🕋 تفسير سورة فاطر
(Fatir) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ الْحَمْدُ لِلَّهِ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَاعِلِ الْمَلَائِكَةِ رُسُلًا أُولِي أَجْنِحَةٍ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۚ يَزِيدُ فِي الْخَلْقِ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
📘 فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کےلیے اور اپنے احکام کی تنفیذ کےلیے پیدا کیا ہے۔ مگر شیطان نے لوگوں کو سکھایا کہ فرشتے مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دنیا میں برکت اورآخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ قومیں لات اور منات جیسے ناموں سے ان کی فرضی تصویریں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگیں۔ کچھ قوموں نے ان کو دیوی دیوتا قرار دے کر انھیں پوجنا شروع کردیا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت (law of nature)کی تعظیم بھی اسی گمراہی کا جدیدایڈیشن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرشتے ہوں یا قانون فطرت، سب ایک خدا کے محکوم ہیں۔ سب ایک خدا کے کارگزار ہیں، خواہ وہ دو بازوؤں والے ہوں یا 600 بازوؤں والے یا 600 کرور بازوؤں والے۔
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْعِزَّةَ فَلِلَّهِ الْعِزَّةُ جَمِيعًا ۚ إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ ۚ وَالَّذِينَ يَمْكُرُونَ السَّيِّئَاتِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۖ وَمَكْرُ أُولَٰئِكَ هُوَ يَبُورُ
📘 پہلا انسان ارضی اجزا سے بنایا گیا۔ پھر خدا نے انسان کو ایک بوند میں بہ شکل بیج رکھ دیا۔ پھر انسانوںکو عورت اور مرد میں تقسیم کرکے ان کے جوڑے سے انسانی نسل چلائی۔ یہ واقعہ خدا کی بے پناہ قدرت کو بتاتا ہے۔
پھر ایک بچہ جب پیٹ میں پرورش پانا شروع کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ پیٹ کے اندر وہ تمام موافق اسباب بلا طلب موجود ہیں جو اس کو ناگزیر طورپر مطلوب تھے۔ یہ واقعہ مزید ثابت کرتاہے کہ بچے کا پیدا کرنے والا بچے کی ضرورتوں کو پہلے سے جانتا تھا ورنہ وہ پیشگی طور پر اس کا اتنا مکمل انتظام کس طرح کرتاہے۔
یہی معاملہ عمر کا ہے۔ کوئی شخص اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی عمر کا تعین کرسکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمر کا معاملہ تمام تر کسی خارجی ہستی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے کم عمر میں اٹھالیتا ہے اور جس کو چاہتاہے لمبی عمر دے دیتاہے۔ ان سارے واقعات میں ایک خدا کے سوا کسی کا کوئی دخل نہیں پھر کیسے درست ہوسکتاہے کہ آدمی ایک خدا کے سوا کسی اور سے اندیشہ رکھے، وہ کسی اور سے امیدیں قائم کرے۔
وَاللَّهُ خَلَقَكُمْ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُطْفَةٍ ثُمَّ جَعَلَكُمْ أَزْوَاجًا ۚ وَمَا تَحْمِلُ مِنْ أُنْثَىٰ وَلَا تَضَعُ إِلَّا بِعِلْمِهِ ۚ وَمَا يُعَمَّرُ مِنْ مُعَمَّرٍ وَلَا يُنْقَصُ مِنْ عُمُرِهِ إِلَّا فِي كِتَابٍ ۚ إِنَّ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ
📘 پہلا انسان ارضی اجزا سے بنایا گیا۔ پھر خدا نے انسان کو ایک بوند میں بہ شکل بیج رکھ دیا۔ پھر انسانوںکو عورت اور مرد میں تقسیم کرکے ان کے جوڑے سے انسانی نسل چلائی۔ یہ واقعہ خدا کی بے پناہ قدرت کو بتاتا ہے۔
پھر ایک بچہ جب پیٹ میں پرورش پانا شروع کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ پیٹ کے اندر وہ تمام موافق اسباب بلا طلب موجود ہیں جو اس کو ناگزیر طورپر مطلوب تھے۔ یہ واقعہ مزید ثابت کرتاہے کہ بچے کا پیدا کرنے والا بچے کی ضرورتوں کو پہلے سے جانتا تھا ورنہ وہ پیشگی طور پر اس کا اتنا مکمل انتظام کس طرح کرتاہے۔
یہی معاملہ عمر کا ہے۔ کوئی شخص اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی عمر کا تعین کرسکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمر کا معاملہ تمام تر کسی خارجی ہستی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے کم عمر میں اٹھالیتا ہے اور جس کو چاہتاہے لمبی عمر دے دیتاہے۔ ان سارے واقعات میں ایک خدا کے سوا کسی کا کوئی دخل نہیں پھر کیسے درست ہوسکتاہے کہ آدمی ایک خدا کے سوا کسی اور سے اندیشہ رکھے، وہ کسی اور سے امیدیں قائم کرے۔
وَمَا يَسْتَوِي الْبَحْرَانِ هَٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ سَائِغٌ شَرَابُهُ وَهَٰذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ ۖ وَمِنْ كُلٍّ تَأْكُلُونَ لَحْمًا طَرِيًّا وَتَسْتَخْرِجُونَ حِلْيَةً تَلْبَسُونَهَا ۖ وَتَرَى الْفُلْكَ فِيهِ مَوَاخِرَ لِتَبْتَغُوا مِنْ فَضْلِهِ وَلَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ
📘 زمین پر پانی کا عظیم الشان ذخیرہ موجود ہے، وسیع سمندروں میں کھاری پانی کی صورت میں، اور دریاؤں اور جھیلوں اور چشموں میں میٹھے پانی کی صورت میں۔ یہ پانی آدمی کےلیے بے شمار فوائد کا ذریعہ ہے۔ وہ پینے کےلیے اور آب پاشی کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے آبی جانور حاصل ہوتے ہیں جو انسان کےلیے قیمتی خوراک ہیں۔ کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصہ میں پھیلے ہوئے سمندر گویا وسیع آبی سڑکیں ہیں جنھوں نے سفر اور باربرداری کو بے حد آسان کردیا ہے۔ سمندروں سے موتی اور دوسری قیمتی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، وغیرہ۔
پھر وسیع خلا میں خدا نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے جن میں بے شمار فائدے ہیں۔ اس نے زمین کو سورج کے گرد اپنے محور پر کامل حساب کے ساتھ گھمارکھا ہے جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار کائناتی انتظامات ہیں جو صرف خدا کے قائم کردہ ہیں۔ پھر خدا کے سوا کون ہے جو انسان کے جذبۂ شکر کا مستحق ہو۔ اتھاہ طاقتیں رکھنے والا خدا انسان کی حاجتیں پوری کرسکتا ہے یا وہ مفروضہ معبود جو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔
يُولِجُ اللَّيْلَ فِي النَّهَارِ وَيُولِجُ النَّهَارَ فِي اللَّيْلِ وَسَخَّرَ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ يَجْرِي لِأَجَلٍ مُسَمًّى ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ لَهُ الْمُلْكُ ۚ وَالَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ مَا يَمْلِكُونَ مِنْ قِطْمِيرٍ
📘 زمین پر پانی کا عظیم الشان ذخیرہ موجود ہے، وسیع سمندروں میں کھاری پانی کی صورت میں، اور دریاؤں اور جھیلوں اور چشموں میں میٹھے پانی کی صورت میں۔ یہ پانی آدمی کےلیے بے شمار فوائد کا ذریعہ ہے۔ وہ پینے کےلیے اور آب پاشی کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے آبی جانور حاصل ہوتے ہیں جو انسان کےلیے قیمتی خوراک ہیں۔ کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصہ میں پھیلے ہوئے سمندر گویا وسیع آبی سڑکیں ہیں جنھوں نے سفر اور باربرداری کو بے حد آسان کردیا ہے۔ سمندروں سے موتی اور دوسری قیمتی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، وغیرہ۔
پھر وسیع خلا میں خدا نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے جن میں بے شمار فائدے ہیں۔ اس نے زمین کو سورج کے گرد اپنے محور پر کامل حساب کے ساتھ گھمارکھا ہے جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار کائناتی انتظامات ہیں جو صرف خدا کے قائم کردہ ہیں۔ پھر خدا کے سوا کون ہے جو انسان کے جذبۂ شکر کا مستحق ہو۔ اتھاہ طاقتیں رکھنے والا خدا انسان کی حاجتیں پوری کرسکتا ہے یا وہ مفروضہ معبود جو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔
إِنْ تَدْعُوهُمْ لَا يَسْمَعُوا دُعَاءَكُمْ وَلَوْ سَمِعُوا مَا اسْتَجَابُوا لَكُمْ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُونَ بِشِرْكِكُمْ ۚ وَلَا يُنَبِّئُكَ مِثْلُ خَبِيرٍ
📘 زمین پر پانی کا عظیم الشان ذخیرہ موجود ہے، وسیع سمندروں میں کھاری پانی کی صورت میں، اور دریاؤں اور جھیلوں اور چشموں میں میٹھے پانی کی صورت میں۔ یہ پانی آدمی کےلیے بے شمار فوائد کا ذریعہ ہے۔ وہ پینے کےلیے اور آب پاشی کےلیے استعمال ہوتا ہے۔ اس سے آبی جانور حاصل ہوتے ہیں جو انسان کےلیے قیمتی خوراک ہیں۔ کرۂ ارض کے تین چوتھائی حصہ میں پھیلے ہوئے سمندر گویا وسیع آبی سڑکیں ہیں جنھوں نے سفر اور باربرداری کو بے حد آسان کردیا ہے۔ سمندروں سے موتی اور دوسری قیمتی چیزیں حاصل ہوتی ہیں، وغیرہ۔
پھر وسیع خلا میں خدا نے سورج اور چاند کو مسخر کر رکھا ہے جن میں بے شمار فائدے ہیں۔ اس نے زمین کو سورج کے گرد اپنے محور پر کامل حساب کے ساتھ گھمارکھا ہے جس سے رات اور دن پیدا ہوتے ہیں۔ اس طرح کے بے شمار کائناتی انتظامات ہیں جو صرف خدا کے قائم کردہ ہیں۔ پھر خدا کے سوا کون ہے جو انسان کے جذبۂ شکر کا مستحق ہو۔ اتھاہ طاقتیں رکھنے والا خدا انسان کی حاجتیں پوری کرسکتا ہے یا وہ مفروضہ معبود جو کسی قسم کا کوئی اختیار نہیں رکھتا۔
۞ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ
📘 موجودہ دنیا میں انسان انتہائی حد تک غیر محفوظ (vulnerable) ہے۔ انسان کا سارا معاملہ فطرت کے خاص توازن پر منحصر ہے۔ یہ توازن باقی نہ رہے تو ایک لمحہ میں انسانی زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔
سورج اگر اپنے موجودہ فاصلہ کو ختم کرکے زمین کے قریب آجائے تو اچانک تمام انسان جل بھن کر خاک ہوجائیں۔زمین کے اندر اس کا بڑا حصہ بے حد گرم مادہ کی صورت میں ہے۔ اس گرم مادہ کی حرکت اوپر کی طرف ہوجائے تو سطح زمین پر ایسا زلزلہ پیداہو کہ تمام آبادیاں کھنڈر بن کر رہ جائیں۔ اوپر ی فضا سے ہر وقت شہابی پـتھر (meteors) برستے رہتے ہیں۔ اگر موجودہ انتظام بگڑ جائے تو یہ شہابئے ایک ایسی سنگ باری کی صورت اختیار کرلیں جس سے کسی حال میں بھی بچاؤ ممکن نہ ہو۔ اس طرح کے بے شمار ہلاکت خیز امکانات ہر وقت انسان کو گھیرے میں ليے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو مکمل طورپر محتاج ہے۔ انسان کو خدا کی ضرورت ہے، نہ کہ خدا کو انسان کی ضرورت۔
قیامت کا بوجھ خود اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا، نہ کہ اینٹ پتھر کا بوجھ۔ اینٹ پتھر کے بوجھ میں ایک شخص کسی دوسرے شخص کا حصہ دار بن سکتا ہے مگر خود اپنے برے عمل سے جو رسوائی اور تکلیف کسی شخص کو لاحق ہو وہ انتہائی ذاتی نوعیت کا عذاب ہوتاہے۔ اس میں کسی دوسرے کےلیے حصہ دار بننے کا سوال نہیں۔
حقیقت نہایت واضح ہے مگر حقیقت کو وہی شخص سمجھتا ہے جو اس کو سمجھنا چاہے۔ جو شخص اس بارے میں سنجیدہ ہی نہ ہو کہ حقیقت کیا ہے، اور بے حقیقت کیا، اس کو کوئی بات سمجھائی نہیں جاسکتی۔
إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِيدٍ
📘 موجودہ دنیا میں انسان انتہائی حد تک غیر محفوظ (vulnerable) ہے۔ انسان کا سارا معاملہ فطرت کے خاص توازن پر منحصر ہے۔ یہ توازن باقی نہ رہے تو ایک لمحہ میں انسانی زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔
سورج اگر اپنے موجودہ فاصلہ کو ختم کرکے زمین کے قریب آجائے تو اچانک تمام انسان جل بھن کر خاک ہوجائیں۔زمین کے اندر اس کا بڑا حصہ بے حد گرم مادہ کی صورت میں ہے۔ اس گرم مادہ کی حرکت اوپر کی طرف ہوجائے تو سطح زمین پر ایسا زلزلہ پیداہو کہ تمام آبادیاں کھنڈر بن کر رہ جائیں۔ اوپر ی فضا سے ہر وقت شہابی پـتھر (meteors) برستے رہتے ہیں۔ اگر موجودہ انتظام بگڑ جائے تو یہ شہابئے ایک ایسی سنگ باری کی صورت اختیار کرلیں جس سے کسی حال میں بھی بچاؤ ممکن نہ ہو۔ اس طرح کے بے شمار ہلاکت خیز امکانات ہر وقت انسان کو گھیرے میں ليے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو مکمل طورپر محتاج ہے۔ انسان کو خدا کی ضرورت ہے، نہ کہ خدا کو انسان کی ضرورت۔
قیامت کا بوجھ خود اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا، نہ کہ اینٹ پتھر کا بوجھ۔ اینٹ پتھر کے بوجھ میں ایک شخص کسی دوسرے شخص کا حصہ دار بن سکتا ہے مگر خود اپنے برے عمل سے جو رسوائی اور تکلیف کسی شخص کو لاحق ہو وہ انتہائی ذاتی نوعیت کا عذاب ہوتاہے۔ اس میں کسی دوسرے کےلیے حصہ دار بننے کا سوال نہیں۔
حقیقت نہایت واضح ہے مگر حقیقت کو وہی شخص سمجھتا ہے جو اس کو سمجھنا چاہے۔ جو شخص اس بارے میں سنجیدہ ہی نہ ہو کہ حقیقت کیا ہے، اور بے حقیقت کیا، اس کو کوئی بات سمجھائی نہیں جاسکتی۔
وَمَا ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ بِعَزِيزٍ
📘 موجودہ دنیا میں انسان انتہائی حد تک غیر محفوظ (vulnerable) ہے۔ انسان کا سارا معاملہ فطرت کے خاص توازن پر منحصر ہے۔ یہ توازن باقی نہ رہے تو ایک لمحہ میں انسانی زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔
سورج اگر اپنے موجودہ فاصلہ کو ختم کرکے زمین کے قریب آجائے تو اچانک تمام انسان جل بھن کر خاک ہوجائیں۔زمین کے اندر اس کا بڑا حصہ بے حد گرم مادہ کی صورت میں ہے۔ اس گرم مادہ کی حرکت اوپر کی طرف ہوجائے تو سطح زمین پر ایسا زلزلہ پیداہو کہ تمام آبادیاں کھنڈر بن کر رہ جائیں۔ اوپر ی فضا سے ہر وقت شہابی پـتھر (meteors) برستے رہتے ہیں۔ اگر موجودہ انتظام بگڑ جائے تو یہ شہابئے ایک ایسی سنگ باری کی صورت اختیار کرلیں جس سے کسی حال میں بھی بچاؤ ممکن نہ ہو۔ اس طرح کے بے شمار ہلاکت خیز امکانات ہر وقت انسان کو گھیرے میں ليے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو مکمل طورپر محتاج ہے۔ انسان کو خدا کی ضرورت ہے، نہ کہ خدا کو انسان کی ضرورت۔
قیامت کا بوجھ خود اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا، نہ کہ اینٹ پتھر کا بوجھ۔ اینٹ پتھر کے بوجھ میں ایک شخص کسی دوسرے شخص کا حصہ دار بن سکتا ہے مگر خود اپنے برے عمل سے جو رسوائی اور تکلیف کسی شخص کو لاحق ہو وہ انتہائی ذاتی نوعیت کا عذاب ہوتاہے۔ اس میں کسی دوسرے کےلیے حصہ دار بننے کا سوال نہیں۔
حقیقت نہایت واضح ہے مگر حقیقت کو وہی شخص سمجھتا ہے جو اس کو سمجھنا چاہے۔ جو شخص اس بارے میں سنجیدہ ہی نہ ہو کہ حقیقت کیا ہے، اور بے حقیقت کیا، اس کو کوئی بات سمجھائی نہیں جاسکتی۔
وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ ۚ وَإِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ إِلَىٰ حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۗ إِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَيْبِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ ۚ وَمَنْ تَزَكَّىٰ فَإِنَّمَا يَتَزَكَّىٰ لِنَفْسِهِ ۚ وَإِلَى اللَّهِ الْمَصِيرُ
📘 موجودہ دنیا میں انسان انتہائی حد تک غیر محفوظ (vulnerable) ہے۔ انسان کا سارا معاملہ فطرت کے خاص توازن پر منحصر ہے۔ یہ توازن باقی نہ رہے تو ایک لمحہ میں انسانی زندگی کا خاتمہ ہوجائے۔
سورج اگر اپنے موجودہ فاصلہ کو ختم کرکے زمین کے قریب آجائے تو اچانک تمام انسان جل بھن کر خاک ہوجائیں۔زمین کے اندر اس کا بڑا حصہ بے حد گرم مادہ کی صورت میں ہے۔ اس گرم مادہ کی حرکت اوپر کی طرف ہوجائے تو سطح زمین پر ایسا زلزلہ پیداہو کہ تمام آبادیاں کھنڈر بن کر رہ جائیں۔ اوپر ی فضا سے ہر وقت شہابی پـتھر (meteors) برستے رہتے ہیں۔ اگر موجودہ انتظام بگڑ جائے تو یہ شہابئے ایک ایسی سنگ باری کی صورت اختیار کرلیں جس سے کسی حال میں بھی بچاؤ ممکن نہ ہو۔ اس طرح کے بے شمار ہلاکت خیز امکانات ہر وقت انسان کو گھیرے میں ليے ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان ایک ایسی مخلوق ہے جو مکمل طورپر محتاج ہے۔ انسان کو خدا کی ضرورت ہے، نہ کہ خدا کو انسان کی ضرورت۔
قیامت کا بوجھ خود اپنے گناہوں کا بوجھ ہوگا، نہ کہ اینٹ پتھر کا بوجھ۔ اینٹ پتھر کے بوجھ میں ایک شخص کسی دوسرے شخص کا حصہ دار بن سکتا ہے مگر خود اپنے برے عمل سے جو رسوائی اور تکلیف کسی شخص کو لاحق ہو وہ انتہائی ذاتی نوعیت کا عذاب ہوتاہے۔ اس میں کسی دوسرے کےلیے حصہ دار بننے کا سوال نہیں۔
حقیقت نہایت واضح ہے مگر حقیقت کو وہی شخص سمجھتا ہے جو اس کو سمجھنا چاہے۔ جو شخص اس بارے میں سنجیدہ ہی نہ ہو کہ حقیقت کیا ہے، اور بے حقیقت کیا، اس کو کوئی بات سمجھائی نہیں جاسکتی۔
وَمَا يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ
📘 یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں ۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتاہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح اندرونی معرفت کے اعتبار سے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جان دار اور دوسرے بے جان۔ جاندار انسان وہ ہے جو باتوںکو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو لفظی فریب کا پردہ پھاڑ کر معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جو سطحی پہلوؤں سے گزر کر حقیقتِ واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، جو چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے پرکھتا ہے، نہ کہ محض ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ جس کی نگاہ ہمیشہ اصل حقیقت پر رہتی ہے، نہ کہ غیرمتعلق موشگافیوں پر۔ جو اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ سچائی کو جان لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو اس سے وابستہ نہ کرے۔ یہی جاندار لوگ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ دنیا میں حق کو قبول کرنے کي توفیق ملتی ہے۔ اور جو لوگ اس کے برعکس صفات رکھتے ہوں، وہ مردہ انسان ہیں۔ وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی قبول حق کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ دعوت حق کے مقابلہ میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرکر خدا کے یہاں چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندھے پن کا انجام بھگتیں۔
مَا يَفْتَحِ اللَّهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَا ۖ وَمَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهُ مِنْ بَعْدِهِ ۚ وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
📘 فرشتوں کو اللہ تعالیٰ نے پیغام رسانی کےلیے اور اپنے احکام کی تنفیذ کےلیے پیدا کیا ہے۔ مگر شیطان نے لوگوں کو سکھایا کہ فرشتے مستقل بالذات حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ دنیا میں برکت اورآخرت میں نجات کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔ چنانچہ کچھ قومیں لات اور منات جیسے ناموں سے ان کی فرضی تصویریں بنا کر ان کی عبادت کرنے لگیں۔ کچھ قوموں نے ان کو دیوی دیوتا قرار دے کر انھیں پوجنا شروع کردیا۔ موجودہ زمانہ میں قانون فطرت (law of nature)کی تعظیم بھی اسی گمراہی کا جدیدایڈیشن ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ فرشتے ہوں یا قانون فطرت، سب ایک خدا کے محکوم ہیں۔ سب ایک خدا کے کارگزار ہیں، خواہ وہ دو بازوؤں والے ہوں یا 600 بازوؤں والے یا 600 کرور بازوؤں والے۔
وَلَا الظُّلُمَاتُ وَلَا النُّورُ
📘 یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں ۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتاہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح اندرونی معرفت کے اعتبار سے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جان دار اور دوسرے بے جان۔ جاندار انسان وہ ہے جو باتوںکو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو لفظی فریب کا پردہ پھاڑ کر معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جو سطحی پہلوؤں سے گزر کر حقیقتِ واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، جو چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے پرکھتا ہے، نہ کہ محض ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ جس کی نگاہ ہمیشہ اصل حقیقت پر رہتی ہے، نہ کہ غیرمتعلق موشگافیوں پر۔ جو اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ سچائی کو جان لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو اس سے وابستہ نہ کرے۔ یہی جاندار لوگ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ دنیا میں حق کو قبول کرنے کي توفیق ملتی ہے۔ اور جو لوگ اس کے برعکس صفات رکھتے ہوں، وہ مردہ انسان ہیں۔ وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی قبول حق کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ دعوت حق کے مقابلہ میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرکر خدا کے یہاں چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندھے پن کا انجام بھگتیں۔
وَلَا الظِّلُّ وَلَا الْحَرُورُ
📘 یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں ۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتاہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح اندرونی معرفت کے اعتبار سے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جان دار اور دوسرے بے جان۔ جاندار انسان وہ ہے جو باتوںکو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو لفظی فریب کا پردہ پھاڑ کر معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جو سطحی پہلوؤں سے گزر کر حقیقتِ واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، جو چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے پرکھتا ہے، نہ کہ محض ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ جس کی نگاہ ہمیشہ اصل حقیقت پر رہتی ہے، نہ کہ غیرمتعلق موشگافیوں پر۔ جو اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ سچائی کو جان لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو اس سے وابستہ نہ کرے۔ یہی جاندار لوگ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ دنیا میں حق کو قبول کرنے کي توفیق ملتی ہے۔ اور جو لوگ اس کے برعکس صفات رکھتے ہوں، وہ مردہ انسان ہیں۔ وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی قبول حق کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ دعوت حق کے مقابلہ میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرکر خدا کے یہاں چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندھے پن کا انجام بھگتیں۔
وَمَا يَسْتَوِي الْأَحْيَاءُ وَلَا الْأَمْوَاتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُسْمِعُ مَنْ يَشَاءُ ۖ وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ
📘 یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں ۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتاہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح اندرونی معرفت کے اعتبار سے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جان دار اور دوسرے بے جان۔ جاندار انسان وہ ہے جو باتوںکو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو لفظی فریب کا پردہ پھاڑ کر معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جو سطحی پہلوؤں سے گزر کر حقیقتِ واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، جو چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے پرکھتا ہے، نہ کہ محض ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ جس کی نگاہ ہمیشہ اصل حقیقت پر رہتی ہے، نہ کہ غیرمتعلق موشگافیوں پر۔ جو اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ سچائی کو جان لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو اس سے وابستہ نہ کرے۔ یہی جاندار لوگ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ دنیا میں حق کو قبول کرنے کي توفیق ملتی ہے۔ اور جو لوگ اس کے برعکس صفات رکھتے ہوں، وہ مردہ انسان ہیں۔ وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی قبول حق کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ دعوت حق کے مقابلہ میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرکر خدا کے یہاں چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندھے پن کا انجام بھگتیں۔
إِنْ أَنْتَ إِلَّا نَذِيرٌ
📘 یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں ۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتاہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح اندرونی معرفت کے اعتبار سے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جان دار اور دوسرے بے جان۔ جاندار انسان وہ ہے جو باتوںکو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو لفظی فریب کا پردہ پھاڑ کر معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جو سطحی پہلوؤں سے گزر کر حقیقتِ واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، جو چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے پرکھتا ہے، نہ کہ محض ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ جس کی نگاہ ہمیشہ اصل حقیقت پر رہتی ہے، نہ کہ غیرمتعلق موشگافیوں پر۔ جو اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ سچائی کو جان لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو اس سے وابستہ نہ کرے۔ یہی جاندار لوگ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ دنیا میں حق کو قبول کرنے کي توفیق ملتی ہے۔ اور جو لوگ اس کے برعکس صفات رکھتے ہوں، وہ مردہ انسان ہیں۔ وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی قبول حق کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ دعوت حق کے مقابلہ میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرکر خدا کے یہاں چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندھے پن کا انجام بھگتیں۔
إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ بِالْحَقِّ بَشِيرًا وَنَذِيرًا ۚ وَإِنْ مِنْ أُمَّةٍ إِلَّا خَلَا فِيهَا نَذِيرٌ
📘 یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں ۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتاہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح اندرونی معرفت کے اعتبار سے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جان دار اور دوسرے بے جان۔ جاندار انسان وہ ہے جو باتوںکو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو لفظی فریب کا پردہ پھاڑ کر معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جو سطحی پہلوؤں سے گزر کر حقیقتِ واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، جو چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے پرکھتا ہے، نہ کہ محض ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ جس کی نگاہ ہمیشہ اصل حقیقت پر رہتی ہے، نہ کہ غیرمتعلق موشگافیوں پر۔ جو اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ سچائی کو جان لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو اس سے وابستہ نہ کرے۔ یہی جاندار لوگ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ دنیا میں حق کو قبول کرنے کي توفیق ملتی ہے۔ اور جو لوگ اس کے برعکس صفات رکھتے ہوں، وہ مردہ انسان ہیں۔ وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی قبول حق کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ دعوت حق کے مقابلہ میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرکر خدا کے یہاں چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندھے پن کا انجام بھگتیں۔
وَإِنْ يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كَذَّبَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنَاتِ وَبِالزُّبُرِ وَبِالْكِتَابِ الْمُنِيرِ
📘 یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں ۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتاہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح اندرونی معرفت کے اعتبار سے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جان دار اور دوسرے بے جان۔ جاندار انسان وہ ہے جو باتوںکو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو لفظی فریب کا پردہ پھاڑ کر معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جو سطحی پہلوؤں سے گزر کر حقیقتِ واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، جو چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے پرکھتا ہے، نہ کہ محض ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ جس کی نگاہ ہمیشہ اصل حقیقت پر رہتی ہے، نہ کہ غیرمتعلق موشگافیوں پر۔ جو اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ سچائی کو جان لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو اس سے وابستہ نہ کرے۔ یہی جاندار لوگ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ دنیا میں حق کو قبول کرنے کي توفیق ملتی ہے۔ اور جو لوگ اس کے برعکس صفات رکھتے ہوں، وہ مردہ انسان ہیں۔ وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی قبول حق کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ دعوت حق کے مقابلہ میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرکر خدا کے یہاں چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندھے پن کا انجام بھگتیں۔
ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۖ فَكَيْفَ كَانَ نَكِيرِ
📘 یہ ایک حقیقت ہے کہ جو امید روشنی سے کی جاسکتی ہے وہ تاریکی سے نہیں کی جاسکتی۔ اسی طرح سایہ سے جو چیز ملے گی وہ دھوپ سے ملنے والی نہیں۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسانوں میں کچھ آنکھ والے ہوتے ہیں اور کچھ اندھے ہوتے ہیں ۔ آنکھ والا فوراً اپنے راستہ کو دیکھ کر اسے پہچان لیتاہے۔ مگر جو اندھا ہو وہ صرف بھٹکتا پھرے گا۔ اس کو کبھی اپنے راستہ کی پہچان نہیں ہوسکتی۔
اسی طرح اندرونی معرفت کے اعتبار سے بھی دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک جان دار اور دوسرے بے جان۔ جاندار انسان وہ ہے جو باتوںکو اس کی گہرائی کے ساتھ دیکھتا ہے۔ جو لفظی فریب کا پردہ پھاڑ کر معانی کا ادراک کرتا ہے۔ جو سطحی پہلوؤں سے گزر کر حقیقتِ واقعہ کو جاننے کی کوشش کرتا ہے، جو چیزوں کو ان کے جوہر کے اعتبار سے پرکھتا ہے، نہ کہ محض ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ جس کی نگاہ ہمیشہ اصل حقیقت پر رہتی ہے، نہ کہ غیرمتعلق موشگافیوں پر۔ جو اس کا تحمل نہیں کرسکتا کہ سچائی کو جان لینے کے بعد وہ اپنے آپ کو اس سے وابستہ نہ کرے۔ یہی جاندار لوگ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ دنیا میں حق کو قبول کرنے کي توفیق ملتی ہے۔ اور جو لوگ اس کے برعکس صفات رکھتے ہوں، وہ مردہ انسان ہیں۔ وہ امتحان کی اس دنیا میں کبھی قبول حق کی توفیق نہیں پاتے۔ وہ دعوت حق کے مقابلہ میں اندھے بنے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ مرکر خدا کے یہاں چلے جاتے ہیں تاکہ اپنے اندھے پن کا انجام بھگتیں۔
أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ أَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ ثَمَرَاتٍ مُخْتَلِفًا أَلْوَانُهَا ۚ وَمِنَ الْجِبَالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهَا وَغَرَابِيبُ سُودٌ
📘 بادل سے ایک ہی پانی برستاہے مگر اس سے مختلف قسم کی چیزیں اگتی ہیں۔ اچھے درخت بھی اور جھاڑ جھنکاڑ بھی۔ اسی طرح ایک ہی مادہ ہے جو پہاڑوں کی صورت میں منجمد ہوتاہے مگر ان میں کچھ سرخ وسفید ہیں اور کچھ بالکل کالے۔ اسی طرح جاندار بھی سب ایک غذا کھاتے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی انسان کےلیے کار آمد ہے اور کوئی بے کار۔
اس سے معلوم ہوا کہ فیض خواہ عام ہو مگر اس سے فائدہ ہر ایک کو اس کی اپنی استعداد کے مطابق پہنچتا ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ دعوتِ حق کی صورت میں خدا کی جو رحمت بکھیری جاتی ہے وہ اگرچہ بذات خود ایک ہوتی ہے مگر مختلف انسان اپنے اندرونی مزاج کے مطابق اس سے مختلف قسم کا تاثر قبول کرتے ہیں۔ کوئی شخص حق کی دعوت میں اپنی روح کی غذا پالیتاہے۔ وہ فوراً اس کو قبول کرکے اپنے آپ کو اس سے وابستہ کردیتاہے اور کسی کی نفسیات اس کےلیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ وہ اس سے بدکتاہے، حتی کہ اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔
حق کی دعوت جس شخص کےلیے اس کے دل کی آواز ثابت ہو وہی علم والا انسان ہے۔ اس کے اندر فطرت کی خدائی روشنی زندہ تھی ۔ اس ليے اس نے حق کے ظاہر ہوتے ہی اس کو پہچان لیا۔ اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جاہل ہیں جو اپنی فطرت کی روشنی پر پردہ ڈالے ہوئے ہوں اور جب حق ان کے سامنے بے نقاب ہو تو اس کو پہچاننے میں ناکام رہیں۔
وَمِنَ النَّاسِ وَالدَّوَابِّ وَالْأَنْعَامِ مُخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ كَذَٰلِكَ ۗ إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ غَفُورٌ
📘 بادل سے ایک ہی پانی برستاہے مگر اس سے مختلف قسم کی چیزیں اگتی ہیں۔ اچھے درخت بھی اور جھاڑ جھنکاڑ بھی۔ اسی طرح ایک ہی مادہ ہے جو پہاڑوں کی صورت میں منجمد ہوتاہے مگر ان میں کچھ سرخ وسفید ہیں اور کچھ بالکل کالے۔ اسی طرح جاندار بھی سب ایک غذا کھاتے ہیں۔ مگر ان میں سے کوئی انسان کےلیے کار آمد ہے اور کوئی بے کار۔
اس سے معلوم ہوا کہ فیض خواہ عام ہو مگر اس سے فائدہ ہر ایک کو اس کی اپنی استعداد کے مطابق پہنچتا ہے۔ یہی معاملہ انسان کا بھی ہے۔ دعوتِ حق کی صورت میں خدا کی جو رحمت بکھیری جاتی ہے وہ اگرچہ بذات خود ایک ہوتی ہے مگر مختلف انسان اپنے اندرونی مزاج کے مطابق اس سے مختلف قسم کا تاثر قبول کرتے ہیں۔ کوئی شخص حق کی دعوت میں اپنی روح کی غذا پالیتاہے۔ وہ فوراً اس کو قبول کرکے اپنے آپ کو اس سے وابستہ کردیتاہے اور کسی کی نفسیات اس کےلیے حق کو ماننے میں رکاوٹ بن جاتی ہے۔ وہ اس سے بدکتاہے، حتی کہ اس کا مخالف بن کر کھڑا ہوجاتاہے۔
حق کی دعوت جس شخص کےلیے اس کے دل کی آواز ثابت ہو وہی علم والا انسان ہے۔ اس کے اندر فطرت کی خدائی روشنی زندہ تھی ۔ اس ليے اس نے حق کے ظاہر ہوتے ہی اس کو پہچان لیا۔ اس کے مقابلہ میں وہ لوگ جاہل ہیں جو اپنی فطرت کی روشنی پر پردہ ڈالے ہوئے ہوں اور جب حق ان کے سامنے بے نقاب ہو تو اس کو پہچاننے میں ناکام رہیں۔
إِنَّ الَّذِينَ يَتْلُونَ كِتَابَ اللَّهِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاهُمْ سِرًّا وَعَلَانِيَةً يَرْجُونَ تِجَارَةً لَنْ تَبُورَ
📘 علم والا وہ ہے جو معرفت والا ہو۔ اور جس شخص کو معرفت حاصل ہوجائے وہ خدا کی کتاب کو اپنا فکری رہبر بنا لیتاہے۔ وہ اللہ کا عبادت گزاربندہ بن جاتا ہے۔ انسانوں کے حق میں وہ اتنا مہربان ہوجاتا ہے کہ اپنی محنت کی کمائی میں سے ان کےلیے بھی حصہ لگاتاہے۔ اس کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہوجاتاہے کہ ہمہ تن اپنے آپ کو خدا کے کام میں لگا دے اور اس پر قانع رہے کہ اس کا انعام اس کو آخرت میں دیا جائے گا۔
قرآن کی صداقت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ عین ان پیشین گوئیوں کے مطابق ہے جو پچھلی کتابوں میں اس سے پہلے آچکی تھیں۔ اگر کوئی شخص سنجیدہ ہو تو یہی واقعہ اس کے قرآن پر ایمان لانے کےلیے کافی ہوجائے۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اذْكُرُوا نِعْمَتَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ هَلْ مِنْ خَالِقٍ غَيْرُ اللَّهِ يَرْزُقُكُمْ مِنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ فَأَنَّىٰ تُؤْفَكُونَ
📘 انسان اپنی زندگی کےلیے بے شمار چیزوں کا محتاج ہے۔ مثلاً روشنی، پانی، ہوا، خوراک، معدنیات وغیرہ۔ ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ اس کو وجود میں لانے کےلیے کائناتی طاقتوں کا متحدہ عمل درکار ہے۔ ایک خدا کے سوا کون ہے جو اتنے بڑے واقعہ کو ظہور میں لانے کی طاقت رکھتا ہو۔ مشرک اور ملحد لوگ بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان اسباب حیات کی فراہمی ایک خدا کے سوا کوئی اور کرسکتا ہے۔ پھر جب ان تمام چیزوں کا خالق اور منتظم ایک خدا ہے تو اس کے سوا دوسروں کو معبود بنانا کیوں کر درست ہوسکتاہے۔
تاریخ کا یہ عجیب تجربہ ہے کہ جو لوگ خدا کے سوا دوسروں کو بڑائی کا مقام دئے ہوئے ہوں وہ ان کو چھوڑ کر خدا کو اپنا بڑا بنانے پر راضی نہیں ہوتے، خواہ ا س کی دعوت پیغمبرانہ سطح پر کیوں نہ دی جارہی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ مانے ہوئے کو مانتے ہیں۔ جب کہ پیغمبر پر یقین کرنے کا مطلب اس وقت یہ ہوتا ہے کہ آدمی نہ مانے ہوئے کو مانے۔ اس قسم کے ایمان کو حاصل کرنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خود اپنی فکری قوتوں کو بیدار کرے، وہ اپنی ذاتی بصیرت سے سچائی کو دریافت کرے۔ اور بلا شبہ یہ کسی انسان کےلیے ہمیشہ سب سے زیادہ مشکل کام رہا ہے۔
لِيُوَفِّيَهُمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدَهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۚ إِنَّهُ غَفُورٌ شَكُورٌ
📘 علم والا وہ ہے جو معرفت والا ہو۔ اور جس شخص کو معرفت حاصل ہوجائے وہ خدا کی کتاب کو اپنا فکری رہبر بنا لیتاہے۔ وہ اللہ کا عبادت گزاربندہ بن جاتا ہے۔ انسانوں کے حق میں وہ اتنا مہربان ہوجاتا ہے کہ اپنی محنت کی کمائی میں سے ان کےلیے بھی حصہ لگاتاہے۔ اس کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہوجاتاہے کہ ہمہ تن اپنے آپ کو خدا کے کام میں لگا دے اور اس پر قانع رہے کہ اس کا انعام اس کو آخرت میں دیا جائے گا۔
قرآن کی صداقت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ عین ان پیشین گوئیوں کے مطابق ہے جو پچھلی کتابوں میں اس سے پہلے آچکی تھیں۔ اگر کوئی شخص سنجیدہ ہو تو یہی واقعہ اس کے قرآن پر ایمان لانے کےلیے کافی ہوجائے۔
وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ هُوَ الْحَقُّ مُصَدِّقًا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ بِعِبَادِهِ لَخَبِيرٌ بَصِيرٌ
📘 علم والا وہ ہے جو معرفت والا ہو۔ اور جس شخص کو معرفت حاصل ہوجائے وہ خدا کی کتاب کو اپنا فکری رہبر بنا لیتاہے۔ وہ اللہ کا عبادت گزاربندہ بن جاتا ہے۔ انسانوں کے حق میں وہ اتنا مہربان ہوجاتا ہے کہ اپنی محنت کی کمائی میں سے ان کےلیے بھی حصہ لگاتاہے۔ اس کے اندر یہ حوصلہ پیدا ہوجاتاہے کہ ہمہ تن اپنے آپ کو خدا کے کام میں لگا دے اور اس پر قانع رہے کہ اس کا انعام اس کو آخرت میں دیا جائے گا۔
قرآن کی صداقت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ وہ عین ان پیشین گوئیوں کے مطابق ہے جو پچھلی کتابوں میں اس سے پہلے آچکی تھیں۔ اگر کوئی شخص سنجیدہ ہو تو یہی واقعہ اس کے قرآن پر ایمان لانے کےلیے کافی ہوجائے۔
ثُمَّ أَوْرَثْنَا الْكِتَابَ الَّذِينَ اصْطَفَيْنَا مِنْ عِبَادِنَا ۖ فَمِنْهُمْ ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ وَمِنْهُمْ مُقْتَصِدٌ وَمِنْهُمْ سَابِقٌ بِالْخَيْرَاتِ بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ ذَٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيرُ
📘 حضرت یعقوب حضرت ابراہیم کے پوتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام پیغمبر بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے رہے۔ اس طرح تقریباً دو ہزار سال تک پیغمبری کا سلسلہ یہود کی نسل میں جاری رہا۔ مگر بعد کے دور میں یہود اس قابل نہ رہے کہ وہ کتابِ الٰہی کے حامل بن سکیں۔ چنانچہ دوسری زندہ قوم (بنو اسماعیل) کو کتابِ الٰہی کا حامل بننے کےلیے منتخب کیا گیا۔ بنو اسماعیل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی فیصلہ الٰہی کی تعمیل تھی۔ اس آیت میں ’’منتخب بندوں‘‘ سے مراد یہی بنو اسماعیل ہیں۔
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو اسماعیل کے سامنے قرآن پیش کیا تو ان میں تین قسم کے لوگ نکلے۔ ایک وہ جو اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ دوسرے وہ جنھوں نے درمیانی راہ اختیار کی۔ تیسرا گروہ آگے بڑھنے والوں کاتھا۔ یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔
قرآن کا ساتھ دینے کےلیے انھیں ہر قسم کی راحت سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ان کی زندگی عملاً صبر اور مشقت کی زندگی بن گئی۔ اس قربانی کی قیمت انھیں آخرت میں اس طرح ملے گی کہ خدا انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہمیشہ کےلیے غم اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں گے۔
جَنَّاتُ عَدْنٍ يَدْخُلُونَهَا يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا ۖ وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ
📘 حضرت یعقوب حضرت ابراہیم کے پوتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام پیغمبر بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے رہے۔ اس طرح تقریباً دو ہزار سال تک پیغمبری کا سلسلہ یہود کی نسل میں جاری رہا۔ مگر بعد کے دور میں یہود اس قابل نہ رہے کہ وہ کتابِ الٰہی کے حامل بن سکیں۔ چنانچہ دوسری زندہ قوم (بنو اسماعیل) کو کتابِ الٰہی کا حامل بننے کےلیے منتخب کیا گیا۔ بنو اسماعیل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی فیصلہ الٰہی کی تعمیل تھی۔ اس آیت میں ’’منتخب بندوں‘‘ سے مراد یہی بنو اسماعیل ہیں۔
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو اسماعیل کے سامنے قرآن پیش کیا تو ان میں تین قسم کے لوگ نکلے۔ ایک وہ جو اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ دوسرے وہ جنھوں نے درمیانی راہ اختیار کی۔ تیسرا گروہ آگے بڑھنے والوں کاتھا۔ یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔
قرآن کا ساتھ دینے کےلیے انھیں ہر قسم کی راحت سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ان کی زندگی عملاً صبر اور مشقت کی زندگی بن گئی۔ اس قربانی کی قیمت انھیں آخرت میں اس طرح ملے گی کہ خدا انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہمیشہ کےلیے غم اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں گے۔
وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَذْهَبَ عَنَّا الْحَزَنَ ۖ إِنَّ رَبَّنَا لَغَفُورٌ شَكُورٌ
📘 حضرت یعقوب حضرت ابراہیم کے پوتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام پیغمبر بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے رہے۔ اس طرح تقریباً دو ہزار سال تک پیغمبری کا سلسلہ یہود کی نسل میں جاری رہا۔ مگر بعد کے دور میں یہود اس قابل نہ رہے کہ وہ کتابِ الٰہی کے حامل بن سکیں۔ چنانچہ دوسری زندہ قوم (بنو اسماعیل) کو کتابِ الٰہی کا حامل بننے کےلیے منتخب کیا گیا۔ بنو اسماعیل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی فیصلہ الٰہی کی تعمیل تھی۔ اس آیت میں ’’منتخب بندوں‘‘ سے مراد یہی بنو اسماعیل ہیں۔
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو اسماعیل کے سامنے قرآن پیش کیا تو ان میں تین قسم کے لوگ نکلے۔ ایک وہ جو اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ دوسرے وہ جنھوں نے درمیانی راہ اختیار کی۔ تیسرا گروہ آگے بڑھنے والوں کاتھا۔ یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔
قرآن کا ساتھ دینے کےلیے انھیں ہر قسم کی راحت سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ان کی زندگی عملاً صبر اور مشقت کی زندگی بن گئی۔ اس قربانی کی قیمت انھیں آخرت میں اس طرح ملے گی کہ خدا انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہمیشہ کےلیے غم اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں گے۔
الَّذِي أَحَلَّنَا دَارَ الْمُقَامَةِ مِنْ فَضْلِهِ لَا يَمَسُّنَا فِيهَا نَصَبٌ وَلَا يَمَسُّنَا فِيهَا لُغُوبٌ
📘 حضرت یعقوب حضرت ابراہیم کے پوتے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام پیغمبر بنی اسرائیل کی نسل میں پیدا ہوتے رہے۔ اس طرح تقریباً دو ہزار سال تک پیغمبری کا سلسلہ یہود کی نسل میں جاری رہا۔ مگر بعد کے دور میں یہود اس قابل نہ رہے کہ وہ کتابِ الٰہی کے حامل بن سکیں۔ چنانچہ دوسری زندہ قوم (بنو اسماعیل) کو کتابِ الٰہی کا حامل بننے کےلیے منتخب کیا گیا۔ بنو اسماعیل میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش اسی فیصلہ الٰہی کی تعمیل تھی۔ اس آیت میں ’’منتخب بندوں‘‘ سے مراد یہی بنو اسماعیل ہیں۔
رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب بنو اسماعیل کے سامنے قرآن پیش کیا تو ان میں تین قسم کے لوگ نکلے۔ ایک وہ جو اس کے مخالف بن کر کھڑے ہوگئے۔ دوسرے وہ جنھوں نے درمیانی راہ اختیار کی۔ تیسرا گروہ آگے بڑھنے والوں کاتھا۔ یہی وہ لوگ ہیںجنھوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دے کر اسلام کی عظیم تاریخ بنائی۔
قرآن کا ساتھ دینے کےلیے انھیں ہر قسم کی راحت سے محروم ہونا پڑا۔ اس کے نتیجے میں ان کی زندگی عملاً صبر اور مشقت کی زندگی بن گئی۔ اس قربانی کی قیمت انھیں آخرت میں اس طرح ملے گی کہ خدا انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جہاں وہ ہمیشہ کےلیے غم اور تکلیف سے محفوظ ہوجائیں گے۔
وَالَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ نَارُ جَهَنَّمَ لَا يُقْضَىٰ عَلَيْهِمْ فَيَمُوتُوا وَلَا يُخَفَّفُ عَنْهُمْ مِنْ عَذَابِهَا ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي كُلَّ كَفُورٍ
📘 دنیا میں حق کا انکار کرنے والے آخرت میں حق کا مکمل اعتراف کریں گے۔ مگر یہ اعتراف ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ آخرت کا اعتراف مجبور انسان کا اعتراف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو جو اعتراف مطلوب ہے وہ اختیاری اعتراف ہے، نہ کہ جبری اعتراف۔
وَهُمْ يَصْطَرِخُونَ فِيهَا رَبَّنَا أَخْرِجْنَا نَعْمَلْ صَالِحًا غَيْرَ الَّذِي كُنَّا نَعْمَلُ ۚ أَوَلَمْ نُعَمِّرْكُمْ مَا يَتَذَكَّرُ فِيهِ مَنْ تَذَكَّرَ وَجَاءَكُمُ النَّذِيرُ ۖ فَذُوقُوا فَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ نَصِيرٍ
📘 دنیا میں حق کا انکار کرنے والے آخرت میں حق کا مکمل اعتراف کریں گے۔ مگر یہ اعتراف ان کے کچھ کام نہ آئے گا۔ کیوں کہ آخرت کا اعتراف مجبور انسان کا اعتراف ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو جو اعتراف مطلوب ہے وہ اختیاری اعتراف ہے، نہ کہ جبری اعتراف۔
إِنَّ اللَّهَ عَالِمُ غَيْبِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ
📘 اس آیت میں خلیفہ سے مراد پچھلی قوموں کا خلیفہ بننا ہے۔ ’’تم کو زمین میں خلیفہ بنایا‘‘ کا مطلب ہے پچھلی قوموں کے گزرنے کے بعد تم کو ان کی جگہ زمین میں آباد کیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ایک قوم کو زمین میں بسنے اور عمل کرنے کا موقع دیتاہے۔ پھر جب وہ قوم اپنی نا اہلی ثابت کردیتی ہے تو اس کو ہٹا کر دوسری قوم کو اس کی جگہ لے آتا ہے۔ اس طرح زمین پر ایک کے بعد ایک قوم کی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
موجودہ زمانہ میں فطرت کے جو قوانین دریافت ہوئے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ یہاں اس کا امکان ہے کہ اندھیرے میں کسی چیز کا فوٹو لیا جائے۔ بظاہر نہ سنائی دینے والی آواز کو مشین کی مدد سے قابل سماعت بنایا جاسکے۔ تخلیق میںاس طرح کے امکانات خالق کی قدرت کاتعارف ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک ایسی ہستی ہے جو غیب کو جانے اور دل کے اندر چھپی ہوئی بات کو سن سکے۔ گویا انسان کا معاملہ ایک ایسے علیم اور قدیرخدا سے ہے جس سے نہ کسی جرم کو چھپایا جاسکتااور نہ یہی ممکن ہے کہ اس کے فیصلہ کو کسی طرح بدلوایا جاسکے۔
هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ ۚ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ ۖ وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِينَ كُفْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ إِلَّا مَقْتًا ۖ وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِينَ كُفْرُهُمْ إِلَّا خَسَارًا
📘 اس آیت میں خلیفہ سے مراد پچھلی قوموں کا خلیفہ بننا ہے۔ ’’تم کو زمین میں خلیفہ بنایا‘‘ کا مطلب ہے پچھلی قوموں کے گزرنے کے بعد تم کو ان کی جگہ زمین میں آباد کیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ ایک قوم کو زمین میں بسنے اور عمل کرنے کا موقع دیتاہے۔ پھر جب وہ قوم اپنی نا اہلی ثابت کردیتی ہے تو اس کو ہٹا کر دوسری قوم کو اس کی جگہ لے آتا ہے۔ اس طرح زمین پر ایک کے بعد ایک قوم کی آبادکاری کا سلسلہ جاری رہے گا یہاں تک کہ قیامت آجائے۔
موجودہ زمانہ میں فطرت کے جو قوانین دریافت ہوئے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ یہاں اس کا امکان ہے کہ اندھیرے میں کسی چیز کا فوٹو لیا جائے۔ بظاہر نہ سنائی دینے والی آواز کو مشین کی مدد سے قابل سماعت بنایا جاسکے۔ تخلیق میںاس طرح کے امکانات خالق کی قدرت کاتعارف ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا خالق ایک ایسی ہستی ہے جو غیب کو جانے اور دل کے اندر چھپی ہوئی بات کو سن سکے۔ گویا انسان کا معاملہ ایک ایسے علیم اور قدیرخدا سے ہے جس سے نہ کسی جرم کو چھپایا جاسکتااور نہ یہی ممکن ہے کہ اس کے فیصلہ کو کسی طرح بدلوایا جاسکے۔
وَإِنْ يُكَذِّبُوكَ فَقَدْ كُذِّبَتْ رُسُلٌ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَإِلَى اللَّهِ تُرْجَعُ الْأُمُورُ
📘 انسان اپنی زندگی کےلیے بے شمار چیزوں کا محتاج ہے۔ مثلاً روشنی، پانی، ہوا، خوراک، معدنیات وغیرہ۔ ان میں سے ہر چیز ایسی ہے کہ اس کو وجود میں لانے کےلیے کائناتی طاقتوں کا متحدہ عمل درکار ہے۔ ایک خدا کے سوا کون ہے جو اتنے بڑے واقعہ کو ظہور میں لانے کی طاقت رکھتا ہو۔ مشرک اور ملحد لوگ بھی یہ دعویٰ نہیں کرسکتے کہ ان اسباب حیات کی فراہمی ایک خدا کے سوا کوئی اور کرسکتا ہے۔ پھر جب ان تمام چیزوں کا خالق اور منتظم ایک خدا ہے تو اس کے سوا دوسروں کو معبود بنانا کیوں کر درست ہوسکتاہے۔
تاریخ کا یہ عجیب تجربہ ہے کہ جو لوگ خدا کے سوا دوسروں کو بڑائی کا مقام دئے ہوئے ہوں وہ ان کو چھوڑ کر خدا کو اپنا بڑا بنانے پر راضی نہیں ہوتے، خواہ ا س کی دعوت پیغمبرانہ سطح پر کیوں نہ دی جارہی ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ مانے ہوئے کو مانتے ہیں۔ جب کہ پیغمبر پر یقین کرنے کا مطلب اس وقت یہ ہوتا ہے کہ آدمی نہ مانے ہوئے کو مانے۔ اس قسم کے ایمان کو حاصل کرنے کی شرط یہ ہے کہ آدمی خود اپنی فکری قوتوں کو بیدار کرے، وہ اپنی ذاتی بصیرت سے سچائی کو دریافت کرے۔ اور بلا شبہ یہ کسی انسان کےلیے ہمیشہ سب سے زیادہ مشکل کام رہا ہے۔
قُلْ أَرَأَيْتُمْ شُرَكَاءَكُمُ الَّذِينَ تَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَرُونِي مَاذَا خَلَقُوا مِنَ الْأَرْضِ أَمْ لَهُمْ شِرْكٌ فِي السَّمَاوَاتِ أَمْ آتَيْنَاهُمْ كِتَابًا فَهُمْ عَلَىٰ بَيِّنَتٍ مِنْهُ ۚ بَلْ إِنْ يَعِدُ الظَّالِمُونَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا إِلَّا غُرُورًا
📘 کائنات کی تخلیق اور اتھاہ خلا میں بے شمار اجرام سماوی کا نظام ہیبت ناک حد تک عظیم ہے۔ یہ بالکل ناقابل قیاس ہے کہ اس عظیم کارنامہ کو جزئی یا کلّی طورپر ان ہستیوں میں سے کسی کی طرف منسوب کیا جاسکے جن کو لوگ بطور خود معبود بنا کر پوجتے ہیں۔ اسی طرح اس کا بھی ثبوت نہیں کہ خدا نے خود یہ خبر دی ہو کہ کوئی اور ہے جو اس کے ساتھ خدائی میں شریک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ غیر اللہ کی پرستش کا سارا معاملہ صرف فریب پر قائم ہے۔ اس قسم کا فریب اسی وقت تک چلے گا جب تک قیامت نہ آئے۔ قیامت کے آتے ہی ان کا اس طرح خاتمہ ہوجائے گا جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
۞ إِنَّ اللَّهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ أَنْ تَزُولَا ۚ وَلَئِنْ زَالَتَا إِنْ أَمْسَكَهُمَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ ۚ إِنَّهُ كَانَ حَلِيمًا غَفُورًا
📘 کائنات کی تخلیق اور اتھاہ خلا میں بے شمار اجرام سماوی کا نظام ہیبت ناک حد تک عظیم ہے۔ یہ بالکل ناقابل قیاس ہے کہ اس عظیم کارنامہ کو جزئی یا کلّی طورپر ان ہستیوں میں سے کسی کی طرف منسوب کیا جاسکے جن کو لوگ بطور خود معبود بنا کر پوجتے ہیں۔ اسی طرح اس کا بھی ثبوت نہیں کہ خدا نے خود یہ خبر دی ہو کہ کوئی اور ہے جو اس کے ساتھ خدائی میں شریک ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ غیر اللہ کی پرستش کا سارا معاملہ صرف فریب پر قائم ہے۔ اس قسم کا فریب اسی وقت تک چلے گا جب تک قیامت نہ آئے۔ قیامت کے آتے ہی ان کا اس طرح خاتمہ ہوجائے گا جیسے کہ ان کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔
وَأَقْسَمُوا بِاللَّهِ جَهْدَ أَيْمَانِهِمْ لَئِنْ جَاءَهُمْ نَذِيرٌ لَيَكُونُنَّ أَهْدَىٰ مِنْ إِحْدَى الْأُمَمِ ۖ فَلَمَّا جَاءَهُمْ نَذِيرٌ مَا زَادَهُمْ إِلَّا نُفُورًا
📘 عرب کے لوگ جب سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی تو وہ پرجوش طورپر کہتے کہ اگر ایسا ہو کہ ہمارے درمیان کوئی نبی آئے تو ہم اس کو پوری طرح مانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ مگر جب ان کے درمیان ایک پیغمبر آیا تو وہ اس کے مخالف بن گئے۔
یہ نفسیات کسی نہ کسی شکل میں تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے کو حق پسند کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب بھی کوئی صحیح بات اس کے سامنے آئے گی تو وہ ضرور اس کو مان لے گا۔ مگر جب حق کھلے کھلے دلائل کے ساتھ آتاہے تو وہ اس کو نظر انداز کردیتا ہے۔ حتی کہ اس کا مخالف بن جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انکار حق کسی خاص قوم کی خصوصیت نہیں۔ وہ انسانی نفسیات کی عام خصوصیت ہے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنی بڑائی کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ آدمی اپنی بڑائی کو کھونا نہیں چاہتا۔ اس ليے وہ حق کو ماننے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ وہ بھول جاتاہے کہ حق کا انکار ضرور اس کے بس میںہے مگر حق کے انکار کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا ہر گز اس کے بس میں نہیں۔
اسْتِكْبَارًا فِي الْأَرْضِ وَمَكْرَ السَّيِّئِ ۚ وَلَا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ ۚ فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ ۚ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللَّهِ تَحْوِيلًا
📘 عرب کے لوگ جب سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی تو وہ پرجوش طورپر کہتے کہ اگر ایسا ہو کہ ہمارے درمیان کوئی نبی آئے تو ہم اس کو پوری طرح مانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ مگر جب ان کے درمیان ایک پیغمبر آیا تو وہ اس کے مخالف بن گئے۔
یہ نفسیات کسی نہ کسی شکل میں تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے کو حق پسند کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب بھی کوئی صحیح بات اس کے سامنے آئے گی تو وہ ضرور اس کو مان لے گا۔ مگر جب حق کھلے کھلے دلائل کے ساتھ آتاہے تو وہ اس کو نظر انداز کردیتا ہے۔ حتی کہ اس کا مخالف بن جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انکار حق کسی خاص قوم کی خصوصیت نہیں۔ وہ انسانی نفسیات کی عام خصوصیت ہے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنی بڑائی کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ آدمی اپنی بڑائی کو کھونا نہیں چاہتا۔ اس ليے وہ حق کو ماننے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ وہ بھول جاتاہے کہ حق کا انکار ضرور اس کے بس میںہے مگر حق کے انکار کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا ہر گز اس کے بس میں نہیں۔
أَوَلَمْ يَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَيَنْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَكَانُوا أَشَدَّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۚ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُعْجِزَهُ مِنْ شَيْءٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَلِيمًا قَدِيرًا
📘 عرب کے لوگ جب سنتے کہ یہود نے اور دوسری قوموں نے اپنے نبیوں کی نافرمانی کی تو وہ پرجوش طورپر کہتے کہ اگر ایسا ہو کہ ہمارے درمیان کوئی نبی آئے تو ہم اس کو پوری طرح مانیں اور اس کی اطاعت کریں۔ مگر جب ان کے درمیان ایک پیغمبر آیا تو وہ اس کے مخالف بن گئے۔
یہ نفسیات کسی نہ کسی شکل میں تمام لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ اس دنیا میں ہر آدمی کا یہ حال ہے کہ وہ اپنے کو حق پسند کے روپ میں ظاہر کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ جب بھی کوئی صحیح بات اس کے سامنے آئے گی تو وہ ضرور اس کو مان لے گا۔ مگر جب حق کھلے کھلے دلائل کے ساتھ آتاہے تو وہ اس کو نظر انداز کردیتا ہے۔ حتی کہ اس کا مخالف بن جاتا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انکار حق کسی خاص قوم کی خصوصیت نہیں۔ وہ انسانی نفسیات کی عام خصوصیت ہے۔ حق کو ماننا اکثر حالات میں اپنی بڑائی کو ختم کرنے کے ہم معنی ہوتاہے۔ آدمی اپنی بڑائی کو کھونا نہیں چاہتا۔ اس ليے وہ حق کو ماننے کےلیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ وہ بھول جاتاہے کہ حق کا انکار ضرور اس کے بس میںہے مگر حق کے انکار کے انجام سے اپنے آپ کو بچانا ہر گز اس کے بس میں نہیں۔
وَلَوْ يُؤَاخِذُ اللَّهُ النَّاسَ بِمَا كَسَبُوا مَا تَرَكَ عَلَىٰ ظَهْرِهَا مِنْ دَابَّةٍ وَلَٰكِنْ يُؤَخِّرُهُمْ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ۖ فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِعِبَادِهِ بَصِيرًا
📘 انسان کو دنیا میں عمل کی آزادی دی گئی تھی۔مگر اس نے اس کا غلط استعمال کیا۔ یہ غلطیاں اتنی زیادہ ہیں کہ اگر انسان کو اس کی غلط کاریوں پر فوراً پکڑا جانے لگے تو زمین سے انسانی نسل کا خاتمہ ہوجائے۔ مگر انسان کی آزادی برائے امتحان ہے،اور اس امتحان کی ایک مدت مقرر ہے۔ ایک فرد کی مدت موت تک ہے اور مجموعی طورپر پوری انسانیت کی مدت قیامت تک۔ اسی بنا پر انسان کی نسل زمین پر باقی ہے۔ تاہم جس طرح یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ مہلت کی مقرر مدت سے پہلے کسی کو نہیں پکڑتا۔ اسی طرح یہ بھی ایک سنگین حقیقت ہے کہ مہلت کی مقررمدت گزر جانے کے بعد وہ ضرور انسان کو پکڑے گا۔ کوئی شخص اس کی پکڑ سے بچنے والا نہیں۔
يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ ۖ فَلَا تَغُرَّنَّكُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۖ وَلَا يَغُرَّنَّكُمْ بِاللَّهِ الْغَرُورُ
📘 خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ زندگی کی نوعیت کے بارے میں جو خبر دی ہے وہ بظاہر ایک خیالی بات معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ آدمی فوراً ان سے دوچار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، دنیا کی چیزیں حقیقی نظر آتی ہیں۔ کیوں کہ آدمی آج ہی ان سے دوچار ہورہا ہے۔ موت او ر زلزلہ اور حادثات آدمی کو چوکنّا کرتے ہیں۔ یہ گویا قیامت سے پہلے قیامت کی اطلاع ہیں۔ مگر شیطان فوراً ہی لوگوں کے ذہن کو یہ کہہ کر پھیر دیتاہے کہ یہ سب اسباب کے تحت پیش آنے والے واقعات ہیں، نہ کہ خدائی مداخلت کی تحت۔ مگراس قسم کا ہر خیال شیطان کا فریب ہے۔ وہ دن آنا لازمی ہے جب کہ جھوٹ اور سچ میں تفریق ہو۔ جب کہ اچھے لوگوں کو ان کی اچھائی کا انعام ملے اور برے لوگوں کو ان کی برائی کی سزا دی جائے۔
إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوهُ عَدُوًّا ۚ إِنَّمَا يَدْعُو حِزْبَهُ لِيَكُونُوا مِنْ أَصْحَابِ السَّعِيرِ
📘 خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ زندگی کی نوعیت کے بارے میں جو خبر دی ہے وہ بظاہر ایک خیالی بات معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ آدمی فوراً ان سے دوچار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، دنیا کی چیزیں حقیقی نظر آتی ہیں۔ کیوں کہ آدمی آج ہی ان سے دوچار ہورہا ہے۔ موت او ر زلزلہ اور حادثات آدمی کو چوکنّا کرتے ہیں۔ یہ گویا قیامت سے پہلے قیامت کی اطلاع ہیں۔ مگر شیطان فوراً ہی لوگوں کے ذہن کو یہ کہہ کر پھیر دیتاہے کہ یہ سب اسباب کے تحت پیش آنے والے واقعات ہیں، نہ کہ خدائی مداخلت کی تحت۔ مگراس قسم کا ہر خیال شیطان کا فریب ہے۔ وہ دن آنا لازمی ہے جب کہ جھوٹ اور سچ میں تفریق ہو۔ جب کہ اچھے لوگوں کو ان کی اچھائی کا انعام ملے اور برے لوگوں کو ان کی برائی کی سزا دی جائے۔
الَّذِينَ كَفَرُوا لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۖ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ كَبِيرٌ
📘 خدا نے اپنے پیغمبروں کے ذریعہ زندگی کی نوعیت کے بارے میں جو خبر دی ہے وہ بظاہر ایک خیالی بات معلوم ہوتی ہے۔ کیوں کہ آدمی فوراً ان سے دوچار نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس، دنیا کی چیزیں حقیقی نظر آتی ہیں۔ کیوں کہ آدمی آج ہی ان سے دوچار ہورہا ہے۔ موت او ر زلزلہ اور حادثات آدمی کو چوکنّا کرتے ہیں۔ یہ گویا قیامت سے پہلے قیامت کی اطلاع ہیں۔ مگر شیطان فوراً ہی لوگوں کے ذہن کو یہ کہہ کر پھیر دیتاہے کہ یہ سب اسباب کے تحت پیش آنے والے واقعات ہیں، نہ کہ خدائی مداخلت کی تحت۔ مگراس قسم کا ہر خیال شیطان کا فریب ہے۔ وہ دن آنا لازمی ہے جب کہ جھوٹ اور سچ میں تفریق ہو۔ جب کہ اچھے لوگوں کو ان کی اچھائی کا انعام ملے اور برے لوگوں کو ان کی برائی کی سزا دی جائے۔
أَفَمَنْ زُيِّنَ لَهُ سُوءُ عَمَلِهِ فَرَآهُ حَسَنًا ۖ فَإِنَّ اللَّهَ يُضِلُّ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ ۖ فَلَا تَذْهَبْ نَفْسُكَ عَلَيْهِمْ حَسَرَاتٍ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِمَا يَصْنَعُونَ
📘 اللہ تعالیٰ نے ہر آدمی کو یہ صلاحیت دی ہے کہ وہ سوچے اور حق اور ناحق کے درمیان تمیز کرسکے۔ جو آدمی اپنی اس فطری صلاحیت کو استعمال کرتا ہے وہ ہدایت پاتا ہے۔ اور جوشخص اس فطری صلاحیت کو استعمال نہیں کرتا وہ ہدایت نہیں پاتا۔
آدمی کے سامنے جب حق آئے تو فوراً اس کے ذہن کو جھٹکا لگتا ہے۔ اس وقت اس کےلیے دوراستے ہوتے ہیں۔ اگر وہ حق کا اعتراف کرلے تو اس کا ذہن صحیح سمت میں چل پڑتا ہے۔ وہ حق کا مسافر بن جاتا ہے اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ کوئی مصلحت یا کوئی نفسیاتی پیچیدگی اس کے سامنے آ ئے اور وہ اس سے متاثر ہو کر حق کا اعتراف کرنے سے رک جائے تو اس کا ذہن اپنے عدم اعتراف کو جائز ثابت کرنے کےلیے باتیں گھڑنا شروع کرتا ہے۔ وہ اپنے برے عمل کو اچھا عمل ثابت کرنے کی کوشش کرتاہے۔ یہ ایک ذہنی بیماری ہے۔ اور جو لوگ اس قسم کی ذہنی بیماری میں مبتلا ہو جائیں وہ کبھی حق کا اعترا ف نہیں کرپاتے۔یہاں تک کہ اسی حال میں مرکر وہ خدا کے یہاں پہنچ جاتے ہیں۔ تاکہ اپنے کيے کا انجام پائیں۔
وَاللَّهُ الَّذِي أَرْسَلَ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَسُقْنَاهُ إِلَىٰ بَلَدٍ مَيِّتٍ فَأَحْيَيْنَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا ۚ كَذَٰلِكَ النُّشُورُ
📘 پہلا انسان ارضی اجزا سے بنایا گیا۔ پھر خدا نے انسان کو ایک بوند میں بہ شکل بیج رکھ دیا۔ پھر انسانوںکو عورت اور مرد میں تقسیم کرکے ان کے جوڑے سے انسانی نسل چلائی۔ یہ واقعہ خدا کی بے پناہ قدرت کو بتاتا ہے۔
پھر ایک بچہ جب پیٹ میں پرورش پانا شروع کرتا ہے تو وہ پاتا ہے کہ پیٹ کے اندر وہ تمام موافق اسباب بلا طلب موجود ہیں جو اس کو ناگزیر طورپر مطلوب تھے۔ یہ واقعہ مزید ثابت کرتاہے کہ بچے کا پیدا کرنے والا بچے کی ضرورتوں کو پہلے سے جانتا تھا ورنہ وہ پیشگی طور پر اس کا اتنا مکمل انتظام کس طرح کرتاہے۔
یہی معاملہ عمر کا ہے۔ کوئی شخص اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنی عمر کا تعین کرسکے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عمر کا معاملہ تمام تر کسی خارجی ہستی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے کم عمر میں اٹھالیتا ہے اور جس کو چاہتاہے لمبی عمر دے دیتاہے۔ ان سارے واقعات میں ایک خدا کے سوا کسی کا کوئی دخل نہیں پھر کیسے درست ہوسکتاہے کہ آدمی ایک خدا کے سوا کسی اور سے اندیشہ رکھے، وہ کسی اور سے امیدیں قائم کرے۔