِیْکُمُ الْبَرْقَ خَوْفًا وَّطَمَعًا ”آسمانوں میں بادلوں کا چھانا اور بجلی کا چمکنا بھی اللہ کی قدرت کی نشانیوں میں سے ہے جس میں لوگوں کو بجلی کے گرنے اور طوفان وغیرہ کا خوف بھی ہوتا ہے جبکہ باران رحمت کے برسنے کی امید بھی۔

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ تَقُومَ السَّمَاءُ وَالْأَرْضُ بِأَمْرِهِ ۚ ثُمَّ إِذَا دَعَاكُمْ دَعْوَةً مِنَ الْأَرْضِ إِذَا أَنْتُمْ تَخْرُجُونَ

📘 آیت 25 وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ ط ”ہماری زمین ‘ سورج ‘ نظام شمسی اور چھوٹے بڑے بیشمار ستاروں اور سیاروں کا ایک عظیم الشان اور لامتناہی نظام بھی اس کی قدرت کے مظاہر میں سے ہے۔ آج کا انسان جانتا ہے کہ اس نظام کے اندر ایسے ایسے ستارے بھی ہیں جن کے مقابلے میں ہمارے سورج کی جسامت کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ یہ اتنے بڑے بڑے اجرام سماویہ اللہ ہی کے حکم سے اپنے اپنے مدار پر قائم ہیں اور یوں اس کی مشیت سے کائنات کا یہ مجموعی نظام چل رہا ہے۔ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَۃً ق مِّنَ الْاَرْضِق اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ ”قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ کی شان ”کُن فیکُون“ کا ظہور ہوگا اور اس کے ایک ہی حکم سے پوری نسل انسانی زمین سے باہر نکل کر اس کے حضور حاضر ہوجائے گی۔

وَلَهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ كُلٌّ لَهُ قَانِتُونَ

📘 آیت 25 وَمِنْ اٰیٰتِہٖٓ اَنْ تَقُوْمَ السَّمَآءُ وَالْاَرْضُ بِاَمْرِہٖ ط ”ہماری زمین ‘ سورج ‘ نظام شمسی اور چھوٹے بڑے بیشمار ستاروں اور سیاروں کا ایک عظیم الشان اور لامتناہی نظام بھی اس کی قدرت کے مظاہر میں سے ہے۔ آج کا انسان جانتا ہے کہ اس نظام کے اندر ایسے ایسے ستارے بھی ہیں جن کے مقابلے میں ہمارے سورج کی جسامت کی کوئی حیثیت ہی نہیں۔ یہ اتنے بڑے بڑے اجرام سماویہ اللہ ہی کے حکم سے اپنے اپنے مدار پر قائم ہیں اور یوں اس کی مشیت سے کائنات کا یہ مجموعی نظام چل رہا ہے۔ثُمَّ اِذَا دَعَاکُمْ دَعْوَۃً ق مِّنَ الْاَرْضِق اِذَآ اَنْتُمْ تَخْرُجُوْنَ ”قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ کی شان ”کُن فیکُون“ کا ظہور ہوگا اور اس کے ایک ہی حکم سے پوری نسل انسانی زمین سے باہر نکل کر اس کے حضور حاضر ہوجائے گی۔

وَهُوَ الَّذِي يَبْدَأُ الْخَلْقَ ثُمَّ يُعِيدُهُ وَهُوَ أَهْوَنُ عَلَيْهِ ۚ وَلَهُ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

📘 آیت 27 وَہُوَ الَّذِیْ یَبْدَؤُا الْخَلْقَ ثُمَّ یُعِیْدُہٗ وَہُوَ اَہْوَنُ عَلَیْہِ ط ”یہ بعث بعد الموت کے بارے میں عقلی دلیل ہے جو قرآن میں متعدد بار دہرائی گئی ہے۔ معمولی سمجھ بوجھ کا انسان بھی اس دلیل کو آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ کسی بھی کام کا پہلی دفعہ کرنا دوسری دفعہ کرنے کے مقابلے میں نسبتاً مشکل ہوتا ہے ‘ اور جب کسی کام کو ایک دفعہ سر انجام دے دیا جائے اور اس سے متعلق تمام مشکلات کا حل ڈھونڈ لیا جائے تو اسی کام کو دوسری مرتبہ کرنا نسبتاً بہت آسان ہوجاتا ہے۔ اہل عرب جو قرآن کے مخاطب اول تھے ‘ وہ اللہ کے منکر نہیں تھے۔ وہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اور اس پوری کائنات کا خالق اللہ ہی ہے۔ ان کے اس عقیدے کا ذکر قرآن میں بہت تکرار سے ملتا ہے۔ مثلاً : وَلَءِنْ سَاَلْتَہُمْ مَّنْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ لَیَقُوْلُنَّ اللّٰہُ ط لقمٰن : 25 ”اور اگر آپ ﷺ ان سے پوچھیں کہ آسمانوں اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے !“ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں ان لوگوں کو خالص منطقی اور عقلی سطح پر یہ نکتہ سمجھانا مقصود ہے کہ جس اللہ کے بارے میں تم مانتے ہو کہ وہ زمین و آسمان کا خالق ہے اور خود تمہارا بھی خالق ہے اس کے بارے میں تمہارے لیے یہ ماننا کیوں مشکل ہو رہا ہے کہ وہ تمہیں دوبارہ بھی پیدا کرے گا ؟ جس اللہ نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا ہے وہ آخر دوسری مرتبہ ایسا کیوں نہیں کرسکے گا ؟ جبکہ کسی بھی چیز کو دوسری مرتبہ بنانا پہلے کی نسبت کہیں آسان ہوتا ہے۔وَلَہُ الْمَثَلُ الْاَعْلٰی فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِج وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ ”یہاں پر اللہ تعالیٰ کے لیے ”مثل“ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ لیکن مثل یا مثال کا جو مفہوم ہمارے ذہنوں میں ہے اس کا اللہ کے بارے میں تصور کرنا مناسب اور موزوں نہیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ”مثل“ کا ترجمہ ”شان“ یا ”صفت“ سے کیا جائے کہ اس کی شان بہت اعلیٰ اور بلند ہے یا اس کی صفت سب سے برتر ہے۔

ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ ۖ هَلْ لَكُمْ مِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ شُرَكَاءَ فِي مَا رَزَقْنَاكُمْ فَأَنْتُمْ فِيهِ سَوَاءٌ تَخَافُونَهُمْ كَخِيفَتِكُمْ أَنْفُسَكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ

📘 ہَلْ لَّکُمْ مِّنْ مَّا مَلَکَتْ اَیْمَانُکُمْ مِّنْ شُرَکَآءَ فِیْ مَا رَزَقْنٰکُمْ فَاَنْتُمْ فِیْہِ سَوَآءٌ ”ظاہر ہے کوئی آقا اپنے کسی غلام کو کبھی بھی اپنی ملکیت اور اپنی جائیداد میں اس طرح تصرف کی اجازت نہیں دیتا کہ اس کا حق اور اختیار خود اس کے برابر ہوجائے۔ گویا یہ امر محال ہے۔تَخَافُوْنَہُمْ کَخِیْفَتِکُمْ اَنْفُسَکُمْ ط ”یعنی کیا کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ جیسے خدشات اور اندیشے تم اپنی ذات اور اپنے مال و اسباب کے بارے میں رکھتے ہو ان لونڈی غلاموں کے بارے میں بھی تمہیں ایسے ہی اندیشے لاحق ہوئے ہوں ؟ تم لوگ اپنے آپ ‘ اپنی اولاد ‘ اپنی ملکیت کے بارے میں تو ہر وقت متفکرّ رہتے ہو کہ کہیں ایسا نہ ہوجائے ‘ ویسا نہ ہوجائے ‘ مگر کبھی تمہیں اپنے غلاموں اور لونڈیوں کے بارے میں بھی ایسی ہی سوچوں نے پریشان کیا ہے ؟ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ ”یعنی تم لوگ اگر کچھ بھی عقل رکھتے ہو تو تمہیں اس مثال سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آ جانی چاہیے کہ جب تم لوگ اپنے غلاموں کو اپنے برابر بٹھانے کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتے تو پھر تم یہ کیسے سوچ لیتے ہو کہ اللہ اپنی مخلوق کو اپنے برابر کرلے گا ؟ تم لوگ خود بھی تسلیم کرتے ہو کہ بڑا معبود اللہ ہی ہے اور تمہارے بنائے ہوئے شریک چھوٹے معبود ہیں تو تم چھوٹے معبودوں کے بارے میں کیسے گمان کرلیتے ہو کہ اللہ انہیں اپنے اختیارات کا مالک بنا دے گا اور ان کی سفارش اللہ کو مجبور کر دے گی ؟ تمہارے یہ من گھڑت معبود چاہے ملائکہ میں سے ہوں یا انبیاء اور اولیاء اللہ میں سے ‘ وہ سب کے سب اللہ کی مخلوق ہیں اور مخلوق میں سے یہ لوگ خالق کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں ؟

بَلِ اتَّبَعَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَهْوَاءَهُمْ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ فَمَنْ يَهْدِي مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَا لَهُمْ مِنْ نَاصِرِينَ

📘 فَمَنْ یَّہْدِیْ مَنْ اَضَلَّ اللّٰہُ ط ”اگر کسی کی ہٹ دھرمی کی سزا کے طور پر اللہ ہی نے اس کی گمراہی پر مہر ثبت کردی ہو تو وہ ہدایت کیسے پاسکتا ہے ؟وَمَا لَہُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ”اگلی آیات اس لحاظ سے بہت اہم ہیں کہ ان میں دین کی بنیاد اور اصل روح بیان ہوئی ہے۔

فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ

📘 فِیْٓ اَدْنَی الْاَرْضِ وَہُمْ مِّنْم بَعْدِ غَلَبِہِمْ سَیَغْلِبُوْنَ ”۔“نقشے میں دیکھیں تو جزیرہ نمائے عرب کے اوپر شمال کی سمت میں شام ہے جبکہ شام کے ساتھ ہی نیچے عراق اور پھر عراق کے ساتھ مشرق کی سمت میں ایران واقع ہے۔ چناچہ جزیرہ نمائے عرب کی سرحد پر واقع ان علاقوں کو قریب کی سرزمین کہا گیا ہے جہاں ایرانیوں اور رومیوں کے درمیان مذکورہ جنگ جاری تھی۔

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا ۚ فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا ۚ لَا تَبْدِيلَ لِخَلْقِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

📘 آیت 30 فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا ط ”تم اپنے کردار میں ایسی توحیدی شان پیدا کرو کہ تمہارا ایک ایک عمل گویا اس دعوے کی گواہی بن جائے : قُلْ اِنَّ صَلاَتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الانعام ”آپ ﷺ کہیے کہ میری نماز ‘ میری قربانی ‘ میری زندگی اور میری موت اللہ ہی کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے“۔ اور دنیا کے تمام جھمیلوں کو چھوڑ کر اپنی توجہ ذات باری تعالیٰ کی طرف اس انداز سے مرکوز کردو کہ تمہاری زندگی کے شب و روز میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان الفاظ کا رنگ جھلکتا نظر آئے : اِنِّیْ وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَآ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ الانعام ”میں نے تو اپنا رخ کرلیا ہے یکسو ہو کر اس ہستی کی طرف جس نے آسمان و زمین کو بنایا ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔“فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا ط ”یہی فطرت سلیمہ ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی تخلیق کی ہے۔ نسل انسانی کا ہر بچہ اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کے والدین اس کی اس فطرت پر کچھ اور رنگ چڑھا دیتے ہیں یا اس کے ماحول کی وجہ سے اس کا رخ کسی اور طرف مڑ جاتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ کا فرمان ہے : کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُھَوِّدَانِہٖ اَوْ یُنَصِّرَانِہٖ اَوْ یُمَجِّسَانِہٖ 1”ہر بچہ فطرت اسلام پر پیدا ہوتا ہے ‘ پھر اس کے والدین اسے یہودی ‘ نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں۔“لاَ تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ ط ”یعنی اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ بعض مترجمین نے اس کا ترجمہ یوں بھی کیا ہے : ”اللہ کی بنائی ہوئی ساخت کو تبدیل نہ کیا جائے“۔ یا ”اللہ کی بنائی ہوئی فطرت کو تبدیل کرنا جائز نہیں ہے“۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جس فطرت پر انسان کو پیدا کیا ہے اس کو بگاڑنا اور مسخ کرنا جائز نہیں ہے۔

۞ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ وَاتَّقُوهُ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَلَا تَكُونُوا مِنَ الْمُشْرِكِينَ

📘 آیت 31 مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ وَاتَّقُوْہُ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَلَا تَکُوْنُوْا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ ”یہاں مُنِیْبِیْنَ اِلَیْہِ کے الفاظ میں گویا پچھلی آیت کے مضمون فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًا ط کا ہی تسلسل ہے۔ پچھلی آیت میں صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے خطاب تھا اور اب جمع کا صیغہ استعمال کرتے ہوئے اس حکم میں امت کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔ قرآن کے اس اسلوب کا قبل ازیں کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ مکی سورتوں میں اکثر مقامات پر حضور ﷺ سے صیغہ واحد کے پردے میں اصل خطاب امت سے ہی ہوتا ہے۔

مِنَ الَّذِينَ فَرَّقُوا دِينَهُمْ وَكَانُوا شِيَعًا ۖ كُلُّ حِزْبٍ بِمَا لَدَيْهِمْ فَرِحُونَ

📘 آیت 32 مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا ط ”فَرَقَکے معنی جدا کرنا اور پھاڑ دینا کے ہیں ‘ جبکہ فَرَّقَ میں اس بنیادی معنی پر مستزاد کسی چیز کو کاٹ دینا ‘ توڑ دینا اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیناکا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشاد ہوا : وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ آیت 50 ”اور یاد کرو جب کہ ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑ دیا پھر تمہیں بچالیا اور فرعونیوں کو غرق کردیا“۔ اس طرح فرق یا فرقہ کے معنی کسی چیز کا کٹا ہوا حصہ یا ٹکڑا کے ہیں۔ جیسا کہ سورة الشعراء کی اس آیت میں ہے : فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ”تو وہ سمندر پھٹ گیا ‘ پھر ہوگیا ہر ٹکڑا ایک بہت بڑے پہاڑ کی مانند۔“اس اعتبار سے دین کو پھاڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کے نام لیواؤں نے اپنی اطاعت کو اس طرح منتشر کردیا کہ زندگی کے ایک حصے میں تو اللہ کی اطاعت کرتے رہے ‘ جبکہ کسی دوسرے معاملے میں کسی اور کی بات مانتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا نظام زندگی منتشر ہو کر رہ گیا۔ اس سلسلے میں اللہ کا حکم بہت واضح ہے : وَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ط الاعراف : 29 ”اور اسی کو پکارو دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے“۔ یعنی اللہ کی اطاعت کے متوازی کسی دوسرے کی اطاعت قابل قبول نہیں کہ کچھ احکام اللہ کے مان لیے جائیں اور کچھ میں کسی دوسرے کی پیروی کی جائے۔ ہاں اللہ کی اطاعت کے تابع رہ کر کسی اور کی اطاعت میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً والدین کی اطاعت کرنا ‘ اساتذہ کا کہنا ماننا اور حکامّ کا فرمانبردار بن کر رہنا ضروری ہے ‘ مگر اس وقت تک جب تک کہ ان میں سے کوئی اللہ کی معصیت کا حکم نہ دے۔ اس سلسلے میں نبی مکرم ﷺ نے بہت واضح اصول بیان فرما دیا ہے : لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ 1 یعنی مخلوق کی ایسی اطاعت نہیں کی جائے گی جس سے خالق کی نافرمانی ہوتی ہو۔ کُلُّ حِزْبٍم بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ ”ایک گروہ دین کے ایک حصے پر عمل کر رہا ہے ‘ دوسرے گروہ نے اپنی پسند کے کچھ اور احکام کو اپنی پیروی کے لیے منتخب کرلیا ہے اور تیسرے نے کوئی اور راستہ نکال لیا ہے۔ غرض مختلف گروہوں نے دین کے مختلف حصوں کو آپس میں بانٹ لیا ہے اور ہر گروہ اپنے طریقے میں مگن ہے اور اس پر اترا رہا ہے ‘ حالانکہ ان میں سے کوئی گروہ بھی پورے دین پر عمل پیرا نہیں ہے۔

وَإِذَا مَسَّ النَّاسَ ضُرٌّ دَعَوْا رَبَّهُمْ مُنِيبِينَ إِلَيْهِ ثُمَّ إِذَا أَذَاقَهُمْ مِنْهُ رَحْمَةً إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ بِرَبِّهِمْ يُشْرِكُونَ

📘 آیت 32 مِنَ الَّذِیْنَ فَرَّقُوْا دِیْنَہُمْ وَکَانُوْا شِیَعًا ط ”فَرَقَکے معنی جدا کرنا اور پھاڑ دینا کے ہیں ‘ جبکہ فَرَّقَ میں اس بنیادی معنی پر مستزاد کسی چیز کو کاٹ دینا ‘ توڑ دینا اور ٹکڑے ٹکڑے کر دیناکا مفہوم بھی شامل ہوجاتا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشاد ہوا : وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰکُمْ وَاَغْرَقْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ آیت 50 ”اور یاد کرو جب کہ ہم نے تمہاری خاطر سمندر کو پھاڑ دیا پھر تمہیں بچالیا اور فرعونیوں کو غرق کردیا“۔ اس طرح فرق یا فرقہ کے معنی کسی چیز کا کٹا ہوا حصہ یا ٹکڑا کے ہیں۔ جیسا کہ سورة الشعراء کی اس آیت میں ہے : فَانْفَلَقَ فَکَانَ کُلُّ فِرْقٍ کَالطَّوْدِ الْعَظِیْمِ ”تو وہ سمندر پھٹ گیا ‘ پھر ہوگیا ہر ٹکڑا ایک بہت بڑے پہاڑ کی مانند۔“اس اعتبار سے دین کو پھاڑنے اور ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ دین کے نام لیواؤں نے اپنی اطاعت کو اس طرح منتشر کردیا کہ زندگی کے ایک حصے میں تو اللہ کی اطاعت کرتے رہے ‘ جبکہ کسی دوسرے معاملے میں کسی اور کی بات مانتے رہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کا نظام زندگی منتشر ہو کر رہ گیا۔ اس سلسلے میں اللہ کا حکم بہت واضح ہے : وَادْعُوْہُ مُخْلِصِیْنَ لَہُ الدِّیْنَ ط الاعراف : 29 ”اور اسی کو پکارو دین کو اس کے لیے خالص کرتے ہوئے“۔ یعنی اللہ کی اطاعت کے متوازی کسی دوسرے کی اطاعت قابل قبول نہیں کہ کچھ احکام اللہ کے مان لیے جائیں اور کچھ میں کسی دوسرے کی پیروی کی جائے۔ ہاں اللہ کی اطاعت کے تابع رہ کر کسی اور کی اطاعت میں کوئی حرج نہیں۔ مثلاً والدین کی اطاعت کرنا ‘ اساتذہ کا کہنا ماننا اور حکامّ کا فرمانبردار بن کر رہنا ضروری ہے ‘ مگر اس وقت تک جب تک کہ ان میں سے کوئی اللہ کی معصیت کا حکم نہ دے۔ اس سلسلے میں نبی مکرم ﷺ نے بہت واضح اصول بیان فرما دیا ہے : لَا طَاعَۃَ لِمَخْلُوْقٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ الْخَالِقِ 1 یعنی مخلوق کی ایسی اطاعت نہیں کی جائے گی جس سے خالق کی نافرمانی ہوتی ہو۔ کُلُّ حِزْبٍم بِمَا لَدَیْہِمْ فَرِحُوْنَ ”ایک گروہ دین کے ایک حصے پر عمل کر رہا ہے ‘ دوسرے گروہ نے اپنی پسند کے کچھ اور احکام کو اپنی پیروی کے لیے منتخب کرلیا ہے اور تیسرے نے کوئی اور راستہ نکال لیا ہے۔ غرض مختلف گروہوں نے دین کے مختلف حصوں کو آپس میں بانٹ لیا ہے اور ہر گروہ اپنے طریقے میں مگن ہے اور اس پر اترا رہا ہے ‘ حالانکہ ان میں سے کوئی گروہ بھی پورے دین پر عمل پیرا نہیں ہے۔

لِيَكْفُرُوا بِمَا آتَيْنَاهُمْ ۚ فَتَمَتَّعُوا فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ

📘 آیت 34 لِیَکْفُرُوْا بِمَآ اٰتَیْنٰہُمْ ط ”یعنی اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور صلاحیتوں کو اللہ کی نافرمانی میں استعمال کر کے عملی طور پر اس کی ناشکری کا ثبوت دیں۔فَتَمَتَّعُوْاوقفۃ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ”یہ وہی انداز ہے جو سورة التّکاثُر میں آیا ہے : کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ثُمَّ کَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَ کہ تمہاری یہ زندگی چند روزہ ہے ‘ اس محدود مہلت میں تم اپنی من مانیوں کے مزے اڑالو۔ بالآخر تم نے ہمارے پاس ہی آنا ہے اور وہ وقت دور بھی نہیں۔ چناچہ بہت جلد اصل حقائق تم پر منکشف ہوجائیں گے۔

أَمْ أَنْزَلْنَا عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا فَهُوَ يَتَكَلَّمُ بِمَا كَانُوا بِهِ يُشْرِكُونَ

📘 آیت 35 اَمْ اَنْزَلْنَا عَلَیْہِمْ سُلْطٰنًا فَہُوَ یَتَکَلَّمُ بِمَا کَانُوْا بِہٖ یُشْرِکُوْنَ ”اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرانے کے بارے میں کیا ان لوگوں کے پاس کسی آسمانی کتاب میں کوئی دلیل موجود ہے جو اس شرک کی صداقت پر شہادت دیتی ہو جو یہ کر رہے ہیں ؟ کیا ان پر ایسی کوئی ہدایت نازل ہوئی ہے کہ فلاں شخصیت بھی اللہ کے برابر ہوسکتی ہے اور فلاں ہستی بھی اس کے اختیارات میں حصہ دار بن سکتی ہے ؟ یہاں پر آسمانی سند یعنی الہامی کتاب کے بارے میں لفظ یَتَکَلَّم آیا ہے ‘ یعنی کیا اللہ کی نازل کردہ کتاب ان سے اس بارے میں گفتگو کرتی ہے ؟ علامہ اقبال نے اپنے اس شعر میں قرآن کے لیے جو لفظ ”گویا“ گفتگو کرنے والا استعمال کیا ہے شاید اس کا تصور انہوں نے یہیں سے لیا ہو : مثل حق پنہاں وہم پیدا ست ایں زندہ و پائندہ و گویا ست ایں !یعنی حق تعالیٰ کی مانند یہ کلام پوشیدہ بھی ہے ‘ ظاہر بھی ہے اور زندہ و پائندہ بھی۔ دوسری بہت سی صفات کے علاوہ اس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ یہ کتاب اپنے پڑھنے والے کے ساتھ ہم کلام ہوتی ہے اور اس سے گفتگو کرتی ہے۔

وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً فَرِحُوا بِهَا ۖ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ إِذَا هُمْ يَقْنَطُونَ

📘 وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ اِذَا ہُمْ یَقْنَطُوْنَ ”موافق حالات میں تو یہ لوگ اپنی کامیابیوں پر پھولے نہیں سماتے ‘ لیکن اگر ان کے اپنے ہی کرتوتوں کے سبب کبھی ان پر برا وقت آجاتا ہے تو مایوسی سے گویا ان کی کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے۔

أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ

📘 وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ اِذَا ہُمْ یَقْنَطُوْنَ ”موافق حالات میں تو یہ لوگ اپنی کامیابیوں پر پھولے نہیں سماتے ‘ لیکن اگر ان کے اپنے ہی کرتوتوں کے سبب کبھی ان پر برا وقت آجاتا ہے تو مایوسی سے گویا ان کی کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے۔

فَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ وَالْمِسْكِينَ وَابْنَ السَّبِيلِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لِلَّذِينَ يُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ ۖ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

📘 وَاِنْ تُصِبْہُمْ سَیِّءَۃٌم بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْہِمْ اِذَا ہُمْ یَقْنَطُوْنَ ”موافق حالات میں تو یہ لوگ اپنی کامیابیوں پر پھولے نہیں سماتے ‘ لیکن اگر ان کے اپنے ہی کرتوتوں کے سبب کبھی ان پر برا وقت آجاتا ہے تو مایوسی سے گویا ان کی کمر ہی ٹوٹ جاتی ہے۔

وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ رِبًا لِيَرْبُوَ فِي أَمْوَالِ النَّاسِ فَلَا يَرْبُو عِنْدَ اللَّهِ ۖ وَمَا آتَيْتُمْ مِنْ زَكَاةٍ تُرِيدُونَ وَجْهَ اللَّهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُضْعِفُونَ

📘 آیت 39 وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ رِّبًا لِّیَرْبُوَاْ فِیْٓ اَمْوَال النَّاسِ فَلَا یَرْبُوْا عِنْدَ اللّٰہِ ج ”اس آیت کا حوالہ سورة البقرۃ کی آیت 275 کی تشریح کے ضمن میں بھی دیا گیا ہے۔ دراصل اپنے مستقبل کے لیے بچت کرنا انسان کی سرشت میں شامل ہے۔ پھر ہر شخص نہ صرف اپنی بچت کو سنبھال کر رکھنا چاہتا ہے بلکہ اس کی یہ بھی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی بچائی ہوئی رقم وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی بھی رہے۔ قرآن اس بچت کو ”العَفْو“ یعنی قدر زائد surplus value قرار دے کر اسے انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں اللہ کے بینک میں جمع کرانے کی ترغیب دیتا ہے : وَیَسْءَلُوْنَکَ مَاذَا یُنْفِقُوْنَط قُلِ الْعَفْوَ ط البقرۃ : 219 ”اور اے نبی ﷺ ! یہ لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں ؟ آپ کہہ دیجیے کہ وہ سب خرچ کر دو جو ضرورت سے زائد ہے !“انفاق فی سبیل اللہ کی مد میں ایسے مال سے محتاجوں اور ناداروں کی مدد بھی کی جاسکتی ہے اور اسے اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے بھی کام میں لایا جاسکتا ہے۔ اس کا کم تر درجہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قرض حسنہ کی شکل میں وقتی طور پر کسی ضرورت مند کی مدد کردی جائے۔ بہر حال اللہ کا وعدہ ہے کہ اس کے راستے میں خرچ کیا ہوا مال اس کے ہاں محفوظ بھی رہے گا اور بڑھتا بھی رہے گا۔ یعنی آخرت میں اس کا اجر کئی گنا بڑھا کردیا جائے گا۔ وَمَآ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَکٰوۃٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْہَ اللّٰہِ فَاُولٰٓءِکَ ہُمُ الْمُضْعِفُوْنَ ”دنیا میں جو لوگ زکوٰۃ اور صدقات و خیرات کی صورت میں اللہ کے راستے میں خرچ کر رہے ہیں انہیں آخرت میں اس کا اجر دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھا کردیا جائے گا ‘ بلکہ اللہ اگر چاہے گا تو اپنے فضل سے اسے اور بھی زیادہ بڑھا دے گا۔ ایسے لوگوں کو آخرت میں اجر موعود کے ساتھ ساتھ اللہ کی رضا بھی حاصل ہوگی۔ اس آیت میں انفاق فی سبیل اللہ اور سود کا تقابل کر کے اس حقیقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ کسی شخص کی بچت کا بہترین مصرف ہے۔ اس میں منافع اجر وثواب بہت زیادہ بھی ہے اور دائمی بھی۔ دوسری طرف سود پر رقم دینا کسی بچت کا بد ترین مصرف ہے ‘ جس میں ایک شخص بغیر کوئی محنت کیے اور بغیر کوئی خطرہ مول لیے ایک طے شدہ رقم باقاعدگی سے حاصل کرتا رہتا ہے جبکہ اس کی اصل رقم بھی محفوظ رہتی ہے۔ اس کے بارے میں یہاں فرمایا گیا کہ سود کی شکل میں سرمائے میں بظاہر جو اضافہ ہوتا نظر آتا ہے اللہ کی نظر میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ صدقات اور سود کے تقابل کے حوالے سے دراصل یہاں دو متضاد ذہنیتوں کا تقابل بھی سامنے آتا ہے۔ ایک اس شخص کی ذہنیت ہے جو اپنے مال سے اللہ کی رضا کا متمنیّ ہے جبکہ دوسرا شخص اللہ کے احکام کی پروا کیے بغیر ہر قیمت پر اپنے سرمائے میں اضافہ چاہتا ہے۔ یہاں ضمنی طور پر یہ بھی سمجھ لیں کہ ایک ایسا شخص جس کے پاس سرمایہ ہے مگر وہ خود محنت یا تجارت وغیرہ نہیں کرسکتا اور یہ بھی چاہتا ہے کہ اس کے سرمائے میں اضافہ ہوتا رہے اس کے لیے شریعت اسلامی میں مضاربت کا طریقہ ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ ایک شخص اپنی رقم کسی دوسرے شخص کو کاروبار وغیرہ کے لیے دے اور اس سے منافع وغیرہ کی شرائط طے کرلے۔ اب اگر اس کاروبار میں منافع ہوگا تو سرمایہ فراہم کرنے والا شخص اس میں سے شرائط کے مطابق اپنے حصے کا حق دار ہوگا لیکن نقصان کی صورت میں تمام نقصان اسے خود ہی برداشت کرنا ہوگا۔ عامل محنت کرنے والا اس نقصان میں حصہ دار نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں مزید تفصیل کے لیے فقہ کی کتب سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔

فِي بِضْعِ سِنِينَ ۗ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ ۚ وَيَوْمَئِذٍ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُونَ

📘 آیت 4 فِیْ بِضْعِ سِنِیْنَ ط ”عربی میں لفظ ”بِضْع“ کا اطلاق گنتی کے اعتبار سے تین سے نو تک کے اعداد پر ہوتا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر رض کو نو سال کی مدت تک شرط طے کرنے کا فرمایا تھا۔ واضح رہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت تک شرط یا جوئے کی حرمت کے بارے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔لِلّٰہِ الْاَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْم بَعْدُ ط ”اللہ ہی کے حکم سے ہوا جو پہلے ہوا اور اللہ ہی کے حکم سے ہوگا جو بعد میں ہوگا۔ فرماں روائی تو ہر حال میں اللہ ہی کی ہے۔ پہلے جسے فتح نصیب ہوئی اسے بھی اللہ نے فتح دی اور بعد میں جو فتح پائے گا وہ بھی اللہ ہی کے حکم سے پائے گا۔وَیَوْمَءِذٍ یَّفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ”اس وقت اہل ایمان کو ایک خوشی تو آتش پرستوں پر اہل کتاب عیسائیوں کی فتح پر ہوگی اور اس کے علاوہ :

اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ ثُمَّ رَزَقَكُمْ ثُمَّ يُمِيتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيكُمْ ۖ هَلْ مِنْ شُرَكَائِكُمْ مَنْ يَفْعَلُ مِنْ ذَٰلِكُمْ مِنْ شَيْءٍ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ

📘 ہَلْ مِنْ شُرَکَآءِکُمْ مَّنْ یَّفْعَلُ مِنْ ذٰلِکُمْ مِّنْ شَیْءٍ ط ”اے گروہ مشرکین ! کیا تمہارے لات ‘ منات اور عزیٰ میں سے کوئی ہے جو ان میں سے کوئی ایک کام بھی سر انجام دینے کی قدرت رکھتا ہو ؟ دراصل مشرکین مکہ خود ہی یہ تسلیم کرتے تھے کہ ان کا خالق اللہ ہے اور زندگی و موت کا اختیار بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ لات و منات وغیرہ کے بارے میں ان کا عقیدہ یہ تھا : ہٰٓؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰہِ ط یونس : 18 کہ وہ اللہ کے ہاں ان کی سفارش کریں گے اور ان کی سفارش سے آخرت میں وہ چھوٹ جائیں گے۔

ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ

📘 آیت 41 ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ ”یہ آیت جس شان سے آج دنیا کے افق پر نمایاں ہوئی ہے شاید اپنے نزول کے وقت اس کی یہ کیفیت نہیں تھی۔ آج سے پندرہ سو سال پہلے نہ تو دنیا کی وسعت کے بارے میں لوگوں کو صحیح اندازہ تھا اور نہ ہی ”فساد“ کی اقسام میں وہ تنوع سامنے آیا تھا جس کا نظارہ آج کی دنیا کر رہی ہے۔ آج پوری دنیا میں جس جس نوعیت کے فسادات رونما ہو رہے ہیں ان کی تفصیلات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ آج چونکہ پوری دنیا سمٹ کر ”گلوبل ویلج“ کی صورت اختیار کرچکی ہے اس لیے دنیا کے کسی بھی گوشے میں رونما ہونے والے ”فساد“ کے اثرات ہر انسان کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ چناچہ ان حالات میں آج اس آیت کا مفہوم واضح تر ہو کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا ”اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا اصول یہ ہے کہ وہ انسانوں کے سب اعمال کی سزا دنیا میں نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہو تو روئے زمین پر کوئی انسان بھی زندہ نہ بچے : وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہْرِہَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّلٰکِنْ یُّؤَخِّرُہُمْ الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی ج فاطر : 45 ”اور اگر اللہ گرفت کرے لوگوں کی ان کے اعمال کے سبب تو اس زمین کی پشت پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے ‘ لیکن وہ ڈھیل دیتا رہتا ہے ان کو ایک مقررہ مدت تک“۔ اس اصول کے تحت اگرچہ اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی کی حد تک انسانوں کی زیادہ تر نافرمانیوں کو نظر انداز کرکے ان کی سزا کو مؤخر کرتا رہتا ہے لیکن بعض گناہوں یا جرائم کی گرفت وہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور اس گرفت کا مقصد یہ ہوتا ہے :لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ”کہ شاید اس سے کچھ لوگوں کو ہوش آجائے اور وہ توبہ کر کے اپنی روش تبدیل کرلیں۔ آج دنیا بھر کے مسلمان جس ذلت و خواری کو اپنا مقدر سمجھے بیٹھے ہیں شاید ایسی کسی گرفت سے انہیں بھی غور کرنے کی توفیق مل جائے کہ : ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخئ فرشتہ ہماری جناب میں ! غالبؔ شاید ایسی کسی ٹھوکر سے وہ جاگ جائیں اور انہیں اللہ کے اس وعدے پر غور و خوض کرنے کی فرصت میسر آجائے : وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ آل عمران ”اور تم لوگ ہی سر بلند ہو گے اگر تم حقیقی مؤمن ہو گے“۔ اور اس طرح وہ اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ ان کے تمام مسائل کا سبب ایمان حقیقی کا فقدان ہے۔ اور شاید اس طرح انہیں قرآن سے براہ راست ہم کلام ہونے کا بھی موقع مل جائے اور خود قرآن انہیں ان کی ذلت و خواری کی وجہ بتادے کہ تم اس حالت کو اس لیے پہنچے ہو کہ تم نے اپنے دین کے حصے بخرے کردیے ہیں ‘ تم دین کے صرف ان احکام پر عمل کرتے ہو جو تمہیں پسند ہیں اور جو احکام تمہاری نجی اور معاشرتی زندگی کے معمول سے مطابقت نہیں رکھتے انہیں نظر انداز کردیتے ہو : اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ الاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ الآی اَشَدِّ الْعَذَابِط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ البقرۃ ”تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور دوسرے کو نہیں مانتے ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے دنیا کی زندگی کی ذلت و رسوائی کے ‘ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف ‘ اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو“۔ چناچہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہم میں سے ہر ایک کو اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ایک بڑے عذاب سے پہلے جو مہلت ہمیں دستیاب ہے اس سے فائدہ اٹھا لیں اور توبہ کر کے اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں۔ یہاں پر زیر مطالعہ چار سورتوں العنکبوت ‘ الروم ‘ لقمان اور السجدۃ کے ذیلی گروپ کے بارے میں ایک اہم بات نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ مضامین کی خاص مشابہت کے اعتبار سے یہ سورتیں مزید دو جوڑوں پر مشتمل ہیں۔ چناچہ اس نقطہ نظر سے سورة العنکبوت کی مناسبت سورة لقمان کے ساتھ ہے جبکہ سورة الروم کے مضامین سورة السجدۃ کے مضامین سے مطابقت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر اس سورت کی یہ آیت آیت 41 اپنے مضمون کے اعتبار سے سورة السجدۃ کی آیت 21 کے ساتھ خصوصی مطابقت رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ سورة الروم کی 60 آیات ہیں جبکہ سورة السجدۃ کی 30 آیات ہیں۔ چناچہ آیات کی تعداد کے لحاظ سے جو جگہ سورة الروم کی ساٹھ آیات کے اندر اس کی آیت 41 کی ہے تقریباً وہی جگہ سورة السجدۃ کی تیس آیات کے اندر اس کی آیت 21 کو حاصل ہے۔ اس لحاظ سے ان دونوں آیات کی باہمی مطابقت و مشابہت معنی خیز ہے۔

قُلْ سِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ أَكْثَرُهُمْ مُشْرِكِينَ

📘 آیت 41 ظَہَرَ الْفَسَادُ فِی الْْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا کَسَبَتْ اَیْدِی النَّاسِ ”یہ آیت جس شان سے آج دنیا کے افق پر نمایاں ہوئی ہے شاید اپنے نزول کے وقت اس کی یہ کیفیت نہیں تھی۔ آج سے پندرہ سو سال پہلے نہ تو دنیا کی وسعت کے بارے میں لوگوں کو صحیح اندازہ تھا اور نہ ہی ”فساد“ کی اقسام میں وہ تنوع سامنے آیا تھا جس کا نظارہ آج کی دنیا کر رہی ہے۔ آج پوری دنیا میں جس جس نوعیت کے فسادات رونما ہو رہے ہیں ان کی تفصیلات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں۔ آج چونکہ پوری دنیا سمٹ کر ”گلوبل ویلج“ کی صورت اختیار کرچکی ہے اس لیے دنیا کے کسی بھی گوشے میں رونما ہونے والے ”فساد“ کے اثرات ہر انسان کو بھگتنا پڑ رہے ہیں۔ چناچہ ان حالات میں آج اس آیت کا مفہوم واضح تر ہو کر دنیا کے سامنے آیا ہے۔لِیُذِیْقَہُمْ بَعْضَ الَّذِیْ عَمِلُوْا ”اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا اصول یہ ہے کہ وہ انسانوں کے سب اعمال کی سزا دنیا میں نہیں دیتا۔ اگر ایسا ہو تو روئے زمین پر کوئی انسان بھی زندہ نہ بچے : وَلَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَا تَرَکَ عَلٰی ظَہْرِہَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّلٰکِنْ یُّؤَخِّرُہُمْ الآی اَجَلٍ مُّسَمًّی ج فاطر : 45 ”اور اگر اللہ گرفت کرے لوگوں کی ان کے اعمال کے سبب تو اس زمین کی پشت پر کسی جاندار کو نہ چھوڑے ‘ لیکن وہ ڈھیل دیتا رہتا ہے ان کو ایک مقررہ مدت تک“۔ اس اصول کے تحت اگرچہ اللہ تعالیٰ دنیا کی زندگی کی حد تک انسانوں کی زیادہ تر نافرمانیوں کو نظر انداز کرکے ان کی سزا کو مؤخر کرتا رہتا ہے لیکن بعض گناہوں یا جرائم کی گرفت وہ دنیا میں بھی کرتا ہے اور اس گرفت کا مقصد یہ ہوتا ہے :لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ ”کہ شاید اس سے کچھ لوگوں کو ہوش آجائے اور وہ توبہ کر کے اپنی روش تبدیل کرلیں۔ آج دنیا بھر کے مسلمان جس ذلت و خواری کو اپنا مقدر سمجھے بیٹھے ہیں شاید ایسی کسی گرفت سے انہیں بھی غور کرنے کی توفیق مل جائے کہ : ہیں آج کیوں ذلیل کہ کل تک نہ تھی پسند گستاخئ فرشتہ ہماری جناب میں ! غالبؔ شاید ایسی کسی ٹھوکر سے وہ جاگ جائیں اور انہیں اللہ کے اس وعدے پر غور و خوض کرنے کی فرصت میسر آجائے : وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ کُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ آل عمران ”اور تم لوگ ہی سر بلند ہو گے اگر تم حقیقی مؤمن ہو گے“۔ اور اس طرح وہ اس نتیجے پر پہنچ جائیں کہ ان کے تمام مسائل کا سبب ایمان حقیقی کا فقدان ہے۔ اور شاید اس طرح انہیں قرآن سے براہ راست ہم کلام ہونے کا بھی موقع مل جائے اور خود قرآن انہیں ان کی ذلت و خواری کی وجہ بتادے کہ تم اس حالت کو اس لیے پہنچے ہو کہ تم نے اپنے دین کے حصے بخرے کردیے ہیں ‘ تم دین کے صرف ان احکام پر عمل کرتے ہو جو تمہیں پسند ہیں اور جو احکام تمہاری نجی اور معاشرتی زندگی کے معمول سے مطابقت نہیں رکھتے انہیں نظر انداز کردیتے ہو : اَفَتُؤْمِنُوْنَ بِبَعْضِ الْکِتٰبِ وَتَکْفُرُوْنَ بِبَعْضٍج فَمَا جَزَآءُ مَنْ یَّفْعَلُ ذٰلِکَ مِنْکُمْ الاَّ خِزْیٌ فِی الْْحَیٰوۃِ الدُّنْیَاج وَیَوْمَ الْقِیٰمَۃِ یُرَدُّوْنَ الآی اَشَدِّ الْعَذَابِط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ البقرۃ ”تو کیا تم کتاب کے ایک حصے کو مانتے ہو اور دوسرے کو نہیں مانتے ؟ تو نہیں ہے کوئی سزا اس کی جو یہ حرکت کرے تم میں سے سوائے دنیا کی زندگی کی ذلت و رسوائی کے ‘ اور قیامت کے روز وہ لوٹا دیے جائیں گے شدید ترین عذاب کی طرف ‘ اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو“۔ چناچہ موجودہ حالات کے تناظر میں ہم میں سے ہر ایک کو اس معاملے میں سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے کہ ایک بڑے عذاب سے پہلے جو مہلت ہمیں دستیاب ہے اس سے فائدہ اٹھا لیں اور توبہ کر کے اپنے اعمال کی اصلاح کرلیں۔ یہاں پر زیر مطالعہ چار سورتوں العنکبوت ‘ الروم ‘ لقمان اور السجدۃ کے ذیلی گروپ کے بارے میں ایک اہم بات نوٹ کرنے کی یہ ہے کہ مضامین کی خاص مشابہت کے اعتبار سے یہ سورتیں مزید دو جوڑوں پر مشتمل ہیں۔ چناچہ اس نقطہ نظر سے سورة العنکبوت کی مناسبت سورة لقمان کے ساتھ ہے جبکہ سورة الروم کے مضامین سورة السجدۃ کے مضامین سے مطابقت رکھتے ہیں۔ خاص طور پر اس سورت کی یہ آیت آیت 41 اپنے مضمون کے اعتبار سے سورة السجدۃ کی آیت 21 کے ساتھ خصوصی مطابقت رکھتی ہے۔ واضح رہے کہ سورة الروم کی 60 آیات ہیں جبکہ سورة السجدۃ کی 30 آیات ہیں۔ چناچہ آیات کی تعداد کے لحاظ سے جو جگہ سورة الروم کی ساٹھ آیات کے اندر اس کی آیت 41 کی ہے تقریباً وہی جگہ سورة السجدۃ کی تیس آیات کے اندر اس کی آیت 21 کو حاصل ہے۔ اس لحاظ سے ان دونوں آیات کی باہمی مطابقت و مشابہت معنی خیز ہے۔

فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَأْتِيَ يَوْمٌ لَا مَرَدَّ لَهُ مِنَ اللَّهِ ۖ يَوْمَئِذٍ يَصَّدَّعُونَ

📘 آیت 43 فَاَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ الْقَیِّمِ ”قبل ازیں آیت 30 میں بھی یہی ہدایت دی گئی ہے۔ یَوْمَءِذٍ یَّصَّدَّعُوْنَ ”اس دن تمام نسل انسانی اپنے اپنے اعتقادات اور اعمال کے اعتبار سے مختلف گروہوں میں بٹ جائے گی۔ گویا دودوھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔

مَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ ۖ وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِأَنْفُسِهِمْ يَمْهَدُونَ

📘 وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ یَمْہَدُوْنَ ”مَھَدَ یَمْھَدُکے معنی ہیں : زمین ہموار کرنا ‘ بستر بچھانا ‘ ساز و سامان تیار کرنا یا کمائی کرنا۔ یعنی یہ لوگ اپنے لیے فلاح کا راستہ ہموار کر رہے ہیں یا جنت میں آرام کرنے کے لیے اپنا بستر بچھا رہے ہیں اور ساز و سامان تیار کر رہے ہیں۔

لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ

📘 وَمَنْ عَمِلَ صَالِحًا فَلِاَنْفُسِہِمْ یَمْہَدُوْنَ ”مَھَدَ یَمْھَدُکے معنی ہیں : زمین ہموار کرنا ‘ بستر بچھانا ‘ ساز و سامان تیار کرنا یا کمائی کرنا۔ یعنی یہ لوگ اپنے لیے فلاح کا راستہ ہموار کر رہے ہیں یا جنت میں آرام کرنے کے لیے اپنا بستر بچھا رہے ہیں اور ساز و سامان تیار کر رہے ہیں۔

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ يُرْسِلَ الرِّيَاحَ مُبَشِّرَاتٍ وَلِيُذِيقَكُمْ مِنْ رَحْمَتِهِ وَلِتَجْرِيَ الْفُلْكُ بِأَمْرِهِ وَلِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ

📘 وَّلِیُذِیْقَکُمْ مِّنْ رَّحْمَتِہٖ ”تا کہ باران رحمت برسا کر تمہیں اس کے ثمرات سے مستفیض ہونے کا موقع فراہم کرے۔

وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ رُسُلًا إِلَىٰ قَوْمِهِمْ فَجَاءُوهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ فَانْتَقَمْنَا مِنَ الَّذِينَ أَجْرَمُوا ۖ وَكَانَ حَقًّا عَلَيْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِينَ

📘 وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِیْنَ ”مثلاً حضرت نوح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھیوں کو سیلاب کی آفت سے بچالیا گیا۔ حضرت ہود علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے ساتھی بھی تباہی سے محفوظ رہے اور اسی طرح حضرت صالح علیہ السلام اور آپ علیہ السلام پر ایمان لانے والے لوگ بھی اللہ کی مدد سے عذاب کی زد میں آنے سے بچ گئے۔

اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ ۖ فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ

📘 وَیَجْعَلُہٗ کِسَفًا فَتَرَی الْوَدْقَ یَخْرُجُ مِنْ خِلٰلِہٖ ج ”یہ مضمون قرآن میں بہت تکرار کے ساتھ آیا ہے۔

وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلِ أَنْ يُنَزَّلَ عَلَيْهِمْ مِنْ قَبْلِهِ لَمُبْلِسِينَ

📘 آیت 49 وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْہِمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمُبْلِسِیْنَ ”جس انسانی نفسیاتی کیفیت کا نقشہ یہاں کھینچا گیا ہے اس کا تجربہ مصنوعی آب پاشی کے علاقوں کے لوگوں کو کم ہوتا ہے جبکہ بارانی علاقوں میں اس کے مظاہر اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ اکثر اوقات جب کسانوں کی مایوسی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اچانک موسم کروٹ لیتا ہے ‘ ہوائیں اپنا رخ بدلتی ہیں ‘ فضا میں گھٹائیں نمودار ہوتی ہیں ‘ دیکھتے ہی دیکھتے خشک زمین سیراب ہوجاتی ہے اور کسان ‘ مزدور ‘ چرند ‘ پرند ‘ حشرات الارض وغیرہ سب نہال ہوجاتے ہیں۔

بِنَصْرِ اللَّهِ ۚ يَنْصُرُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ

📘 آیت 5 بِنَصْرِ اللّٰہِط یَنْصُرُ مَنْ یَّشَآءُط وَہُوَ الْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ”یہاں اگرچہ ذکر نہیں کیا گیا لیکن اس سے غزوۂ بدر میں مسلمانوں کی فتح مراد ہے جو اللہ تعالیٰ کی مدد سے انہیں عنقریب حاصل ہونے والی تھی۔

فَانْظُرْ إِلَىٰ آثَارِ رَحْمَتِ اللَّهِ كَيْفَ يُحْيِي الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ لَمُحْيِي الْمَوْتَىٰ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

📘 آیت 49 وَاِنْ کَانُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّنَزَّلَ عَلَیْہِمْ مِّنْ قَبْلِہٖ لَمُبْلِسِیْنَ ”جس انسانی نفسیاتی کیفیت کا نقشہ یہاں کھینچا گیا ہے اس کا تجربہ مصنوعی آب پاشی کے علاقوں کے لوگوں کو کم ہوتا ہے جبکہ بارانی علاقوں میں اس کے مظاہر اکثر دیکھنے میں آتے ہیں۔ اکثر اوقات جب کسانوں کی مایوسی انتہا کو پہنچ جاتی ہے تو اچانک موسم کروٹ لیتا ہے ‘ ہوائیں اپنا رخ بدلتی ہیں ‘ فضا میں گھٹائیں نمودار ہوتی ہیں ‘ دیکھتے ہی دیکھتے خشک زمین سیراب ہوجاتی ہے اور کسان ‘ مزدور ‘ چرند ‘ پرند ‘ حشرات الارض وغیرہ سب نہال ہوجاتے ہیں۔

وَلَئِنْ أَرْسَلْنَا رِيحًا فَرَأَوْهُ مُصْفَرًّا لَظَلُّوا مِنْ بَعْدِهِ يَكْفُرُونَ

📘 آیت 51 وَلَءِنْ اَرْسَلْنَا رِیْحًا فَرَاَوْہُ مُصْفَرًّا لَّظَلُّوْا مِنْم بَعْدِہٖ یَکْفُرُوْنَ ”اگر کسی جھکڑ وغیرہ سے کھیتی تباہ ہوجائے یا لو اور باد صر صر کے اثرات سے اچھی بھلی فصل مرجھا جائے تو فوراً یہ لوگ اللہ کی نا شکری کا اظہار کرنے لگتے ہیں کہ ہماری قسمت تو ہمیشہ ہی پھوٹ جاتی ہے ‘ ہمیں تو کبھی بھی اچھے دن دیکھنے کو نہیں ملے ‘ ہمارے حصے میں تو کبھی کوئی خوشی آئی ہی نہیں۔

فَإِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَىٰ وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَاءَ إِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِينَ

📘 آیت 52 فَاِنَّکَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتٰی وَلَا تُسْمِعُ الصُّمَّ الدُّعَآءَ اِذَا وَلَّوْا مُدْبِرِیْنَ ”اگر کوئی بہراشخص آپ کے سامنے ہو تو پھر بھی امکان ہے کہ آپ اسے اشاروں کنایوں سے کسی حد تک اپنی بات سمجھا لیں گے لیکن اگر وہ آپ سے منہ پھیر کر دوسری سمت چلا جا رہا ہو تو آپ کسی طور پر بھی اسے اپنا مدعا نہیں سمجھا سکتے۔ تو اے نبی ﷺ ! ایک تو یہ لوگ سننے کی صلاحیت سے محروم ہیں اور مزید یہ کہ وہ آپ کی بات سننا چاہتے بھی نہیں۔ چناچہ ان تک آپ ﷺ کی دعوت کے ابلاغ کا کوئی امکان نہیں۔

وَمَا أَنْتَ بِهَادِ الْعُمْيِ عَنْ ضَلَالَتِهِمْ ۖ إِنْ تُسْمِعُ إِلَّا مَنْ يُؤْمِنُ بِآيَاتِنَا فَهُمْ مُسْلِمُونَ

📘 آیت 53 وَمَآ اَنْتَ بِہٰدِ الْعُمْیِ عَنْ ضَلٰلَتِہِمْ ط ”ان دل کے اندھوں کو آپ گمراہی میں بھٹکنے سے نہیں بچا سکتے اور ان کو ضلالت سے نکال کر راہ راست پر نہیں لاسکتے۔

۞ اللَّهُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ ضَعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضَعْفٍ قُوَّةً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ ضَعْفًا وَشَيْبَةً ۚ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ ۖ وَهُوَ الْعَلِيمُ الْقَدِيرُ

📘 آیت 54 اَللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ ضُعْفٍ ”یعنی انسان کا بچہ اپنی پیدائش کے وقت بہت کمزور ہوتا ہے۔ثُمَّ جَعَلَ مِنْم بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ”پھر اللہ کی قدرت اور مشیت سے وہی ناتواں بچہ بڑا ہو کر کڑیل جوان بن جاتا ہے۔ثُمَّ جَعَلَ مِنْم بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًا وَّشَیْبَۃً ط ”پھر رفتہ رفتہ انسان کی تمام صلاحیتیں زوال کا شکار ہوجاتی ہیں اور بڑھاپے میں ایک دفعہ پھر انسان کمزوری اور بےبسی کی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔

وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ يُقْسِمُ الْمُجْرِمُونَ مَا لَبِثُوا غَيْرَ سَاعَةٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَانُوا يُؤْفَكُونَ

📘 آیت 55 وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یُقْسِمُ الْمُجْرِمُوْنَلا مَا لَبِثُوْا غَیْرَ سَاعَۃٍ ط ”کہ وہ دنیا میں یا عالم برزخ میں گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے۔ کَذٰلِکَ کَانُوْا یُؤْفَکُوْنَ ”جس طرح وہ لوگ روز قیامت اپنی زندگی کے دورانیے کے بارے میں انتہائی غیر معقول بات کریں گے بالکل ایسے ہی دنیا میں بھی ان کی سوچ اور فکر حقیقت سے بہت دور تھی۔

وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِي كِتَابِ اللَّهِ إِلَىٰ يَوْمِ الْبَعْثِ ۖ فَهَٰذَا يَوْمُ الْبَعْثِ وَلَٰكِنَّكُمْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ

📘 آیت 56 وَقَالَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ وَالْاِیْمَانَ لَقَدْ لَبِثْتُمْ فِیْ کِتٰبِ اللّٰہِ اِلٰی یَوْمِ الْبَعْثِز ”تب اہل علم اور صاحب ایمان لوگ انہیں بتائیں گے کہ اے بدبختو ! تم جسے ایک گھڑی کہہ رہے ہو وہ دراصل عالم برزخ کا طویل عرصہ تھا جو اللہ کے فیصلے کے مطابق تم پر گزرا۔ ظاہر ہے ایک شخص اگر آج سے پانچ ہزار سال قبل فوت ہو اتھا تو آج تک وہ عالم برزخ میں ہی ہے اور نہ معلوم قیامت تک اور کتنا عرصہ وہ مزید وہاں رہے گا۔ اور یوم بعث کب آئے گا ؟ اس کا علم بھی اللہ ہی کو ہے۔ چناچہ انہیں بتایا جائے گا کہ تم لوگ اللہ کے حساب اور اس کے فیصلے کے مطابق یوم بعث تک وہاں رہے ہو۔فَہٰذَا یَوْمُ الْبَعْثِ وَلٰکِنَّکُمْ کُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ ”ابھی تمہاری آنکھ کھلی ہے تو تم یوم بعث کا یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو ‘ مگر دنیا میں تو تم لوگوں نے آخرت کی زندگی اور اس دن کے بارے میں کبھی غور کرنا پسند ہی نہیں کیا تھا۔

فَيَوْمَئِذٍ لَا يَنْفَعُ الَّذِينَ ظَلَمُوا مَعْذِرَتُهُمْ وَلَا هُمْ يُسْتَعْتَبُونَ

📘 آیت 57 فَیَوْمَءِذٍ لَّا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مَعْذِرَتُہُمْ ”جن لوگوں نے دنیا میں گناہ کی زندگی بسر کی اور ساری عمر ظلم و زیادتی کا رویہ اپنائے رکھا ‘ قیامت کے دن ان کا معذرت کرنا ‘ بہانے بنانا اور معافیاں مانگنا کام نہیں آئے گا۔وَلَا ہُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ ”دنیا میں ہر شخص کے لیے موت کے آثار ظاہر ہونے تک مَا لَمْ یُغَرْ غِرْ توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے اور جو لوگ اپنی دنیوی زندگی میں اس موقع سے فائدہ نہ اٹھائیں ‘ قیامت کے دن انہیں یہ موقع فراہم نہیں کیا جائے گا۔

وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِي هَٰذَا الْقُرْآنِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ ۚ وَلَئِنْ جِئْتَهُمْ بِآيَةٍ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا إِنْ أَنْتُمْ إِلَّا مُبْطِلُونَ

📘 آیت 58 وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ط ”ع ”اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں !“ کے مصداق قرآن میں اللہ کا پیغام ہر پہلو سے لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے اور ہر انداز سے حقیقت ان پر واضح کردی گئی ہے۔وَلَءِنْ جِءْتَہُمْ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ۔ ”اگر آپ ﷺ ان لوگوں کو کوئی معجزہ دکھا بھی دیں تو یہ اسے بھی جادو قرار دے کر الٹا آپ ﷺ پر جھوٹ کا بہتان لگادیں گے۔

كَذَٰلِكَ يَطْبَعُ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ

📘 آیت 58 وَلَقَدْ ضَرَبْنَا للنَّاسِ فِیْ ہٰذَا الْقُرْاٰنِ مِنْ کُلِّ مَثَلٍ ط ”ع ”اِک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں !“ کے مصداق قرآن میں اللہ کا پیغام ہر پہلو سے لوگوں کو سمجھا دیا گیا ہے اور ہر انداز سے حقیقت ان پر واضح کردی گئی ہے۔وَلَءِنْ جِءْتَہُمْ بِاٰیَۃٍ لَّیَقُوْلَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ اَنْتُمْ اِلَّا مُبْطِلُوْنَ۔ ”اگر آپ ﷺ ان لوگوں کو کوئی معجزہ دکھا بھی دیں تو یہ اسے بھی جادو قرار دے کر الٹا آپ ﷺ پر جھوٹ کا بہتان لگادیں گے۔

وَعْدَ اللَّهِ ۖ لَا يُخْلِفُ اللَّهُ وَعْدَهُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ

📘 آیت 6 وَعْدَ اللّٰہِط لَا یُخْلِفُ اللّٰہُ وَعْدَہٗ وَلٰکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ ”یہ وہ چھ آیات ہیں جن میں رومیوں کے دوبارہ غلبے اور اہل ایمان کی مشرکین مکہ پر فتح کی پیشین گوئی کی گئی ہے۔ یہ آیات تقریباً 614 ء میں نازل ہوئیں۔ نبی اکرم ﷺ پر وحی کا آغاز 610 ء میں ہوا تھا۔ چناچہ ان آیات کے نزول کے وقت آپ ﷺ کی دعوت کو پانچ برس کا عرصہ بیت چکا تھا۔ اس کے ٹھیک نو 9 برس بعد اس پیشین گوئی کے عین مطابق رومی بھی ایرانیوں پر غالب آگئے اور غزوۂ بدر میں مسلمانوں کو بھی اللہ کی مدد سے فتح نصیب ہوئی۔

فَاصْبِرْ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ وَلَا يَسْتَخِفَّنَّكَ الَّذِينَ لَا يُوقِنُونَ

📘 آیت 60 فَاصْبِرْ اِنَّ وَعْدَ اللّٰہِ حَقٌّ ”جیسا کہ قبل ازیں بار بار توجہ دلائی گئی ہے کہ قرآن میں بہت سے مقامات پر صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے خطاب کیا گیا ہے مگر دراصل آپ ﷺ کی وساطت سے تمام اہل ایمان کو مخاطب کیا گیا ہے۔ چناچہ یہاں بھی اہل ایمان کی دلجوئی کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ آپ لوگ اللہ کے وعدے پر یقین رکھو اور ہر حال میں صبر و استقامت کا دامن تھامے رہو۔ اللہ کی مدد ضرور آئے گی اور بالآخر اللہ کا دین غالب ہو کر رہے گا۔ جہاں تک تمہارے موجودہ حالات اور مصائب و مشکلات کا تعلق ہے تو یہ تمہارے امتحان کا حصہ ہیں : اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْٓا اَنْ یَّقُوْلُوْٓا اٰمَنَّا وَہُمْ لَا یُفْتَنُوْنَ العنکبوت ”کیا لوگوں نے یہ سمجھا تھا کہ وہ چھوڑ دیے جائیں گے صرف یہ کہنے سے کہ ہم ایمان لے آئے اور انہیں آزمایا نہ جائے گا ؟“ اس سلسلے میں ہمارا قانون بہت واضح ہے : وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْاَمْوَالِ وَالْاَنْفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ط البقرۃ : 155 ”اور ہم ضرور آزمائیں گے تم لوگوں کو کسی قدر خوف ‘ بھوک اور مال و جان اور پھلوں کے نقصانات سے“۔ چناچہ اے مسلمانو ! ہمت سے کام لو ع ”ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں !“ اگر تم لوگ ان امتحانات میں سرخروہو گئے تو اللہ کے وعدے کے مطابق کامیابی تمہارے قدم چومے گی۔وَّلَا یَسْتَخِفَّنَّکَ الَّذِیْنَ لَا یُوْقِنُوْنَ ”اگرچہ یہ خطاب بھی صیغہ واحد میں حضور ﷺ سے ہے مگر یہاں بھی اہل ایمان کی تثبیت قلبی مقصود ہے کہ اے مسلمانو ! ایسا نہ ہو کہ مخالفین کے دباؤ کی وجہ سے تمہارے پاؤں میں لغزش آجائے اور انہیں تمہارے بارے میں یہ کہنے کا موقع مل جائے کہ یہ لوگ تو کمزور اور بودے ثابت ہوئے ہیں۔ چناچہ تم اپنے موقف پر کوہ ہمالیہ کی طرح ڈٹے رہو۔ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے اس کے راستے میں اپنا تن من اور دھن کھپانے کی حکمت عملی بدستور اپنائے رکھو۔ اللہ کی مدد اس راستے میں ضرور تمہارے شامل حال رہے گی اور اللہ تمام مشکلات کو دور کر کے تمہیں لازماً کامیاب کرے گا ‘ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی !

يَعْلَمُونَ ظَاهِرًا مِنَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَهُمْ عَنِ الْآخِرَةِ هُمْ غَافِلُونَ

📘 آیت 7 یَعْلَمُوْنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج ”یہاں سے موضوع ”التذکیر بآلاء اللّٰہ“ اللہ کی نعمتوں کے حوالے سے نصیحت اور یاددہانی کی طرف موڑا جا رہا ہے اور اس مضمون کے اعتبار سے سورة الروم اور سورة النحل میں بہت گہری مشابہت پائی جاتی ہے۔ وَہُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ہُمْ غٰفِلُوْنَ ”یہ دنیا تو آخرت کی کھیتی ہے ‘ لیکن یہ لوگ دنیا کی اس حقیقت کو بالکل فراموش کیے بیٹھے ہیں۔ انہیں یاد ہی نہیں کہ آج وہ یہاں جو بوئیں گے کل آخرت میں وہی کچھ انہیں کاٹنا ہوگا۔ ان کے سامنے دنیوی زندگی کا صرف یہی پہلو رہ گیا ہے کہ کھاؤ پیؤ اور عیش کرو ‘ جبکہ آخرت کی زندگی کا تصور ان کے ذہنوں سے بالکل ہی اوجھل ہوگیا ہے۔

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا فِي أَنْفُسِهِمْ ۗ مَا خَلَقَ اللَّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَأَجَلٍ مُسَمًّى ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا مِنَ النَّاسِ بِلِقَاءِ رَبِّهِمْ لَكَافِرُونَ

📘 مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ط ”اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات ایک مقصد کے تحت پیدا کی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اقرار ہر وہ شخص کرتا ہے جو چشم بصیرت سے کائنات کا نظام دیکھتا ہے۔ چناچہ سورة آل عمران کی آیت 191 میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ جب وہ کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں تو بےاختیار پکار اٹھتے ہیں : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج ”اے ہمارے پروردگار ! ہم سمجھ گئے ہیں کہ تو نے یہ سب کچھ عبث پیدا نہیں فرمایا۔“

أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ۚ كَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً وَأَثَارُوا الْأَرْضَ وَعَمَرُوهَا أَكْثَرَ مِمَّا عَمَرُوهَا وَجَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ ۖ فَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ

📘 مَا خَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَہُمَآ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَجَلٍ مُّسَمًّی ط ”اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات ایک مقصد کے تحت پیدا کی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا اقرار ہر وہ شخص کرتا ہے جو چشم بصیرت سے کائنات کا نظام دیکھتا ہے۔ چناچہ سورة آل عمران کی آیت 191 میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کی ایک خصوصیت یہ بھی بتائی گئی ہے کہ جب وہ کائنات کی تخلیق کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں تو بےاختیار پکار اٹھتے ہیں : رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ہٰذَا بَاطِلاً ج ”اے ہمارے پروردگار ! ہم سمجھ گئے ہیں کہ تو نے یہ سب کچھ عبث پیدا نہیں فرمایا۔“