🕋 تفسير سورة الصافات
(As-Saffat) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَالصَّافَّاتِ صَفًّا
📘 پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔
خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔
إِلَّا مَنْ خَطِفَ الْخَطْفَةَ فَأَتْبَعَهُ شِهَابٌ ثَاقِبٌ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
فَاسْتَفْتِهِمْ أَهُمْ أَشَدُّ خَلْقًا أَمْ مَنْ خَلَقْنَا ۚ إِنَّا خَلَقْنَاهُمْ مِنْ طِينٍ لَازِبٍ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
وَبَشَّرْنَاهُ بِإِسْحَاقَ نَبِيًّا مِنَ الصَّالِحِينَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
وَبَارَكْنَا عَلَيْهِ وَعَلَىٰ إِسْحَاقَ ۚ وَمِنْ ذُرِّيَّتِهِمَا مُحْسِنٌ وَظَالِمٌ لِنَفْسِهِ مُبِينٌ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
وَلَقَدْ مَنَنَّا عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
📘 اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔
اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔
وَنَجَّيْنَاهُمَا وَقَوْمَهُمَا مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ
📘 اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔
اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔
وَنَصَرْنَاهُمْ فَكَانُوا هُمُ الْغَالِبِينَ
📘 اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔
اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔
وَآتَيْنَاهُمَا الْكِتَابَ الْمُسْتَبِينَ
📘 اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔
اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔
وَهَدَيْنَاهُمَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ
📘 اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔
اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِمَا فِي الْآخِرِينَ
📘 اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔
اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔
بَلْ عَجِبْتَ وَيَسْخَرُونَ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
سَلَامٌ عَلَىٰ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
📘 اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔
اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔
اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔
إِنَّهُمَا مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ
📘 اللہ تعا ٰلیٰ نے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کی مدد کی اور ان کو فرعون کے ظلم سے نجات دی۔ یہاں سوال یہ ہے کہ یہ کیسے ہوا۔ یہ دعوت الی اللہ کے ذریعے ہوا۔ حضرت موسیٰ نے فرعون پر حق کی تبلیغ کی۔ لمبی جدوجہد کے ذریعہ آپ نے اس کو اتمام حجت تک پہنچایا۔ اس کے بعد وہ وقت آیا کہ فرعون کو مجرم قرار دے کر اسے ہلاک کیا جائے۔ اور حضرت موسیٰ اور ان کی قوم کو غلبہ حاصل ہو۔
اس سیاق میں صراط مستقیم دکھانے کا ایک مطلب یہ ہے کہ فرعون کے مسئلہ کا صحیح حل ان پر کھولا گیا۔ بنی اسرائیل کےلیے اگرچہ یہ ایک قومی مسئلہ تھا مگر اس کا حل انھیں دعوت کی شکل میں بتایا گیا۔چنانچہ انھیں جو غلبہ ملا وہ ان کو دعوتی جدوجہد کے نتیجہ میں ملا، نہ کہ فرعون کے خلاف معروف قسم کی قومی جدوجہد کے نتیجہ میں۔
وَإِنَّ إِلْيَاسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
📘 حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔
إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَلَا تَتَّقُونَ
📘 حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔
أَتَدْعُونَ بَعْلًا وَتَذَرُونَ أَحْسَنَ الْخَالِقِينَ
📘 حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔
اللَّهَ رَبَّكُمْ وَرَبَّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ
📘 حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔
فَكَذَّبُوهُ فَإِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ
📘 حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔
إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ
📘 حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ
📘 حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔
وَإِذَا ذُكِّرُوا لَا يَذْكُرُونَ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
سَلَامٌ عَلَىٰ إِلْ يَاسِينَ
📘 حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ
📘 حضرت الیاس علیہ السلام غالباً حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل سے تھے۔ ان کا زمانہ نویں صدی قبل مسیح ہے۔ اس زمانہ میں اسرائیل (فلسطین) کا یہودی بادشاہ اخی اب (Ahab) اور لبنان میں فنیقی قوم (Phoenicians) کی حکومت تھی جو مشرک تھی اور بعل نامی بت کی پوجا کرتی تھی۔ اخی اب نے مشرک بادشاہ کی لڑکی سے شادی کرلی۔ اس مشرک شہزادی کے اثر سے یہودیوں کے درمیان بعل کی پرستش شروع ہوگئی۔ اس وقت حضرت الیاس نے یہودیوں کو ڈرایا اور ان کو خدائے واحد کی پرستش کی طرف بلایا جو ان کا اصل آبائی دین تھا۔ حضرت الیاس کے حالات تفصیل سے بائبل میں موجود ہیں۔
حضرت الیاس کے زمانہ میں صرف تھوڑے سے یہودیوں نے آپ کا ساتھ دیا۔ بیشتر تعداد نے آپ کی مخالفت کی۔ حتی کہ وہ آپ کے قتل کے درپے ہوگئے۔ اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان پر سزائیں بھیجیں۔ مگر بعد کو یہودیوں کے یہاں حضرت الیاس (ایلیا) کو بہت اونچا مقام ملا۔ اب وہ یہودیوں کی تاریخ میں بہت بڑے نبی شمار کيے جاتے ہیں۔
وَإِنَّ لُوطًا لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔
قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔
إِذْ نَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِينَ
📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔
قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔
إِلَّا عَجُوزًا فِي الْغَابِرِينَ
📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔
قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔
ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِينَ
📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔
قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔
وَإِنَّكُمْ لَتَمُرُّونَ عَلَيْهِمْ مُصْبِحِينَ
📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔
قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔
وَبِاللَّيْلِ ۗ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
📘 حضرت لوط حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے۔ وہ بحر مردار کے علاقہ میں سدوم اور عمورہ کی ہدایت کےلیے بھیجے گئے جن کے باشندے غیر اللہ کی پرستش میں مبتلا تھے۔ مگر انھوں نے ہدایت قبول نہیں کی۔ آخر کار ان پر خدا کی آفت آئی اور حضرت لوط اور ان کے چند ساتھیوں کو چھوڑ کر سب کے سب ہلاک کردئے گئے۔
قوم لوط کی بستیوں کے کھنڈر بحر مردار کے کنارے موجود تھے اور قریش کے لوگ جب تجارت کےلیے شام اور فلسطین جاتے تو وہ راستہ میں ان برباد شدہ بستیوں کو دیکھتے۔ مگر انسان کا حال یہ ہے کہ وہ صرف اسی حادثہ کو جانتا ہے جو خود اس کے اپنے اوپر پڑے۔ دوسروں کے انجام سے وہ کبھی سبق نہیں لیتا۔
وَإِنَّ يُونُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِينَ
📘 حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔
وَإِذَا رَأَوْا آيَةً يَسْتَسْخِرُونَ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
إِذْ أَبَقَ إِلَى الْفُلْكِ الْمَشْحُونِ
📘 حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔
فَسَاهَمَ فَكَانَ مِنَ الْمُدْحَضِينَ
📘 حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔
فَالْتَقَمَهُ الْحُوتُ وَهُوَ مُلِيمٌ
📘 حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔
فَلَوْلَا أَنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِينَ
📘 حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔
لَلَبِثَ فِي بَطْنِهِ إِلَىٰ يَوْمِ يُبْعَثُونَ
📘 حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔
۞ فَنَبَذْنَاهُ بِالْعَرَاءِ وَهُوَ سَقِيمٌ
📘 حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔
وَأَنْبَتْنَا عَلَيْهِ شَجَرَةً مِنْ يَقْطِينٍ
📘 حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔
وَأَرْسَلْنَاهُ إِلَىٰ مِائَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ
📘 حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔
فَآمَنُوا فَمَتَّعْنَاهُمْ إِلَىٰ حِينٍ
📘 حضرت یونس علیہ السلام کا زمانہ آٹھویں صدی قبل مسیح ہے۔ وہ عراق کے قدیم شہر نینویٰ (Nineveh) میں رسول بنا کر بھیجے گئے۔ ایک مدت تک تبلیغ کے بعد آپ نے اندازہ کیا کہ قوم ایمان لانے والی نہیں ہے۔ آپ نے شہر چھوڑ دیا۔ آگے جانے کےلیے آپ غالباً دجلہ کے کنارے ایک کشتی میں سوار ہوئے۔ کشتی زیادہ بھری ہوئی تھی۔ درمیان میں پہنچ کر ڈوبنے کا اندیشہ ہوا۔ چنانچہ کشتی کو ہلکا کرنے کےلیے قرعہ ڈالا گیا کہ جس کا نام نکلے اس کو دریا میں پھینک دیا جائے۔ قرعہ حضرت یونس کے نام نکلا اور کشتی والوں نے آپ کو دریا میں ڈال دیا۔ اس وقت خداکے حکم سے ایک بڑی مچھلی نے آپ کو نگل لیا اور آپ کو لے جاکر دریا کے کنارے خشکی میں ڈال دیا۔ حضرت یونس نے اپنی قوم کو قبل ازوقت چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ اللہ کا حکم ہوا کہ آپ دوبارہ اپنی قوم کی طرف واپس جائیں۔ آپ نے دوبارہ آکر تبلیغ کی تو شہر کے تمام سوا لاکھ باشندے مومن بن گئے۔
اس واقعہ سے اندازہ ہوتاہے کہ داعی کےلیے صبر انتہائی حد تک ضروری ہے۔ حتی کہ اس وقت بھی جب کہ لوگوں کا رویہ بظاہر مایوسی پیداکرنے والا بن جائے۔
فَاسْتَفْتِهِمْ أَلِرَبِّكَ الْبَنَاتُ وَلَهُمُ الْبَنُونَ
📘 شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔
وَقَالُوا إِنْ هَٰذَا إِلَّا سِحْرٌ مُبِينٌ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
أَمْ خَلَقْنَا الْمَلَائِكَةَ إِنَاثًا وَهُمْ شَاهِدُونَ
📘 شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔
أَلَا إِنَّهُمْ مِنْ إِفْكِهِمْ لَيَقُولُونَ
📘 شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔
وَلَدَ اللَّهُ وَإِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
📘 شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔
أَصْطَفَى الْبَنَاتِ عَلَى الْبَنِينَ
📘 شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔
مَا لَكُمْ كَيْفَ تَحْكُمُونَ
📘 شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔
أَفَلَا تَذَكَّرُونَ
📘 شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔
أَمْ لَكُمْ سُلْطَانٌ مُبِينٌ
📘 شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔
فَأْتُوا بِكِتَابِكُمْ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ
📘 شیطان کی ترغیب یا انسانوں کی غلط تعبیر سے اکثر غیبی حقیقتوں کے بارے میں بہت بڑی بڑی گمراہیاں پیدا ہوجاتی ہیں۔ انھیں میں سے ایک فرشتوں کے متعلق کچھ لوگوں کا یہ عقیدہ ہے کہ وہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ یہ انتہائی حد تک بے بنیاد اور غیر معقول بات ہے۔ اس کی غلطی اس سادہ سی بات سے ثابت ہے کہ خدا کو اگر اپنی مدد کےلیے اولاد درکار تھی تو وہ اپنے ليے بیٹے بناتا۔ وہ اپنے ليے بیٹیاں کیوں بناتا جو خود مشرکین کے نزدیک کمزوری کی علامت ہیں۔
وَجَعَلُوا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجِنَّةِ نَسَبًا ۚ وَلَقَدْ عَلِمَتِ الْجِنَّةُ إِنَّهُمْ لَمُحْضَرُونَ
📘 گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔
انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔
سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يَصِفُونَ
📘 گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔
انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔
أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ
📘 گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔
انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔
فَإِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ
📘 گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔
انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔
مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ بِفَاتِنِينَ
📘 گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔
انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔
إِلَّا مَنْ هُوَ صَالِ الْجَحِيمِ
📘 گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔
انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔
وَمَا مِنَّا إِلَّا لَهُ مَقَامٌ مَعْلُومٌ
📘 گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔
انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔
وَإِنَّا لَنَحْنُ الصَّافُّونَ
📘 گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔
انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔
وَإِنَّا لَنَحْنُ الْمُسَبِّحُونَ
📘 گمراہ قومیں جنات کے بارے میں اس طرح کا عقیدہ رکھتی ہیں گویا کہ جنات خدا کے حریف اور مد مقابل ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ جنوں کے ہاتھ میں بدی کی طاقتیں ہیں اور فرشتوں کے ہاتھ میں نیکی کی طاقتیں۔ یہ دونوں جس کو چاہیں مصیبت میں ڈال دیں اور جس کو چاہیں کامیاب بنادیں۔ جیسا کہ مجوس خدائی میں ثنویت کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک یزداں نیکی کا خدا ہے اور اہرمن برائی کا خدا۔
انسان اپنے جھوٹے مفروضات کی بناپر دنیا میں فرشتوں کی عبادت کرتاہے۔ اور خود فرشتوں کا حال یہ ہے کہ وہ اللہ کے حضور تابعدار خادم کی طرح صف بستہ کھڑے رہتے ہیں اور ہر وقت صرف ایک اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے ہیں۔
وَإِنْ كَانُوا لَيَقُولُونَ
📘 قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔
حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔
لَوْ أَنَّ عِنْدَنَا ذِكْرًا مِنَ الْأَوَّلِينَ
📘 قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔
حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔
لَكُنَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ
📘 قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔
حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔
أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
فَكَفَرُوا بِهِ ۖ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ
📘 قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔
حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔
وَلَقَدْ سَبَقَتْ كَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِينَ
📘 قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔
حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔
إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنْصُورُونَ
📘 قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔
حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔
وَإِنَّ جُنْدَنَا لَهُمُ الْغَالِبُونَ
📘 قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔
حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ
📘 قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔
حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔
وَأَبْصِرْهُمْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ
📘 قدیم زمانہ میں عربوں کا حال یہ تھا کہ جب وہ سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے رسولوں کا انکار کیا تو وہ پرفخر طور پر کہتے کہ یہ لوگ بہت بد بخت تھے۔ اگر ہمارے پاس رسول آتا تو ہم اس کی قدردانی کرتے اور اس کا ساتھ دیتے۔ مگر جب ان کے اندر اللہ نے ایک رسول بھیجا تو وہ اس کے منکر ہوگئے۔ جس طرح دوسرے لوگ اپنے رسولوں کے منکر ہوئے تھے— ایسا حق آدمی کو خوب دکھائی دیتاہے جس کی زد دوسروں پر پڑتی ہو۔ مگر جس حق کی زد خود آدمی کی اپنی ذات پر پڑے اس سے وہ اس طرح بے خبر ہوجاتاہے جیسے اس کو دیکھنے کےلیے اس کے پاس آنکھ ہی نہیں۔
حق کے داعیوں کی بات کو لوگ نظر انداز کرتے ہیں، وہ بھول جاتے ہیں کہ حق کے داعی اس دنیا میں خدا کے لشکر ہیں۔ حق کے داعیوں کی بات ہر حال میں بلند وبالا ہو کر رہتی ہے، خواہ مخالفت کرنے والے اس کی کتنی ہی زیادہ مخالفت کریں۔
أَفَبِعَذَابِنَا يَسْتَعْجِلُونَ
📘 پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔
تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔
فَإِذَا نَزَلَ بِسَاحَتِهِمْ فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِينَ
📘 پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔
تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔
وَتَوَلَّ عَنْهُمْ حَتَّىٰ حِينٍ
📘 پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔
تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔
وَأَبْصِرْ فَسَوْفَ يُبْصِرُونَ
📘 پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔
تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔
قُلْ نَعَمْ وَأَنْتُمْ دَاخِرُونَ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
سُبْحَانَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا يَصِفُونَ
📘 پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔
تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔
وَسَلَامٌ عَلَى الْمُرْسَلِينَ
📘 پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔
تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔
وَالْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
📘 پیغمبر لوگوں سے کہتے تھے کہ اگرتم نے میری بات نہ مانی تو تمھارے اوپر خدا کا عذاب آجائے گا۔ مگر لوگ اس بات کو بے حقیقت سمجھتے رہے اور اس کا مذاق اڑاتے رہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کا پیغمبر انھیں اس سے بہت کم نظر آتا تھا کہ اس کی بات نہ ماننے سے ان پر خدا کا عذاب ٹوٹ پڑے۔
تاہم ان کے تمسخر اور استہزاء کے باوجود ایسا نہیں ہوا کہ فوراً ان کے اوپر عذاب آجائے کیونکہ عذابِ الٰہی کے اترنے کےلیے حجت کی تکمیل ضروری ہے۔ اس ليے پیغمبروں کو حکم ہوتا ہے کہ وہ صبر اور اعراض کرتے رہیں، یہاںتک کہ علم الٰہی کے مطابق مقررہ مدت پوری ہوجائے۔
فَإِنَّمَا هِيَ زَجْرَةٌ وَاحِدَةٌ فَإِذَا هُمْ يَنْظُرُونَ
📘 موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔
فَالزَّاجِرَاتِ زَجْرًا
📘 پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔
خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔
وَقَالُوا يَا وَيْلَنَا هَٰذَا يَوْمُ الدِّينِ
📘 موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔
هَٰذَا يَوْمُ الْفَصْلِ الَّذِي كُنْتُمْ بِهِ تُكَذِّبُونَ
📘 موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔
۞ احْشُرُوا الَّذِينَ ظَلَمُوا وَأَزْوَاجَهُمْ وَمَا كَانُوا يَعْبُدُونَ
📘 موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔
مِنْ دُونِ اللَّهِ فَاهْدُوهُمْ إِلَىٰ صِرَاطِ الْجَحِيمِ
📘 موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔
وَقِفُوهُمْ ۖ إِنَّهُمْ مَسْئُولُونَ
📘 موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔
مَا لَكُمْ لَا تَنَاصَرُونَ
📘 موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔
بَلْ هُمُ الْيَوْمَ مُسْتَسْلِمُونَ
📘 موجودہ دنیا میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک خبر کے طور پر بتایا جارہا ہے۔ آدمی اس خبر کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ مگر آخرت میں اگلی زندگی کا معاملہ ایک سنگین حقیقت بن کر لوگوں کے اوپر ٹوٹ پڑے گا۔ اس وقت آدمی اپنی سرکشی بھول کر اپنے آپ کو خداکے سامنے ڈال دے گا۔ یہ ناقابلِ بیان حد تک ہولناک منظر ہوگا۔ اس وقت میدان حشر میں لوگوں کا جو حال ہوگا اس کا ایک نقشہ ان آیتوں میں دیاگیا ہے۔
وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ
📘 یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔
قَالُوا إِنَّكُمْ كُنْتُمْ تَأْتُونَنَا عَنِ الْيَمِينِ
📘 یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔
قَالُوا بَلْ لَمْ تَكُونُوا مُؤْمِنِينَ
📘 یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔
فَالتَّالِيَاتِ ذِكْرًا
📘 پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔
خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔
وَمَا كَانَ لَنَا عَلَيْكُمْ مِنْ سُلْطَانٍ ۖ بَلْ كُنْتُمْ قَوْمًا طَاغِينَ
📘 یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔
فَحَقَّ عَلَيْنَا قَوْلُ رَبِّنَا ۖ إِنَّا لَذَائِقُونَ
📘 یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔
فَأَغْوَيْنَاكُمْ إِنَّا كُنَّا غَاوِينَ
📘 یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔
فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍ فِي الْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ
📘 یہ عوام اور لیڈروں کی گفتگو ہے۔ قیامت میں عوام اپنی بربادی کی ذمہ داری اپنے گمراہ لیڈروں پر ڈالیں گے اور کہیں گے کہ آپ لوگوں نے ہمیں طرح طرح سے بہکایا۔ لیڈر کہیں گے کہ تمھارا یہ الزام غلط ہے۔ کوئی بہکانے والا کسی کو نہیں بہکاتا۔ تم لوگوں کے اندر خود سرکشی کا مزاج تھا۔ ہماری بات تم کو اپنے مزاج کے موافق نظر آئی اس ليے تم نے اس کو مان لیا۔ تم نے حقیقۃً اپنی خواہشات کا ساتھ دیا، نہ کہ ہمارا۔ دونوں کا جرم ایک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ قیامت میں لیڈر اور پیرو دونوں ایک ہی مشترک انجام سے دوچار ہوںگے۔ نہ لیڈر کی عظمت اس کو عذاب سے بچا سکے گی اور نہ عوام کا یہ عذر ان کو بچانے والا بنے گا کہ ہم تو بے علم تھے، ہم کو لیڈروں نے گمراہ کیا۔
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَفْعَلُ بِالْمُجْرِمِينَ
📘 ’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔
پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔
إِنَّهُمْ كَانُوا إِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا إِلَٰهَ إِلَّا اللَّهُ يَسْتَكْبِرُونَ
📘 ’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔
پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔
وَيَقُولُونَ أَئِنَّا لَتَارِكُو آلِهَتِنَا لِشَاعِرٍ مَجْنُونٍ
📘 ’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔
پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔
بَلْ جَاءَ بِالْحَقِّ وَصَدَّقَ الْمُرْسَلِينَ
📘 ’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔
پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔
إِنَّكُمْ لَذَائِقُو الْعَذَابِ الْأَلِيمِ
📘 ’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔
پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔
وَمَا تُجْزَوْنَ إِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
📘 ’’جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں تو وہ گھمنڈ کرتے تھے‘‘— اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا کے مقابلے میں گھمنڈ کرتے تھے۔ ایسا کوئی بھی نہیں کرتا۔ خدا کی عظمت اس سے زیادہ ہے کہ کوئی اس کے مقابلہ میں بڑا بننے کی جرأت کرے۔ ان کا گھمنڈ دراصل خداکے پیغام بر کے مقابلہ میں تھا، نہ کہ خود خدا کے مقابلہ میں۔
پیغمبر کے پیغام توحید کی زد ان اکابر پر پڑتی تھی جن کے نام پر وہ اپنے مشرکانہ اعمال میں مبتلا تھے۔ اب ایک طرف پیغمبر ہوتا اور دوسری طرف ان کے مفروضہ اکابر ۔ چوں کہ پیغمبر بظاہر انھیں اپنے اكابر سے كم دكھائي ديتا تھا، اس ليے وه پيغمبر كو چھوٹا سمجھ كر نظر انداز كرديتے۔ وه اپنے مفروضہ اکابر کے ساتھ وابستہ رہ کر سمجھتے کہ وہ بڑوں کے ساتھ وابستہ ہیں۔ دلیل کا زور بلاشبہ پیغمبر کی طرف ہوتا تھا۔ مگر ظاہری عظمت انھیں اپنے بڑوں میں دکھائی دیتی تھی۔ اور تاریخ بتاتی ہے کہ ظاہری عظمت کے مقابلہ میں دلیل کی طاقت ہمیشہ بے اثر ثابت ہوئی ہے۔
إِنَّ إِلَٰهَكُمْ لَوَاحِدٌ
📘 پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔
خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔
إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ
📘 موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔
أُولَٰئِكَ لَهُمْ رِزْقٌ مَعْلُومٌ
📘 موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔
فَوَاكِهُ ۖ وَهُمْ مُكْرَمُونَ
📘 موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔
فِي جَنَّاتِ النَّعِيمِ
📘 موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔
عَلَىٰ سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ
📘 موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔
يُطَافُ عَلَيْهِمْ بِكَأْسٍ مِنْ مَعِينٍ
📘 موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔
بَيْضَاءَ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ
📘 موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔
لَا فِيهَا غَوْلٌ وَلَا هُمْ عَنْهَا يُنْزَفُونَ
📘 موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔
وَعِنْدَهُمْ قَاصِرَاتُ الطَّرْفِ عِينٌ
📘 موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔
كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ
📘 موجودہ دنیا آزمائش کی دنیا ہے۔ یہاں لوگوں کو آزادانہ عمل کا موقع دے کر ان کا انتخاب کیا جارہا ہے۔ جو لوگ اپنے قول وعمل سے اس کا ثبوت دیں گے کہ وہ جنت کی لطیف اور نفیس دنیا میں بسائے جانے کے قابل ہیں، ان کو ان کا خدا اپنی جنت میں بسانے کےلیے چن لے گا۔ وہاں انھیں ہر قسم کی اعلیٰ نعمتیں فراہم کی جائیں گی۔ اور پھر ان سے کہا جائے گا کہ راحتوں اور لذتوں کے باغات میں ابدی طورپر آباد رہو۔
رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا وَرَبُّ الْمَشَارِقِ
📘 پیغمبر کے ذریعہ جن غیبی حقیقتوں کی خبر دی گئی ہے ان میں سے ایک فرشتہ کا وجود ہے۔ یہاں فرشتوں کے تین خاص کام بتائے گئے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ مکمل طورپر خدا کے تابع ہیں، وہ ادنیٰ سرتابی کے بغیر صف بہ صف اس کی تعمیل کےلیے حاضر رہتے ہیں۔ پھر فرشتوں کا ایک گروہ وہ ہے جو انسانوں پر خدائی سزا کا نفاذ کرتا ہے، خواہ وہ آفات اور حادثات کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں۔ فرشتوں کا تیسرا عمل یہ بتایا گیا ہے کہ وہ خداکے بندوں پر خدا کی نصیحت اتارتے ہیں، عام انسانوں پر الہام یا القاء کی شکل میں اور پیغمبروں پر وحی کی شکل میں۔
خدا ہی ان فرشتوں کا مالک ہے جن کو عام انسان نہیں دیکھتا۔ اور خدا ہی آسمان وزمین کا مالک بھی ہے جن کو ہر آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے۔ ایسی حالت میں خدا کے سوا جس کو بھی معبود بنایا جائے گا وہ ایسا معبود ہوگا جس کو معبود بننے کا حق نہیں۔
فَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
قَالَ قَائِلٌ مِنْهُمْ إِنِّي كَانَ لِي قَرِينٌ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
يَقُولُ أَإِنَّكَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِينَ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
أَإِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَدِينُونَ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
قَالَ هَلْ أَنْتُمْ مُطَّلِعُونَ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
فَاطَّلَعَ فَرَآهُ فِي سَوَاءِ الْجَحِيمِ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
قَالَ تَاللَّهِ إِنْ كِدْتَ لَتُرْدِينِ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
وَلَوْلَا نِعْمَةُ رَبِّي لَكُنْتُ مِنَ الْمُحْضَرِينَ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
أَفَمَا نَحْنُ بِمَيِّتِينَ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
إِلَّا مَوْتَتَنَا الْأُولَىٰ وَمَا نَحْنُ بِمُعَذَّبِينَ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
إِنَّا زَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِزِينَةٍ الْكَوَاكِبِ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
لِمِثْلِ هَٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ
📘 جنت لطیف ترین سرگرمیوں کی دنیا ہوگی۔ وہاں دلچسپ ملاقاتیں ہوں گی۔ وہاں پُرلطف مشاہدات ہوں گے۔ وہاں ایک دوسرے کے درمیان آفاقی سطح پر گفتگوئیں ہوں گی۔ ہر قسم کی محدودیت اور ہر قسم کی ناخوش گواری کا وہاں خاتمہ ہوچکا ہوگا۔
آخرت کو ماننے سے مراد سادہ طورپر صرف اس کو مان لینا نہیں ہے۔ بلکہ آخرت کے معاملہ کو اتنا حقیقی اور اتنا اہم سمجھنا ہے کہ وہ آدمی کی پوری زندگی پر چھا جائے۔ آدمی اپنا سب کچھ آخرت کےلیے لگا دے۔ جو لوگ ایسے آخرت پسندوں کو دیوانہ سمجھتے تھے وہ آخرت میں ان کی کامیابیاں دیکھ کر دم بخود رہ جائیں گے۔ دوسری طرف آخرت پسندوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ اپنے شاندار انجام کو اس طرح حیرت کے ساتھ دیکھیں گے جیسے کہ انھیں یقین نہ آرہا ہو کہ ان کے چھوٹے سے عمل کا خدا نے انھیں اتنا بڑا بدلہ دے دیا ہے۔ کیسا عجیب ہوگا وہ انسان جو ایسی جنت کا حریص نہ ہو، جو ایسی جنت کےلیے عمل نہ کرے۔
أَذَٰلِكَ خَيْرٌ نُزُلًا أَمْ شَجَرَةُ الزَّقُّومِ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِلظَّالِمِينَ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
إِنَّهَا شَجَرَةٌ تَخْرُجُ فِي أَصْلِ الْجَحِيمِ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
طَلْعُهَا كَأَنَّهُ رُءُوسُ الشَّيَاطِينِ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
فَإِنَّهُمْ لَآكِلُونَ مِنْهَا فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
ثُمَّ إِنَّ لَهُمْ عَلَيْهَا لَشَوْبًا مِنْ حَمِيمٍ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
ثُمَّ إِنَّ مَرْجِعَهُمْ لَإِلَى الْجَحِيمِ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
إِنَّهُمْ أَلْفَوْا آبَاءَهُمْ ضَالِّينَ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
وَحِفْظًا مِنْ كُلِّ شَيْطَانٍ مَارِدٍ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
فَهُمْ عَلَىٰ آثَارِهِمْ يُهْرَعُونَ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
وَلَقَدْ ضَلَّ قَبْلَهُمْ أَكْثَرُ الْأَوَّلِينَ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا فِيهِمْ مُنْذِرِينَ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُنْذَرِينَ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
إِلَّا عِبَادَ اللَّهِ الْمُخْلَصِينَ
📘 قرآن میں بتایاگیا ہے کہ دوزخ میں زقوم کا درخت ہوگا اور دوزخی لوگ جب بھوک سے بے قرار ہوں گے تو اس کو کھائیں گے (الواقعہ،
56:52
)
قرآن میں یہ خبر دی گئی تو قدیم عرب کے لوگوں نے اس کا مذاق اڑانا شروع کیا۔ ایک سردار نے کہا کہ آتش دوزخ کے درمیان درخت کیسے اُگے گا۔ جب کہ آگ درخت کو جلا دیتی ہے۔ ایک اور سردار نے کہا محمد ہم کو زقوم سے ڈراتے ہیں۔ حالانکہ زقوم بربر زبان میں کھجور اور مکھن کو کہتے ہیں۔ ابو جہل کچھ لوگوں کو اپنے گھر لے گیا اور اپنی خادمہ سے کہا کہ کھجور اور مکھن لے آؤ۔ وہ لائی تو ابوجہل نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ لو اس کو کھاؤ۔ یہی وہ زقوم ہے جس کی محمد تم کو دھمکی دے رہے ہیں (تَزَقَّمُوا، فَهَذَا الزَّقُّومُ الَّذِي يُخَوِّفُكُمْ بِهِ مُحَمَّدٌ) تفسیر الطبری، جلد
21
، صفحہ
53
۔
اس قسم کے قرآنی بیانات مخالفین کےلیے بہترین ہتھیار تھے جن کے ذریعہ وہ عوام کی نظر میں قرآن کو غیر معتبر ثابت کرسکیں۔ اللہ کےلیے یہ ممکن تھا کہ وہ قرآن میں ایسا لفظ استعمال نہ کرے جس میں مخالفین کےلیے شوشہ نکالنے کا موقع ہو، مگر اللہ نے ایسا نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کا امتحان ہورہا ہے۔ آدمی کو نجات یافتہ بننے کےلیے یہ ثبوت دینا ہے کہ اس نے شوشے کی باتوں سے بچ کر اصل حقیقت پر دھیان دیا۔ اس نے غلط فہمیوں کو عبور کرکے کلام کی حقیقی مدعا کو پایا۔ اس نے ذہنی انحراف کے مواقع ہوتے ہوئے اپنے ذہن کو انحراف سے بچایا۔
اللہ کے چنے ہوئے بندے وہ ہیں جو رواجی دین سے اوپر اٹھ کر سچائی کو دریافت کریں۔ جو ظواہر سے بلند ہو کر معانی کا ادراک کریں۔ جو خدا کے بشری نمائندہ کو پہچان کر اس کے ساتھی بن جائیں۔
وَلَقَدْ نَادَانَا نُوحٌ فَلَنِعْمَ الْمُجِيبُونَ
📘 حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔
حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔
وَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِيمِ
📘 حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔
حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔
وَجَعَلْنَا ذُرِّيَّتَهُ هُمُ الْبَاقِينَ
📘 حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔
حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ
📘 حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔
حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔
سَلَامٌ عَلَىٰ نُوحٍ فِي الْعَالَمِينَ
📘 حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔
حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔
لَا يَسَّمَّعُونَ إِلَى الْمَلَإِ الْأَعْلَىٰ وَيُقْذَفُونَ مِنْ كُلِّ جَانِبٍ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
📘 حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔
حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔
إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُؤْمِنِينَ
📘 حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔
حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔
ثُمَّ أَغْرَقْنَا الْآخَرِينَ
📘 حضرت نوح علیہ السلام کی قوم ان کی دشمن ہوگئی۔ انھوں نے قوم کے مقابلہ میں مدد کےلیے اللہ کو پکارا تو اللہ نے بہترین طورپر آپ کی مدد کی۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ جب اللہ کا ایک بندہ اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ کی طرف سے وہ اس کا بہترین جواب پاتاہے۔ مگر اس معاملہ کو سمجھنے کےلیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور بات کو شامل کیا جائے۔ وہ یہ کہ حضرت نوح ساڑھے نو سو سال تک کام کرتے رہے۔ انھوں نے صبر اور حکمت اور خیر خواہی کے تمام آداب کو ملحوظ رکھتے ہوئے قوم کو دعوت دی۔ اس طرح لمبی مدت کے بعد وہ وقت آیا کہ وہ قوم کے خلاف اللہ کو پکاریں اور اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان کی مدد پر آجائے۔
حضرت نوح کے مخالفین ایک ہولناک طوفان میں اس طرح ہلاک ہوئے کہ ان کی پوری نسل ختم ہوگئی اس کے بعد دوبارہ جو نسل چلی وہ انھیں چند افراد کے ذریعہ چلی جو حضرت نوح کے ساتھ کشتی میں بچاليے گئے تھے۔
۞ وَإِنَّ مِنْ شِيعَتِهِ لَإِبْرَاهِيمَ
📘 حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔
قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔
شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔
إِذْ جَاءَ رَبَّهُ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ
📘 حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔
قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔
شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔
إِذْ قَالَ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ مَاذَا تَعْبُدُونَ
📘 حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔
قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔
شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔
أَئِفْكًا آلِهَةً دُونَ اللَّهِ تُرِيدُونَ
📘 حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔
قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔
شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔
فَمَا ظَنُّكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ
📘 حضرت ابراہیم بھی اسی دین پر تھے جس دین پر حضرت نوح تھے۔ تمام نبیوں کی دعوت ہمیشہ ایک رہی ہے۔ وہ یہ کہ آدمی قلب سلیم کے ساتھ خدا کے یہاں پہنچے۔
قلب سلیم کے معنی ہیں پاک دل۔ یعنی آفات سے محفوظ دل۔ یہی اصل چیز ہے جو اللہ تعالیٰ کو انسان سے مطلوب ہے۔ اللہ نے انسان کو فطرت صحیح پر پیدا کرکے دنیا میں بھیجا۔ اب اس کا امتحان یہ ہے کہ وہ دنیا کے فتنوں سے اپنے آپ کو بچائے۔ وہ ہر قسم کی نفسی اور شیطانی آلودگی سے پاک رہ کر خدا کے یہاں پہنچے۔ یہی پاک اور محفوظ انسان ہیں جن کو خدا اپنی جنتوں میں بسائے گا۔
شرک خدا کی تصغیر ہے۔ آدمی خدا کو سب سے بڑے کی حیثیت سے نہیں پاتا اس ليے وہ دوسری بڑائیوں میں گم ہو کر ان کی پرستش کرنے لگتا ہے۔
فَنَظَرَ نَظْرَةً فِي النُّجُومِ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
فَقَالَ إِنِّي سَقِيمٌ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
دُحُورًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ وَاصِبٌ
📘 زمین و آسمان کی صورت میں جو کائنات ہمارے مشاہدہ میںآتی ہے وہ اتنی پیچیدہ اور اتنی عظیم ہے کہ اس کے بعد انسانوں کو دوسری دنیا میں پیدا کرنا مقابلۃً ایک چھوٹا کام نظر آنے لگتاہے۔ جس خالق کی قوتِ تخلیق کا عظیم تر نمونہ ہمارے سامنے موجود ہے اسی خالق سے اس سے چھوٹی تخلیق نا ممکن یا مستبعد کیوں۔
انسانی جسم کا تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ تمام تر زمینی اجزاء کا ایک مجموعہ ہے۔ زمین میں پائے جانے والے مادے (پانی، کیلشیم، لوہا، سوڈیم، ٹنگسٹین وغیرہ) کی ترکیب سے انسان بنا ہے۔ یہ تمام اجزاء ہماری دنیا میں بہت افراط کے ساتھ پائے جاتے ہیں۔ پھر جن اجزاء کی ترکیب سے خالق نے ایک بار انسان کو بنا کر کھڑا کردیا انھیں اجزاء کی ترکیب سے وہ دوبارہ کیوں ایسا نہیں کرسکتا۔
فَتَوَلَّوْا عَنْهُ مُدْبِرِينَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
فَرَاغَ إِلَىٰ آلِهَتِهِمْ فَقَالَ أَلَا تَأْكُلُونَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
مَا لَكُمْ لَا تَنْطِقُونَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
فَأَقْبَلُوا إِلَيْهِ يَزِفُّونَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
قَالَ أَتَعْبُدُونَ مَا تَنْحِتُونَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ وَمَا تَعْمَلُونَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
قَالُوا ابْنُوا لَهُ بُنْيَانًا فَأَلْقُوهُ فِي الْجَحِيمِ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
فَأَرَادُوا بِهِ كَيْدًا فَجَعَلْنَاهُمُ الْأَسْفَلِينَ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔
وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ
📘 حضرت ابراہیم کے زمانہ میں شرک کا اس طرح عمومی غلبہ ہو ا کہ تاریخ میں اس کا تسلسل قائم ہوگیا۔ اب جو بچہ پیدا ہوتا وہ ماحول کے اثر سے شرک میں اتنا پختہ ہوجاتا کہ کوئی بھی دعوتی کوشش اس کے ذہن کو شرک سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم جب طویل دعوتی جدوجہد کے بعد عراق سے نکلے تو ان کے ساتھ صرف دو مومن تھے۔ ایک آپ کی اہلیہ سارہ، دوسرے آپ کے بھتیجے لوط۔
لوگ دعوت کے ذریعے توحید کے راستہ پر نہیںآرہے تھے۔ اس ليے اللہ تعالیٰ کا یہ منصوبہ ہوا کہ ایک ایسی نسل تیار کی جائے جو شرک کی فضا سے الگ ہو کر پرورش پائے۔ اس کےلیے حجاز کے علاقہ کا انتخاب ہوا جو بے آب وگیاہ ہونے کی وجہ سے بالکل غیر آباد پڑا ہوا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ اس غیر آباد علاقہ میں ایک شخص کو آباد کیا جائے اور اس سے توالد وتناسل کے ذریعہ ایک محفوظ نسل تیار کی جائے۔ مگر اس وقت حجاز مکمل طور پر ایک خشک صحرا تھا اور اس خشک صحرا میں کسی شخص کو آباد کرنا اس کے جیتے جی ذبح کردینے کے ہم معنی تھا۔ حضرت ابراہیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے بیٹے کے حق میں اسی ذبیحہ کا حکم دیا اور انھوں نے پوری طرح مطیع ہو کر اپنے بیٹے کو اس ذبیحہ کےلیے حاضر کردیا۔
حضرت ابراہیم کے دوسرے بیٹے حضرت اسحاق تھے۔ ان کی نسل میں مسلسل نبوت جاری رہی یہاں تک کہ بنو اسماعیل میں آخری نبی پیدا ہوگئے۔ انھوںنے مذکورہ ’’محفوظ نسل‘‘ کو استعمال کرکے وہ انقلاب برپا کیا جس نے ہمیشہ کےلیے شرک کو غالب فکر کی حیثیت سے ختم کردیا۔