🕋 تفسير سورة الطور
(At-Tur) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَالطُّورِ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
وَتَسِيرُ الْجِبَالُ سَيْرًا
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
فَوَيْلٌ يَوْمَئِذٍ لِلْمُكَذِّبِينَ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
الَّذِينَ هُمْ فِي خَوْضٍ يَلْعَبُونَ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
يَوْمَ يُدَعُّونَ إِلَىٰ نَارِ جَهَنَّمَ دَعًّا
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
هَٰذِهِ النَّارُ الَّتِي كُنْتُمْ بِهَا تُكَذِّبُونَ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
أَفَسِحْرٌ هَٰذَا أَمْ أَنْتُمْ لَا تُبْصِرُونَ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
اصْلَوْهَا فَاصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا سَوَاءٌ عَلَيْكُمْ ۖ إِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَعِيمٍ
📘 انسان کا سب سے بڑا جرم حق کو جھٹلانا ہے۔ اس سے بقیہ تمام جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، تمام دوسری نیکیاں اسی سے بطور نتیجہ ظاہر ہوتی ہیں۔
حق کو ماننے سے آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کو اللہ کے ڈرنے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو لوگ اس سب سے بڑی نیکی کا ثبوت دیں وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے جنت کی ابدی نعمتوں کے دروازے کھول دیے جائیں۔
فَاكِهِينَ بِمَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ وَوَقَاهُمْ رَبُّهُمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ
📘 انسان کا سب سے بڑا جرم حق کو جھٹلانا ہے۔ اس سے بقیہ تمام جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، تمام دوسری نیکیاں اسی سے بطور نتیجہ ظاہر ہوتی ہیں۔
حق کو ماننے سے آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کو اللہ کے ڈرنے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو لوگ اس سب سے بڑی نیکی کا ثبوت دیں وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے جنت کی ابدی نعمتوں کے دروازے کھول دیے جائیں۔
كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُونَ
📘 انسان کا سب سے بڑا جرم حق کو جھٹلانا ہے۔ اس سے بقیہ تمام جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، تمام دوسری نیکیاں اسی سے بطور نتیجہ ظاہر ہوتی ہیں۔
حق کو ماننے سے آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کو اللہ کے ڈرنے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو لوگ اس سب سے بڑی نیکی کا ثبوت دیں وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے جنت کی ابدی نعمتوں کے دروازے کھول دیے جائیں۔
وَكِتَابٍ مَسْطُورٍ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
مُتَّكِئِينَ عَلَىٰ سُرُرٍ مَصْفُوفَةٍ ۖ وَزَوَّجْنَاهُمْ بِحُورٍ عِينٍ
📘 انسان کا سب سے بڑا جرم حق کو جھٹلانا ہے۔ اس سے بقیہ تمام جرائم پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح انسان کی سب سے بڑی نیکی حق کا اعتراف ہے، تمام دوسری نیکیاں اسی سے بطور نتیجہ ظاہر ہوتی ہیں۔
حق کو ماننے سے آدمی کی بڑائی ٹوٹتی ہے۔ یہ کسی انسان کے لیے سب سے زیادہ مشکل کام ہے۔ اس پر وہی لوگ پورے اترتے ہیں جن کو اللہ کے ڈرنے آخری حد تک سنجیدہ بنا دیا ہو۔ جو لوگ اس سب سے بڑی نیکی کا ثبوت دیں وہ اسی کے مستحق ہیں کہ ان کے لیے جنت کی ابدی نعمتوں کے دروازے کھول دیے جائیں۔
وَالَّذِينَ آمَنُوا وَاتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّيَّتُهُمْ بِإِيمَانٍ أَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَمَا أَلَتْنَاهُمْ مِنْ عَمَلِهِمْ مِنْ شَيْءٍ ۚ كُلُّ امْرِئٍ بِمَا كَسَبَ رَهِينٌ
📘 آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
وَأَمْدَدْنَاهُمْ بِفَاكِهَةٍ وَلَحْمٍ مِمَّا يَشْتَهُونَ
📘 آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
يَتَنَازَعُونَ فِيهَا كَأْسًا لَا لَغْوٌ فِيهَا وَلَا تَأْثِيمٌ
📘 آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
۞ وَيَطُوفُ عَلَيْهِمْ غِلْمَانٌ لَهُمْ كَأَنَّهُمْ لُؤْلُؤٌ مَكْنُونٌ
📘 آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
وَأَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ يَتَسَاءَلُونَ
📘 آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
قَالُوا إِنَّا كُنَّا قَبْلُ فِي أَهْلِنَا مُشْفِقِينَ
📘 آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْنَا وَوَقَانَا عَذَابَ السَّمُومِ
📘 آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
إِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلُ نَدْعُوهُ ۖ إِنَّهُ هُوَ الْبَرُّ الرَّحِيمُ
📘 آخرت میں ایسا نہیں ہوگا کہ ایک شخص کا گناہ دوسرے شخص کے اوپر ڈال دیا جائے۔ اور نہ کوئی شخص ایمان و عمل کے بغیر جنت میں داخلہ پا سکے گا۔ البتہ اہل جنت کے ساتھ ایک خاص فضل کا معاملہ یہ ہوگا کہ والدین اگر جنت کے بلند درجہ میں ہوں اور ان کی اولاد کسی اور درجے میں تو اولاد کو بھی ان کے والدین کے ساتھ ملا دیا جائے گا۔ تاکہ انہیں مزید خوشی حاصل ہوسکے۔
جنت کی لطیف دنیا میں داخلہ کا مستحق صرف وہ شخص ہوگا جس کا حال یہ تھا کہ اپنے بیوی بچوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس کو اللہ کا خوف تڑپائے ہوئے تھا، اور جس نے اپنی امیدوں اور اپنے اندیشوں کو صرف ایک اللہ کے ساتھ وابستہ کر رکھا تھا۔
فَذَكِّرْ فَمَا أَنْتَ بِنِعْمَتِ رَبِّكَ بِكَاهِنٍ وَلَا مَجْنُونٍ
📘 جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
فِي رَقٍّ مَنْشُورٍ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
أَمْ يَقُولُونَ شَاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِهِ رَيْبَ الْمَنُونِ
📘 جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
قُلْ تَرَبَّصُوا فَإِنِّي مَعَكُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِينَ
📘 جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
أَمْ تَأْمُرُهُمْ أَحْلَامُهُمْ بِهَٰذَا ۚ أَمْ هُمْ قَوْمٌ طَاغُونَ
📘 جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
أَمْ يَقُولُونَ تَقَوَّلَهُ ۚ بَلْ لَا يُؤْمِنُونَ
📘 جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
فَلْيَأْتُوا بِحَدِيثٍ مِثْلِهِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ
📘 جب آدمی ایک دعوت کے مقابلہ میں اپنے آپ کو بے دلیل پائے، اس کے باوجود وہ اس کو ماننا نہ چاہے تو وہ یہ کرتا ہے کہ داعی کی ذات میں عیب لگانا شروع کردیتا ہے۔ وہ کلام کے بجائے متکلم کو اپنا نشانہ بناتا ہے۔ یہی وہ نفسیات تھی جس کے تحت پیغمبر کے مخاطبین نے آپ کو شاعر اور مجنون کہنا شروع کیا۔ وہ آپ کی دعوت کو دلیل سے رد نہیں کرسکتے تھے۔ اس لیے وہ آپ کے بارے میں ایسی باتیں کہنے لگے جن سے آپ کی شخصیت مشتبہ ہوجائے۔
مگر پیغمبر خدا سے لے کر بولتا ہے۔ اور جو انسان خدا سے لے کر بولے اس کا کلام اتنا ممتاز طور پر دوسروں کے کلام سے مختلف ہوتا ہے کہ اس کے مثل کلام پیش کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ واقعہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہوتا ہے کہ اس کا کلام خدائی کلام ہے، وہ عام معنوں میں محض انسانی کلام نہیں۔
أَمْ خُلِقُوا مِنْ غَيْرِ شَيْءٍ أَمْ هُمُ الْخَالِقُونَ
📘 خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔
أَمْ خَلَقُوا السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۚ بَلْ لَا يُوقِنُونَ
📘 خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔
أَمْ عِنْدَهُمْ خَزَائِنُ رَبِّكَ أَمْ هُمُ الْمُصَيْطِرُونَ
📘 خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔
أَمْ لَهُمْ سُلَّمٌ يَسْتَمِعُونَ فِيهِ ۖ فَلْيَأْتِ مُسْتَمِعُهُمْ بِسُلْطَانٍ مُبِينٍ
📘 خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔
أَمْ لَهُ الْبَنَاتُ وَلَكُمُ الْبَنُونَ
📘 خدا کی طرف سے جن صداقتوں کا اعلان ہوا ہے وہ سب پوری طرح معقول ہیں۔ آدمی اگر دھیان دے تو وہ بہ آسانی ان کو سمجھ سکتا ہے۔ پھر بھی لوگ کیوں ان کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ آخرت کے بارے میں لوگوں کی بے یقینی ہے۔ لوگوں کو زندہ یقین نہیں کہ آخرت میں ان سے حساب لیا جائے گا۔ اس لیے وہ ان امور میں سنجیدہ نہیں۔ اور اسی لیے وہ ان کو سمجھ بھی نہیں سکتے۔ اگر جزائے اعمال کا یقین ہو تو آدمی فوراً ان باتوں کو سمجھ جائے جن کو سمجھنا اس کے لیے نہایت مشکل ہورہا ہے۔
وَالْبَيْتِ الْمَعْمُورِ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
أَمْ تَسْأَلُهُمْ أَجْرًا فَهُمْ مِنْ مَغْرَمٍ مُثْقَلُونَ
📘 مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔
داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔
أَمْ عِنْدَهُمُ الْغَيْبُ فَهُمْ يَكْتُبُونَ
📘 مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔
داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔
أَمْ يُرِيدُونَ كَيْدًا ۖ فَالَّذِينَ كَفَرُوا هُمُ الْمَكِيدُونَ
📘 مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔
داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔
أَمْ لَهُمْ إِلَٰهٌ غَيْرُ اللَّهِ ۚ سُبْحَانَ اللَّهِ عَمَّا يُشْرِكُونَ
📘 مدعو گروہ ہمیشہ مادہ پرستی کی سطح پر ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں مدعو کو اگر یہ احساس ہو کہ داعی اس سے اس کی کوئی مادی چیز لینا چاہتا ہے تو وہ فوراً اس کی طرف سے متوحش ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اپنے اور مخاطبین کے درمیان کسی قسم کے مادی مطالبہ کی بات کبھی نہیں آنے دیتا۔ وہ اپنے اور مخاطبین کے درمیان آخر وقت تک بے غرضی کی فضا باقی رکھتا ہے۔ خواہ اس کے لیے اسے یک طرفہ طور پر مادی نقصان برداشت کرنا پڑے۔
داعی جب اپنی دعوت کے حق میں اس حد تک سنجیدگی کا ثبوت دے دے تو اس کے بعد وہ خدا کی اس نصرت کا مستحق ہوجاتا ہے کہ منکرین کی ہر تدبیر ان کے اوپر الٹی پڑے۔ وہ کسی بھی طرح داعی کو مغلوب کرنے میں کامیاب نہ ہوں۔
وَإِنْ يَرَوْا كِسْفًا مِنَ السَّمَاءِ سَاقِطًا يَقُولُوا سَحَابٌ مَرْكُومٌ
📘 قدیم مکہ کے لوگوں کا یہ حال کیوں تھا کہ اگر وہ آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو کہہ دیں کہ یہ بادل ہے۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ خدا کو یا خدائی طاقتوں کو مانتے نہ تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہیں پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ تھا کہ ان کے سامنے بظاہر انہیں جیسا جو ایک شخص ہے اس کا انکار کرنا ایسا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا پہاڑ گر پڑے گا۔
پیغمبر اسلام کی شخصیت اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے ایک نزاعی شخصیت تھی۔ وہ اس طرح ایک ثابت شدہ شخصیت نہ تھی،جس طرح آج وہ لوگوں کو نظر آتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہی ہے کہ وہ شبہات کے پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ بظاہر ایک نزاعی شخصیت کو ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں دریافت کرے۔
فَذَرْهُمْ حَتَّىٰ يُلَاقُوا يَوْمَهُمُ الَّذِي فِيهِ يُصْعَقُونَ
📘 قدیم مکہ کے لوگوں کا یہ حال کیوں تھا کہ اگر وہ آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو کہہ دیں کہ یہ بادل ہے۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ خدا کو یا خدائی طاقتوں کو مانتے نہ تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہیں پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ تھا کہ ان کے سامنے بظاہر انہیں جیسا جو ایک شخص ہے اس کا انکار کرنا ایسا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا پہاڑ گر پڑے گا۔
پیغمبر اسلام کی شخصیت اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے ایک نزاعی شخصیت تھی۔ وہ اس طرح ایک ثابت شدہ شخصیت نہ تھی،جس طرح آج وہ لوگوں کو نظر آتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہی ہے کہ وہ شبہات کے پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ بظاہر ایک نزاعی شخصیت کو ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں دریافت کرے۔
يَوْمَ لَا يُغْنِي عَنْهُمْ كَيْدُهُمْ شَيْئًا وَلَا هُمْ يُنْصَرُونَ
📘 قدیم مکہ کے لوگوں کا یہ حال کیوں تھا کہ اگر وہ آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو کہہ دیں کہ یہ بادل ہے۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ خدا کو یا خدائی طاقتوں کو مانتے نہ تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہیں پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ تھا کہ ان کے سامنے بظاہر انہیں جیسا جو ایک شخص ہے اس کا انکار کرنا ایسا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا پہاڑ گر پڑے گا۔
پیغمبر اسلام کی شخصیت اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے ایک نزاعی شخصیت تھی۔ وہ اس طرح ایک ثابت شدہ شخصیت نہ تھی،جس طرح آج وہ لوگوں کو نظر آتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہی ہے کہ وہ شبہات کے پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ بظاہر ایک نزاعی شخصیت کو ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں دریافت کرے۔
وَإِنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا عَذَابًا دُونَ ذَٰلِكَ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُونَ
📘 قدیم مکہ کے لوگوں کا یہ حال کیوں تھا کہ اگر وہ آسمان سے کوئی عذاب کا ٹکڑا گرتے ہوئے دیکھیں تو کہہ دیں کہ یہ بادل ہے۔ اس کی وجہ یہ نہ تھی کہ وہ خدا کو یا خدائی طاقتوں کو مانتے نہ تھے۔ اس کی اصل وجہ یہ تھی کہ انہیں پیغمبر کے پیغمبر ہونے میں شک تھا۔ انہیں یقین نہ تھا کہ ان کے سامنے بظاہر انہیں جیسا جو ایک شخص ہے اس کا انکار کرنا ایسا جرم ہے کہ اس کی وجہ سے ہلاکت کا پہاڑ گر پڑے گا۔
پیغمبر اسلام کی شخصیت اپنے زمانہ میں لوگوں کے لیے ایک نزاعی شخصیت تھی۔ وہ اس طرح ایک ثابت شدہ شخصیت نہ تھی،جس طرح آج وہ لوگوں کو نظر آتی ہے۔ مگر اس دنیا میں آدمی کا امتحان یہی ہے کہ وہ شبہات کے پردہ کو پھاڑ کر حقیقت کو دیکھے۔ وہ بظاہر ایک نزاعی شخصیت کو ثابت شدہ شخصیت کے روپ میں دریافت کرے۔
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا ۖ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ حِينَ تَقُومُ
📘 ’’ خدا کا فیصلہ آنے تک صبر کرو‘‘ کا مطلب یہ ہے كه مخاطب کی طرف سے ہر قسم کی ناگوار باتوں کے پیش آنے کے باوجود دعوت کا کام اس وقت تک جاری رکھو جب تک خود خدا کے نزدیک اس کی حد نہ آجائے۔ جب یہ حد آتی ہے تو اس وقت خدا کا فیصلہ ظاہر ہو کر حق اور ناحق کے فرق کو عملی طور پر ظاہر کر دیتا ہے جس کواس سے پہلے صرف نظری طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔
اس پوری مدت میں داعی مکمل طور پر خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے ۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ رہے۔ اور یہ یقین رکھے کہ اللہ اس کو ہر آن اپنی حفاظت میں ليے ہوئے ہے۔
وَمِنَ اللَّيْلِ فَسَبِّحْهُ وَإِدْبَارَ النُّجُومِ
📘 ’’ خدا کا فیصلہ آنے تک صبر کرو‘‘ کا مطلب یہ ہے كه مخاطب کی طرف سے ہر قسم کی ناگوار باتوں کے پیش آنے کے باوجود دعوت کا کام اس وقت تک جاری رکھو جب تک خود خدا کے نزدیک اس کی حد نہ آجائے۔ جب یہ حد آتی ہے تو اس وقت خدا کا فیصلہ ظاہر ہو کر حق اور ناحق کے فرق کو عملی طور پر ظاہر کر دیتا ہے جس کواس سے پہلے صرف نظری طور پر ظاہر کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔
اس پوری مدت میں داعی مکمل طور پر خدا کی حفاظت میں ہوتا ہے ۔ داعی کا کام یہ ہے کہ وہ اللہ کی طرف متوجہ رہے۔ اور یہ یقین رکھے کہ اللہ اس کو ہر آن اپنی حفاظت میں ليے ہوئے ہے۔
وَالسَّقْفِ الْمَرْفُوعِ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
وَالْبَحْرِ الْمَسْجُورِ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
مَا لَهُ مِنْ دَافِعٍ
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔
يَوْمَ تَمُورُ السَّمَاءُ مَوْرًا
📘 طور صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ کو پیغمبری دی گئی۔ کتاب مسطور سے مراد تورات ہے۔ بیت معمور سے مراد زمین اور سقف مرفوع سے مراد آسمان ہے۔ بحر مسجور سے مراد موجیں مارتا ہوا سمندر ہے۔ یہ چیزیں شاہد ہیں کہ خدا کی پکڑ کا دن یقیناً آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہی خبر پیغمبروں کے ذریعہ دیتا رہا ہے۔ قدیم آسمانی کتابوں میں یہی بات درج ہے۔ زمین و آسمان اپنی خاموش زبان میں اس کا اعلان کر رہے ہیں۔ سمندر کی موجیں ہر سننے والے کو اس کی کہانی سنا رہی ہیں۔
انسان کو اپنے عمل کا نتیجہ بھگتنا ہوگا۔ یہ بات آج پیشگی اطلاع کی صورت میں بتائی جا رہی ہے۔ جو لوگ پیشگی اطلاع سے ہوش میں نہ آئیں ان پر ان کی غفلت اور سرکشی کل کے دن ایک دردناک عذاب کی صورت میں آ پڑے گی اور پھر وہ اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ اس سے بھاگ کر کہیں نہ جا سکیں گے۔