🕋 تفسير سورة القمر
(Al-Qamar) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ
📘 آیت 1 { اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ۔ } ”قیامت کی گھڑی قریب آچکی اور چاند شق ہوگیا۔“ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی بار ذکر ہوچکا ہے کہ قیامت کی نشانیوں میں سب سے قطعی اور یقینی نشانی حضور ﷺ کی بعثت ہے۔ اس حوالے سے حضور ﷺ کا فرمان ہے : بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَـیْنِ 1 ”مجھے اور قیامت کو ان دو انگلیوں کی طرح جڑا ہوا بھیجا گیا ہے“۔ اس لحاظ سے اِقْتَرَبَتِ السَّاعَۃُ کا مفہوم یہ ہے کہ اب جبکہ آخری رسول ﷺ بھی دنیا میں آ چکے ہیں تو سمجھ لو کہ قیامت کا وقت بہت قریب آ لگا ہے۔ سورة السجدۃ کی آیت 5 میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک دن ہمارے ہزار برس کے برابر ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو حضور ﷺ کے وصال کو ابھی صرف ڈیڑھ دن ہی ہوا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ کے علم کے مطابق حضور ﷺ کی بعثت کے بعد اب قیامت بالکل سامنے ہے۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام اپنے منہ کے ساتھ صور لگائے بالکل تیار کھڑے ہیں۔ بس اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک اشارے کی دیر ہے۔ جونہی اشارہ ہوگا وہ صور میں پھونک مار دیں گے۔ قربِ قیامت کے اس مفہوم کو سورة المعارج میں یوں بیان کیا گیا ہے : { اِنَّہُمْ یَرَوْنَہٗ بَعِیْدًا۔ وَّنَرٰٹہُ قَرِیْبًا۔ } ”یہ لوگ تو قیامت کو بہت دور سمجھ رہے ہیں ‘ جبکہ ہم اسے بہت قریب دیکھ رہے ہیں۔“ آیت میں چاند کے پھٹنے کا ذکر ایک خرق عادت واقعہ کے طور پر ہوا ہے۔ روایات کے مطابق اس وقت حضور ﷺ منیٰ میں تشریف فرما تھے۔ چاند کی چودھویں رات تھی۔ آپ ﷺ کے ارد گرد ہر طرح کے لوگ تھے۔ کسی نے کہا کہ آپ ﷺ کی طرف سے کوئی نشانی ہونی چاہیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : چاند کی طرف دیکھو۔ لوگوں کو متوجہ کر کے آپ ﷺ نے انگلی کا اشارہ کیا اور چاند پھٹ کر دو ٹکڑے ہوگیا۔ ایک ٹکڑا سامنے کی پہاڑی کے ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف چلا گیا اور پھر اگلے ہی لمحے دونوں ٹکڑے قریب آکر دوبارہ جڑ گئے۔ آپ ﷺ نے لوگوں سے فرمایا : دیکھو اور گواہ رہو ! کفار نے کہا کہ محمد ﷺ نے ہم پر جادو کردیا تھا ‘ اس لیے ہماری آنکھوں نے دھوکہ کھایا۔ بعد میں باہر سے آنے والے لوگوں نے بھی اس کی شہادت دی۔ میرے نزدیک یہ معجزہ نہیں تھا بلکہ ایک ”خرقِ عادت“ واقعہ تھا۔ اس نکتے کی وضاحت اس سے پہلے بھی کئی مرتبہ کی جا چکی ہے کہ ہر رسول کو ایک معجزہ دیا گیا جو باقاعدہ دعوے کے ساتھ دکھایا گیا۔ اس لحاظ سے حضور ﷺ کا معجزہ قرآن ہے۔ البتہ خرق عادت واقعات حضور ﷺ سے بیشمار نقل ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے اگر اولیاء اللہ سے کرامات کا ظہور ہوتا ہے تو حضور ﷺ کی کرامات تو ہزار گنا بڑی ہوں گی۔ اس واقعہ پر بہت سے اعتراضات بھی ہوئے ہیں۔ اس بنیاد پر بھی کہ اس سے متعلق دنیا میں کوئی تاریخی ثبوت موجود نہیں۔ اسی لیے سرسید احمد خان مرحوم اور ان کے مکتبہ فکر کے لوگوں نے آیت کے متعلقہ الفاظ کی مختلف تاویلات کی ہیں۔ بہرحال جہاں تک تاریخی ثبوت نہ ہونے کا تعلق ہے اس بارے میں یہ حقیقت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ یہ واقعہ رونما ہونے کے وقت آدھی دنیا میں تو دن کی روشنی ہوگی۔ لیکن جن علاقوں میں چاند دیکھا جاسکتا تھا ان علاقوں کے لوگ بھی تو ظاہر ہے اس وقت ٹکٹکی باندھے چاند کو نہیں دیکھ رہے تھے کہ ان میں سے اکثر اس واقعے کے عینی شاہد بن جاتے۔ پھر یہ منظر بھی صرف لمحے بھر کا تھا اور اس دوران چاند کی روشنی میں بھی کوئی فرق نہیں آیا تھا کہ لوگ چونک کر دیکھتے۔ البتہ ایک تاریخی روایت کے مطابق برصغیر میں مالابار کے ساحلی علاقے کے ایک ہندو راجہ نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ بعد میں جب عرب تاجروں کے ذریعے اس تک اسلام کی دعوت اور قرآنی تعلیمات پہنچیں تو اس نے نہ صرف ایک چشم دید گواہ کے طور پر اس واقعہ کی تصدیق کی بلکہ وہ ایمان بھی لے آیا۔ واللہ اعلم !
فَدَعَا رَبَّهُ أَنِّي مَغْلُوبٌ فَانْتَصِرْ
📘 آیت 10 { فَدَعَا رَبَّـہٗٓ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ۔ } ”تو اس نے پکارا اپنے رب کو کہ میں مغلوب ہوچکا ہوں ‘ اب تو ُ ان سے انتقام لے۔“ رسولوں علیہ السلام کی مدد کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے قانون کا ذکر سورة الصّٰفٰت میں اس طرح آیا ہے : { وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِیْنَ۔ اِنَّہُمْ لَہُمُ الْمَنْصُوْرُوْنَ۔ وَاِنَّ جُنْدَنَا لَہُمُ الْغٰلِبُوْنَ۔ } ”اور ہماری یہ بات پہلے سے طے شدہ ہے اپنے ان بندوں کے لیے جن کو ہم رسول بنا کر بھیجتے رہے ہیں ‘ کہ ان کی لازماً مدد کی جائے گی۔ اور یقینا ہمارا لشکر ہی غالب رہے گا۔“
فَفَتَحْنَا أَبْوَابَ السَّمَاءِ بِمَاءٍ مُنْهَمِرٍ
📘 آیت 1 1 { فَفَتَحْنَآ اَبْوَابَ السَّمَآئِ بِمَآئٍ مُّنْہَمِرٍ۔ } ”تو ہم نے کھول دیے آسمان کے دروازے اس پانی کے ساتھ جو مسلسل چھاجوں برستا رہا۔“
وَفَجَّرْنَا الْأَرْضَ عُيُونًا فَالْتَقَى الْمَاءُ عَلَىٰ أَمْرٍ قَدْ قُدِرَ
📘 آیت 12 { وَّفَجَّرْنَا الْاَرْضَ عُیُوْنًا } ”اور ہم نے زمین کو پھاڑ کر چشمے ہی چشمے کردیا“ اس وقت اس علاقے کی صورت حال یوں تھی کہ آسمان سے مسلسل موسلادھار بارش ہو رہی تھی اور نیچے زمین سے جابجا چشمے اس طرح پھوٹ رہے تھے کہ زمین گویا چشموں میں تبدیل ہوگئی تھی۔ { فَالْـتَقَی الْمَآئُ عَلٰٓی اَمْرٍ قَدْ قُدِرَ۔ } ”تو وہ سارا پانی مل گیا ایک ایسے کام کے لیے جس کا فیصلہ ہوچکا تھا۔“ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس نافرمان قوم کو غرق کرنے کا فیصلہ ہوچکا تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے کے مطابق آسمان سے برسنے والے اور زمین سے پھوٹنے والے پانی نے مل کر ایک خوفناک سیلاب کی شکل اختیار کرلی۔
وَحَمَلْنَاهُ عَلَىٰ ذَاتِ أَلْوَاحٍ وَدُسُرٍ
📘 آیت 13 { وَحَمَلْنٰـہُ عَلٰی ذَاتِ اَلْوَاحٍ وَّدُسُرٍ۔ } ”اور ہم نے اسے سوار کردیا اس کشتی پر جو تختوں اور کیلوں سے بنی تھی۔“
تَجْرِي بِأَعْيُنِنَا جَزَاءً لِمَنْ كَانَ كُفِرَ
📘 آیت 14 { تَجْرِیْ بِاَعْیُنِنَا } ”جو چل رہی تھی ہماری نگاہوں کے سامنے۔“ وہ کشتی ہماری نگرانی اور حفاظت میں چل رہی تھی۔ { جَزَآئً لِّمَنْ کَانَ کُفِرَ۔ } ”یہ بدلہ تھا اس شخص کے لیے جس کی ناقدری کی گئی تھی۔“ یوں ہم نے اپنے بندے نوح علیہ السلام کی قدر افزائی فرمائی جس کی قوم نے اسے ٹھکرا دیا تھا۔ اس کشتی کے ذریعے ہم نے اسے اور اس کے اہل ایمان ساتھیوں کو سیلاب سے محفوظ رکھا۔
وَلَقَدْ تَرَكْنَاهَا آيَةً فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
📘 آیت 15 { وَلَقَدْ تَّرَکْنٰہَـآ اٰیَۃً فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے اسے چھوڑ دیا ایک نشانی کے طور پر تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا !“ یعنی حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی مشیت الٰہی سے محفوظ کرلی گئی اور کسی وقت ایک بہت بڑی نشانی کے طور پر دنیا کی نظروں کے سامنے آجائے گی۔ بالکل اسی طرح جس طرح زیر زمین دفن شدہ شداد ّکی جنت ارضی کے بارے میں اب دنیا جان چکی ہے یا بحیرئہ مردار کی تہہ میں قوم لوط علیہ السلام کے شہروں کے کھنڈرات دریافت کرلیے گئے ہیں۔
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
📘 آیت 16 { فَکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا !“
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
📘 آیت 17 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت اخذ کرنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا !“ یہ اس سورت کی ترجیعی بار بار دہرائی جانے والی آیت ہے اور اس میں ایک چیلنج کا سا انداز پایاجاتا ہے۔ مضمون کی اہمیت کے پیش نظر پوری سورت میں اس آیت کو چار مرتبہ دہرایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس اعلان کو پڑھ لینے یا سن لینے کے بعد ایک بندے پر گویا اتمامِ حجت ہوجاتا ہے اور اس کے لیے ضروری ہوجاتا ہے کہ وہ قرآن کو سمجھنے اور اس سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے استطاعت بھر کوشش شروع کردے۔ خصوصی طور پر پڑھے لکھے خواتین و حضرات پر تو گویا فرض ہے کہ وہ عربی سیکھیں اور قرآن کے معانی و مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر وہ باقی علوم حاصل کرسکتے ہیں تو قرآن کا علم باقاعدہ حاصل نہ کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے سامنے ان کا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہوگا۔ آج ہمارا المیہ یہ ہے کہ اس قدر اہم اور بنیادی فرض کے بارے میں لوگوں کو بتایا ہی نہیں جاتا۔ لیلۃ القدر میں نوافل پڑھنے کی ترغیب بھی دی جاتی ہے ‘ مختلف اذکار و وظائف کے ثواب کے بارے میں بھی بتایا جاتا ہے ‘ لیکن یہ نہیں بتایا جاتا کہ اپنی اپنی استطاعت کے مطابق قرآن کے مطالب و مفاہیم کا سمجھنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ عربی سیکھنے کے حوالے سے ہمارے لیے حوصلہ افزا بات یہ ہے کہ یہ ایک زندہ زبان ہے۔ دنیا کے ایک بہت بڑے علاقے میں بولی جاتی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس کی اہمیت مسلمہ ہے۔ آج کوئی بین الاقوامی فورم ایسا نہیں جہاں پر عربی ترجمہ پیش کرنے کا انتظام نہ ہو۔ ہم مسلمانوں کو اپنی الہامی کتاب کی زبان کو سیکھنے کے لیے یہودیوں اور ہندوئوں سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اگر یہ قومیں اپنی مردہ زبانوں عبرانی اور سنسکرت کو زندہ کرسکتی ہیں تو ہم اپنی زندہ زبان کو کیوں نہیں سیکھ سکتے ؟ بہرحال آج نوجوان نسل میں یہ احساس اجاگر کرنے کی سخت ضرورت ہے۔
كَذَّبَتْ عَادٌ فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
📘 آیت 18 { کَذَّبَتْ عَادٌ فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”جھٹلایا تھا قوم عاد نے بھی ‘ تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟“
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحًا صَرْصَرًا فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ
📘 آیت 19 { اِنَّــآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ رِیْحًا صَرْصَرًا } ”ہم نے ان پر مسلط کردی ایک ُ تند و تیز ہوا“ { فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ مُّسْتَمِرٍّ۔ } ”ایک مسلسل نحوست کے دن میں۔“
وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ
📘 آیت 2 { وَاِنْ یَّرَوْا اٰیَۃً یُّعْرِضُوْا وَیَقُوْلُوْا سِحْرٌ مُّسْتَمِرٌّ} ”اور اگر وہ دیکھیں گے کوئی نشانی تب بھی وہ اعراض ہی کریں گے اور کہیں گے یہ تو جادو ہے جو پہلے سے چلا آ رہا ہے۔“
تَنْزِعُ النَّاسَ كَأَنَّهُمْ أَعْجَازُ نَخْلٍ مُنْقَعِرٍ
📘 آیت 20 { تَنْزِعُ النَّاسَ لا کَاَنَّـہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ مُّنْقَعِرٍ۔ } ”وہ لوگوں کو یوں اکھاڑ پھینکتی تھی جیسے وہ کھجور کے تنے ہوں اکھڑی ہوئی جڑوں والے۔“ طویل القامت ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کو کھجور کے تنوں کے ساتھ تشبیہہ دی گئی ہے کہ ہوا کے اس عذاب کی وجہ سے وہ مردہ حالت میں زمین پر ایسے پڑے تھے جیسے جڑوں سے اکھڑے ہوئے کھجوروں کے تنے پڑے ہوں۔
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
📘 آیت 21 { فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟“
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
📘 آیت 22 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے اس قرآن کو آسان کردیا ہے نصیحت حاصل کرنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی اس سے نصیحت حاصل کرنے والا !“
كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِالنُّذُرِ
📘 آیت 23 { کَذَّبَتْ ثَمُوْدُ بِالنُّذُرِ۔ } ”قومِ ثمود نے بھی جھٹلایا خبردار کرنے والوں کو۔“
فَقَالُوا أَبَشَرًا مِنَّا وَاحِدًا نَتَّبِعُهُ إِنَّا إِذًا لَفِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ
📘 آیت 24 { فَقَالُوْٓا اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّــتَّبِعُہٗٓ لا } ”انہوں نے کہا : کیا ہم اپنے میں سے ہی ایک بشر کی پیروی کریں ؟“ { اِنَّــآ اِذًا لَّفِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۔ } ”پھر تو یقیناہم پڑجائیں گے گمراہی میں اور آگ میں۔“ اپنے جیسے ایک انسان کی اطاعت اور پیروی کرنے کا مطلب تو یہ ہوگا کہ ہم نے اپنے آپ کو خود ہی گمراہی میں اور آگ کے گڑھے میں ڈال دیا۔ سُعُر جمع ہے سَعِیْر کی اور سَعِیْرکے معنی آگ کے ہیں۔ ایسی باتیں کرتے ہوئے وہ لوگ گویا حضرت صالح علیہ السلام ہی کے الفاظ میں آپ علیہ السلام کو جواب دے رہے تھے۔ حضرت صالح علیہ السلام ان سے کہتے تھے کہ تم لوگ اگر میری بات نہیں مانو گے تو آخرت میں جہنم کی آگ کا ایندھن بنو گے۔ جواب میں وہ کہتے تھے کہ تم ہماری ہی طرح کے ایک انسان ہو۔ اگر ہم تمہیں اپنا پیشوا مان کر تمہارے پیچھے چل پڑیں تو یہ گمراہی کا راستہ ہوگا اور ہمارے لیے اسی دنیا میں خود کو آگ میں جھونک دینے کے مترادف ہوگا۔
أَأُلْقِيَ الذِّكْرُ عَلَيْهِ مِنْ بَيْنِنَا بَلْ هُوَ كَذَّابٌ أَشِرٌ
📘 آیت 25{ ئَ اُلْقِیَ الذِّکْرُ عَلَیْہِ مِنْ م بَیْنِنَا } ”کیا یہ ذکر ہمارے مابین اسی پر القا کیا گیا ہے ؟“ اگر ہم مان بھی لیں کہ یہ سچ کہہ رہے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ نے وحی کے لیے آخر اسی شخص کا انتخاب کیوں کیا ؟ اس منصب کے لیے اس کی نظر ہمارے کسی بڑے سردار پر کیوں نہیں پڑی ؟ { بَلْ ہُوَ کَذَّابٌ اَشِرٌ۔ } ”بلکہ یہ انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے۔“ لہٰذا ہم سمجھتے ہیں کہ یہ شخص جھوٹ بول رہا ہے اور صرف اپنی بڑائی جتلانے اور شیخی بگھارنے کے لیے اس نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ مجھ پر اللہ کی طرف سے وحی آتی ہے۔
سَيَعْلَمُونَ غَدًا مَنِ الْكَذَّابُ الْأَشِرُ
📘 آیت 26 { سَیَعْلَمُوْنَ غَدًا مَّنِ الْکَذَّابُ الْاَشِرُ۔ } ”جلد ہی انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون انتہائی جھوٹا اور شیخی خورا ہے !“
إِنَّا مُرْسِلُو النَّاقَةِ فِتْنَةً لَهُمْ فَارْتَقِبْهُمْ وَاصْطَبِرْ
📘 آیت 27{ اِنَّا مُرْسِلُوا النَّاقَۃِ فِتْنَۃً لَّـہُمْ فَارْتَقِبْہُمْ وَاصْطَبِرْ۔ } ”ہم بھیجے دیتے ہیں اونٹنی کو ان کی آزمائش کے لیے ‘ تو آپ علیہ السلام انتظار کیجیے ان کے بارے میں اور صبر کیجیے۔“ یہ خطاب حضرت صالح علیہ السلام سے ہے کہ ہم ان کے مطالبے کے مطابق اونٹنی بطور معجزہ ان کے سامنے لا رہے ہیں ‘ جو ان کے لیے بہت بڑی آزمائش بن جائے گی۔ لیکن ابھی چونکہ ان کی مہلت باقی ہے اس لیے آپ علیہ السلام صبر کے ساتھ ان کے بارے میں اللہ کے فیصلے کا انتظار کیجیے۔
وَنَبِّئْهُمْ أَنَّ الْمَاءَ قِسْمَةٌ بَيْنَهُمْ ۖ كُلُّ شِرْبٍ مُحْتَضَرٌ
📘 آیت 28 { وَنَــبِّئْہُمْ اَنَّ الْمَآئَ قِسْمَۃٌم بَیْنَہُمْ ج کُلُّ شِرْبٍ مُّحْتَضَرٌ۔ } ”اور انہیں بتا دیجیے کہ اب پانی ان کے مابین تقسیم ہوگا ‘ ہر پینے کی باری پر حاضری ہوگی۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے مطالبے پر ایک چٹان سے حاملہ اونٹنی پیدا کردی اور اس کا نام ناقۃُ اللّٰہ اللہ کی اونٹنی ] الاعراف : 73 اور ہود : 64 [ رکھا۔ وہ اونٹنی جب چشمے پر پانی پینے کے لیے آتی تو اس کی ہیبت سے ان کے تمام مویشی بدک کر بھاگ جاتے تھے۔ بالآخر باہمی مشورے سے طے ہوا کہ ایک دن اونٹنی پانی پئے گی اور دوسرے دن ان کے مال مویشی پانی پینے کے لیے آئیں گے۔ چناچہ جب وہ دوسرے دن چشمے پر آتی تو چشمے کا سارا پانی پی جاتی۔
فَنَادَوْا صَاحِبَهُمْ فَتَعَاطَىٰ فَعَقَرَ
📘 آیت 29 { فَنَادَوْا صَاحِبَہُمْ فَتَعَاطٰی فَعَقَرَ۔ } ”تو انہوں نے پکارا اپنے ایک ساتھی کو ‘ پس اس نے ہاتھ بڑھایا اور اس کی کونچیں کاٹ دیں۔“ انہوں نے اس اونٹنی سے جان چھڑانے کے لیے اپنی قوم کے ایک ایسے شخص کو تیار کیا جو ان میں سب سے زیادہ سخت دل تھا۔ اس بدبخت نے ناقۃ اللہ پر حملہ کر کے اسے مار ڈالا۔
وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَكُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِرٌّ
📘 آیت 3 { وَکَذَّبُوْا وَاتَّبَعُوْٓا اَہْوَآئَ ہُمْ } ”اور انہوں نے تکذیب کی اور اپنی خواہشات کی پیروی کی“ { وَکُلُّ اَمْرٍ مُّسْتَقِرٌّ۔ } ”اور اللہ کا ہر امر ایک وقت ِمعین کے لیے قرار پا چکا ہے۔“ اللہ تعالیٰ کی منصوبہ بندی میں ہر کام کے لیے ایک وقت مقرر ہے۔ کوئی کام اللہ کے طے شدہ وقت سے نہ تو پہلے انجام پاسکتا ہے اور نہ ہی اس سے موخر ہوسکتا ہے۔ انسان کا کام ہے کہ وہ کوشش کرتا رہے اور نتائج اللہ پر چھوڑ دے۔ جیسے یہ طے شدہ امر ہے کہ اللہ کے دین کا غلبہ دنیا میں ہو کر رہے گا ‘ مگر اللہ کی مشیت میں اس کے لیے کون سا وقت مقرر ہے ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ چناچہ ہمیں چاہیے کہ ہم اقامت دین کی جدوجہد کو فرضِ عین اور اپنی اخروی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہوئے اس میں اپنا تن من دھن لگانے کے لیے ہر وقت کمربستہ رہیں۔ سیرت ِنبوی ﷺ سے اس جدوجہد کے منہج کو سمجھیں ‘ اس کے آداب سیکھیں ‘ اس کی شرائط معلوم کریں اور پورے خلوص نیت کے ساتھ اس کے لیے محنت کریں۔ اس محنت اور جدوجہد کے دوران ہمیں نتائج کی فکر نہیں کرنی چاہیے۔ ہمیں تو یہ محنت اللہ کی رضا کے لیے کرنی ہے۔ اگر ہماری اس محنت کے نتائج ہماری زندگیوں میں ظاہر نہیں ہوتے تو کوئی پروا نہیں ‘ ہم دین کو غالب کرنے کے مکلف نہیں ‘ ہم تو صرف اس کے لیے جدوجہد کرنے کے مکلف ہیں۔ اس کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانا اللہ کے ذمے ہے۔ اگر ہم نے اپنی اپنی استطاعت کے مطابق خلوص نیت سے اس راستے میں محنت کی تو اللہ تعالیٰ کے ہاں ہم ضرور سرخرو ہوں گے۔ اس فلسفے کو اچھی طرح سے نہ سمجھنے کی وجہ سے اقامت دین کی جدوجہد میں لوگ غلطیاں کرتے ہیں۔ جب ان کی جدوجہد کے خاطر خواہ نتائج سامنے نہیں آتے تو وہ عجلت اور بےصبری کا مظاہرہ کرتے ہیں اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے الٹے سیدھے طریقے اپناتے ہیں۔ ایسی ہی غلطیوں سے تحریکیں غلط راستوں پر چل پڑتی ہیں اور اس وجہ سے دین الٹا بدنام ہوتا ہے۔ اس حوالے سے ایک بہت اہم نکتہ یہ بھی لائق توجہ ہے کہ اقامت ِ دین کی جدوجہد کے دوران غور و فکر کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھنا چاہیے۔ حضور ﷺ کے بعد اب نہ تو کوئی شخصیت معصوم عن الخطا ہے اور نہ ہی کسی کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست راہنمائی مل سکتی ہے۔ ظاہر ہے اب یہ کام اجتہاد اور غور و فکر سے ہی چلنا ہے اور اجتہاد میں غلطی کا ہر وقت امکان رہتا ہے۔ چناچہ انفرادی و اجتماعی سطح پر انسانوں سے غلطیاں سرزد ہونے کے امکان کے پیش نظر فیصلوں پر نظر ثانی کی گنجائش بھی رکھنی چاہیے اور اس کے لیے ذہنی طور پر ہر وقت تیار بھی رہنا چاہیے۔
فَكَيْفَ كَانَ عَذَابِي وَنُذُرِ
📘 آیت 30 { فَـکَیْفَ کَانَ عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”پھر کیسا رہا میرا عذاب اور میرا خبردار کرنا ؟“
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ صَيْحَةً وَاحِدَةً فَكَانُوا كَهَشِيمِ الْمُحْتَظِرِ
📘 آیت 31 { اِنَّــآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَـکَانُوْا کَہَشِیْمِ الْمُحْتَظِرِ۔ } ”ہم نے ان پر بس ایک ہی چنگھاڑ بھیجی تو وہ باڑھ لگانے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح چورا ہو کر رہ گئے۔“ اگر جانوروں کا کوئی بڑا سا گلہ کسی کھیت کی باڑھ کو روندتا ہوا گزر جائے تو وہ باڑھ چورا چورا ہوجاتی ہے ‘ بالکل اسی طرح وہ نافرمان لوگ بھی چورا چورا ہو کر پڑے رہ گئے۔
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
📘 آیت 32 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے تو اس قرآن کو آسان کردیا ہے سمجھنے کے لیے ‘ تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟“
كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ بِالنُّذُرِ
📘 آیت 33{ کَذَّبَتْ قَوْمُ لُوْطٍ م بِالنُّذُرِ۔ } ”لوط علیہ السلام کی قوم نے بھی خبردار کرنے والوں کو جھٹلایا۔“
إِنَّا أَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ حَاصِبًا إِلَّا آلَ لُوطٍ ۖ نَجَّيْنَاهُمْ بِسَحَرٍ
📘 آیت 34 { اِنَّـآ اَرْسَلْنَا عَلَیْہِمْ حَاصِبًا اِلَّآ اٰلَ لُوْطٍ ط نَجَّیْنٰـہُمْ بِسَحَرٍ۔ } ”ہم نے ان پر بھیج دی ایک ایسی تیز آندھی جس میں پتھر تھے ‘ سوائے لوط کے گھر والوں کے۔ ان کو ہم نے نجات دے دی صبح کے وقت۔“
نِعْمَةً مِنْ عِنْدِنَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي مَنْ شَكَرَ
📘 آیت 35 { نِّعْمَۃً مِّنْ عِنْدِنَاط کَذٰلِکَ نَجْزِیْ مَنْ شَکَرَ۔ } ”وہ نعمت تھی ہمارے پاس سے۔ اسی طرح ہم بدلہ دیتے ہیں اس کو جو شکر کرتا ہے۔“
وَلَقَدْ أَنْذَرَهُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ
📘 آیت 36 { وَلَقَدْ اَنْذَرَہُمْ بَطْشَتَنَا فَتَمَارَوْا بِالنُّذُرِ۔ } ”اور لوط علیہ السلام نے ان کو خبردار کردیا تھا ہماری پکڑ سے ‘ لیکن انہوں نے شک کیا ان چیزوں پر جن کے بارے میں انہیں خبردار کیا گیا تھا۔“ وہ ہماری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔
وَلَقَدْ رَاوَدُوهُ عَنْ ضَيْفِهِ فَطَمَسْنَا أَعْيُنَهُمْ فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ
📘 آیت 7 3{ وَلَقَدْ رَاوَدُوْہُ عَنْ ضَیْفِہٖ فَطَمَسْنَـآ اَعْیُنَہُمْ } ”اور انہوں نے اس سے اس کے مہمانوں کو لے جانا چاہا تو ہم نے ان کی آنکھوں کو مٹا دیا“ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کے بدکردار لوگ ان خوبصورت مہمان لڑکوں کو حاصل کرنا چاہتے تھے جو اصل میں فرشتے تھے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اندھا کردیا۔ بائبل میں اس کی تفصیل یوں بیان ہوئی ہے کہ ان میں سے ایک فرشتے نے ان لوگوں کی طرف اپنا ہاتھ پھیلایا تو وہ سب کے سب اندھے ہوگئے۔ { فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو مزا چکھو اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔“
وَلَقَدْ صَبَّحَهُمْ بُكْرَةً عَذَابٌ مُسْتَقِرٌّ
📘 آیت 38 { وَلَقَدْ صَبَّحَہُمْ بُـکْرَۃً عَذَابٌ مُّسْتَقِرٌّ۔ } ”اور ان پر صبح ہی صبح آ دھمکا ایک عذاب جو کہ ٹھہر چکا تھا۔“
فَذُوقُوا عَذَابِي وَنُذُرِ
📘 آیت 39 { فَذُوْقُوْا عَذَابِیْ وَنُذُرِ۔ } ”تو چکھو مزا اب میرے عذاب کا اور میرے خبردار کرنے کا۔“
وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ
📘 آیت 4 { وَلَقَدْ جَآئَ ہُمْ مِّنَ الْاَنْبَـآئِ مَا فِیْہِ مُزْدَجَرٌ۔ } ”اور ان کے پاس وہ خبریں آچکی ہیں جن میں تنبیہہ ہے۔“ گزشتہ اقوام کے اپنے پیغمبروں کو جھٹلانے اور پھر اس کے نتیجے میں عذاب الٰہی کے ذریعے تباہ ہوجانے کی خبریں انباء الرسل ان لوگوں کو تفصیل سے بتائی جا چکی ہیں۔ ان خبروں میں مشرکین مکہ کے لیے یقینا کافی تنبیہہ و تہدید اور سامانِ عبرت موجود ہے۔
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
📘 آیت 40 { وَلَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”اور ہم نے آسان کردیا ہے قرآن سمجھنے کو ‘ تو ہے کوئی سوچنے سمجھنے والا ؟“ یہ آیت یہاں چوتھی اور آخری مرتبہ آئی ہے۔
وَلَقَدْ جَاءَ آلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ
📘 آیت 41 { وَلَقَدْ جَآئَ اٰلَ فِرْعَوْنَ النُّذُرُ۔ } ”اسی طرح قوم فرعون کے پاس بھی آئے تھے خبردار کرنے والے۔“
كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا كُلِّهَا فَأَخَذْنَاهُمْ أَخْذَ عَزِيزٍ مُقْتَدِرٍ
📘 آیت 42 { کَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا کُلِّہَا } ”انہوں نے ہماری تمام نشانیوں کو جھٹلا دیا“ سورة بنی اسرائیل کی آیت 101 میں ان نشانیوں کی تعداد نو 9 بتائی گئی ہے : { وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰی تِسْعَ اٰیٰتٍم بَـیِّنٰتٍ } ”اور ہم نے موسیٰ کو نو کھلی نشانیاں دیں“۔ ان میں دو نشانیاں تو آپ علیہ السلام کو ابتدا میں عطا ہوئی تھیں یعنی عصا کا اژدھا بن جانا اور ہاتھ کا چمکدار ہوجانا۔ جبکہ سات نشانیاں وہ تھیں جن کا ذکر سورة الاعراف کے سولہویں رکوع میں آیا ہے۔ یہ نشانیاں قوم فرعون پر وقتاً فوقتاً عذاب کی صورت میں نازل ہوتی رہیں۔ { فَاَخَذْنٰــہُمْ اَخْذَ عَزِیْزٍ مُّقْتَدِرٍ۔ } ”پھر ہم نے انہیں پکڑا ‘ ایک زبردست ‘ صاحب قدرت کا پکڑنا۔“ یعنی یہ کوئی معمولی اور کمزور پکڑ نہیں تھی کہ اس سے کوئی نکل بھاگتا ‘ بلکہ اس اللہ کی پکڑ تھی جو زبردست طاقت کا مالک ہے اور کائنات کے ہر معاملے میں اسے پوری قدرت حاصل ہے۔ ان پیغمبروں اور ان کی نافرمان قوموں کے انجام کا ذکر کرنے کے بعد اب روئے سخن حضور ﷺ اور کفارِ مکہ کی طرف پھیرا جا رہا ہے۔
أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِنْ أُولَٰئِكُمْ أَمْ لَكُمْ بَرَاءَةٌ فِي الزُّبُرِ
📘 آیت 43 { اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِکُمْ } ”تو اے قریش ! کیا تمہارے کفار اُن کفار سے کچھ بہتر ہیں ؟“ زمانہ سابق میں جن قوموں نے کفر کی روش اختیار کی ان کے انجام سے متعلق تمام تفصیلات تم لوگ جان چکے ہو۔ اب ذرا سوچو کہ تم میں سے جو لوگ ہمارے رسول ﷺ کا انکار کر کے کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں ‘ کیا وہ کسی خاص خوبی کے حامل ہیں کہ گزشتہ کافر اقوام کی طرح ان پر عذاب نہیں آئے گا ؟ { اَمْ لَـکُمْ بَرَآئَ ۃٌ فِی الزُّبُرِ۔ } ”یا تمہارے لیے سابقہ الہامی کتب میں کوئی فارغ خطی آچکی ہے ؟“ تم میں آخر کیا خوبی ہے کہ جس تکذیب اور ہٹ دھرمی کی روش پر پچھلی قوموں کو سزا دی گئی ہے وہی روش تم اختیار کرو تو تمہیں سزا نہ دی جائے ؟ کیا تمہارے لیے آسمانی صحیفوں میں کوئی براءت نامہ لکھا ہوا ہے کہ تم پر عذاب نہیں آئے گا ؟
أَمْ يَقُولُونَ نَحْنُ جَمِيعٌ مُنْتَصِرٌ
📘 آیت 44 { اَمْ یَـقُوْلُـوْنَ نَحْنُ جَمِیْـعٌ مُّنْتَصِرٌ۔ } ”یا یہ کہتے ہیں کہ ہم ایک طاقتور جمعیت ہیں اور بدلہ لینے پر قادر ہیں ؟“
سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدُّبُرَ
📘 آیت 45 { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُـوَلُّــوْنَ الدُّبُرَ۔ } ”عنقریب ان کی جمعیت شکست کھاجائے گی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔“ یہ پیشین گوئی جو ہجرت سے پانچ سال پہلے کردی گئی تھی ‘ میدانِ بدر میں حرف بحرف پوری ہوئی۔ روایات میں آتا ہے کہ غزوئہ بدر سے پہلی رات میں حضور ﷺ نے سجدے کی حالت میں رو رو کر دعا کی۔ آپ ﷺ کا یہ سجدہ بہت طویل تھا اور دعا بھی بہت طویل تھی۔ آپ ﷺ کی اس دعا کا لب لباب یہ تھا کہ اے اللہ ! میں نے اپنی پندرہ سال کی کمائی لا کر اس میدان میں ڈال دی ہے۔ میں آخری رسول ہوں ‘ میرے بعد کوئی نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ اے اللہ ! اس معرکے میں اگر یہ لوگ ہلاک ہوگئے تو پھر قیامت تک اس زمین پر تیری بندگی کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔ اس رات آپ ﷺ کے عریشے پر پہرے کے لیے حضرت ابوبکر رض مامور تھے ‘ وہ سجدے میں آپ ﷺ کی کیفیت کا مشاہدہ کر رہے تھے اور دعا کے رقت آمیز الفاظ سن رہے تھے۔ اس دوران ایک موقع ایسا بھی آیا جب حضرت ابوبکر رض سے رہا نہ گیا اور وہ پکار اٹھے : حَسْبُکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ … کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! اب بس کردیجیے۔ پھر جب حضور ﷺ نے سجدے سے سر مبارک اٹھایا تو آپ ﷺ کی زبان مبارک پر یہی الفاظ تھے : { سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُـوَلُّــوْنَ الدُّبُرَ۔ } کہ یہ لوگ اپنی طرف سے بہت بڑا لشکر لے کر آئے ہیں۔ ان کا یہ لشکر یہاں شکست سے دوچار ہوگا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔ 1
بَلِ السَّاعَةُ مَوْعِدُهُمْ وَالسَّاعَةُ أَدْهَىٰ وَأَمَرُّ
📘 آیت 46{ بَلِ السَّاعَۃُ مَوْعِدُہُمْ وَالسَّاعَۃُ اَدْہٰی وَاَمَرُّ۔ } ”بلکہ ان کے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور قیامت بہت بڑی آفت ہے اور بہت زیادہ کڑوی ہے۔“ عربی میں کڑوی چیز کو مُـرٌّ کہتے ہیں اور اَمَرُّ کے معنی ہیں بہت ہی زیادہ کڑوی۔ سیاقِ مضمون میں اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ حق و باطل کی اس کشمکش میں پے درپے شکست مشرکین عرب کا مقدر ہے۔ عنقریب 9 ہجری میں ان پر ایک ایسا وقت بھی آنے والا ہے جب جزیرہ نمائے عرب کی سرزمین ان پر تنگ ہوجائے گی۔ اس وقت ان کے پاس اسلام قبول کرنے یا حدود عرب سے باہر چلے جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔ ایک مضبوط جمعیت اور اعلیٰ پائے کی جنگی صلاحیت کے باوجود ان کی یہ ہزیمتیں ‘ نقصانِ مال و جان اور ذلت و رسوائی اللہ کے عذاب ہی کی مختلف صورتیں ہیں۔ لیکن یہ تو چھوٹے چھوٹے عذاب ہیں اور دنیا کی زندگی کی حد تک عارضی نوعیت کی تکالیف ہیں۔ جبکہ انہیں بہت بڑے اور دائمی عذاب کا سامنا تو آخرت میں کرنا پڑے گا۔
إِنَّ الْمُجْرِمِينَ فِي ضَلَالٍ وَسُعُرٍ
📘 آیت 47 { اِنَّ الْمُجْرِمِیْنَ فِیْ ضَلٰلٍ وَّسُعُرٍ۔ } ”یقینا یہ مجرمین گمراہی میں ہیں اور یہ آگ کے مختلف طبقات میں ہوں گے۔“
يَوْمَ يُسْحَبُونَ فِي النَّارِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ ذُوقُوا مَسَّ سَقَرَ
📘 آیت 48 { یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ ط } ”جس دن یہ گھسیٹے جائیں گے آگ میں اپنے چہروں کے بل۔“ { ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَرَ۔ } ”ان سے کہا جائے گا : اب چکھوآگ کی لپٹ کا مزا !“
إِنَّا كُلَّ شَيْءٍ خَلَقْنَاهُ بِقَدَرٍ
📘 آیت 49 { اِنَّا کُلَّ شَیْئٍ خَلَقْنٰـہُ بِقَدَرٍ۔ } ”یقینا ہم نے ہرچیز ایک اندازے کے مطابق پیدا کی ‘ ہے۔
حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ ۖ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ
📘 آیت 5 { حِکْمَۃٌم بَالِغَۃٌ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ۔ } ”کامل دانائی کی باتیں ‘ لیکن ان خبردار کرنے والوں سے انہیں کوئی فائدہ نہ پہنچا۔“
وَمَا أَمْرُنَا إِلَّا وَاحِدَةٌ كَلَمْحٍ بِالْبَصَرِ
📘 آیت 50 { وَمَــآ اَمْرُنَآ اِلَّا وَاحِدَۃٌ کَلَمْحٍ م بِالْبَصَرِ۔ } ”اور ہمارا امر تویکبارگی ہوتا ہے ‘ جیسے نگاہ کا لپک جانا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ کا امر بیک دفعہ پلک جھپکنے کی طرح پورا ہوتا ہے۔ اللہ کے امر کی یہ وہی شان ہے جو قرآن میں جگہ جگہ ”کُن فَیکون“ کے الفاظ میں بیان ہوئی ہے۔ یعنی وہ جب کسی چیز کو حکم دیتا ہے کہ ہو جاتو وہ اس کی مشیت کے مطابق اسی وقت ہوجاتی ہے۔
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا أَشْيَاعَكُمْ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ
📘 آیت 51 { وَلَقَدْ اَہْلَکْنَآ اَشْیَاعَکُمْ فَہَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔ } ”تو اے قریش ِمکہ ہم نے تم جیسے بہت سے لوگوں کو ہلاک کیا ہے ‘ تو کوئی ہے اس سے سبق حاصل کرنے والا ؟“ تمہاری تذکیر اور یاد دہانی کے لیے قرآن حکیم میں سابقہ اقوام کے انجام کی عبرت انگیز تفاصیل بار بار بیان کی گئی ہیں۔ تاریخی حوالوں سے بھی ان اقوام کے حالات سے تم لوگ اچھی طرح واقف ہو۔ اب تم لوگ چاہو تو ان کے انجام سے سبق حاصل کرسکتے ہو۔ اس کے علاوہ بیشمار آیات آفاقی و انفسی بھی تمہارے سامنے ہیں۔ اگر تم لوگ کبھی ان آیات کا مشاہدہ دل کی آنکھ سے کرو تو وہ بھی تمہاری ہدایت کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
وَكُلُّ شَيْءٍ فَعَلُوهُ فِي الزُّبُرِ
📘 آیت 52 { وَکُلُّ شَیْئٍ فَعَلُوْہُ فِی الزُّبُرِ۔ } ”اور وہ تمام اعمال جو ان لوگوں نے کیے ہیں وہ صحیفوں میں محفوظ ہیں۔“
وَكُلُّ صَغِيرٍ وَكَبِيرٍ مُسْتَطَرٌ
📘 آیت 53 { وَکُلُّ صَغِیْرٍ وَّکَبِیْرٍ مُّسْتَطَرٌ۔ } ”اور ہر ایک چھوٹی اور بڑی چیز لکھی ہوئی ہے۔“ قیامت کے دن یہ لوگ اپنے اعمال ناموں میں اپنے ہر چھوٹے بڑے عمل کا اندراج دیکھ کر حیران و ششدر رہ جائیں گے۔ سورة الکہف کی یہ آیت اس منظر کا نقشہ دکھاتی ہے جب سرمحشر ان مجرمین کے سامنے ان کے اعمال نامے کھولے جائیں گے :{ وَوُضِعَ الْکِتٰبُ فَتَرَی الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْہِ وَیَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ ہٰذَا الْکِتٰبِ لَایُغَادِرُ صَغِیْرَۃً وَّلَا کَبِیْرَۃً اِلَّآ اَحْصٰٹہَا ج وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاط وَلَا یَظْلِمُ رَبُّکَ اَحَدًا۔ } ”اور رکھ دیا جائے گا اعمال نامہ چناچہ تم دیکھو گے مجرموں کو کہ ڈر رہے ہوں گے اس سے جو کچھ اس میں ہوگا اور کہیں گے : ہائے ہماری شامت ! یہ کیسا اعمال نامہ ہے ؟ اس نے تو نہ کسی چھوٹی چیز کو چھوڑا ہے اور نہ کسی بڑی کو ‘ مگر اس کو محفوظ کر رکھا ہے۔ اور وہ اسے موجود پائیں گے جو عمل بھی انہوں نے کیا ہوگا۔ اور آپ کا رب ظلم نہیں کرے گا کسی پر بھی۔“
إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَنَهَرٍ
📘 آیت 54 { اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّنَـہَرٍ۔ } ”یقینا متقین باغات اور نہروں کے ماحول میں ہوں گے۔“ یہ مقام ان خوش نصیب لوگوں کو عطا ہوگا جو اپنی دنیا کی زندگی میں اللہ سے ڈرنے والے ‘ آخرت کے خیال سے ہر وقت لرزاں و ترساں رہنے والے ‘ اللہ کے احکام کی پابندی کرنے والے ‘ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے والے اور اس حوالے سے پھونک پھونک کر قدم رکھنے والے تھے۔
فِي مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِيكٍ مُقْتَدِرٍ
📘 آیت 55 { فِیْ مَقْعَدِ صِدْقٍ عِنْدَ مَلِیْکٍ مُّقْتَدِرٍ۔ } ”بہت اعلیٰ راستی کے مقام میں اس بادشاہ کے پاس جو اقتدارِ مطلق کا مالک ہے۔“ ان خوش قسمت لوگوں کے مقام و مرتبہ کا ذکر ایسے ہی الفاظ کے ساتھ سورة یونس کی اس آیت میں بھی ہوا ہے : { اَنَّ لَھُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّھِمْ ط } آیت 2 ”ان کے لیے ان کے رب کے پاس بہت اونچا مرتبہ ہے“۔ یعنی ان لوگوں کو آخرت میں شہنشاہِ ارض و سما کا خصوصی قرب حاصل ہوگا۔ اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! اَللّٰھُمَّ رَبَّـنَا اجْعَلْنَا مِنْھُمْ ! آمین یاربَّ العَالَمین ! !
فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَىٰ شَيْءٍ نُكُرٍ
📘 آیت 6 { فَتَوَلَّ عَنْہُمْ 7 } ”تو اے نبی ﷺ ! آپ ان سے صرفِ نظر کر لیجیے۔“ { یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰی شَیْئٍ نُّـکُرٍ۔ } ”جس دن ایک پکارنے والا پکارے گا ایک بہت ناگوار چیز کی طرف۔“ جیسا کہ قبل ازیں بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ ابتدائی مکی دور میں نازل ہونے والی سورتوں میں حضور ﷺ کو ملتے جلتے الفاظ میں یہ ہدایت بار بار دی گئی ہے کہ آپ ﷺ صبر کریں ‘ آپ ﷺ درگزر سے کام لیں ‘ انہیں نظر انداز کردیں ‘ وغیرہ وغیرہ۔
خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُنْتَشِرٌ
📘 آیت 7 { خُشَّعًا اَبْصَارُہُمْ } ”اس وقت ان کی نگاہیں زمین میں گڑی ہوں گی۔“ { یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ کَاَنَّـہُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ۔ } ”یہ اپنی قبروں سے ایسے نکل کر آئیں گے جیسے ٹڈی ّدَل پھیلا ہوا ہو۔“ ظاہر ہے ہزاروں سال سے انسان اس زمین میں دفن ہو رہے ہیں اور قیامت تک ان کی تعدادکتنی ہوجائے گی ‘ ہم اس کا اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ چناچہ جب حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آخری فوت ہونے والے انسان تک سب کے سب زمین سے نکل کر ایک ہی سمت دوڑے چلے جا رہے ہوں گے تو وہ ٹڈی دل کی طرح نظر آئیں گے۔
مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ
📘 آیت 8 { مُّہْطِعِیْنَ اِلَی الدَّاعِ } ”دوڑتے ہوئے آئیں گے پکارنے والے کی طرف۔“ { یَـقُوْلُ الْـکٰفِرُوْنَ ہٰذَا یَوْمٌ عَسِرٌ۔ } ”کافر کہیں گے کہ یہ تو بڑا سخت دن ہے۔“ ہر شخص کو اپنی قبر سے اٹھتے ہی اندازہ ہوجائے گا کہ اس کے ساتھ کیسا معاملہ پیش آنے والا ہے۔ جیسا کہ سورة القیامہ میں فرمایا گیا : { بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰی نَفْسِہٖ بَصِیْرَۃٌ۔ } کہ ہر انسان اپنے بارے میں بہت اچھی طرح جانتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ ”من آنم کہ من دانم !“ چناچہ کفار و مشرکین اپنی قبروں سے نکلتے ہی روزحشر کی سختیوں کے بارے میں چیخ و پکار شروع کردیں گے۔
۞ كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ فَكَذَّبُوا عَبْدَنَا وَقَالُوا مَجْنُونٌ وَازْدُجِرَ
📘 آیت 9 { کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوْحٍ } ”جھٹلایا تھا ان سے پہلے نوح کی قوم نے“ اب یہاں سے اس سورت میں انباء الرسل کا تذکرہ شروع ہو رہا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوچکا ہے ‘ سورة النجم اور سورة القمر کا آپس میں جوڑے کا تعلق ہے۔ چناچہ ہم دیکھ چکے ہیں کہ سورة النجم میں ”تذکیر بآلاء اللہ“ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں اور نعمتوں کے ذریعے تذکیر کا انداز تھا ‘ جبکہ اس سورت میں ”تذکیر بایام اللہ“ اور انباء الرسل کا تذکرہ ہے۔ بالکل یہی تقسیم اور یہی انداز اس سے پہلے ہم سورة الانعام اور سورة الاعراف کے مطالعے کے دوران بھی دیکھ چکے ہیں۔ سورة الانعام میں آلاء اللہ کے ذریعے تذکیر کی گئی ہے ‘ جبکہ سورة الاعراف میں انباء الرسل کا انداز ہے۔ اسی طرح یہ دونوں سورتیں بھی مل کر تذکیر و انذار کے دونوں پہلوئوں کی تکمیل کرتی ہیں۔ { فَـکَذَّبُوْا عَبْدَنَا وَقَالُوْا مَجْنُوْنٌ وَّازْدُجِرَ۔ } ”تو انہوں نے ہمارے بندے کو جھٹلایا اور کہا کہ یہ تو مجنون ہے اور اسے جھڑک دیا گیا۔“ اس بدبخت قوم نے ہمارے جلیل القدر رسول علیہ السلام کو نہ صرف جھٹلا دیا بلکہ اس کے ساتھ اہانت آمیز سلوک روا رکھا۔