🕋 تفسير سورة سبأ
(Saba) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْآخِرَةِ ۚ وَهُوَ الْحَكِيمُ الْخَبِيرُ
📘 آیت 1 { اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ لَہٗ مَا فِی السَّمٰٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ } ”کل حمد اور کل شکر اس اللہ کے لیے ہے جس کی ملکیت ہے ہر وہ شے جو آسمانوں اور زمین میں ہے“ { وَلَہُ الْحَمْدُ فِی الْاٰخِرَۃِط وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ } ”اور آخرت میں بھی اسی کے لیے حمد ہوگی ‘ اور وہ کمال حکمت والا ‘ ہرچیز سے باخبر ہے۔“ آخرت کی حمد کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : لِوَائُ الحَمْدِ یَوْمَئِذٍ بِیَدِیْ 1 ”اس دن یعنی میدانِ حشر میں حمد کا جھنڈا میرے ہاتھ میں ہوگا“۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس روز میں جو حمد کروں گا وہ آج نہیں کرسکتا۔ -۔ - آخرت کی اس حمد کا اس آخری امت کے ساتھ خاص تعلق ہے۔ حضور اکرم ﷺ کے اسمائے مبارک محمد ‘ احمد اور حامد کا تعلق بھی لغوی طور پر لفظ ”حمد“ کے ساتھ ہے اور اسی لیے اس امت کو بھی ”حَمَّادُون“ بہت زیادہ حمد کرنے والے کہا گیا ہے۔
۞ وَلَقَدْ آتَيْنَا دَاوُودَ مِنَّا فَضْلًا ۖ يَا جِبَالُ أَوِّبِي مَعَهُ وَالطَّيْرَ ۖ وَأَلَنَّا لَهُ الْحَدِيدَ
📘 آیت 10 { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ مِنَّا فَضْلًا } ”اور ہم نے دائود علیہ السلام کو اپنی طرف سے خاص فضل عطا کیا تھا۔“ حضرت دائود اور حضرت سلیمان ﷺ کا ذکر اس سے پہلے سورة النمل میں آچکا ہے۔ وہاں حضرت دائود علیہ السلام کا ذکر بہت اختصار کے ساتھ ہے جبکہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے حالات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ اب اس سورت میں بھی حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام دونوں ہی کا ذکر ہے ‘ مگر یہاں حضرت دائود علیہ السلام کی شخصیت کو نسبتاً زیادہ نمایاں کیا گیا ہے۔ { یٰجِبَالُ اَوِّبِیْ مَعَہٗ وَالطَّیْرَ } ”ہم نے حکم دیا کہ اے پہاڑو ! تم تسبیح کو دہرائو اس کے ساتھ اور پرندوں کو بھی یہی حکم دیا تھا۔“ ”تا ویب“ گویا ”ترجیع“ کا ہم معنی لفظ ہے ‘ یعنی لوٹانا اور دہرانا۔ جیسے کوئی نظم یا غزل پڑھ رہا ہو اور اس میں ایک بول یا مصرعے کو وہ بار بار اس طرح دہرائے کہ اس دوران کچھ دوسرے لوگ بھی اس کی آواز کے ساتھ آواز ملا لیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پہاڑوں اور پرندوں کو حکم دے رکھا تھا کہ جب حضرت دائود علیہ السلام حمد و تسبیح کے ترانے پڑھیں تو وہ بھی آپ علیہ السلام کے ساتھ شامل ہوجائیں اور آپ علیہ السلام کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔ { وَاَلَنَّا لَہُ الْحَدِیْدَ } ”اور ہم نے اس کے لیے لوہے کو نرم کردیا تھا۔“
أَنِ اعْمَلْ سَابِغَاتٍ وَقَدِّرْ فِي السَّرْدِ ۖ وَاعْمَلُوا صَالِحًا ۖ إِنِّي بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرٌ
📘 آیت 11 { اَنِ اعْمَلْ سٰبِغٰتٍ وَّقَدِّرْ فِی السَّرْدِ } ”کہ کشادہ زرہیں بنائو اور کڑیاں ملانے میں ٹھیک ٹھیک اندازہ رکھو“ آپ علیہ السلام کے لیے لوہے کو خصوصی طور پر نرم کردیا گیا تھا اور زرہیں بنانے کا ہنر بھی آپ علیہ السلام کو سکھا دیا گیا تھا۔ { وَاعْمَلُوْا صَالِحًا اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ} ”اور تم سب نیک اعمال کرو۔ تم جو کچھ کر رہے ہو میں یقینا اسے دیکھ رہا ہوں۔“
وَلِسُلَيْمَانَ الرِّيحَ غُدُوُّهَا شَهْرٌ وَرَوَاحُهَا شَهْرٌ ۖ وَأَسَلْنَا لَهُ عَيْنَ الْقِطْرِ ۖ وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ يَعْمَلُ بَيْنَ يَدَيْهِ بِإِذْنِ رَبِّهِ ۖ وَمَنْ يَزِغْ مِنْهُمْ عَنْ أَمْرِنَا نُذِقْهُ مِنْ عَذَابِ السَّعِيرِ
📘 آیت 12 { وَلِسُلَیْمٰنَ الرِّیْحَ غُدُوُّہَا شَہْرٌ وَّرَوَاحُہَا شَہْرٌ} ”اور سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کردیا تھا ‘ اس کا صبح کو چلنا بھی ایک ماہ کا سفر تھا اور اس کا شام کو چلنا بھی ایک ماہ کا سفر تھا۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام جہاں جانا چاہتے تیز ہوا آپ علیہ السلام کے تخت کو اڑا کر وہاں پہنچا دیتی اور جو فاصلہ اس زمانے کے لوگ مروّجہ سواریوں کے ذریعے ایک ماہ میں طے کرتے حضرت سلیمان علیہ السلام وہ فاصلہ ہوا کے ذریعے سے ایک صبح یا ایک شام میں طے کرلیتے تھے۔ { وَاَسَلْنَا لَہٗ عَیْنَ الْقِطْرِ } ”اور ہم نے اس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ جاری کردیا تھا۔“ { وَمِنَ الْجِنِّ مَنْ یَّعْمَلُ بَیْنَ یَدَیْہِ بِاِذْنِ رَبِّہٖ } ”اور کچھ ِجن بھی اس علیہ السلام کے تابع کردیے تھے جو اس کے سامنے کام کرتے تھے اس کے رب کے حکم سے۔“ { وَمَنْ یَّزِغْ مِنْہُمْ عَنْ اَمْرِنَا نُذِقْہُ مِنْ عَذَابِ السَّعِیْرِ } ”اور ان میں سے جو کوئی بھی ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اسے ہم جلا دینے والا عذاب چکھاتے تھے۔“ آگے ان کاموں کی تفصیل بھی بتائی جا رہی ہے جو جنات حضرت سلیمان علیہ السلام کے لیے کرتے تھے۔
يَعْمَلُونَ لَهُ مَا يَشَاءُ مِنْ مَحَارِيبَ وَتَمَاثِيلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُورٍ رَاسِيَاتٍ ۚ اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا ۚ وَقَلِيلٌ مِنْ عِبَادِيَ الشَّكُورُ
📘 آیت 13 { یَعْمَلُوْنَ لَہٗ مَا یَشَآئُ مِنْ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ } ”وہ بناتے تھے اس کے لیے جو وہ چاہتا تھا ‘ بڑی بڑی عمارتیں اور مجسمے“ شریعت ِمحمدی میں مجسمے بنانا حرام ہے ‘ لیکن ان الفاظ سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے زمانے میں ایسا کرنا جائز تھا۔ ویسے ”تِمثال“ عربی زبان میں ہر اس شبیہہ یا پیکر کو کہتے ہیں جو کسی قدرتی شے کے مشابہ بنایا جائے ‘ خواہ وہ جاند ار ہو یا بےجان۔ { وَجِفَانٍ کَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ } ”اور تالابوں کی مانند بڑے بڑے لگن اور بڑی بڑی دیگیں جو ایک جگہ مستقل پڑی رہتی تھیں۔“ یعنی وہ دیگیں اتنی بڑی ہوتی تھیں کہ چولہوں کے اوپر ہی پڑی رہتی تھی اور وہاں سے انہیں ہلایا نہیں جاسکتا تھا۔ اس طرح کی دیگیں اجمیر شریف انڈیا میں حضرت معین الدین اجمیری رح کے مزار پر بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ { اِعْمَلُوْٓا اٰلَ دَاوٗدَ شُکْرًا } ”اے دائود علیہ السلام کے گھر والو ! عمل کرو شکر ادا کرتے ہوئے“ حضرت سلیمان علیہ السلام چونکہ حضرت دائود علیہ السلام کے بیٹے تھے اس لیے آپ علیہ السلام کو آلِ دائود علیہ السلام کہہ کر مخاطب کیا گیا ہے کہ آپ علیہ السلام پر اللہ کی ان نعمتوں کا شکر لازم ہے۔ چناچہ آپ علیہ السلام کا ایک ایک عمل اللہ تعالیٰ کی احسان مندی کا مظہر ہونا چاہیے۔ { وَقَلِیْلٌ مِّنْ عِبَادِیَ الشَّکُوْرُ } ”اور واقعہ یہ ہے کہ میرے بندوں میں شکر کرنے والے کم ہی ہیں۔“
فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ مَا دَلَّهُمْ عَلَىٰ مَوْتِهِ إِلَّا دَابَّةُ الْأَرْضِ تَأْكُلُ مِنْسَأَتَهُ ۖ فَلَمَّا خَرَّ تَبَيَّنَتِ الْجِنُّ أَنْ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الْغَيْبَ مَا لَبِثُوا فِي الْعَذَابِ الْمُهِينِ
📘 آیت 14 { فَلَمَّا قَضَیْنَا عَلَیْہِ الْمَوْتَ } ”پھر جب ہم نے اس علیہ السلام پر موت طاری کردی“ { مَا دَلَّہُمْ عَلٰی مَوْتِہٖٓ اِلَّا دَآبَّۃُ الْاَرْضِ } ”تو کسی نے ان جنات کو اس کی موت سے آگاہ نہ کیا مگر زمین کے کیڑے نے“ { تَاْکُلُ مِنْسَاَتَہٗ } ”جو اس علیہ السلام کے عصا کو کھاتا تھا۔“ حضرت سلیمان علیہ السلام ِجنات ّکی نگرانی کے لیے اپنے عصا کے سہارے کھڑے تھے کہ آپ علیہ السلام کی روح قبض ہوگئی مگر آپ علیہ السلام کا جسد مبارک اسی طرح کھڑا رہا۔ یہاں تک کہ دیمک نے آپ علیہ السلام کی لاٹھی کو کھا کر کھوکھلا کردیا۔ اس دوران جنات آپ علیہ السلام کی موت سے بیخبر کام میں مصروف رہے۔ وہ یہی سمجھتے رہے کہ آپ کھڑے ان کی نگرانی کر رہے ہیں۔ { فَلَمَّا خَرَّ تَـبَـیَّـنَتِ الْجِنُّ اَنْ لَّــوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ الْغَیْبَ مَا لَبِثُوْا فِی الْْعَذَابِ الْمُہِیْنِ } ”پھر جب وہ گرپڑا توجنوں پر واضح ہوگیا کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس ذلت کے عذاب میں نہ پڑے رہتے۔“
لَقَدْ كَانَ لِسَبَإٍ فِي مَسْكَنِهِمْ آيَةٌ ۖ جَنَّتَانِ عَنْ يَمِينٍ وَشِمَالٍ ۖ كُلُوا مِنْ رِزْقِ رَبِّكُمْ وَاشْكُرُوا لَهُ ۚ بَلْدَةٌ طَيِّبَةٌ وَرَبٌّ غَفُورٌ
📘 آیت 15 { لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِہِمْ اٰیَۃٌ} ”اسی طرح قوم سبا کے لیے بھی ان کے مسکن میں ایک نشانی موجود تھی“۔ قوم سبا 800 قبل مسیح علیہ السلام کے لگ بھگ یمن کے علاقے میں آباد تھی۔ انہوں نے اپنے پہاڑی علاقوں میں بہت سے بند تعمیر کر رکھے تھے جن میں سب سے بڑے بند کا نام ”سد ِمآرب“ تھا۔ ان بندوں سے انہوں نے چھوٹی بڑی نہریں نکال کر میدانی علاقوں کو سیراب کرنے کا ایک مربوط و موثر نظام بنا رکھا تھا۔ آب پاشی کے اس نظام کے باعث ان کے ہاں باغات کی کثرت تھی۔ باغات کے دو بڑے سلسلے تو سینکڑوں میلوں تک پھیلے ہوئے تھے۔ بہر حال یہ اپنے وقت کی بڑی خوشحال اور طاقتور قوم تھی ‘ مگر آہستہ آہستہ یہ لوگ مذہبی و اخلاقی زوال کا شکار ہوتے گئے۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کی نا شکری اور سرکشی کی سزا دی اور ان سے تمام نعمتیں سلب کرلیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان کا سب سے بڑا بند سد مآرب ٹوٹ گیا اور یوں ایک خوفناک سیلاب قہر خداوندی بن کر ان پر ٹوٹ پڑا۔ اس سیلاب کی وجہ سے اس قوم پر ایسی تباہی آئی کہ جس علاقے میں سینکڑوں میلوں پر پھیلے ہوئے باغات تھے وہاں جنگلی جھاڑیوں اور بیریوں کے چند درختوں کے علاوہ ہریالی کا نام و نشان تک نہ رہا۔ { جَنَّتٰنِ عَنْ یَّمِیْنٍ وَّشِمَالٍ } ”دو باغات کے سلسلے تھے دائیں اور بائیں طرف۔“ { کُلُوْا مِنْ رِّزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہٗ } ”کھائو اپنے رب کے رزق میں سے اور اس کا شکر اداکرو۔“ { بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌ} ”تمہارا شہر بہت پاکیزہ ہے اور تمہارا رب بہت بخشنے والا ہے !“ یعنی تمہارے لیے یہ ایک مثالی صورت حال ہے۔ رہنے کو تمہیں نہایت عمدہ ‘ سرسبز و شاداب اور زرخیز علاقہ عطا ہوا ہے اور تمہارا رب بھی بہت بخشنے والا ہے جو تمہارے ساتھ بہت نرمی کا معاملہ فرما رہا ہے۔
فَأَعْرَضُوا فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ سَيْلَ الْعَرِمِ وَبَدَّلْنَاهُمْ بِجَنَّتَيْهِمْ جَنَّتَيْنِ ذَوَاتَيْ أُكُلٍ خَمْطٍ وَأَثْلٍ وَشَيْءٍ مِنْ سِدْرٍ قَلِيلٍ
📘 آیت 16 { فَاَعْرَضُوْا فَاَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ سَیْلَ الْعَرِمِ } ”تو انہوں نے اعراض کیا ‘ چناچہ ہم نے بھیج دیا ان پر سیلاب بہت زور کا“ اس قوم نے اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اعراض و سرکشی کی روش اختیار کی تو ان پر اللہ کا عذاب اس انداز سے آیا کہ ایک عظیم سیلاب نے ان کے بند کو توڑ دیا جس سے ان کی بستیاں تباہ ہوگئیں اور ان کے باغات کے سلسلے بھی برباد ہوگئے۔ { وَبَدَّلْنٰـہُمْ بِجَنَّتَیْہِمْ جَنَّـتَیْنِ ذَوَاتَیْ اُکُلٍ خَمْطٍ وَّاَثْلٍ وَّشَیْئٍ مِّنْ سِدْرٍ قَلِیْلٍ } ”اور ہم نے بدل دیے ان کے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ ‘ جن میں کڑوے کسیلے پھل ‘ جھائو کے درخت اور کچھ تھوڑی سی بیریاں تھیں۔“
ذَٰلِكَ جَزَيْنَاهُمْ بِمَا كَفَرُوا ۖ وَهَلْ نُجَازِي إِلَّا الْكَفُورَ
📘 آیت 17 { ذٰلِکَ جَزَیْنٰہُمْ بِمَا کَفَرُوْا } ”یہ بدلہ دیا ہم نے ان کو ان کے کفر انِ نعمت کی وجہ سے۔“ { وَہَلْ نُجٰزِیْٓ اِلَّا الْکَفُوْرَ } ”اور ہم ایسا برا بدلہ نہیں دیتے مگر نا شکرے لوگوں کو۔“ چند سال پہلے میرا ذہن پاکستان کی تاریخ کے حوالے سے ان آیات کی طرف منتقل ہوا کہ ہمیں بھی اللہ تعالیٰ نے دائیں اور بائیں کے دو خوبصورت باغات سے نوازا تھا۔ ایک باغ کا نام مغربی پاکستان تھا اور دوسرے کا مشرقی پاکستان۔ ہمارے لیے بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے دونوں باغات میں آزادی اور امن وامان کا ماحول فراہم کیا گیا تھا۔ دونوں جگہوں پر کسی نہ کسی حد تک بَلْدَۃٌ طَیِّبَۃٌ وَّرَبٌّ غَفُوْرٌکی عملی تصویر نظر آتی تھی۔ پھر ہم بھی اپنے رب کی نا شکری کے مرتکب ہوئے ‘ ہم نے بھی اس کی اطاعت سے اعراض کیا۔ چناچہ ہمارے اس طرز عمل کے باعث ہم سے بھی بہت سی نعمتیں سلب کرلی گئیں اور پھر ہمیں معاشی بدحالی اور خطرات و خدشات کی اس حالت کو پہنچا دیا گیا جس کا سامنا ہم آج کر رہے ہیں۔ سورة الانبیاء میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : { لَقَدْ اَنْزَلْنَآ اِلَیْکُمْ کِتٰبًا فِیْہِ ذِکْرُکُمْط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۔ ”اے لوگو ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب نازل کی ہے ‘ اس میں تمہارا ذکر ہے ‘ تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟“ اس فرمانِ الٰہی کے مطابق قرآن کے اندر ہر قوم اور ہر انسان کو اپنے حالات کا عکس کہیں نہ کہیں ضرور نظر آئے گا ‘ بشرطیکہ اسے پڑھنے والے اس کے ”بین السطور“ مطالب و مفاہیم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ چناچہ ہمیں ہلکے سے ہلکے درجے میں ہی سہی اس آیت کا تطابق اپنے قومی و ملکی حالات پر کر کے اپنے گریبانوں میں جھانکنے کی ضرور کوشش کرنی چاہیے۔
وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْقُرَى الَّتِي بَارَكْنَا فِيهَا قُرًى ظَاهِرَةً وَقَدَّرْنَا فِيهَا السَّيْرَ ۖ سِيرُوا فِيهَا لَيَالِيَ وَأَيَّامًا آمِنِينَ
📘 آیت 18{ وَجَعَلْنَا بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ الْقُرَی الَّتِیْ بٰرَکْنَا فِیْہَا قُرًی ظَاہِرَۃً } ”ہم نے ان کے علاقے اور ان بستیوں کے درمیان جنہیں ہم نے برکت عطا کر رکھی تھی واضح نظر آنے والی بستیاں قائم کردی تھیں“ یہاں پر ”بابرکت بستیوں“ سے ارض فلسطین مرا د ہے۔ اس ضمن میں سورة بنی اسرائیل کی پہلی آیت میں مذکور بٰرَکْنَا حَوْلَہٗ کے الفاظ بھی مدنظر رہنے چاہئیں۔ آیت زیر مطالعہ میں دراصل اس زمانے کی ایک اہم شاہراہ کا ذکر ہوا ہے جس پر یورپ اور ایشیا کے مابین ہونے والی تجارت کے حوالے سے قوم سبا کی اجارہ داری تھی۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ یہ اپنے زمانے کی ایک بہت خوشحال اور طاقتور قوم تھی۔ ان کا علاقہ بہت سرسبز و شاداب تھا اور وہاں مختلف اقسام کی خوشبوئیں کثرت سے پیدا ہوتی تھیں۔ پرانے زمانے کے سیاحوں کے حوالے سے قوم سبا کے بارے میں ایسی بہت سی معلومات تاریخ میں دستیاب ہیں۔ چناچہ اپنے دور کی ایک طاقتور اور خوشحال قوم کی حیثیت سے مشرق و مغرب کے درمیان ہونے والی تجارت پر ان کی اجارہ داری تھی بعد میں ایک مدت تک اس تجارت پر قریش ِمکہ ّکی اجارہ داری رہی جس کا ذکر سورة القریش میں آیا ہے۔ ہندوستان ‘ چین اور دیگر مشرقی ممالک سے آنے والا تجارتی سامان یمن کی بندرگاہ پر اترتا تھا ‘ جبکہ یورپ سے آنے والا سامان بحیرہ روم Mediterranean Sea کے راستے فلسطین کی بندرگاہ پر پہنچتا تھا۔ چناچہ یمن اور فلسطین کے درمیان قوم سبا کے تجارتی قافلے اس سامان کی نقل و حمل کے سلسلے میں مذکورہ شاہراہ پر سارا سال رواں دواں رہتے تھے۔ یہ تجارتی شاہراہ اللہ تعالیٰ کی خصوصی مہربانی سے بہت ُ پر سکون ‘ پر امن اور ہر لحاظ سے مثالی تھی۔ اس کی کیفیت یوں تھی کہ تقریباً سو میل کے فاصلے تک اس شاہراہ کے دونوں طرف ان کے باغات پھیلے ہوئے تھے۔ اس کے بعد عین شاہراہ کے اوپر جگہ جگہ بستیاں اس طرح آباد تھیں کہ ایک بستی کی حدود ختم ہوتے ہی دوسری بستی کے آثار شروع ہوجاتے تھے۔ اس طرح تجارتی قافلے نہ صرف رہزنی وغیرہ کے خطرات سے محفوظ رہتے تھے بلکہ انہیں سفر و قیام کے دوران اشیائِ ضرورت اور مطلوبہ سہولیات بھی ہر جگہ ہر وقت دستیاب رہتی تھیں۔ { وَّقَدَّرْنَا فِیْہَا السَّیْرَ } ”اور ہم نے اندازہ مقرر کردیا تھا ان میں سفر کرنے کا۔“ یعنی ان کے درمیان سفر کی منزلیں مقرر کردی تھیں۔ یہ آبادیاں شاہراہ کے عین کناروں پر اس طرح واقع تھیں کہ ایک آبادی سے دوسری آبادی تک کا درمیانی فاصلہ تیس چالیس میل کے لگ بھگ تھا اور یہ فاصلہ سفر کی منزلوں کے حساب سے رکھا گیا تھا تاکہ ہر منزل پر قافلوں کو قیام و طعام کی مطلوبہ سہولیات آسانی سے میسر آسکیں۔ { سِیْرُوْا فِیْہَا لَیَالِیَ وَاَیَّامًا اٰمِنِیْنَ } ”ہم نے انہیں کہہ دیا تھا کہ تم سفر کرو ان میں راتوں کو بھی اور دن کو بھی امن کے ساتھ۔“ یعنی ان میں رات دن بےخوف و خطر سفر کرو۔
فَقَالُوا رَبَّنَا بَاعِدْ بَيْنَ أَسْفَارِنَا وَظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ فَجَعَلْنَاهُمْ أَحَادِيثَ وَمَزَّقْنَاهُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِكُلِّ صَبَّارٍ شَكُورٍ
📘 آیت 19 { فَقَالُوْا رَبَّـنَا بٰعِدْ بَیْنَ اَسْفَارِنَا } ”تو انہوں نے کہا : اے ہمارے پروردگار ! ہمارے سفروں کے درمیان دوری پیدا کر دے“ ان کی یہ خواہش یا دعا اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور مہربانیوں کی ناقدری کی عبرت انگیز مثال ہے۔ گویا وہ سفر کے مذکورہ مثالی انتظامات سے اکتا چکے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ ُ پر امن اور پر سکون سفر کرتے کرتے تن آسانی اور سہل انگاری کا شکار ہوجائیں گے۔ انہیں زعم تھا کہ وہ بہادر اور مہم جو قسم کے لوگ ہیں اور ہر قسم کے خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے دعا کی کہ ان کے سفر لمبے ہوجائیں تاکہ سفر کے دوران انہیں مشکلات و خطرات کا سامنا ہو ‘ جن کا وہ مردانہ وار مقابلہ کریں اور یوں انہیں مہم جوئی اور اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کا موقع ملے۔ { وَظَلَمُوْٓا اَنْفُسَہُمْ فَجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِیْثَ وَمَزَّقْنٰہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ } ”اور انہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تو ہم نے انہیں کہانیاں بنا دیا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دیا۔“ اس زمانے میں یمن تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی نا شکریوں اور نا فرمانیوں کے سبب اس قوم کا ایسا نام و نشان مٹا کہ اب دنیا میں ان کی صرف داستانیں ہی باقی رہ گئی ہیں۔ قوم سبا پر سیلاب کے عذاب کا واقعہ بہت زیادہ پرانا نہیں۔ حضور ﷺ کی ولادت سے تقریباً سوا سو سال قبل یعنی 450 عیسوی کے لگ بھگ یہ واقعہ پیش آیا۔ بند ٹوٹنے کی وجہ سے یہ علاقہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا تو زندہ بچ رہنے والے لوگ عراق اور عرب کے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے۔ خود اوس اور خزرج کے قبائل کا تعلق بھی یمن سے تھا اور یہ لوگ اس علاقے کی تباہی کے بعد یمن سے یثرب میں آکر آباد ہوئے تھے۔ قوم سبا کی تباہی کے بعد مذکورہ تجارتی شاہراہ پر قریش مکہ کی اجارہ داری قائم ہوگئی اور جس زمانے میں حضور ﷺ پر وحی کا آغاز ہوا اس زمانے میں قریش کے تجارتی قافلے جنوب میں یمن اور شمال میں شام و فلسطین کے درمیان آزادانہ سفر کرتے تھے۔ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ } ”یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو بڑا صبر کرنے والا ‘ شکر کرنے والا ہو۔“
يَعْلَمُ مَا يَلِجُ فِي الْأَرْضِ وَمَا يَخْرُجُ مِنْهَا وَمَا يَنْزِلُ مِنَ السَّمَاءِ وَمَا يَعْرُجُ فِيهَا ۚ وَهُوَ الرَّحِيمُ الْغَفُورُ
📘 آیت 2 { یَعْلَمُ مَا یَلِجُ فِی الْاَرْضِ وَمَا یَخْرُجُ مِنْہَا وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ وَمَا یَعْرُجُ فِیْہَا } ”وہ جانتا ہے جو کچھ زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے نازل ہوتا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے۔“ { وَہُوَ الرَّحِیْمُ الْغَفُوْرُ } ”اور وہ نہایت رحم کرنے والا ‘ بہت بخشنے والا ہے۔“
وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَيْهِمْ إِبْلِيسُ ظَنَّهُ فَاتَّبَعُوهُ إِلَّا فَرِيقًا مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
📘 آیت 20 { وَلَقَدْ صَدَّقَ عَلَیْہِمْ اِبْلِیْسُ ظَنَّہٗ } ”اور یقینا ابلیس نے ان کے بارے میں اپنا گمان سچ کر دکھایا“ { فَاتَّبَعُوْہُ اِلَّا فَرِیْقًا مِّنَ الْمُؤْمِنِیْنَ } ”سو ان سب نے اس ابلیس کی پیروی کی ‘ سوائے مومنین کی ایک جماعت کے۔“
وَمَا كَانَ لَهُ عَلَيْهِمْ مِنْ سُلْطَانٍ إِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ يُؤْمِنُ بِالْآخِرَةِ مِمَّنْ هُوَ مِنْهَا فِي شَكٍّ ۗ وَرَبُّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَفِيظٌ
📘 آیت 21 { وَمَا کَانَ لَہٗ عَلَیْہِمْ مِّنْ سُلْطٰنٍ } ”اور اس کو ان پر کوئی اختیار حاصل نہیں تھا“ ابلیس کا انسانوں پر کوئی زور نہیں چلتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو صرف مہلت دے رکھی ہے۔ اس مہلت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ انسانوں کو حیلے بہانے سے ورغلاتا اور انہیں سبز باغ دکھاتا ہے۔ اس سے زیادہ وہ کچھ نہیں کرسکتا اور اسے یہ مہلت بھی انسانوں کی آزمائش کے لیے دی گئی ہے۔ { اِلَّا لِنَعْلَمَ مَنْ یُّؤْمِنُ بِالْاٰخِرَۃِ } ”مگر یہ کہ ہم دیکھ لیں کہ کون ہے جو آخرت پر یقین رکھتا ہے“ تاکہ آخرت پر ایمان رکھنے والے لوگوں کی پہچان ہوجائے اور انہیں ہم چھانٹ کر الگ کرلیں : { مِمَّنْ ہُوَ مِنْہَا فِیْ شَکٍّ وَرَبُّکَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ حَفِیْظٌ} ”ان لوگوں سے جو اس سے متعلق شک میں ہیں۔ اور آپ کا پروردگار ہرچیز پر نگران ہے۔“
قُلِ ادْعُوا الَّذِينَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ ۖ لَا يَمْلِكُونَ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَمَا لَهُمْ فِيهِمَا مِنْ شِرْكٍ وَمَا لَهُ مِنْهُمْ مِنْ ظَهِيرٍ
📘 آیت 22 { قُلِ ادْعُوا الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ } ”اے نبی ﷺ ! ان مشرکین سے کہیے کہ تم بلائو ان کو جنہیں تم نے معبود گمان کیا ہے اللہ کے سوا۔“ جن دیویوں اور دیوتائوں کو تم اپنے اولیاء اور مدد گار سمجھتے ہو انہیں پکار کر دیکھ لو کہ تمہیں کیا جواب دیتے ہیں ! { لَا یَمْلِکُوْنَ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ } ”وہ ذرّہ برابر بھی اختیار نہیں رکھتے ‘ نہ آسمانوں میں اور نہ ہی زمین میں“ { وَمَا لَہُمْ فِیْہِمَا مِنْ شِرْکٍ وَّمَا لَہٗ مِنْہُمْ مِّنْ ظَہِیْرٍ } ”اور نہ ان دونوں زمین اور آسمان میں ان کا کوئی حصہ ہے ‘ اور نہ ہی ان میں سے کوئی اس کا مدد گار ہے۔“ مشرکین ِعرب کے ہاں دو طرح کے مشرکانہ اعتقادات پائے جاتے تھے۔ ان کا ایک عقیدہ تو یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کی کچھ محبوب ہستیاں ایسی ہیں جن کی بات کو وہ ٹال نہیں سکتا ‘ چاہے وہ اس کی بیٹیاں وہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے ہوں یا انسانوں میں سے اس کی محبوب شخصیات۔ چناچہ وہ سمجھتے تھے کہ اللہ کی ان محبوب ہستیوں کی سفارش سے آخرت میں وہ بچ جائیں گے۔ ان کا دوسرا مشرکانہ عقیدہ یہ تھا کہ اگرچہ اللہ اس کائنات کا خالق اور مالک ہے لیکن اس نے اس کائنات کا نظام چلانے کے لیے اپنے کچھ نائبین مقرر کر کے ان میں کچھ اختیارات تقسیم کر رکھے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ جس طرح دنیا کی سلطنتوں اور حکومتوں کا نظام چلانے کے لیے تمام بادشاہ اور حکمران اپنے نائبین مقرر کر کے انہیں کچھ اختیارات تفویض کردیتے ہیں اسی طرح اللہ کے مقرر کردہ نائبین اس کائنات کا نظام چلاتے ہیں ‘ اور وہ نہ صرف اللہ کے مدد گار ہیں بلکہ اس کے اختیارات میں بھی شریک ہیں۔ چناچہ آیت زیر مطالعہ میں اس دوسری قسم کے مشرکانہ عقیدے کی نفی کی گئی ہے۔ اس حوالے سے یہاں ایک اہم نکتہ یہ بھی نوٹ کر لیجیے کہ ہندوستانی دیو مالا mythology میں دیویوں اور دیوتائوں کا جو تصور پایا جاتا ہے اس میں اور ہمارے ایمان بالملائکہ میں بظاہر بہت باریک اور نازک سا فرق ہے۔ ہم بھی مانتے ہیں کہ کائنات کے اندر فرشتے اللہ کی طرف سے تفویض شدہ مختلف فرائض ادا کر رہے ہیں۔ اس لحاظ سے فرشتے گویا اللہ کی کائناتی حکومت کی ”سول سروس“ ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہمارا یہ عقیدہ بھی ہے کہ ان کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے ‘ وہ وہی کچھ کرتے ہیں جس کا انہیں حکم ملتا ہے۔ لہٰذا ان میں سے کسی کو مدد کے لیے پکارنا ‘ کسی سے کسی قسم کی کوئی دعا کرنا یا استغاثہ کرنا جائز نہیں۔ کسی کے نفع یا نقصان کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے ‘ اس لیے دعا کے لیے پکارنا بھی اسی کو ہے۔ استمداد بھی اسی سے ہے اور استغاثہ بھی اسی سے۔ وہ قادرمطلق ہے ‘ وہ چاہے تو کسی کی براہ راست مدد کر دے یا کسی کی تکلیف رفع کرنے کے لیے کسی فرشتے کو بھیج دے۔ اس کے برعکس دیو مالائی تصور یہ ہے کہ جو ہستیاں اللہ کے نائبین کے طور پر کائنات کے اندر مختلف فرائض سنبھالے ہوئے ہیں وہ اللہ کے اختیارات میں بھی حصہ دار ہیں۔ چناچہ ان کے حضور اپنی حاجات بھی پیش کی جاسکتی ہیں ‘ ان سے دعا بھی کی جاسکتی ہے اور ان سے استغاثہ بھی کیا جاسکتا ہے ‘ جس کے جواب میں وہ اپنے پکارنے والوں کی حاجت روائی بھی کرتے ہیں اور مشکل کشائی بھی۔ چناچہ نظریاتی طور پر دیکھا جائے تو یہ باریک سا فرق دراصل زمین و آسمان کا فرق ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دیومالائی مشرکانہ تصورات دراصل ”ایمان بالملائکہ“ ہی کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔
وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهُ إِلَّا لِمَنْ أَذِنَ لَهُ ۚ حَتَّىٰ إِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوبِهِمْ قَالُوا مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ ۖ قَالُوا الْحَقَّ ۖ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْكَبِيرُ
📘 آیت 23 { وَلَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَۃُ عِنْدَہٗٓ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَہٗ } ”اور نہ نفع دے گی اس کے ہاں کوئی سفارش مگر اسی کے حق میں جس کے لیے اس نے اجازت دی ہو۔“ { حَتّٰٓی اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِہِمْ } ”یہاں تک کہ جب گھبراہٹ دور کردی جاتی ہے ان کے دلوں سے“ یہ فرشتوں کا حال بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ ان کو کوئی حکم بھیجتا ہے تو اس کی عظمت اور جلالت کی وجہ سے ان پر دہشت کی سی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ پھر جب ان سے اس دہشت کا اثر زائل کردیا جاتا ہے تو : { قَالُوْا مَاذَالا قَالَ رَبُّکُمْ } ”وہ پوچھتے ہیں تمہارے ربّ نے کیا فرمایا تھا ؟“ { قَالُوا الْحَقَّ وَہُوَ الْعَلِیُّ الْکَبِیْرُ } ”وہ کہتے ہیں کہ اُس نے جو کچھ فرمایا ہے وہ حق ہے ‘ اور وہ بہت بلند وبالا ‘ بہت بڑا ہے۔“
۞ قُلْ مَنْ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ قُلِ اللَّهُ ۖ وَإِنَّا أَوْ إِيَّاكُمْ لَعَلَىٰ هُدًى أَوْ فِي ضَلَالٍ مُبِينٍ
📘 آیت 24 { قُلْ مَنْ یَّرْزُقُکُمْ مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ } ”آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ کون ہے جو تمہیں رزق بہم پہنچاتا ہے آسمانوں اور زمین سے ؟“ { قُلِ اللّٰہُ وَاِنَّآ اَوْ اِیَّاکُمْ لَعَلٰی ہُدًی اَوْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ } ”آپ ﷺ کہیے کہ اللہ ! اور یقینا ہم یا تم لوگ یا تو ہدایت پر ہیں یا کھلی گمراہی میں !“ یعنی ہمارے اور تمہارے عقائد و نظریات میں بعد المشرقین ہے۔ ان متضاد عقائد میں سے صرف ایک عقیدہ ہی درست ہوسکتا ہے۔ چناچہ منطق اور عقل کا فیصلہ یہی ہے کہ ہم دونوں میں سے ایک گروہ ہدایت پر ہے اور دوسرا کھلی گمراہی میں پڑا ہوا ہے۔
قُلْ لَا تُسْأَلُونَ عَمَّا أَجْرَمْنَا وَلَا نُسْأَلُ عَمَّا تَعْمَلُونَ
📘 آیت 25 { قُلْ لَّا تُسْئَلُوْنَ عَمَّآ اَجْرَمْنَا } ”آپ ﷺ کہیے کہ تم سے نہیں پوچھا جائے گا ہمارے جرائم کے بارے میں“ تم سمجھتے ہو کہ ہم نے نیا دین گھڑ لیا ہے ‘ ہم نے تمہارے معبودوں کو جھٹلایا ہے اور ہم نے تمہارے خاندانوں میں پھوٹ ڈال دی ہے اور یوں ہم بہت سنگین جرائم کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس حوالے سے تم لوگ خاطر جمع رکھو ‘ ہمارے ان جرائم کے بارے میں تم سے پوچھ گچھ نہیں ہوگی۔ اپنے ان ”جرائم“ کا حساب ہم خود ہی دیں گے۔ یہاں پر مخالف فریق کو گمراہ کہنے کے بجائے دونوں میں سے کسی ایک فریق کی گمراہی کی بات کر کے اور ان کے الزام کے مطابق جرائم کو خود اپنی طرف منسوب کر کے ”حکمت ِتبلیغ“ کا بہت اہم سبق سمجھایا گیا ہے۔ { وَلَا نُسْئَلُ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ } ”اور نہ ہی ہم سے پوچھا جائے گا تمہارے اعمال کے بارے میں۔“ تبلیغ کا حکیمانہ اسلوب ملاحظہ ہو ‘ جہاں اپنے لیے لفظ ”جرم“ استعمال ہوا ہے ‘ وہاں مخالف کے لیے صرف ”عمل“ کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ کسی کی مخالفانہ عصبیت کو انگیخت کا بہانہ نہ ملے اور کسی کے اندر اگر کچھ سوچنے اور غور کرنے کی آمادگی پائی جاتی ہو تو اس کا دروازہ بند نہ ہونے پائے۔
قُلْ يَجْمَعُ بَيْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ يَفْتَحُ بَيْنَنَا بِالْحَقِّ وَهُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِيمُ
📘 آیت 26 { قُلْ یَجْمَعُ بَیْنَنَا رَبُّنَا ثُمَّ یَفْتَحُ بَیْنَنَا بِالْحَقِّ وَہُوَ الْفَتَّاحُ الْعَلِیْمُ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ ہمارا رب ہم سب کو ایک دن جمع کرے گا ‘ پھر وہ فیصلہ کر دے گا ہمارے مابین حق کے ساتھ ‘ اور وہ خوب فیصلہ کرنے والا ‘ خوب جاننے والا ہے۔“ اس دن جو فیصلہ بھی ہوگا بر بنائے علم ہوگا کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایک ایک شخص کی ایک ایک حرکت کا علم ہے۔
قُلْ أَرُونِيَ الَّذِينَ أَلْحَقْتُمْ بِهِ شُرَكَاءَ ۖ كَلَّا ۚ بَلْ هُوَ اللَّهُ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
📘 آیت 27 { قُلْ اَرُوْنِیَ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہٖ شُرَکَآئَ کَلَّا بَلْ ہُوَ اللّٰہُ الْعَزِیْزُ الْحَکِیْمُ } ”آپ ﷺ کہیے کہ ذرا مجھے دکھائو تو وہ معبود جنہیں تم نے شریک بنا کر اس کے ساتھ ملا رکھا ہے ! کوئی نہیں ! بلکہ وہی اللہ ہے ‘ بہت زبردست ‘ نہایت حکمت والا۔“ وہ اپنی ذات میں خود ”العزیز“ غالب ‘ زبردست ہے ‘ اس کی قدرت کسی اور کے بل پر قائم نہیں ‘ اسے کسی سہارے کی ضرورت نہیں ‘ وہ کسی اور کی مدد کا محتاج نہیں۔
وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا كَافَّةً لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَنَذِيرًا وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
📘 آیت 28 { وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا } ”اور اے نبی ﷺ ! ہم نے نہیں بھیجا ہے آپ کو مگر تمام بنی نوع انسانی کے لیے بشیر اور نذیر بنا کر“ تمام انبیاء و رسل علیہ السلام میں یہ اعزاز صرف محمد رسول اللہ ﷺ کے حصے میں آیا کہ آپ ﷺ کو تمام بنی نوع انسانی کی طرف رسول ﷺ بنا کر بھیجا گیا۔ اس سلسلے میں یہ اہم نکتہ بھی نوٹ کیجئے کہ یہ فیصلہ تاریخ انسانی کے اس مرحلے پر کیا گیا جب انسانی تمدن اور ذرائع رسل و رسائل کی ترقی کے باعث آپ ﷺ کی دعوت کو دنیا کے کونے کونے میں ایک ایک شخص تک پہنچانا عملی طور پر ممکن ہونے کے قریب تھا۔ ورنہ اس سے پہلے عملی طور پر کسی نبی یا رسول کی دعوت کو پوری نوع انسانی تک پہنچانا ممکن ہی نہیں تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر آئے وہ مخصوص علاقوں میں ایک ایک قوم کی طرف مبعوث ہو کر آئے۔ اسی لیے آپ ﷺ سے پہلے کے پیغمبروں کی بعثت کا تعارف قرآن حکیم میں اس طرح کرایا گیا ہے : { وَاِلٰی عَادٍ اَخَاہُمْ ہُوْدًاط } ھود : 50 { وَاِلٰی ثَمُوْدَ اَخَاہُمْ صٰلِحًا 7} ھود : 61 ‘ { وَاِلٰی مَدْیَنَ اَخَاہُمْ شُعَیْبًا } ھود : 84۔ لیکن حضور ﷺ کی بعثت کے بارے میں یہاں یوں فرمایا گیا : { وَمَآ اَرْسَلْنٰکَ اِلَّا کَآفَّۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّنَذِیْرًا }۔ { وَّلٰـکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔“
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا الْوَعْدُ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
📘 آیت 29 { وَیَـقُوْلُوْنَ مَتٰی ہٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ } ”اور وہ پوچھتے ہیں کہ کب پورا ہوگا یہ وعدہ ‘ اگر تم لوگ سچے ہو !“ مشرکین کے اس سوال میں عذاب یا قیامت دونوں کی طرف اشارہ موجود ہے کہ آپ ﷺ ہمیں جو عذاب کی دھمکیاں دیتے ہیں یا قیامت برپا ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو ذرا یہ بھی تو بتائیں کہ آپ ﷺ کے یہ وعدے کب پورے ہوں گے ؟
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ ۖ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ عَالِمِ الْغَيْبِ ۖ لَا يَعْزُبُ عَنْهُ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ وَلَا أَصْغَرُ مِنْ ذَٰلِكَ وَلَا أَكْبَرُ إِلَّا فِي كِتَابٍ مُبِينٍ
📘 آیت 3 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَاْتِیْنَا السَّاعَۃُ } ”اور یہ کافر کہتے ہیں کہ ہم پر قیامت کبھی نہیں آئے گی۔“ عام طور پر ”السَّاعۃ“ کا ترجمہ قیامت ہی کردیا جاتا ہے ‘ مگر جیسا کہ سورة لقمان کی آیت 34 کے ضمن میں بھی بتایا جا چکا ہے السَّاعۃ اور قیامت دو مختلف الفاظ ہیں اور دونوں کے معانی بھی الگ الگ ہیں۔ السَّاعۃ سے مراد وہ خاص گھڑی ہے جب زمین میں ایک عظیم زلزلہ برپا ہوگا ‘ ستاروں اور سیاروں کا پورا نظام درہم برہم ہوجائے گا اور دنیا مکمل طور پر تباہ ہوجائے گی۔ جبکہ القیامۃ اس کے بعد کی کیفیت کا نام ہے جب دنیا دوبارہ نئی شکل میں پیدا ہوگی اور تمام انسانوں کو زندہ کر کے ایک جگہ اکٹھے کرلیا جائے گا۔ کچھ عرصہ پہلے تک تو سائنسدانوں کا خیال تھا کہ یہ کائنات ابدی ہے اور اس کا اختتام ممکن نہیں ‘ لیکن اب فزکس کے میدان میں نئی نئی تحقیقات کی روشنی میں سائنسدانوں کا جو نیا موقف سامنے آیا ہے وہ بھی یہی ہے کہ یہ کائنات ابدی نہیں ہے ‘ اس کا اختتام ایک ّمسلمہ حقیقت ہے اور یہ کہ جس طرح اپنے آغاز کے بعد یہ ایک پھلجھڑی کی طرح پھیلتی رہی ہے ‘ اسی طریقے سے اختتام پذیر ہوجائے گی۔ { قُلْ بَلٰی وَرَبِّیْ لَتَاْتِیَنَّکُمْ عٰلِمِ الْغَیْبِ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے ‘ کیوں نہیں ! میرے رب کی قسم ‘ جو تمام پوشیدہ چیزوں کو جاننے والا ہے ‘ وہ تم پر ضرور آکر رہے گی۔“ { لَا یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰتِ وَلَا فِی الْاَرْضِ } ”اس سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی ذرّہ برابر بھی کوئی چیز نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں“ { وَلَآ اَصْغَرُ مِنْ ذٰلِکَ وَلَآ اَکْبَرُ اِلَّا فِیْ کِتٰبٍ مُّبِیْنٍ } ”اور نہ کوئی اس سے چھوٹی چیز اور نہ بڑی ‘ مگر وہ ایک روشن کتاب میں لکھی ہوئی موجود ہے۔“ یہ قیامت کیوں آئے گی ؟ اس کا منطقی جواز کیا ہے ؟ اس کا جواب اگلی آیات میں دیا گیا ہے۔
قُلْ لَكُمْ مِيعَادُ يَوْمٍ لَا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ
📘 آیت 30 { قُلْ لَّکُمْ مِّیْعَادُ یَوْمٍ لَّا تَسْتَاْخِرُوْنَ عَنْہُ سَاعَۃً وَّلَا تَسْتَقْدِمُوْنَ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ تمہارے لیے ایک خاص دن کی میعاد مقرر ہے ‘ جس سے تم نہ تو ایک گھڑی پیچھے ہٹ سکو گے اور نہ آگے بڑھ سکو گے۔“
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَنْ نُؤْمِنَ بِهَٰذَا الْقُرْآنِ وَلَا بِالَّذِي بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ وَلَوْ تَرَىٰ إِذِ الظَّالِمُونَ مَوْقُوفُونَ عِنْدَ رَبِّهِمْ يَرْجِعُ بَعْضُهُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ الْقَوْلَ يَقُولُ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لَوْلَا أَنْتُمْ لَكُنَّا مُؤْمِنِينَ
📘 آیت 31 { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ بِہٰذَا الْقُرْاٰنِ وَلَا بِالَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ } ”اور کہا ان کافروں نے کہ ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے اس قرآن پر اور نہ ہی اس قرآن پر جو اس سے پہلے تھا۔“ یہ آیت اس لحاظ سے بہت اہم ہے کہ اس میں لفظ قرآن کا اطلاق تورات پر بھی ہوا ہے۔ اس نکتہ کو سمجھنے کے لیے سورة القصص کی آیت 48 کی تشریح بھی مدنظر رہنی چاہیے ‘ جس میں کفار کا وہ قول نقل ہوا ہے جس میں انہوں نے قرآن اور تورات کو سِحْرٰنِ تَظَاہَرَا قرار دیا تھا۔ ان کے اس الزام کا مطلب یہ تھا کہ تورات اور قرآن دراصل دو جادو ہیں جنہوں نے باہم گٹھ جوڑ کرلیا ہے۔ تورات میں قرآن اور محمد ﷺ کے بارے میں پیشین گوئیاں ہیں جبکہ محمد ﷺ کا قرآن تورات کی تصدیق کررہا ہے۔ اس طرح ان دونوں نے ایکا کرکے ہمارے خلاف متحدہ محاذ بنا لیا ہے۔ گویا انہوں نے اپنے اس بیان کے ذریعے قرآن اور تورات کے ایک ہونے کی تصدیق کی تھی۔ آیت زیر مطالعہ میں یہی بات ایک دوسرے انداز میں بیان کی گئی ہے۔ قرآن حکیم کے اس مطالعے کے دوران یہ اصول کئی بار دہرا یا جا چکا ہے کہ قرآن نے تورات کے جن احکام کی نفی نہیں کی وہ احکام حضور ﷺ نے اپنی شریعت میں قائم رکھے ہیں۔ مثلاً قتل ِمرتد ُ اور رجم تورات کے احکام تھے جن کو حضور ﷺ نے برقرار رکھا۔ اور اسی اصول کے تحت قرآن میں کوئی صریح حکم نہ ہونے کے باوجود بھی حضور ﷺ نے رجم کیا ہے اور خلفائے راشدین رض سے بھی رجم کرنا ثابت ہے۔ چناچہ سوائے خوارج کے اہل ِسنت اور اہل تشیع ّکے تمام مکاتب فکر اس پر متفق ہیں کہ شادی شدہ زانی کی سزا رجم یعنی سنگسار کرنا ہے۔ البتہ قرآن پہلی الہامی کتابوں پر مُھَیْمِنْ نگران ہے ‘ یعنی اس کی حیثیت کسوٹی کی ہے۔ پہلی کتابوں کے اندر جو تحریفات ہوگئی تھیں ان کی تصحیح اس قرآن کے ذریعے ہوئی ہے۔ یہاں پر میں ایک حدیث کا حوالہ دیناچاہتا ہوں۔ حضرت جابر بن عبداللہ رض سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر رض نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک کتاب تورات کا نسخہ لے کر آئے جو انہیں اہل کتاب میں سے کسی نے دی تھی اور اسے آپ ﷺ کو پڑھ کر سنانا شروع کردیا۔ اس پر آپ ﷺ ناراض ہوئے اور فرمایا : أَمُتَھَوِّکُونَ فِیْھَا یَا ابْنَ الْخَطَّابِ ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَقَدْ جِئْتُکُمْ بِہٖ بَیْضَائَ نَقِیَّۃً لَا تَسْأَلُـوْھُمْ عَنْ شَیْئٍ فَیُخْبِرُوْکُمْ بِحَقٍّ فَتُکَذِّبُوْا بِہٖ اَوْ بِبَاطِلٍ فَتُصَدِّقُوْا بِہٖ ، وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَـوْ اَنَّ کَانَ مُوْسٰی حَیًّا مَا وَسِعَہُ اِلاَّ اَنْ یَّـتَّبِعَنِی 1”اے خطاب کے بیٹے ! کیا تم لوگ اس تورات کے بارے میں متحیر ہو ؟ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! میں تمہارے پاس یہ قرآن روشن اور پاکیزہ اور ہر آمیزش سے پاک لے کر آیا ہوں۔ ان اہل کتاب سے کسی چیز کے بارے میں نہ پوچھو ‘ مبادا وہ تمہیں حق بتائیں اور تم اس کو جھٹلا دو ‘ یا باطل خبر دیں اور تم اس کی تصدیق کر دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر موسیٰ d زندہ ہوتے تو ان کے پاس بھی میری پیروی کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔“ حضور ﷺ کے اس فرمان کا مدعا بہت واضح ہے کہ قرآن کے احکام آخری اور حتمی ہیں ‘ تورات کے کسی حکم سے قرآن کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا قرآن کے کسی حکم کے سامنے تورات کے کسی حکم کا حوالہ دینے کا کوئی جواز نہیں۔ { وَلَوْ تَرٰٓی اِذِ الظّٰلِمُوْنَ مَوْقُوْفُوْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ } ”اور کاش آپ دیکھیں جب یہ ظالم کھڑے کیے جائیں گے اپنے رب کے سامنے۔“ { یَرْجِعُ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضِ نِ الْقَوْلَ } ”وہ ایک دوسرے کی طرف بات لوٹائیں گے۔“ یعنی آپس میں ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرائیں گے۔ { یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا لَوْلَآ اَنْتُمْ لَکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ } ”جو لوگ کمزور تھے وہ ان سے کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے کہ اگر تم لوگ نہ ہوتے تو ہم ضرور مومن ہوتے۔“ تاویل ِخاص کے لحاظ سے یہاں قریش کے بڑے بڑے سرداروں کی طرف اشارہ ہے جو اپنے عوام کو حضور ﷺ سے برگشتہ کرنے کے لیے طرح طرح کے حربے آزماتے تھے۔ چناچہ قیامت کے دن ان کے عوام انہیں کوس رہے ہوں گے کہ اگر تم لوگ ہماری راہ میں حائل نہ ہوتے تو ہم ایمان لا چکے ہوتے اور آج ہمیں یہ روز بد نہ دیکھنا پڑتا۔
قَالَ الَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا لِلَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا أَنَحْنُ صَدَدْنَاكُمْ عَنِ الْهُدَىٰ بَعْدَ إِذْ جَاءَكُمْ ۖ بَلْ كُنْتُمْ مُجْرِمِينَ
📘 آیت 32 { قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْٓا اَنَحْنُ صَدَدْنٰکُمْ عَنِ الْہُدٰی بَعْدَ اِذْ جَآئَ کُمْ بَلْ کُنْتُمْ مُّجْرِمِیْنَ } ”جواباً وہ کہیں گے جو بڑے بنے ہوئے تھے ان سے جو کمزور تھے : کیا ہم نے تمہیں ہدایت سے روکا تھا ‘ اس کے بعد کہ وہ تمہارے پاس آگئی تھی ؟ بلکہ تم خود ہی مجرم تھے۔“
وَقَالَ الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا بَلْ مَكْرُ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ إِذْ تَأْمُرُونَنَا أَنْ نَكْفُرَ بِاللَّهِ وَنَجْعَلَ لَهُ أَنْدَادًا ۚ وَأَسَرُّوا النَّدَامَةَ لَمَّا رَأَوُا الْعَذَابَ وَجَعَلْنَا الْأَغْلَالَ فِي أَعْنَاقِ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ هَلْ يُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
📘 آیت 33 { وَقَالَ الَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْا بَلْ مَکْرُ الَّیْلِ وَالنَّہَارِ } ”اس پر کہیں گے وہ جو کمزور تھے ان سے جو بڑے بنے ہوئے تھے بلکہ یہ تمہاری رات دن کی سازشیں تھیں“ { اِذْ تَاْمُرُوْنَنَآ اَنْ نَّکْفُرَ بِاللّٰہِ وَنَجْعَلَ لَہٗٓ اَنْدَادًا } ”جب تم ہمیں حکم دیتے تھے کہ ہم اللہ کا کفر کریں اور اس کے لیے مد ِمقابل ٹھہرائیں۔“ { وَاَسَرُّوا النَّدَامَۃَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ } ”اور وہ چھپائیں گے ندامت کو جب وہ عذاب کو دیکھ لیں گے۔“ { وَجَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِیْٓ اَعْنَاقِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا } ”اور ہم نے طوق ڈال دیے ہیں ان کافروں کی گردنوں میں۔ ‘ ‘ { ہَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ } ”ان کو بدلہ نہیں ملے گا مگر اسی کا جو عمل وہ کرتے تھے۔“
وَمَا أَرْسَلْنَا فِي قَرْيَةٍ مِنْ نَذِيرٍ إِلَّا قَالَ مُتْرَفُوهَا إِنَّا بِمَا أُرْسِلْتُمْ بِهِ كَافِرُونَ
📘 آیت 34 { وَمَآ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَۃٍ مِّنْ نَّذِیْرٍ اِلَّا قَالَ مُتْرَفُوْہَآلا اِنَّا بِمَآ اُرْسِلْتُمْ بِہٖ کٰفِرُوْنَ } ”اور ہم نے نہیں بھیجا کسی بھی بستی میں کوئی خبردار کرنے والا مگر ہمیشہ ایسا ہوا کہ اس کے آسودہ حال لوگوں نے کہا کہ جو چیز آپ دے کر بھیجے گئے ہیں ہم اس کے منکر ہیں۔“
وَقَالُوا نَحْنُ أَكْثَرُ أَمْوَالًا وَأَوْلَادًا وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
📘 آیت 35 { وَقَالُوْا نَحْنُ اَکْثَرُ اَمْوَالًا وَّاَوْلَادًالا وَّمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِیْنَ } ”اور انہوں نے کہا کہ ہم اموال اور اولاد میں بڑھ کر ہیں اور ہمیں عذاب نہیں دیا جائے گا۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیں دولت اور اولاد جیسی نعمتوں سے نوازا گیا ہے تو اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ ہم سے خوش ہے اور ہم اس کے منظورِ نظر ہیں۔ چناچہ جس طرح ہمیں دنیا میں خوشحالی حاصل ہے اسی طرح ہمیں آخرت میں بھی عیش کی زندگی ملے گی اور عذاب تو ہمیں بالکل بھی نہیں دیا جائے گا۔
قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
📘 آیت 36 { قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ وَیَقْدِرُ } ”آپ ﷺ کہیے کہ یقینا میرا رب جس کے لیے چاہتا ہے دنیا کا رزق وسیع کردیتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے“ اللہ تعالیٰ کے ہاں دنیا کی نعمتوں کی تقسیم لوگوں کے اعمال یا اعتقاد کی بنیاد پر نہیں ہوتی۔ چناچہ اگر کسی کے ہاں مال و دولت کی کثرت ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ وہ اللہ کا منظورِ نظر ہے۔ حضرت سہل بن سعد الساعدی رض روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : لَــوْ کَانَتِ الدُّنْیَا تَعْدِلُ عِنْدَ اللّٰہِ جَنَاحَ بَعُوْضَۃٍ مَا سَقٰی کَافِرًا مِنْھَا شَرْبَۃَ مَائٍ 1 ”اگر دنیا کی وقعت اللہ تعالیٰ کے ہاں مچھر کے ایک َپر کے برابر بھی ہوتی تو وہ کسی کافر کو پانی کا ایک گھونٹ بھی پینے کو نہ دیتا“۔ چناچہ جس مال اور اولاد پر یہ لوگ اتراتے پھرتے ہیں اللہ کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ { وَلٰــکِنَّ اَکْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ } ”لیکن اکثر لوگ علم نہیں رکھتے۔“ اکثر لوگ اللہ کی اس تقسیم کے فلسفے کے بارے میں لا علم ہیں۔ وہ یہ بات نہیں سمجھتے کہ رزق کی کمی یا زیادتی کا تعلق کسی انسان کے اللہ کے ہاں محبوب یا مغضوب ہونے سے نہیں ہے۔
وَمَا أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ بِالَّتِي تُقَرِّبُكُمْ عِنْدَنَا زُلْفَىٰ إِلَّا مَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ لَهُمْ جَزَاءُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوا وَهُمْ فِي الْغُرُفَاتِ آمِنُونَ
📘 آیت 37 { وَمَآ اَمْوَالُکُمْ وَلَآاَوْلَادُکُمْ بِالَّتِیْ تُقَرِّبُکُمْ عِنْدَنَا زُلْفٰٓی } ”اور دیکھو ! تمہارے اموال اور تمہاری اولاد ایسی چیزیں نہیں کہ وہ تمہیں مرتبے میں ہمارا مقرب ّبنا دیں“ { اِلَّا مَنْ اٰمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا } ”سوائے اس شخص کے جو ایمان لایا اور اس نے نیک اعمال کیے۔“ { فَاُولٰٓئِکَ لَہُمْ جَزَآئُ الضِّعْفِ بِمَا عَمِلُوْا وَہُمْ فِی الْْغُرُفٰتِ اٰمِنُوْنَ } ”تو ایسے لوگوں کے لیے ان کے اعمال کا دو گنا اجر ہے اور وہ بالا خانوں میں امن سے رہیں گے۔“
وَالَّذِينَ يَسْعَوْنَ فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَٰئِكَ فِي الْعَذَابِ مُحْضَرُونَ
📘 آیت 38 { وَالَّذِیْنَ یَسْعَوْنَ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِکَ فِی الْعَذَابِ مُحْضَرُوْنَ } ”اور وہ لوگ جو کوشش کر رہے ہیں ہماری آیات کو ناکام کرنے کی وہی لوگ عذاب میں حاضر کیے جائیں گے۔“ آیاتِ الٰہی کے نزول کا مقصد تو ایمان کی روشنی کو پھیلانا اور لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جانا ہے۔ چناچہ جو لوگ اس عمل کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہے ہیں وہ اللہ کی پکڑ سے بچ نہیں سکیں گے۔
قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَيَقْدِرُ لَهُ ۚ وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ ۖ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ
📘 آیت 39 { قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآئُ مِنْ عِبَادِہٖ وَیَقْدِرُ لَہٗ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ یقینا میرا ربّ کشادہ کرتا ہے رزق جس کے لیے چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے اور جسے چاہتا ہے اس کے لیے تنگ کردیتا ہے۔“ { وَمَآ اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَیْئٍ فَہُوَ یُخْلِفُہٗ } ”اور جو کچھ بھی تم لوگ خرچ کرتے ہو تو وہ اسے لوٹا دیتا ہے۔“ یعنی اللہ کی رضا کے لیے جو مال خرچ کیا جاتا ہے ایک تو اس کا اجر آخرت میں ملے گا جو دس گنا سے سات سو گنا تک ہوگا ‘ بلکہ قرآن میں اس سے بھی زیادہ کی بشارت ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی اس کا بدل عطا فرماتا ہے۔ چناچہ اللہ کے راستے میں خرچ کرتے ہوئے انسان کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے اور دل میں یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ اس دنیا میں اس کا نقد معاوضہ بھی عطا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے رزق کے نئے نئے مواقع پیدا فرماتا ہے اور ان کے وسائل میں خصوصی برکتیں نازل فرماتا ہے۔ { وَہُوَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ } ”اور وہ بہترین رزق دینے والا ہے۔“
لِيَجْزِيَ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَرِزْقٌ كَرِيمٌ
📘 آیت 4 { لِّیَجْزِیَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ } ”تاکہ وہ جزا دے ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے۔“ انصاف کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہر انسان کو اس کے اعمال کا بدلہ ملے۔ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے دنیوی لذائذ کو چھوڑا ‘ اپنی آسائشوں کو قربان کیا ‘ حق کا َعلم بلند کرنے کے لیے اپنا دنیوی مستقبل دائو پر لگا دیا ‘ اپنی جان جوکھوں میں ڈالی اور اللہ کے راستے میں جہاد و قتال کیا ‘ اگر انہیں ان کی کوششوں کا بھر پور صلہ نہیں دیا جاتا اور انہیں انعام و اکرام سے نہیں نوازا جاتا تو ان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی اور ناانصافی ہوگی۔ چناچہ تمام انسانوں کو ان کے اعمال کے مطابق بھر پور صلہ دینے کے لیے ایک دوسری دنیا کا قیام نا گزیر ہے۔ { اُولٰٓئِکَ لَہُمْ مَّغْفِرَۃٌ وَّرِزْقٌ کَرِیْمٌ} ”یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں مغفرت بھی ہوگی اور بہت با عزت روزی بھی۔“
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا ثُمَّ يَقُولُ لِلْمَلَائِكَةِ أَهَٰؤُلَاءِ إِيَّاكُمْ كَانُوا يَعْبُدُونَ
📘 آیت 40 { وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیْعًا ثُمَّ یَقُوْلُ لِلْمَلٰٓئِکَۃِ اَہٰٓؤُلَآئِ اِیَّاکُمْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ } ”اور جس دن وہ جمع کرے گا ان سب کو ‘ پھر فرشتوں سے فرمائے گا : کیا یہ لوگ تمہیں پوجا کرتے تھے ؟“
قَالُوا سُبْحَانَكَ أَنْتَ وَلِيُّنَا مِنْ دُونِهِمْ ۖ بَلْ كَانُوا يَعْبُدُونَ الْجِنَّ ۖ أَكْثَرُهُمْ بِهِمْ مُؤْمِنُونَ
📘 آیت 41 { قَالُوْا سُبْحٰنَکَ اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِہِمْ } ”وہ کہیں گے : ُ تو پاک ہے ‘ تو ہمارا ولی ہے ان کے سوا۔“ یعنی ہمارا آقا اور مالک تو تو ُ ہی ہے ‘ ان سے ہمارا کوئی سروکار نہیں۔ { بَلْ کَانُوْا یَعْبُدُوْنَ الْجِنَّج اَکْثَرُہُمْ بِہِمْ مُّؤْمِنُوْنَ } ”بلکہ یہ لوگ ِجنات ّکی عبادت کیا کرتے تھے ‘ ان کی اکثریت ان ہی پر ایمان رکھتی تھی۔“
فَالْيَوْمَ لَا يَمْلِكُ بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا وَنَقُولُ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا ذُوقُوا عَذَابَ النَّارِ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ
📘 آیت 42 { فَالْیَوْمَ لَا یَمْلِکُ بَعْضُکُمْ لِبَعْضٍ نَّفْعًا وَّلَا ضَرًّا } ”تو آج کے دن تم میں سے کوئی کسی دوسرے کے لیے کچھ اختیار نہیں رکھتا ‘ نہ نفع کا اور نہ نقصان کا“ { وَنَقُوْلُ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّتِیْ کُنْتُمْ بِہَا تُکَذِّبُوْنَ } ”اور ہم کہیں گے ان ظالموں سے کہ اب چکھو اس آگ کے عذاب کا مزا جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔“
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا بَيِّنَاتٍ قَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا رَجُلٌ يُرِيدُ أَنْ يَصُدَّكُمْ عَمَّا كَانَ يَعْبُدُ آبَاؤُكُمْ وَقَالُوا مَا هَٰذَا إِلَّا إِفْكٌ مُفْتَرًى ۚ وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لِلْحَقِّ لَمَّا جَاءَهُمْ إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ
📘 آیت 43 { وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّا رَجُلٌ یُّرِیْدُ اَنْ یَّصُدَّکُمْ عَمَّا کَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُکُمْ } ”اور جب انہیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں ہماری روشن آیات ‘ تو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ یہ شخص تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم کو ان سے روک دے جن کی عبادت تمہارے آباء و اَجداد کرتے تھے“ { وَقَالُوْا مَا ہٰذَآ اِلَّآ اِفْکٌ مُّفْتَرًی } ”اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک گھڑا ہواجھوٹ۔“ یعنی یہ قرآن دراصل محمد ﷺ کا اپنا کلام ہے جس کو وہ وحی کے نام سے پیش کر رہے ہیں۔ { وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلْحَقِّ لَمَّا جَآئَ ہُمْ اِنْ ہٰذَآ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ} ”اور ان کافروں نے حق کے بارے میں جبکہ یہ ان کے پاس آگیا ‘ کہا کہ یہ کچھ بھی نہیں ہے مگر ایک کھلا ہواجادو۔“
وَمَا آتَيْنَاهُمْ مِنْ كُتُبٍ يَدْرُسُونَهَا ۖ وَمَا أَرْسَلْنَا إِلَيْهِمْ قَبْلَكَ مِنْ نَذِيرٍ
📘 آیت 44 { وَمَآ اٰتَیْنٰہُمْ مِّنْ کُتُبٍ یَّدْرُسُوْنَہَا } ”اور ہم نے انہیں ایسی کوئی کتابیں نہیں دیں جنہیں یہ پڑھتے ہوں“ یعنی ان لوگوں پر ہماری طرف سے کوئی ایسی کتاب تو نازل نہیں ہوئی جس میں لکھا ہو کہ لات ‘ منات اور عزیٰ ّوغیرہ کو ہم نے کچھ خصوصی اختیارات تفویض کر رکھے ہیں۔ اگر ان کے پاس ان کے ایسے دعو وں کی کوئی سند ہے تو پیش کریں۔ { وَمَآ اَرْسَلْنَآ اِلَیْہِمْ قَبْلَکَ مِنْ نَّذِیْرٍ } ”اور نہ ہی ہم نے آپ ﷺ سے پہلے ان کی طرف کوئی خبردار کرنے والا بھیجا تھا۔“ حضرت اسماعیل علیہ السلام اور نبی آخر الزماں ﷺ کے درمیان تین ہزار سال کا عرصہ گزر گیا۔ اس عرصے کے دوران بنو اسماعیل علیہ السلام کے ہاں کوئی نبی یا رسول نہیں آیا۔
وَكَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَمَا بَلَغُوا مِعْشَارَ مَا آتَيْنَاهُمْ فَكَذَّبُوا رُسُلِي ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ
📘 آیت 45 { وَکَذَّبَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ } ”اور ان لوگوں نے بھی جھٹلایا تھا جو ان سے پہلے تھے“ { وَمَا بَلَغُوْا مِعْشَارَ مَـآ اٰتَـیْنٰہُمْ } ”اور یہ تو اس کے دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا تھا“ مثلاً قوم عاد کو جو شان و شوکت عطا ہوئی تھی اور اپنے علاقے میں جیسا ان کا رعب ودبدبہ تھا قریش مکہ کو تو اس کا ُ عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہے۔ { فَکَذَّبُوْا رُسُلِیْقف فَکَیْفَ کَانَ نَـکِیْرِ } ”تو انہوں نے میرے رسولوں علیہ السلام کو جھٹلایا ‘ پس کیسی رہی ان کے لیے میری پکڑ !“
۞ قُلْ إِنَّمَا أَعِظُكُمْ بِوَاحِدَةٍ ۖ أَنْ تَقُومُوا لِلَّهِ مَثْنَىٰ وَفُرَادَىٰ ثُمَّ تَتَفَكَّرُوا ۚ مَا بِصَاحِبِكُمْ مِنْ جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ لَكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ
📘 آیت 46 { قُلْ اِنَّمَآ اَعِظُکُمْ بِوَاحِدَۃٍ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ میں تمہیں بس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں۔“ اس آیت کا تعلق آیت 8 سے ہے۔ مذکورہ آیت کے ضمن میں ذکر ہوچکا ہے کہ حضور ﷺ کے دعوائے نبوت کے بارے میں مختلف لوگ مختلف آراء رکھتے تھے۔ کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو ابھی شش و پنج میں تھے کہ یہ معاملہ آخر ہے کیا ؟ ان میں سے بعض کا خیال تھا کہ ان کا دماغی توازن بگڑ گیا ہے۔ کچھ سمجھتے تھے کہ انہیں جنون کا عارضہ لاحق ہوگیا ہے ‘ جبکہ کچھ لوگوں کا خیال تھا کہ آپ کسی منصوبہ بندی کے تحت جان بوجھ کر جھوٹ بول رہے ہیں۔ العیاذ باللہ ! لیکن ایسے لوگوں کے ذہنوں میں ایک بہت بڑا سوال یہ بھی گردش کرتا رہتا تھا کہ ایک ایسا شخص آخر اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے جس نے کبھی چھوٹے سے چھوٹے معاملے میں بھی جھوٹ نہیں بولا اور جس کو ہم خود الصادق اور الامین کا خطاب دے چکے ہیں۔ چناچہ بہت سے لوگ اس بارے میں ابھی ذہنی خلجان کا شکار تھے اور کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچ پا رہے تھے کہ آپ ﷺ کی دعوت کی اصل حقیقت ہے کیا ! ایسے تمام لوگوں کو ان آیات میں سنجیدہ غور و فکر پر آمادہ کرنے کے لیے دعوت دی جا رہی ہے کہ اس طرح شاید انہیں اپنے گریبانوں میں جھانکنے ‘ اپنے موروثی عقائد کی عصبیت سے بالاتر ہو کر سوچنے اور کسی مثبت نتیجے پر پہنچنے کا موقع مل جائے۔ اس لحاظ سے یہ آیات بہت اہم ہیں۔ { اَنْ تَقُوْمُوْا لِلّٰہِ مَثْنٰی وَفُرَادٰی ثُمَّ تَتَفَکَّرُوْا } ”یہ کہ تم کھڑے ہو جائو اللہ کے لیے دو دو ہو کر یا اکیلے اکیلے ‘ پھر غور کرو !“ یعنی کسی وقت تم دو دو آدمی باہم گفتگو کر کے یا الگ الگ کچھ دیر کے لیے اپنی توجہ کو مرتکز کر کے اللہ کو اپنے سامنے تصور کرتے ہوئے کھڑے ہو جائو ‘ پھر غور وفکر کرو۔ اگر تم اس انداز میں سنجیدگی سے غور کرو گے تو حقیقت ضرور تم پر واضح ہوجائے گی۔ { مَا بِصَاحِبِکُمْ مِّنْ جِنَّۃٍ } ”تمہارے ساتھی کو جنون کا کوئی عارضہ نہیں ہے !“ اگر کسی شخص پر جنون یا آسیب کے اثرات ہوں تو اس کے کچھ شواہد بھی نظر آتے ہیں۔ تم لوگ ہمارے نبی ﷺ کی گزشتہ زندگی کے شب و روز کے بارے میں سوچو ‘ آپ ﷺ کی بات چیت پر غور کرو ‘ آپ ﷺ کے اخلاق و معاملات کا جائزہ لو ‘ کیا تمہیں کسی بھی پہلو سے ان میں جنون کے کچھ آثار نظر آتے ہیں ؟ کیا آسیب زدہ لوگوں کے اقوال و افعال اور معمولاتِ زندگی ایسے صاف ستھرے اور مثالی ہوتے ہیں ؟ { اِنْ ہُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ لَّکُمْ بَیْنَ یَدَیْ عَذَابٍ شَدِیْدٍ } ”وہ نہیں ہیں مگر تمہارے لیے ایک خبردار کرنے والے ‘ ایک سخت عذاب کے آنے سے پہلے۔“
قُلْ مَا سَأَلْتُكُمْ مِنْ أَجْرٍ فَهُوَ لَكُمْ ۖ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَى اللَّهِ ۖ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
📘 آیت 47 { قُلْ مَا سَاَلْتُکُمْ مِّنْ اَجْرٍ فَہُوَ لَکُمْ } ”آپ ﷺ کہیے کہ اگر میں نے تم سے کچھ اجرت مانگی ہو تو وہ تمہارے ہی لیے ہے۔“ یہ ایک ایسا اندازِ بیان ہے جس میں ”نفی“ کی گویا انتہا ہے کہ میں نے اس کام کے عوض اگر کوئی اجرت طلب کی ہو تو وہ تم ہی کو مبارک ہو ! میں دن رات دعوت کے اس کام میں ہمہ تن مصروف ہوں ‘ مگر میں اس پر تم لوگوں سے کسی قسم کی کوئی اُجرت ‘ کوئی معاوضہ اور کوئی صلہ طلب نہیں کرتا۔ تم لوگ اس کلام کو کبھی شاعری کہتے ہو اور کبھی پرانے زمانے کی کہانیوں سے تشبیہہ دیتے ہو۔ مگر تم نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ شاعروں کی شاعری اور قصہ خوانوں کی کہانیوں کا مقصد کیا ہوتا ہے ؟ وہ لوگ تو اپنے سامعین کا دل بہلا کر اجرت کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور اپنے کلام کی داد انعامات کی صورت میں وصول کرنا چاہتے ہیں۔ کیا تمہیں مجھ میں اور ایسے پیشہ ور فنکاروں میں واقعی کچھ فرق نظر نہیں آتا ؟ { اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ وَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْئٍ شَہِیْدٌ} ”میرا ا جر تو اللہ ہی کے ذمہ ہے ‘ اور وہ ہرچیز پر گواہ ہے۔“
قُلْ إِنَّ رَبِّي يَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُيُوبِ
📘 آیت 48 { قُلْ اِنَّ رَبِّیْ یَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ یقینا میرا رب حق کے ساتھ ضرب لگاتا ہے باطل کو ‘ وہ خوب جاننے والا ہے تمام غیبوں کا۔“ یہ مضمون اس سے پہلے سورة الانبیاء کی آیت 18 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : { بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقِّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہٗ فَاِذَا ہُوَ زَاہِقٌط } ”بلکہ ہم حق کو دے مارتے ہیں باطل پر تو وہ اس کا بھیجا نکال دیتا ہے ‘ پھر وہ مٹ جاتا ہے“۔ آیت زیر مطالعہ کا بھی بالکل یہی مفہوم ہے ‘ اس لیے یہاں ”یَقْذِفُ بِالْحَقِّ“ کے بعد ”عَلَی الْبَاطِلِ“ کے الفاظ کو محذوف سمجھا جانا چاہیے۔
قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ
📘 آیت 49 { قُلْ جَآئَ الْحَقُّ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ حق آگیا ہے“ آپ ﷺ اعلان کردیجیے کہ حق کا بول بالا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ اب چند ہی برسوں بعد پورے جزیرہ نمائے عرب میں اللہ کے دین کا غلبہ ہوجائے گا۔ { وَمَا یُبْدِیُٔ الْبَاطِلُ وَمَا یُعِیْدُ } ”اور باطل نہ تو کسی چیز کی ابتدا کرسکتا ہے اور نہ ہی اعادہ۔“
وَالَّذِينَ سَعَوْا فِي آيَاتِنَا مُعَاجِزِينَ أُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ مِنْ رِجْزٍ أَلِيمٌ
📘 آیت 5 { وَالَّذِیْنَ سَعَوْ فِیْٓ اٰیٰتِنَا مُعٰجِزِیْنَ اُولٰٓئِکَ لَہُمْ عَذَابٌ مِّنْ رِّجْزٍ اَلِیْمٌ} ”اور جو لوگ ہماری آیات کو شکست دینے کے لیے کوشاں رہے ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔“
قُلْ إِنْ ضَلَلْتُ فَإِنَّمَا أَضِلُّ عَلَىٰ نَفْسِي ۖ وَإِنِ اهْتَدَيْتُ فَبِمَا يُوحِي إِلَيَّ رَبِّي ۚ إِنَّهُ سَمِيعٌ قَرِيبٌ
📘 آیت 50 { قُلْ اِنْ ضَلَلْتُ فَاِنَّمَآ اَضِلُّ عَلٰی نَفْسِیْ } ”آپ ﷺ ان سے یہ بھی کہیے کہ اگر میں بہک گیا ہوں تو اس کا وبال میرے اوپر ہی آئے گا۔“ { وَاِنِ اہْتَدَیْتُ فَبِمَا یُوْحِیْٓ اِلَیَّ رَبِّیْ اِنَّہٗ سَمِیْعٌ قَرِیْبٌ } ”اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو یہ اس وحی کے طفیل ہے جو میرا رب میری طرف کرتا ہے۔ یقینا وہ خوب سننے والا ‘ بہت قریب ہے۔“ یہ انتہائی متواضع اندازِ بیان ہے کہ اگر بالفرض میں بہک گیا ہوں تو یہ میرے نفس کی شرارت کے باعث ہے اور اس کا وبال بھی مجھ پر ہوگا۔ اور اگر میں سیدھے راستے پر ہوں تو یقینا میرے رب کی راہنمائی کی وجہ سے ایسا ممکن ہوا ہے۔ میں اپنی محنت اور کوشش سے ہدایت تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا تھا۔
وَلَوْ تَرَىٰ إِذْ فَزِعُوا فَلَا فَوْتَ وَأُخِذُوا مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ
📘 آیت 51 { وَلَوْ تَرٰٓی اِذْ فَزِعُوْا فَلَا فَوْتَ } ”اور کاش آپ دیکھیں جب وہ گھبرائے ہوئے ہوں گے ‘ تب بچ نکلنا ممکن نہیں ہوگا“ انسانوں کی گھبراہٹ اور پریشانی کی اس کیفیت کو سورة الانبیاء کی آیت 103 میں ”الْفَزَعُ الْاَکْبَرُ“ کا نام دیا گیا ہے۔ یہ کیفیت قیامت کے اس ”زلزلے“ کے باعث ہوگی جس کا ذکر سورة الحج کی ابتدائی آیت میں اس طرح ہوا ہے : { اِنَّ زَلْزَلَۃَ السَّاعَۃِ شَیْئٌ عَظِیْمٌ۔ ”یقینا قیامت کا زلزلہ بہت بڑی چیز ہوگا۔“ { وَاُخِذُوْا مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ } ”اور وہ پکڑ لیے جائیں گے قریبی جگہ سے۔“ جیسے کوئی پاس پڑی ہوئی چیز کو ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیتا ہے اسی طرح انہیں آسانی کے ساتھ قابو میں کر لیاجائے گا۔
وَقَالُوا آمَنَّا بِهِ وَأَنَّىٰ لَهُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ
📘 آیت 52 { وَّقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِہٖ وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ”اور اُس وقت وہ کہیں گے کہ اب ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور اُس وقت کہاں ہوگی ان کی رسائی ایمان تک اتنی دور کی جگہ سے !“ ”تناوش“ اور ”تناول“ ہم معنی الفاظ ہیں۔ یعنی پالینا ‘ کسی چیز کا پہنچ میں ہونا اور اس تک رسائی ہونا۔ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ایمان لانے کا فائدہ تو دنیا کی زندگی میں ہے جو انسانوں کے لیے امتحانی عرصہ ہے۔ جب امتحان کی مہلت ختم ہوجائے گی تو ایمان لانے کا موقع بھی ہاتھ سے نکل جائے گا۔ چناچہ اس روز کسی کا ایمان لانا اسے کچھ بھی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔
وَقَدْ كَفَرُوا بِهِ مِنْ قَبْلُ ۖ وَيَقْذِفُونَ بِالْغَيْبِ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ
📘 آیت 53 { وَّقَدْ کَفَرُوْا بِہٖ مِنْ قَبْلُ وَیَقْذِفُوْنَ بِالْغَیْبِ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ”اور پہلے تو انہوں نے اس کا کفر کیا تھا ‘ اور وہ اٹکل کے تیر ُ تکے ّچلاتے رہے بن دیکھے دور کی جگہ سے۔“ اپنی دنیا کی زندگی میں تو وہ اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں مارتے رہے۔ اللہ کے رسول ﷺ کے بارے میں کبھی کہتے کہ یہ جھوٹ بول رہے ہیں ‘ کبھی کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں اور یہ ان کا اپنا کلام ہے ‘ کبھی کہتے کہ انہوں نے گھر میں کوئی آدمی چھپا رکھا ہے جو انہیں یہ سب کچھ سکھاتا ہے۔ کبھی کہتے کہ ان پر ِجن آگیا ہے۔ بہر حال جب ان کے سوچنے اور ایمان لانے کا موقع تھا اس وقت تو وہ قرآن اور اللہ کے رسول ﷺ کا انکار کرتے رہے اور ان کے بارے میں بغیر کسی علمی اور عقلی دلیل کے یا وہ گوئی کرتے رہے۔ اب جبکہ حساب کی گھڑی آن پہنچی ہے تو اب ان کے ایمان لانے کا کیا فائدہ ؟
وَحِيلَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ مَا يَشْتَهُونَ كَمَا فُعِلَ بِأَشْيَاعِهِمْ مِنْ قَبْلُ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا فِي شَكٍّ مُرِيبٍ
📘 آیت 54 { وَحِیْلَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ مَا یَشْتَہُوْنَ } ”اور آڑ کردی جائے گی ان کے اور ان کی من پسند چیزوں کے مابین“ مَا یَشْتَہُوْنَ سے مرادجنت اور جنت کی نعمتیں ہیں۔ سورة قٓ‘ آیت 35 میں اہل جنت کے لیے ان نعمتوں کا ذکر یوں آیا ہے : { لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْہَا } ”ان کے لیے اس میں ہوگا جو وہ چاہیں گے“۔ یعنی جو جو چیزیں انسان کو مرغوب ہوتی ہیں وہ اہل جنت کو جنت میں فراہم کی جائیں گی۔ جیسا کہ سورة حٰمٓ السجدۃ کی آیت 31 میں فرمایا گیا : { وَلَـکُمْ فِیْہَا مَا تَشْتَہِیْٓ اَنْفُسُکُمْ } ”اور تمہارے لیے اس میں وہ کچھ ہوگا جس کی خواہش تمہارے جی کریں گے“۔ جبکہ مجرموں کو اس دن ان نعمتوں سے محروم کردیا جائے گا۔ { کَمَا فُعِلَ بِاَشْیَاعِہِمْ مِّنْ قَبْلُ } ”جیسا کہ اس سے پہلے ان جیساطرز عمل اختیار کرنے والے لوگوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔“ { اِنَّہُمْ کَانُوْا فِیْ شَکٍّ مُّرِیْبٍ } ”وہ لوگ بھی ایسے ہی اضطراب والے شک میں پڑے رہے تھے۔“ ان لوگوں کے دلوں اور دماغوں میں شکوک و شبہات جنم لیتے رہے اور اسی طرح انہیں بھی حق کی تصدیق کرنے کی توفیق نہ ہوئی۔
وَيَرَى الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ الَّذِي أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ هُوَ الْحَقَّ وَيَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ
📘 آیت 6 { وَیَرَی الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ اِلَیْکَ مِنْ رَّبِّکَ ہُوَ الْحَقَّ } ”اور تا کہ دیکھ لیں وہ لوگ جنہیں علم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ پر جو چیز نازل کی گئی ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے وہ حق ہے“ { وَیَہْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطِ الْعَزِیْزِ الْحَمِیْدِ } ”اور وہ راہنمائی کرتی ہے ‘ نہایت غالب ‘ لائق ِحمد و ثنا ہستی کے راستے کی طرف۔“
وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا هَلْ نَدُلُّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ يُنَبِّئُكُمْ إِذَا مُزِّقْتُمْ كُلَّ مُمَزَّقٍ إِنَّكُمْ لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ
📘 آیت 7{ وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ہَلْ نَدُلُّکُمْ عَلٰی رَجُلٍ یُّنَبِّئُکُمْ اِذَا مُزِّقْتُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍلا اِنَّکُمْ لَفِیْ خَلْقٍ جَدِیْدٍ } ”اور یہ کافر کہتے ہیں : کیا ہم تمہیں ایک ایسے شخص کے بارے میں بتائیں جو تمہیں یہ خبر دیتا ہے کہ جب تم مٹی میں مل کر بالکل ریزہ ریزہ ہو جائو گے تو پھر تمہیں از سر ِنو پیدا کردیا جائے گا۔“ یہ اور اس کے بعد والی آیت اس لحاظ سے اہم ہیں کہ ان دونوں کے مضامین کا حوالہ آیت 46 کے ضمن میں بھی آئے گا۔ اگرچہ حضور ﷺ کی مخالفت نبوت کے ابتدائی زمانے سے ہی شروع ہوگئی تھی اور مشرکین اپنی محفلوں میں حضور ﷺ کے بارے میں استہزائیہ جملے بھی دہراتے رہتے تھے ‘ لیکن سات آٹھ سال تک وہ لوگ آپ ﷺ کے بارے میں مسلسل الجھن اور شش و پنج کا شکار رہے کہ یکایک آپ ﷺ میں یہ کیسی تبدیلی آگئی ہے ! اگلی آیت ان کی اس کیفیت کا واضح اظہار کر رہی ہے :
أَفْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا أَمْ بِهِ جِنَّةٌ ۗ بَلِ الَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِالْآخِرَةِ فِي الْعَذَابِ وَالضَّلَالِ الْبَعِيدِ
📘 آیت 8 { اَفْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا } ”کیا اس نے جھوٹ باندھا ہے اللہ پر“ کیا محمد ﷺ نے اتنی بڑی جسارت کی ہے کہ جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کردیا ہے ؟ کہنے کو تو وہ ایک دوسرے سے یوں کہتے تھے اور خود اپنے آپ سے بھی یہ سوال کرتے تھے لیکن اصل حقیقت کو وہ خوب سمجھتے تھے کہ آپ ﷺ کی طرف سے جھوٹ گھڑنے کا کوئی ہلکا سا بھی امکان نہیں تھا۔ اندر سے ان کے دل گواہی دیتے تھے کہ دیکھو ! اس شخص کی پچھلے چالیس برس کی زندگی تمہارے سامنے ہے۔ ان کی سیرت و کردار سے تم خوب واقف ہو۔ تم نے خود انہیں الصادق اور الامین کا خطاب دیا ہے۔ تو بھلا ایک ایسا شخص جس نے اپنی معمول کی زندگی میں کبھی کوئی چھوٹا سا بھی جھوٹ نہ بولا ہو ‘ آخر اتنا بڑا جھوٹ کیسے بول سکتا ہے اور وہ بھی اللہ کے بارے میں ! { اَمْ بِہٖ جِنَّــۃٌ} ”یا اسے جنون ہوگیا ہے !“ کبھی کہتے ممکن ہے کہ ان پر آسیب کا سایہ آگیا ہو یا ان کا دماغی توازن خراب ہوگیا ہو ‘ اس لیے اس طرح کی باتیں کرنے لگے ہوں۔ اور اگر ایسا ہے تو پھر ان کا اپنا کوئی قصور نہیں اور انہیں جھوٹ کا الزام نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن اس الزام پر بھی ان کے ضمیر پکار اٹھتے کہ اس پر غور تو کرو ! کیا اس کلام میں تم لوگوں کو واقعی دیوانگی کے آثار نظر آتے ہیں ؟ چناچہ واقعتا انہیں سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ ماجرا آخر ہے کیا ؟ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ اگر بارہ سالہ مکی دور کو تین برابر حصوں میں تقسیم کیا جائے تو مکی سورتوں کے درمیانی گروپس سورۃ الفرقان تا سورة السجدۃ اور سورة سبا تا سورة الاحقاف میں ‘ سورة الشعراء کو چھوڑ کر کہ وہ ابتدائی دور کی سورت ہے ‘ باقی تمام وہ سورتیں ہیں جو درمیانی چار سالوں میں نازل ہوئی ہیں اور ان سب سورتوں کے مطالعہ کے دوران کفارِ مکہ کی یہی کیفیت سامنے آتی ہے۔ یعنی اس دور میں وہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں سخت الجھن اور شش و پنج کا شکار تھے۔ کبھی وہ آپ ﷺ کو شاعر کہتے ‘ کبھی جادوگر اور کبھی مجنون قرار دیتے ‘ مگر آپ ﷺ کے بارے میں کوئی واضح اور حتمی موقف اپنانے سے قاصر تھے۔ البتہ آخری چار سالہ دور میں نازل ہونے والی پندرہ سورتوں یعنی سورة الانعام ‘ سورة الاعراف اور سورة یونس تا سورة المومنون اس گروپ میں بھی سورة الحجر ایک ایسی سورت ہے جو ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں ان کے اندر polarization ہوگئی تھی۔ یعنی مکی دور کے آخری سالوں میں حضور ﷺ کے بارے میں ان کے مختلف لوگ مختلف آراء رکھتے تھے۔ { بَلِ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَۃِ فِی الْْعَذَابِ وَالضَّلٰلِ الْبَعِیْدِ } ”بلکہ وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ عذاب میں اور دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔“ دُنیا میں بھی ان کی جان ضیق تنگی میں آئی ہوئی ہے اور وہ بڑی دور کی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ اگر انہیں آخرت کا یقین ہوتا تو یہ بات جو ان کی سمجھ میں نہیں آرہی ‘ بڑی آسانی سے سمجھ میں آجاتی۔
أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنْ نَشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِنَ السَّمَاءِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِكُلِّ عَبْدٍ مُنِيبٍ
📘 آیت 9 { اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَا بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَمَا خَلْفَہُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ } ”تو کیا انہوں نے دیکھا نہیں جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے آسمان اور زمین میں سے !“ کیا یہ لوگ اس کائنات کا مشاہدہ نہیں کرتے جو ان کے سامنے ہے اور کیا یہ ان تاریخی شواہد و بصائر سے سبق حاصل نہیں کرتے جو ان کے پیچھے ہیں۔ گویا یہاں اس چھوٹے سے فقرے میں ”تذکیر بآلاء اللہ“ کا حوالہ بھی آگیا اور ”تذکیر بایام اللہ“ کا بھی۔ { اِنْ نَّشَاْ نَخْسِفْ بِہِمُ الْاَرْضَ } ”اگر ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسا دیں“ { اَوْ نُسْقِطْ عَلَیْہِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ } ”یا ان پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دیں۔“ { اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لِّکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ } ”یقینا اس میں نشانی ہے ہر اس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والاہو۔“