🕋 تفسير سورة الجن
(Al-Jinn) • المصدر: UR-TAFSIR-BAYAN-UL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ قُلْ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّهُ اسْتَمَعَ نَفَرٌ مِنَ الْجِنِّ فَقَالُوا إِنَّا سَمِعْنَا قُرْآنًا عَجَبًا
📘 آیت 28{ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَلِوَالِدَیَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَیْتِیَ مُؤْمِنًا } ”پروردگار ! مغفرت فرما دے میری اور میرے والدین کی اور جو کوئی بھی میرے گھر میں داخل ہوجائے ایمان کے ساتھ اس کی بھی“ { وَّلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ط } ”اور تمام مومن مردوں اور مومن عورتوں کی بھی مغفرت فرمادے “ یہ دعا اس لحاظ سے خصوصی اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں اگلے اور پچھلے زمانوں کے تمام اہل ایمان شامل ہوگئے ہیں۔{ وَلَا تَزِدِ الظّٰلِمِیْنَ اِلَّا تَـبَارًا۔ } ”اور ان ظالموں کے لیے ُ تو اب کسی چیز میں اضافہ مت کر سوائے تباہی اور بربادی کے۔“ سورة المعارج اور سورة نوح کے مطالعے کے بعد یہ نکتہ بھی اچھی طرح سے سمجھ لیجیے کہ اگر ”نظم قرآن“ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان دونوں سورتوں کا مطالعہ جوڑے کی حیثیت سے کیا جائے تو نہ صرف سورة المعارج کی پہلی آیت کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے ‘ بلکہ سورة نوح کے نزول کا سبب اور حضرت نوح علیہ السلام کی مذکورہ دعا کا جواز بھی سمجھ میں آجاتا ہے۔ بہرحال اس پہلو سے ان دونوں سورتوں پر غور کرنے سے یہ نکتہ خود بخود واضح ہوجاتا ہے کہ سورة المعارج کی ابتدائی آیت خود حضور ﷺ ہی سے متعلق ہے اور یہ بھی کہ سورة المعارج کی آیت 5 میں آپ ﷺ کو { فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِیْلًا۔ } کی تلقین بھی اسی حوالے سے کی گئی ‘ بلکہ اس کے بعد ایک پوری سورت سورئہ نوح نازل کر کے آپ ﷺ کی تسلی کے لیے حضرت نوح علیہ السلام کے حالات و مصائب کا نقشہ بھی دکھادیا گیا کہ آپ ﷺ کی دعوتی مہم کو شروع ہوئے تو ابھی چار پانچ سال ہی ہوئے ہیں ‘ آپ ﷺ ہمارے اس بندے کی ہمت اور استقامت کو بھی مدنظر رکھیں جو ایسے مشکل حالات کا سامنا ساڑھے نو سو سال تک کرتا رہا۔
وَأَنَّا لَا نَدْرِي أَشَرٌّ أُرِيدَ بِمَنْ فِي الْأَرْضِ أَمْ أَرَادَ بِهِمْ رَبُّهُمْ رَشَدًا
📘 آیت 10{ وَّاَنَّا لَا نَدْرِیْٓ اَشَرٌّ اُرِیْدَ بِمَنْ فِی الْاَرْضِ } ”اور یہ کہ ہم نہیں جانتے کہ زمین والوں کے لیے کسی شر کا ارادہ کیا جا رہا ہے“ { اَمْ اَرَادَ بِہِمْ رَبُّہُمْ رَشَدًا۔ } ”یا ان کے لیے ان کے رب نے کسی بھلائی کا ارادہ کیا ہے۔“ جنات کی اس بات سے ایسے لگتا ہے جیسے وہ تورات کے عالم تھے۔ وہ جانتے تھے کہ جب کسی قوم کی طرف کوئی رسول مبعوث ہوتا ہے تو اس کے دو امکانی نتائج میں سے ایک نتیجہ ضرور سامنے آتا ہے۔ یا تو متعلقہ قوم اپنے رسول پر ایمان لا کر ہدایت کے راستے پر چل پڑتی ہے یا اس کا انکار کر کے تباہ و برباد ہوجاتی ہے۔ اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ اگر کسی قوم پر عذاب بھیجنا چاہتا ہے تو اس قوم میں رسول مبعوث کر کے اتمامِ حجت ضرور کرتا ہے ‘ جیسا کہ سورة بنی اسرائیل کی اس آیت میں واضح کیا گیا ہے : { وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَـبْعَثَ رَسُوْلًا۔ } ”اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ کسی رسول کو نہ بھیج دیں“۔ چناچہ آسمانوں پر غیر معمولی سخت حفاظتی انتظامات دیکھ کر جنات یہ تو سمجھ گئے کہ اہل زمین کے لیے وحی و رسالت کا سلسلہ پھر سے شروع ہوچکا ہے ‘ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس سلسلے کا حتمی نتیجہ کیا نکلے گا۔ کیا اللہ تعالیٰ کو اپنے اس فیصلے سے انسانوں کی بھلائی مطلوب ہے یا اس نے اہل زمین کو قوم نوح علیہ السلام ‘ قومِ ہود علیہ السلام اور قوم صالح علیہ السلام کی طرح ایک مرتبہ پھر تباہ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ان پر عذاب بھیجنے سے پہلے رسول مبعوث کر کے وہ ان لوگوں پر اتمامِ حجت کرنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے نبوت و رسالت ِمحمدی ﷺ تو انسانیت کے حق میں سراسر خیر ہی خیر ہے ‘ لیکن ان جنات کو اس وقت تک اس بارے میں کچھ معلوم نہیں تھا۔
وَأَنَّا مِنَّا الصَّالِحُونَ وَمِنَّا دُونَ ذَٰلِكَ ۖ كُنَّا طَرَائِقَ قِدَدًا
📘 آیت 1 1{ وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ ط } ”اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔“ یہاں نیک کے مقابل میں ان کا اشارہ تو ظاہر ہے سرکش اور فسادی جنات ہی کی طرف ہے ‘ لیکن انہوں نے ان کا ذکر ایسے الفاظ کے ساتھ نہیں کیا۔ یہ دراصل حکمت تبلیغ کا اہم اصول ہے کہ برے کو بھی برا نہ کہو۔ { کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا۔ } ”ہم مختلف راستوں پر پھٹے ہوئے تھے۔“ طَرَائِق جمع ہے طَرِیْقَۃ کی اور قِدَد جمع ہے قِدَّۃٌ کی ‘ یعنی مختلف الرائے فرقے۔ قَدَّ یَقُدُّ قَدًّاکے معنی پھاڑنے یا کاٹنے کے ہیں۔ جیسے سورة یوسف کی آیت 25 میں آیا ہے : { قَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ } ”اس عورت نے پھاڑ دی آپ علیہ السلام کی قمیص پیچھے سے۔“
وَأَنَّا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ نُعْجِزَ اللَّهَ فِي الْأَرْضِ وَلَنْ نُعْجِزَهُ هَرَبًا
📘 آیت 1 1{ وَّاَنَّا مِنَّا الصّٰلِحُوْنَ وَمِنَّا دُوْنَ ذٰلِکَ ط } ”اور یہ کہ ہم میں نیک لوگ بھی ہیں اور کچھ اس سے مختلف قسم کے بھی ہیں۔“ یہاں نیک کے مقابل میں ان کا اشارہ تو ظاہر ہے سرکش اور فسادی جنات ہی کی طرف ہے ‘ لیکن انہوں نے ان کا ذکر ایسے الفاظ کے ساتھ نہیں کیا۔ یہ دراصل حکمت تبلیغ کا اہم اصول ہے کہ برے کو بھی برا نہ کہو۔ { کُنَّا طَرَآئِقَ قِدَدًا۔ } ”ہم مختلف راستوں پر پھٹے ہوئے تھے۔“ طَرَائِق جمع ہے طَرِیْقَۃ کی اور قِدَد جمع ہے قِدَّۃٌ کی ‘ یعنی مختلف الرائے فرقے۔ قَدَّ یَقُدُّ قَدًّاکے معنی پھاڑنے یا کاٹنے کے ہیں۔ جیسے سورة یوسف کی آیت 25 میں آیا ہے : { قَدَّتْ قَمِیْصَہٗ مِنْ دُبُرٍ } ”اس عورت نے پھاڑ دی آپ علیہ السلام کی قمیص پیچھے سے۔“
وَأَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْهُدَىٰ آمَنَّا بِهِ ۖ فَمَنْ يُؤْمِنْ بِرَبِّهِ فَلَا يَخَافُ بَخْسًا وَلَا رَهَقًا
📘 آیت 13{ وَّاَنَّا لَمَّا سَمِعْنَا الْہُدٰٓی اٰمَنَّا بِہٖ ط } ”اور یہ کہ ہم نے جونہی اس ہدایت الہدیٰ کو سنا ہم اس پر ایمان لے آئے۔“ { فَمَنْ یُّؤْمِنْ مبِرَبِّہٖ فَلَا یَخَافُ بَخْسًا وَّلَا رَہَقًا۔ } ”تو جو کوئی بھی ایمان لائے گا اپنے رب پر اسے نہ تو کسی نقصان کا خوف ہوگا اور نہ زیادتی کا۔“ اللہ تعالیٰ ہر کسی کے نیک اعمال کا پورا پورا اجر دے گا ‘ کسی کے ساتھ کوئی زیادتی یا حق تلفی کا معاملہ نہیں ہوگا۔
وَأَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُونَ وَمِنَّا الْقَاسِطُونَ ۖ فَمَنْ أَسْلَمَ فَأُولَٰئِكَ تَحَرَّوْا رَشَدًا
📘 آیت 14{ وَّاَنَّا مِنَّا الْمُسْلِمُوْنَ وَمِنَّا الْقٰسِطُوْنَ } ”اور یہ کہ ہم میں فرمانبردار بھی ہیں اور بےانصافی کرنے والے بھی۔“ قَسَطَ ثلاثی مجرد میں عدل اور ناانصافی دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور قَاسِط اسم فاعل کے معنی ”ناانصاف“ کے ہوتے ہیں ‘ لیکن اَقْسَطَ باب افعال میں صرف عدل و انصاف کے معنی میں مستعمل ہے۔ { فَمَنْ اَسْلَمَ فَاُولٰٓئِکَ تَحَرَّوْا رَشَدًا۔ } ”تو جن لوگوں نے اطاعت قبول کرلی تو انہوں نے ڈھونڈ نکالی نیکی کی راہ۔“
وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَكَانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا
📘 آیت 15{ وَاَمَّا الْقٰاسِطُوْنَ فَکَانُوْا لِجَہَنَّمَ حَطَبًا۔ } ”اور جو بےانصاف ہیں تو وہ جہنم کا ایندھن بن کر رہیں گے۔“ یہ تو تھا جنات کی اس تقریر کا اقتباس جو انہوں نے قرآن سننے کے بعد اپنی قوم کے لوگوں کے سامنے تبلیغ کی غرض سے کی تھی۔ اس کے بعد خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے کلام کیا گیا ہے۔
وَأَنْ لَوِ اسْتَقَامُوا عَلَى الطَّرِيقَةِ لَأَسْقَيْنَاهُمْ مَاءً غَدَقًا
📘 آیت 16{ وَّاَنْ لَّوِ اسْتَقَامُوْا عَلَی الطَّرِیْقَۃِ لَاَسْقَیْنٰہُمْ مَّآئً غَدَقًا۔ } ”اور اے نبی ﷺ ! آپ کہیے کہ مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ اگر یہ لوگ درست طریقے پر چلتے رہتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے۔“ یعنی اگر نسل انسانی کے لوگ انبیاء و رسل - کے راستے پر چلتے رہتے تو آخرت کی نجات کے ساتھ ساتھ ہم انہیں دنیا میں بھی خوب نوازتے۔ یہاں پر جس مفہوم میں لفظ ”طَرِیْقَۃ“ آیا ہے عین وہی مفہوم لفظ ”شَرِیْعَۃ“ اس آیت میں ادا کر رہا ہے : { ثُمَّ جَعَلْنٰکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ } الجاثیۃ : 18 ”پھر اے نبی ﷺ ! ہم نے آپ کو قائم کردیا دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ شریعت پر“۔ گویا ان دونوں الفاظ کا مفہوم تو ایک ہی ہے لیکن ہمارے ہاں عام طور پر لفظ ”شریعت“ دین کے ظاہری اور قانونی پہلو کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ ”طریقت“ سے دین کا باطنی پہلو مراد لیاجاتا ہے۔ مثلاً نماز کے فرائض اور واجبات کیا ہیں ؟ مختلف ارکان کی ادائیگی کا درست طریقہ کیا ہے ؟ کن چیزوں سے نماز ٹوٹ جاتی ہے ؟ یہ شریعت کا موضوع ہے۔ ظاہر ہے ایسے مسائل معلوم کرنے کے لیے آپ کو کسی فقیہہ یا مفتی سے رجوع کرنا ہوگا۔ لیکن نماز کی اصل روح کیا ہے ؟ نماز میں خشوع و خضوع اور حضور قلب کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟ اور اس کے اثرات کیا ہیں ؟ اس قسم کے سوالات طریقت سے متعلق ہیں اور ان کے جوابات آپ کو کسی صوفی سے ملیں گے۔ اوّلین ادوار کے بزرگانِ دین تو جامع الصفات تھے۔ جو صوفی تھے وہ بہت بڑے عالم اور مفتی بھی ہوا کرتے تھے۔ برصغیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی - ایسی ہی ایک جامع شخصیت تھے۔ آپ مفتی ‘ مفسر اور محدث بھی تھے اور بہت بڑے صوفی اور مرشد بھی۔ آپ مرزا مظہر جانِ جاناں شہید - آپ اہل تشیع کے ہاتھوں شہید ہوئے تھے کے خلیفہ تھے۔ آپ کا تعلق شیخ احمد سرہندی - کے سلسلہ مجددیہ نقشبندیہ سے تھا۔ بہرحال ایسی شخصیات کی موجودگی میں تو شریعت اور طریقت کے درمیان کوئی ُ بعد نہیں تھا ‘ لیکن آج بدقسمتی سے دین کے ان دونوں پہلوئوں کو پھاڑ کر بالکل الگ الگ کردیا گیا ہے۔
لِنَفْتِنَهُمْ فِيهِ ۚ وَمَنْ يُعْرِضْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِ يَسْلُكْهُ عَذَابًا صَعَدًا
📘 آیت 17{ لِّنَفْتِنَہُمْ فِیْہِ } ”تاکہ ہم اس فراوانی میں ان کی آزمائش کریں۔“ یعنی ہم لوگوں کو خوب سیراب کر کے اور انہیں مختلف النوع نعمتوں سے نواز کر ان کا امتحان لیتے ہیں۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کی آزمائش کے انداز مختلف ہیں ‘ وہ کسی کو تونگری اور خوشحالی میں آزماتا ہے تو کسی کو فاقوں میں مبتلا کرکے اس کا امتحان لیتا ہے۔ { وَمَنْ یُّعْرِضْ عَنْ ذِکْرِ رَبِّہٖ } ”اور جو کوئی بھی اعراض کرے گا اپنے رب کے ذکر سے“ { یَسْلُکْہُ عَذَابًا صَعَدًا۔ } ”تو وہ ڈال دے گا اس کو چڑھتے عذاب میں۔“ یعنی اللہ تعالیٰ انہیں ایسے عذاب میں ڈالے گا جس کی شدت ہر لمحہ بڑھتی ہی چلی جائے گی۔
وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا
📘 آیت 18{ وَّاَنَّ الْمَسٰجِدَ لِلّٰہِ } ”اور یہ کہ مسجدیں اللہ ہی کے لیے ہیں“ یہاں ”مساجد“ سے مراد سجدہ کرنے کی جگہیں یعنی عبادت گاہیں بھی ہیں اور سجدے کے اعضاء پیشانی ‘ ناک ‘ ہاتھ ‘ پائوں ‘ گھٹنے بھی۔ یعنی تمام مساجد اور انسانوں کے اعضائے سجدہ سب اللہ کی ملکیت ہیں۔ { فَلَا تَدْعُوْا مَعَ اللّٰہِ اَحَدًا۔ } ”تو تم اللہ کے ساتھ کسی اور کو مت پکارو !“
وَأَنَّهُ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللَّهِ يَدْعُوهُ كَادُوا يَكُونُونَ عَلَيْهِ لِبَدًا
📘 آیت 19{ وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ } ”اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے“ { کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا۔ } ”تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ہجوم کر کے آجائیں گے۔“ اللہ کے بندے سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور اس میں قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین یہ کلام سننے کے لیے آپ ﷺ کے گرد بڑے تجسس سے جمع ہوجاتے تھے ‘ لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں تھے۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین آپ ﷺ کو نماز میں کھڑا دیکھتے تو ان کے عناد کی آگ بھڑکنے لگتی اور ان کا جی چاہتا کہ آپ ﷺ پر ہلہ ّبول دیں اور اس شمع ہدایت کو ُ گل کردیں۔
يَهْدِي إِلَى الرُّشْدِ فَآمَنَّا بِهِ ۖ وَلَنْ نُشْرِكَ بِرَبِّنَا أَحَدًا
📘 آیت 2{ یَّہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ط } ”جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ‘ تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔“ قرآن کے بارے میں جنات کا یہ ردِّعمل ہم انسانوں کے لیے باعث عبرت اور لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ قرآن سنا اور وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے ‘ بلکہ قرآن کو سن کر نہ صرف اس پر فوراً ایمان لے آئے بلکہ داعی بن کر اس کا پیغام اپنی قوم تک پہنچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں ‘ بار بار سنتے ہیں ‘ لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو اس نیت سے اور اس انداز سے پڑھتے یا سنتے ہی نہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اترے۔ ہم تو رمضان کے قیام اللیل کے لیے بھی اس مسجد کا انتخاب کرتے ہیں جہاں کے قاری صاحب کم سے کم وقت میں ”منزل“ طے کرلیتے ہوں۔ بلکہ آج کل تو باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے مختلف مساجد میں ایک سے بڑھ کر ایک ”پرکشش پیکج“ پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں صرف اتنے دنوں میں قرآن ختم کرا دیا جاتا ہے … ہماری مسجد میں نماز تراویح صرف تیس منٹ میں پڑھا دی جاتی ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اندازہ کیجیے ! جہاں قرآن مجید کم از کم وقت میں ختم کرنے کے لیے دوڑیں لگی ہوں وہاں سمجھنے ‘ سمجھانے کی فرصت کسے ہوگی ؟ اب ذرا اس طرزعمل کے مقابلے میں مذکورہ جنات کے رویے ّکا تصور کریں جو ایک ہی مرتبہ قرآن مجید کو سن کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ قرآن پر ایمان لانے کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے کہا : { وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا۔ } ”اور اب ہم کبھی بھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“
قُلْ إِنَّمَا أَدْعُو رَبِّي وَلَا أُشْرِكُ بِهِ أَحَدًا
📘 آیت 19{ وَّاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ } ”اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ اس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے“ { کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا۔ } ”تو معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس پر ہجوم کر کے آجائیں گے۔“ اللہ کے بندے سے مراد یہاں رسول اللہ ﷺ ہیں۔ جب آپ ﷺ نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور اس میں قرآن کی تلاوت فرماتے تو مشرکین یہ کلام سننے کے لیے آپ ﷺ کے گرد بڑے تجسس سے جمع ہوجاتے تھے ‘ لیکن ایمان لانے کو تیار نہیں تھے۔ اس کا ایک مفہوم یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ مشرکین آپ ﷺ کو نماز میں کھڑا دیکھتے تو ان کے عناد کی آگ بھڑکنے لگتی اور ان کا جی چاہتا کہ آپ ﷺ پر ہلہ ّبول دیں اور اس شمع ہدایت کو ُ گل کردیں۔
قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدًا
📘 آیت 21{ قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا۔ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ راہ پر لانے کا۔“ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے ‘ میں خود کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ اس حوالے سے سورة القصص کی یہ آیت بہت واضح ہے : { اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ } آیت 56 ”آپ ﷺ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں ‘ بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔“
قُلْ إِنِّي لَنْ يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا
📘 آیت 21{ قُلْ اِنِّیْ لَآ اَمْلِکُ لَکُمْ ضَرًّا وَّلَا رَشَدًا۔ } ”آپ ﷺ کہہ دیجیے کہ مجھے کوئی اختیار نہیں تمہارے لیے کسی نقصان کا اور نہ راہ پر لانے کا۔“ سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے ‘ میں خود کسی کو ہدایت نہیں دے سکتا۔ اس حوالے سے سورة القصص کی یہ آیت بہت واضح ہے : { اِنَّکَ لَا تَھْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰـکِنَّ اللّٰہَ یَھْدِیْ مَنْ یَّشَآئُ } آیت 56 ”آپ ﷺ ہدایت نہیں دے سکتے جس کو چاہیں ‘ بلکہ اللہ ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔“
إِلَّا بَلَاغًا مِنَ اللَّهِ وَرِسَالَاتِهِ ۚ وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا
📘 آیت 23{ اِلَّا بَلٰغًا مِّنَ اللّٰہِ وَرِسٰلٰتِہٖ } ”بس میرا فرض اللہ کی طرف سے تبلیغ اور اس کے پیغامات کا پہنچا دینا ہے۔“ یعنی اگر میں نے یہ فریضہ انجام دینے میں کوتاہی کی تو میری جواب دہی ہوگی۔ اس حوالے سے اللہ تعالیٰ نے سورة الاعراف کی اس آیت میں اپناقانون واضح طور پر بیان فرما دیا ہے : { فَلَنَسْئَلَنَّ الَّذِیْنَ اُرْسِلَ اِلَیْہِمْ وَلَنَسْئَلَنَّ الْمُرْسَلِیْنَ۔ } ”پس ہم لازماً پوچھ کر رہیں گے ان سے بھی جن کی طرف ہم نے رسولوں کو بھیجا اور لازماً پوچھ کر رہیں گے رسولوں سے بھی۔“ { وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ } ”اور جو کوئی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کرے گا“ { فَاِنَّ لَہٗ نَارَ جَہَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْہَآ اَبَدًا۔ } ”تو اس کے لیے جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیش رہے گا۔“
حَتَّىٰ إِذَا رَأَوْا مَا يُوعَدُونَ فَسَيَعْلَمُونَ مَنْ أَضْعَفُ نَاصِرًا وَأَقَلُّ عَدَدًا
📘 آیت 24{ حَتّٰیٓ اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ } ”یہاں تک کہ جب وہ دیکھیں گے وہ چیز جس کی انہیں دھمکی دی جا رہی ہے“ { فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ اَضْعَفُ نَاصِرًا وَّاَقَلُّ عَدَدًا۔ } ”اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون کمزور ہے مددگاروں کے اعتبار سے اور کون اقلیت میں ہے تعداد کے لحاظ سے۔“ سردارانِ قریش کے طعنوں میں سے حضور ﷺ کے لیے ایک طعنہ یہ بھی تھا کہ آپ ﷺ کی محفل کے مقابلے میں ہماری محفلیں زیادہ باوقار اور ُ پررونق ہوتی ہیں۔ آپ ﷺ تو نچلے طبقے کے چند غریب ‘ کمزور اور نادار افراد کو لے کر بیٹھے ہوتے ہیں جبکہ ہماری محفلوں میں بڑے بڑے لوگ شریک ہوتے ہیں۔ اس آیت میں ان کے اس طعنے کا جواب دیا گیا ہے کہ قیامت کے دن انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اپنے حمایتیوں کی طاقت اور تعداد کے لحاظ سے کس کی کیا حیثیت ہے۔ سورة مریم میں یہ مضمون زیادہ واضح انداز میں آیا ہے۔
قُلْ إِنْ أَدْرِي أَقَرِيبٌ مَا تُوعَدُونَ أَمْ يَجْعَلُ لَهُ رَبِّي أَمَدًا
📘 آیت 25{ قُلْ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَہٗ رَبِّیْٓ اَمَدًا۔ } ”آپ ﷺ یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آچکی ہے یا میرا رب اس کی مدت اور لمبی کر دے گا۔“ مَا تُوْعَدُوْنَ کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ وہ چیز جس کی تم لوگوں کو وعید یا دھمکی دی جا رہی ہے۔ وعدہ اور وعید دونوں الفاظ ایک ہی مادہ وعد سے مشتق ہیں۔ اس لحاظ سے وعید دھمکی کی حیثیت بھی گویا ایک وعدے کی سی ہے۔ اس آیت کا مضمون ملتے جلتے الفاظ میں سورة الانبیاء کی اس آیت میں بھی آچکا ہے : { وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ۔ } کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں بتادیں کہ میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آچکی ہے یا ابھی دور ہے۔
عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَىٰ غَيْبِهِ أَحَدًا
📘 آیت 25{ قُلْ اِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ اَمْ یَجْعَلُ لَہٗ رَبِّیْٓ اَمَدًا۔ } ”آپ ﷺ یہ بھی کہہ دیجیے کہ مجھے معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آچکی ہے یا میرا رب اس کی مدت اور لمبی کر دے گا۔“ مَا تُوْعَدُوْنَ کا ترجمہ یوں بھی ہوسکتا ہے کہ وہ چیز جس کی تم لوگوں کو وعید یا دھمکی دی جا رہی ہے۔ وعدہ اور وعید دونوں الفاظ ایک ہی مادہ وعد سے مشتق ہیں۔ اس لحاظ سے وعید دھمکی کی حیثیت بھی گویا ایک وعدے کی سی ہے۔ اس آیت کا مضمون ملتے جلتے الفاظ میں سورة الانبیاء کی اس آیت میں بھی آچکا ہے : { وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ۔ } کہ اے نبی ﷺ آپ انہیں بتادیں کہ میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے وہ قریب آچکی ہے یا ابھی دور ہے۔
إِلَّا مَنِ ارْتَضَىٰ مِنْ رَسُولٍ فَإِنَّهُ يَسْلُكُ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ رَصَدًا
📘 آیت 27{ اِلَّا مَنِ ارْتَضٰی مِنْ رَّسُوْلٍ } ”سوائے اس کے جس کو اس نے پسند فرما لیا ہو اپنے رسولوں میں سے“ اس آیت میں علم غیب کے بارے میں بہت اہم اصول بتادیا گیا ہے۔ یعنی غیب کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ وہ اپنے رسولوں علیہ السلام میں سے جسے چاہتا ہے اور جس قدر چاہتا ہے اس بارے میں مطلع فرماتا ہے۔ اس اصول کے تحت دیکھا جائے تو حضور ﷺ کی ذات سے متعلق علم غیب کا مسئلہ خواہ مخواہ متنازعہ بنا دیا گیا ہے۔ اگر تو کوئی شخص علم غیب سے مراد ایسا علم لیتا ہے جو بغیر کسی کے بتائے ہوئے حاصل ہو تو ایسا کوئی علم اللہ کی مخلوق میں سے کسی کے پاس بھی نہیں۔ ہر کسی کو جو بھی علم ملا ہے کسی نہ کسی کے سکھانے سے ہی ملا ہے۔ حضور ﷺ کا علم بھی اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ ہے۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام کو بھی علم اللہ تعالیٰ نے ہی عطا کیا ہے۔ ہم جیسے عام انسان بھی اپنے والدین ‘ اساتذہ اور بڑوں سے ہی سیکھتے ہیں۔ اس ضمن میں سب سے پہلے علم غیب کی درست تعریف definition طے کرنا ضروری ہے۔ یہ حقیقت ہر کوئی تسلیم کرتا ہے کہ ”غیب“ کا تعلق مخلوق سے ہے ‘ اللہ تعالیٰ کے لیے تو کوئی چیز ”غیب“ ہے ہی نہیں ‘ ہر شے ہر آن اس کے سامنے موجود ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں یا خبریں ہم انسانوں سے پوشیدہ رکھی ہیں وہ ہمارے لیے ”عالم غیب“ ہے۔ مثلاً جنت ‘ دوزخ ‘ فرشتے وغیرہ۔ اس بارے میں بھی کسی کو کوئی اختلاف نہیں کہ انبیاء و رسل - کو غیب کی خبریں بھی دی جاتی ہیں اور کسی حد تک انہیں عالم غیب کا مشاہدہ بھی کرایا جاتا ہے : { وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ۔ } الانعام ”اور اسی طرح ہم دکھاتے رہے ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمین کے ملکوت تا کہ وہ پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے“۔ حضور ﷺ کو معراج کے موقع پر جنت ‘ دوزخ اور بہت سی دوسری کیفیات کا مشاہدہ کرایا گیا ‘ بلکہ غیب سے متعلق ایسے مشاہدات آپ ﷺ کو عام معمول کی زندگی میں بھی کرائے جاتے تھے۔ مثلاً ایک مرتبہ آپ ﷺ نمازِاستسقاء پڑھا رہے تھے تو نماز کے دوران آپ ﷺ اچانک ایک دفعہ آگے بڑھے اور پھر اسی انداز میں پیچھے ہٹے۔ بعد میں صحابہ کرام نے آپ ﷺ کے اس عمل کا سبب دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے سامنے اچانک جنت لے آئی گئی تو میں نے چاہا کہ اس کا پھل توڑ لوں۔ چناچہ میرا ہاتھ بےاختیار اس کی طرف بڑھ گیا۔ اس کے بعد میرے سامنے دوزخ لے آئی گئی تو اس کی تپش کی وجہ سے میں بےاختیار پیچھے ہٹ گیا۔ بہرحال علم کے اعتبار سے ایک عام انسان اور ایک نبی میں بنیادی طور پر یہی فرق ہے کہ نبی کو عالم غیب کا علم بھی دیا جاتا ہے۔ ورنہ جہاں تک امور دنیا کے علم کا تعلق ہے اس بارے میں حضور ﷺ کا واضح فرمان موجود ہے۔ ایک موقع پر آپ ﷺ نے صحابہ رض کو مخاطب کر کے فرمایا تھا : اَنْتُمْ اَعْلَمُ بِاَمْرِ دُنْیَاکُمْ 1 کہ دنیاداری کے اپنے معاملات کے بارے میں تم لوگ بہتر جانتے ہو۔ چناچہ اصل حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انبیاء و رسل - کو جب چاہے جس قدر چاہے عالم غیب کا مشاہدہ کرا دے یا غیب کے علم میں سے جتنا علم چاہے عطا فرما دے۔ البتہ جو کوئی یہ مانے کہ نبی مکرم ﷺ کو ُ کل غیب کا علم تھا وہ کافر ہے۔ حضور ﷺ کے علم غیب کے بارے میں بریلوی مکتبہ فکر کے علماء کا نقطہ نظر کیا ہے ؟ اس سوال کا جواب جاننے کے لیے میں نے اپنے زمانہ طالب علمی میں ذاتی طور پر متعدد بریلوی علماء سے ملاقاتیں کیں۔ میں جتنے علماء سے ملا ان سب کو میں نے مندرجہ ذیل تین نکات پر متفق پایا : 1 حضور ﷺ کا علم ذاتی نہیں ‘ عطائی ہے ‘ یعنی اللہ کا عطا کردہ ہے۔2 آپ ﷺ کا علم قدیم نہیں حادث ہے۔ یعنی پہلے نہیں تھا ‘ جب اللہ نے عطا کیا تو آپ ﷺ کو علم ہوگیا۔3 آپ ﷺ کا علم لامحدود نہیں ‘ محدود ہے۔ دراصل ان تین نکات کے بارے میں مسلمانوں کے کسی مکتبہ فکر میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ چناچہ اس کا سیدھا سادہ مطلب یہ ہے کہ یہ مسئلہ سرے سے بحث طلب ہے ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو علم غیب عطا فرمایا ‘ جب چاہا اور جتنا چاہا عطا فرمایا۔ اب کیا میں اور آپ اس بارے میں بحث کریں گے کہ حضور ﷺ کو کس چیز کا علم تھا اور کس چیز کا علم نہیں تھا ؟ میری اور آپ کی حیثیت ہی کیا ہے کہ ہم حضور ﷺ کے علم کے بارے میں ناپ تول کریں۔ معاذ اللہ ! { فَاِنَّـہٗ یَسْلُکُ مِنْ بَیْنِ یَدَیْہِ وَمِنْ خَلْفِہٖ رَصَدًا۔ } ”تو اس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگا دیتا ہے۔“ یعنی جب اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے غیب کے حقائق کا علم رسول کے پاس بھیجتا ہے تو اس کی حفاظت کے لیے ہر طرف فرشتے مقرر کردیتا ہے تاکہ وہ علم نہایت محفوظ طریقے سے رسول تک پہنچ جائے۔
لِيَعْلَمَ أَنْ قَدْ أَبْلَغُوا رِسَالَاتِ رَبِّهِمْ وَأَحَاطَ بِمَا لَدَيْهِمْ وَأَحْصَىٰ كُلَّ شَيْءٍ عَدَدًا
📘 آیت 28{ لِّیَعْلَمَ اَنْ قَدْ اَبْلَغُوْا رِسٰلٰتِ رَبِّہِمْ } ”تاکہ وہ دیکھ لے کہ انہوں نے واقعتا اپنے رب کے پیغامات پہنچادیے ہیں“ یعنی اللہ تعالیٰ یہ بات واضح کر دے۔ اسی حوالے سے اتمامِ حجت کے لیے حضور ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرین سے پوچھا تھا : اَلَا ھَلْ بَلَّغْتُ ؟ ”کیا میں نے اللہ کا پیغام تم لوگوں تک پہنچادیا ؟“ اس پر تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا تھا : نَشْھَدُ اَنَّکَ قَدْ بَلَّغْتَ وَاَدَّیْتَ وَنَصَحْتَ 1 { وَاَحَاطَ بِمَا لَدَیْہِمْ وَاَحْصٰی کُلَّ شَیْئٍ عَدَدًا۔ } ”اور وہ احاطہ کیے ہوئے ہے اس سب کچھ کا جو ان کے پاس ہے اور اس نے ہرچیز کا حساب کتاب رکھا ہوا ہے گنتی کے ساتھ۔“
وَأَنَّهُ تَعَالَىٰ جَدُّ رَبِّنَا مَا اتَّخَذَ صَاحِبَةً وَلَا وَلَدًا
📘 آیت 2{ یَّہْدِیْٓ اِلَی الرُّشْدِ فَاٰمَنَّا بِہٖ ط } ”جو راہ راست کی طرف راہنمائی کرتا ہے ‘ تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔“ قرآن کے بارے میں جنات کا یہ ردِّعمل ہم انسانوں کے لیے باعث عبرت اور لمحہ فکریہ ہے۔ انہوں نے ایک مرتبہ قرآن سنا اور وہ اس پر فوراً ایمان لے آئے ‘ بلکہ قرآن کو سن کر نہ صرف اس پر فوراً ایمان لے آئے بلکہ داعی بن کر اس کا پیغام اپنی قوم تک پہنچانے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ دوسری طرف ہم ہیں کہ قرآن کو بار بار پڑھتے ہیں ‘ بار بار سنتے ہیں ‘ لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم قرآن مجید کو اس نیت سے اور اس انداز سے پڑھتے یا سنتے ہی نہیں کہ وہ ہمارے دلوں میں اترے۔ ہم تو رمضان کے قیام اللیل کے لیے بھی اس مسجد کا انتخاب کرتے ہیں جہاں کے قاری صاحب کم سے کم وقت میں ”منزل“ طے کرلیتے ہوں۔ بلکہ آج کل تو باقاعدہ اشتہارات کے ذریعے مختلف مساجد میں ایک سے بڑھ کر ایک ”پرکشش پیکج“ پیش کیا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں صرف اتنے دنوں میں قرآن ختم کرا دیا جاتا ہے … ہماری مسجد میں نماز تراویح صرف تیس منٹ میں پڑھا دی جاتی ہے ‘ وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔ اندازہ کیجیے ! جہاں قرآن مجید کم از کم وقت میں ختم کرنے کے لیے دوڑیں لگی ہوں وہاں سمجھنے ‘ سمجھانے کی فرصت کسے ہوگی ؟ اب ذرا اس طرزعمل کے مقابلے میں مذکورہ جنات کے رویے ّکا تصور کریں جو ایک ہی مرتبہ قرآن مجید کو سن کر کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔ قرآن پر ایمان لانے کا اعلان کرنے کے بعد انہوں نے کہا : { وَلَنْ نُّشْرِکَ بِرَبِّنَآ اَحَدًا۔ } ”اور اب ہم کبھی بھی اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔“
وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ سَفِيهُنَا عَلَى اللَّهِ شَطَطًا
📘 آیت 4{ وَّاَنَّـہٗ کَانَ یَـقُوْلُ سَفِیْہُنَا عَلَی اللّٰہِ شَطَطًا۔ } ”اور یقینا ہمارا بیوقوف سردار اللہ کے بارے میں خلافِ حقیقت باتیں کہتا رہا ہے۔“ اپنے ”بیوقوف“ سے ان کا اشارہ اپنے سب سے بڑے جن عزازیل ابلیس کی طرف ہے۔
وَأَنَّا ظَنَنَّا أَنْ لَنْ تَقُولَ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا
📘 آیت 5{ وَّاَنَّا ظَنَنَّآ اَنْ لَّـنْ تَقُوْلَ الْاِنْسُ وَالْجِنُّ عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا۔ } ”اور یہ کہ ہم تو اس گمان میں رہے کہ جن اور انسان اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھیں گے۔“ وہ بدبخت اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا رہا اور ہم اس خوش فہمی میں اس کی باتوں کو مانتے رہے کہ کوئی انسان یا جن اللہ کے بارے میں کبھی کوئی خلافِ حق بات نہیں کرسکتا۔
وَأَنَّهُ كَانَ رِجَالٌ مِنَ الْإِنْسِ يَعُوذُونَ بِرِجَالٍ مِنَ الْجِنِّ فَزَادُوهُمْ رَهَقًا
📘 آیت 6{ وَّاَنَّہٗ کَانَ رِجَالٌ مِّنَ الْاِنْسِ یَعُوْذُوْنَ بِرِجَالٍ مِّنَ الْجِنِّ فَزَادُوْہُمْ رَہَقًا۔ } ”اور یہ کہ انسانوں میں سے کچھ مرد جنات میں سے کچھ مردوں کی پناہ پکڑتے تھے ‘ تو انہوں نے ان جنات کی سرکشی میں مزید اضافہ کیا۔“ عربوں کے ہاں جنات سے پناہ طلب کرنے کا رواج عام تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہر جنگل اور ہر ویرانے میں جنات کا بسیرا ہوتا ہے۔ اس لیے جب ان کا کوئی قافلہ صحرا میں کہیں پڑائو کرتا تو قافلے کا سردار بآوازِ بلند پکارتا کہ ہم اس وادی کے سردار جن کی پناہ میں آتے ہیں۔ اب ظاہر ہے جنات تو انسانوں کی ایسی حماقتوں پر ہنستے ہوں گے کہ دیکھو ! آج اسی آدم علیہ السلام کی اولاد ہمیں معبود بنائے بیٹھی ہے جسے سجدہ نہ کرنے پر ہمارے جدامجد کو جنت سے نکال دیا گیا تھا۔ چناچہ انسانوں کی ایسی حرکتوں سے جنات کے غرور اور سرکشی میں اور بھی اضافہ ہوتا چلا گیا۔
وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَمَا ظَنَنْتُمْ أَنْ لَنْ يَبْعَثَ اللَّهُ أَحَدًا
📘 آیت 7{ وَّاَنَّـہُمْ ظَنُّوْا کَمَا ظَنَنْتُمْ اَنْ لَّنْ یَّـبْعَثَ اللّٰہُ اَحَدًا۔ } ”اور یہ کہ انہوں نے بھی ایسا ہی سمجھا جیسا کہ تم نے سمجھا ہوا ہے کہ اللہ کسی کو ہرگز نہیں اٹھائے گا۔“ اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو بھی مرنے کے بعد دوبارہ نہیں اٹھائے گا ‘ یعنی بعث بعد الموت کے عقیدے میں کوئی حقیقت نہیں۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اب اللہ تعالیٰ کسی کو بھی رسول بنا کر نہیں بھیجے گا۔ سورة الاحقاف میں جنات کے تذکرے کے حوالے سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ جنات تورات سے واقف تھے اور وہ اس حقیقت سے بھی آگاہ تھے کہ پچھلے چھ سو برس سے دنیا میں کوئی رسول نہیں آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضور ﷺ کے درمیان تقریباً چھ سو برس کا زمانہ انسانی تاریخ میں سلسلہ رسالت کے انقطاع کا طویل ترین وقفہ ہے۔ چناچہ اپنی ان معلومات کی بنیاد پر جنات یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ رسالت کا دروازہ اب ہمیشہ کے لیے بند ہوچکا ہے اور یہ کہ اب دنیا میں کوئی رسول نہیں آئے گا۔
وَأَنَّا لَمَسْنَا السَّمَاءَ فَوَجَدْنَاهَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِيدًا وَشُهُبًا
📘 آیت 8{ وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآئَ } ”اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو“ ہم نے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں آسمان کی پہنائیوں میں حسب معمول بھاگ دوڑ کی۔ { فَوَجَدْنٰـہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّشُہُبًا۔ } ”تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور انگاروں سے بھرا ہوا ہے۔“ ہم نے دیکھا کہ آسمان میں اب جگہ جگہ پہرے مقرر کردیے گئے ہیں اور شہاب ثاقب کی قسم کے میزائل نصب کر کے حفاظتی انتظامات غیر معمولی طور پر سخت کردیے گئے ہیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے ‘ آگ اور نور کی کچھ خصوصیات مشترک ہونے کے باعث جنات اور فرشتوں کے مابین تخلیقی اعتبار سے کچھ نہ کچھ قربت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے جب عالم بالا سے احکام لے کر زمین کی طرف آتے ہیں تو شیاطین ِجن ان سے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور احکام سے متعلق پیشگی خبریں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی خبریں وہ اپنے ان انسان ساتھیوں تک پہنچانے کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں جو دنیا میں کاہنوں اور جادوگروں کے روپ میں شرک و ضلالت کی دکانیں کھولے بیٹھے ہیں۔ عام حالات میں تو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے شاید ان جنات کو ایسی خبروں تک کسی نہ کسی حد تک رسائی ہوجاتی ہو مگر نزول وحی کے زمانے میں انہیں حساس حدود کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ آیات زیر مطالعہ میں اسی حوالے سے جنات کی چہ میگوئیوں کا ذکر ہورہا ہے۔
وَأَنَّا كُنَّا نَقْعُدُ مِنْهَا مَقَاعِدَ لِلسَّمْعِ ۖ فَمَنْ يَسْتَمِعِ الْآنَ يَجِدْ لَهُ شِهَابًا رَصَدًا
📘 آیت 8{ وَّاَنَّا لَمَسْنَا السَّمَآئَ } ”اور یہ کہ ہم نے ٹٹولا آسمان کو“ ہم نے غیب کی خبروں کی ٹوہ میں آسمان کی پہنائیوں میں حسب معمول بھاگ دوڑ کی۔ { فَوَجَدْنٰـہَا مُلِئَتْ حَرَسًا شَدِیْدًا وَّشُہُبًا۔ } ”تو ہم نے دیکھا کہ وہ سخت پہروں اور انگاروں سے بھرا ہوا ہے۔“ ہم نے دیکھا کہ آسمان میں اب جگہ جگہ پہرے مقرر کردیے گئے ہیں اور شہاب ثاقب کی قسم کے میزائل نصب کر کے حفاظتی انتظامات غیر معمولی طور پر سخت کردیے گئے ہیں۔ جیسا کہ قبل ازیں بھی کئی مرتبہ ذکر ہوچکا ہے ‘ آگ اور نور کی کچھ خصوصیات مشترک ہونے کے باعث جنات اور فرشتوں کے مابین تخلیقی اعتبار سے کچھ نہ کچھ قربت پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فرشتے جب عالم بالا سے احکام لے کر زمین کی طرف آتے ہیں تو شیاطین ِجن ان سے اللہ تعالیٰ کے فیصلوں اور احکام سے متعلق پیشگی خبریں حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسی خبریں وہ اپنے ان انسان ساتھیوں تک پہنچانے کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں جو دنیا میں کاہنوں اور جادوگروں کے روپ میں شرک و ضلالت کی دکانیں کھولے بیٹھے ہیں۔ عام حالات میں تو اللہ تعالیٰ کی مشیت سے شاید ان جنات کو ایسی خبروں تک کسی نہ کسی حد تک رسائی ہوجاتی ہو مگر نزول وحی کے زمانے میں انہیں حساس حدود کے قریب بھی پھٹکنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ آیات زیر مطالعہ میں اسی حوالے سے جنات کی چہ میگوئیوں کا ذکر ہورہا ہے۔