slot qris slot gacor terbaru slot gacor terbaik slot dana link slot gacor slot deposit qris slot pulsa slot gacor situs slot gacor slot deposit qris
| uswah-academy
WhatsApp Book A Free Trial
القائمة

🕋 تفسير سورة النساء

(An-Nisa) • المصدر: UR-TAZKIRUL-QURAN

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا

📘 تمام انسان باعتبار پیدائش ایک ہیں۔ بالآخر ایک ہی عورت اور ایک ہی مرد سب کے ماں اور باپ ہیں۔ اس لحاظ سے ضروری ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کو اپنا سمجھے۔ سب کے سب ایک مشترک گھرانے کے افراد کی طرح مل جل کر انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ رہیں۔پھر ان میں جو خوني رشتے ہیں ان میں یہ نسلی اتحاد اور زیادہ قریبی ہوجاتا ہے اس لیے خوني رشتوں میں حسن سلوک کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ انسان کے درمیان اس باہمی حسن سلوک کی اہمیت صرف اخلاقی اعتبار سے نہیں ہے بلکہ یہ خود آدمی کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے۔ کیوں کہ تمام انسانوں کے اوپر عظیم وبرتر خداہے۔ وہ آخر میں سب سے حساب لینے والا ہے اور دنیا میں ان کے عمل کے مطابق آخرت میں ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ انسان کے معاملہ کو صرف انسان کا معاملہ نہ سمجھے بلکہ اس کو اللہ کا معاملہ سمجھے۔ وہ اللہ کی پکڑ سے ڈرے اور اپنے آپ کو اس عمل کا پابند بنائے جو اس کو اللہ کے غضب سے بچانے والا ہو۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص رحم کو جوڑے گا اس سے جڑوں گا اور جو شخص رحم کو کاٹے گا میں اس سے کٹوں گا (مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ)مسند احمد، حديث نمبر 6494۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ سے تعلق کا امتحان بندوں سے تعلق کے معاملہ میں لیاجاتا ہے۔ وہی شخص اللہ سے ڈرنے والا ہے جو بندوں کے حقوق کے معاملے میں اللہ سے ڈرے، وہی شخص اللہ سے محبت کرنے والا ہے جو بندں کے ساتھ محبت میں اس کا ثبوت دے۔ یہ بات عام انسانی تعلقات میں بھی مطلوب ہے۔ مگر رحمی رشتوں سے حسن سلوک کے معاملے میں اس کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف اللہ کے بعد دوسرے نمبر پرہے۔ یتیم لڑکے اور لڑکیاں کسی خاندان یا سماج کا سب سے زیادہ کمزور حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے خدا سے ڈر کا سب سے زیادہ سخت امتحان یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ یتیموںکے بارے میں وہی کرے جو انصاف اور خیر خواہی کا تقاضا ہو اور جس میں یتیموں کے حقوق زیادہ سے زیادہ محفوظ رہنے کی ضمانت ہو۔ یہ بہت گناہ کی بات ہے کہ مشترک اثاثہ کی ایسی تقسیم کی جائے جس میں اچھی چیزیں اپنے حصے میں رکھ لی جائیں اور دوسرے کے حصے میں خراب چیزیں ڈال کر گنتی پوری کردی جائے۔

إِنَّ الَّذِينَ يَأْكُلُونَ أَمْوَالَ الْيَتَامَىٰ ظُلْمًا إِنَّمَا يَأْكُلُونَ فِي بُطُونِهِمْ نَارًا ۖ وَسَيَصْلَوْنَ سَعِيرًا

📘 مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لیے کیا۔ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس ليے اس کے مال کی حفاظت اور اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے تاکہ سماج کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہوسکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کرسکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لیے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ دنیا میں کمزور کا حق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نهيں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔

۞ وَمَنْ يُهَاجِرْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَجِدْ فِي الْأَرْضِ مُرَاغَمًا كَثِيرًا وَسَعَةً ۚ وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 مومن کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کو آزاد نہ ماحول ملے جہاں اس کی ایمانی ہستی کے اظہار کے لیے کھلے مواقع ہوں۔ جب بھی ایسا نہ ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اپنا ماحول بدل دے۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔ ہجرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنے کو غیر موافق فضا سے نکالے اور اپنے کو موافق فضا میں لے جائے۔ ایک ادارہ ہے جس میں بعض شخصیتوں کا زور ہے۔ وہاں رہنے والا ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ میں یہاں شخصیت پرست بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر خدا پرست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر وہ آدمی اپنے مفاد کی خاطر ایسے ماحول سے مصالحت کرکے اس میں پڑا رہے اور جو چیز اس کو حق نظر آئے اس کے حق ہونے کا اعلان نہ کرے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح کوئی قوم ہے جس کا ایک قومی مذہب ہے۔ وہ اسی شخص کو اعزاز عطا کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ مذہب کو اپنائے، جو شخص ایسا نہ کرے وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس قوم کا ساتھی بنتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک ماحول میں حق کی دعوت اٹھتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بکھرے ہوئے اہل ایمان اس کی پشت پر جمع ہوں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ وہ اپنے مال سے اس کی مدد کریں۔ مگر ایمان والے اپنے فائدوںاور مصلحتوں کے خول میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے خول سے باہر آئیں اور حق کے قافلہ میں شریک ہو کر اس کی قوت کا باعث بنیں۔ اگر وہ اسی حال میں اپنی زندگی کے دن پورے کردیتے ہیں تو وہ خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں گے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تاہم وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو اس قدر معذور ہوں کہ ان سے کوئی تدبیر نہ بن رہی ہو اور نہ باہر سے ان کے لیے کوئی راہ کھل رہی ہو۔ آدمی اپنے ماحول میں ناموافق حالات دیکھ کرسمجھ لیتا ہے کہ ساری دنیا اس کے لیے ایسی ہی نا موافق ہوگی۔ مگر خدا کی وسیع دنیا میں طرح طرح کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں اگر ’’مکہ‘‘ ہے جہاں داعی کو پتھر مارے جاتے ہیں تو یہاں ’’یثرب‘‘ بھی ہے جہاں داعی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس لیے آدمی کو ماحول سے مصالحت کے بجائے ماحول کی تبدیلی کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ نئے مقام کو اپنا میدان عمل بنانا اس کے لیے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جائے۔

وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ إِنَّ الْكَافِرِينَ كَانُوا لَكُمْ عَدُوًّا مُبِينًا

📘 دین میں جتنے اعمال بتائے گئے خواہ وہ نماز اور زکوۃ کی قسم سے ہوں یا تبلیغ اور جہاد کی قسم سے، سب کا آخری مقصود اللہ کی یاد ہے۔ تمام اعمال کا اصل مدعا یہ ہے کہ ایسا انسان تیار ہو جو اس طرح جئے کہ خدا اس کی یادوں میں بسا ہوا ہو۔ زندگی کا ہر موڑ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔ اندیشہ کا موقع اس کو اللہ سے ڈرائے، امید کا موقع اس کے اندر اللہ کا شوق پیدا کرے۔ اس کا بھروسہ اللہ پر ہو۔ اس کی توجهات اللہ کی طرف لگی ہوئی ہوں۔ جو چیز ملے اس کو وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی جانے اور جو چیز نہ ملے اس کو اللہ کے حکم کا نتیجہ سمجھے۔ اس کی پوری اندرونی ہستی اللہ کے جلال وجمال میں کھوئی ہوئی ہو۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ جنگ کے نازک ترین موقع پر بھی کسی نہ کسی شکل میں نماز ادا کرنے کا حکم ہوا تاکہ موت کے کنارے کھڑے ہو کر انسان کو یاد دلایا جائے کہ وہ اصل چیز کیا ہے جو بندے کو اس دنیا سے لے کر اپنے رب کے پاس جانا چاہیے۔ اہل ایمان کا بھروسہ اگرچہ تمام تر اللہ پر ہوتا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ حکم ہے کہ دشمنوں سے اپنے بچاؤ کا ظاہری سامان مہیا رکھو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مدد ظاہری سامان کے اندر ہو کر ہی آتی ہے۔ اہل ایمان نے اگر اپنے بچاؤ کا ممکن انتظام نہ کیا ہو تو گویا انھوںنے وہ شکل ہی کھڑی نہیں کی جس کے ڈھانچے میں اللہ کی مدد اتر کر ان کی طرف آئے۔ مومن کو دنیا میں جو مصیبتیں پیش آتی ہیں وہ اللہ کے منصوبہ کی قیمت ہیں کہ وہ آزمائشی حالات پیدا کرکے دیکھے کہ کون سچائی پر قائم رہنے والا ہے اور کون دوسروں کو ناحق ستانے والا۔ اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش میں کبھی اہل اسلام کو شکست اور نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت کچھ لوگ پست ہمت ہونے لگتے ہیں۔ مگر ایسے حادثات میں بھی اللہ کی مصلحت شامل رہتی ہے۔ وہ اس لیے پیش آتے ہیں کہ بندہ کے اندر مزید انابت اور توجہ ابھرے اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی مزید عنایتوں کا مستحق بنے۔

وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ فَلْتَقُمْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ فَإِذَا سَجَدُوا فَلْيَكُونُوا مِنْ وَرَائِكُمْ وَلْتَأْتِ طَائِفَةٌ أُخْرَىٰ لَمْ يُصَلُّوا فَلْيُصَلُّوا مَعَكَ وَلْيَأْخُذُوا حِذْرَهُمْ وَأَسْلِحَتَهُمْ ۗ وَدَّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ تَغْفُلُونَ عَنْ أَسْلِحَتِكُمْ وَأَمْتِعَتِكُمْ فَيَمِيلُونَ عَلَيْكُمْ مَيْلَةً وَاحِدَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ كَانَ بِكُمْ أَذًى مِنْ مَطَرٍ أَوْ كُنْتُمْ مَرْضَىٰ أَنْ تَضَعُوا أَسْلِحَتَكُمْ ۖ وَخُذُوا حِذْرَكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُهِينًا

📘 دین میں جتنے اعمال بتائے گئے خواہ وہ نماز اور زکوۃ کی قسم سے ہوں یا تبلیغ اور جہاد کی قسم سے، سب کا آخری مقصود اللہ کی یاد ہے۔ تمام اعمال کا اصل مدعا یہ ہے کہ ایسا انسان تیار ہو جو اس طرح جئے کہ خدا اس کی یادوں میں بسا ہوا ہو۔ زندگی کا ہر موڑ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔ اندیشہ کا موقع اس کو اللہ سے ڈرائے، امید کا موقع اس کے اندر اللہ کا شوق پیدا کرے۔ اس کا بھروسہ اللہ پر ہو۔ اس کی توجهات اللہ کی طرف لگی ہوئی ہوں۔ جو چیز ملے اس کو وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی جانے اور جو چیز نہ ملے اس کو اللہ کے حکم کا نتیجہ سمجھے۔ اس کی پوری اندرونی ہستی اللہ کے جلال وجمال میں کھوئی ہوئی ہو۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ جنگ کے نازک ترین موقع پر بھی کسی نہ کسی شکل میں نماز ادا کرنے کا حکم ہوا تاکہ موت کے کنارے کھڑے ہو کر انسان کو یاد دلایا جائے کہ وہ اصل چیز کیا ہے جو بندے کو اس دنیا سے لے کر اپنے رب کے پاس جانا چاہیے۔ اہل ایمان کا بھروسہ اگرچہ تمام تر اللہ پر ہوتا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ حکم ہے کہ دشمنوں سے اپنے بچاؤ کا ظاہری سامان مہیا رکھو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مدد ظاہری سامان کے اندر ہو کر ہی آتی ہے۔ اہل ایمان نے اگر اپنے بچاؤ کا ممکن انتظام نہ کیا ہو تو گویا انھوںنے وہ شکل ہی کھڑی نہیں کی جس کے ڈھانچے میں اللہ کی مدد اتر کر ان کی طرف آئے۔ مومن کو دنیا میں جو مصیبتیں پیش آتی ہیں وہ اللہ کے منصوبہ کی قیمت ہیں کہ وہ آزمائشی حالات پیدا کرکے دیکھے کہ کون سچائی پر قائم رہنے والا ہے اور کون دوسروں کو ناحق ستانے والا۔ اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش میں کبھی اہل اسلام کو شکست اور نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت کچھ لوگ پست ہمت ہونے لگتے ہیں۔ مگر ایسے حادثات میں بھی اللہ کی مصلحت شامل رہتی ہے۔ وہ اس لیے پیش آتے ہیں کہ بندہ کے اندر مزید انابت اور توجہ ابھرے اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی مزید عنایتوں کا مستحق بنے۔

فَإِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلَاةَ فَاذْكُرُوا اللَّهَ قِيَامًا وَقُعُودًا وَعَلَىٰ جُنُوبِكُمْ ۚ فَإِذَا اطْمَأْنَنْتُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ ۚ إِنَّ الصَّلَاةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتَابًا مَوْقُوتًا

📘 دین میں جتنے اعمال بتائے گئے خواہ وہ نماز اور زکوۃ کی قسم سے ہوں یا تبلیغ اور جہاد کی قسم سے، سب کا آخری مقصود اللہ کی یاد ہے۔ تمام اعمال کا اصل مدعا یہ ہے کہ ایسا انسان تیار ہو جو اس طرح جئے کہ خدا اس کی یادوں میں بسا ہوا ہو۔ زندگی کا ہر موڑ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔ اندیشہ کا موقع اس کو اللہ سے ڈرائے، امید کا موقع اس کے اندر اللہ کا شوق پیدا کرے۔ اس کا بھروسہ اللہ پر ہو۔ اس کی توجهات اللہ کی طرف لگی ہوئی ہوں۔ جو چیز ملے اس کو وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی جانے اور جو چیز نہ ملے اس کو اللہ کے حکم کا نتیجہ سمجھے۔ اس کی پوری اندرونی ہستی اللہ کے جلال وجمال میں کھوئی ہوئی ہو۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ جنگ کے نازک ترین موقع پر بھی کسی نہ کسی شکل میں نماز ادا کرنے کا حکم ہوا تاکہ موت کے کنارے کھڑے ہو کر انسان کو یاد دلایا جائے کہ وہ اصل چیز کیا ہے جو بندے کو اس دنیا سے لے کر اپنے رب کے پاس جانا چاہیے۔ اہل ایمان کا بھروسہ اگرچہ تمام تر اللہ پر ہوتا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ حکم ہے کہ دشمنوں سے اپنے بچاؤ کا ظاہری سامان مہیا رکھو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مدد ظاہری سامان کے اندر ہو کر ہی آتی ہے۔ اہل ایمان نے اگر اپنے بچاؤ کا ممکن انتظام نہ کیا ہو تو گویا انھوںنے وہ شکل ہی کھڑی نہیں کی جس کے ڈھانچے میں اللہ کی مدد اتر کر ان کی طرف آئے۔ مومن کو دنیا میں جو مصیبتیں پیش آتی ہیں وہ اللہ کے منصوبہ کی قیمت ہیں کہ وہ آزمائشی حالات پیدا کرکے دیکھے کہ کون سچائی پر قائم رہنے والا ہے اور کون دوسروں کو ناحق ستانے والا۔ اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش میں کبھی اہل اسلام کو شکست اور نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت کچھ لوگ پست ہمت ہونے لگتے ہیں۔ مگر ایسے حادثات میں بھی اللہ کی مصلحت شامل رہتی ہے۔ وہ اس لیے پیش آتے ہیں کہ بندہ کے اندر مزید انابت اور توجہ ابھرے اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی مزید عنایتوں کا مستحق بنے۔

وَلَا تَهِنُوا فِي ابْتِغَاءِ الْقَوْمِ ۖ إِنْ تَكُونُوا تَأْلَمُونَ فَإِنَّهُمْ يَأْلَمُونَ كَمَا تَأْلَمُونَ ۖ وَتَرْجُونَ مِنَ اللَّهِ مَا لَا يَرْجُونَ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

📘 دین میں جتنے اعمال بتائے گئے خواہ وہ نماز اور زکوۃ کی قسم سے ہوں یا تبلیغ اور جہاد کی قسم سے، سب کا آخری مقصود اللہ کی یاد ہے۔ تمام اعمال کا اصل مدعا یہ ہے کہ ایسا انسان تیار ہو جو اس طرح جئے کہ خدا اس کی یادوں میں بسا ہوا ہو۔ زندگی کا ہر موڑ اس کو خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔ اندیشہ کا موقع اس کو اللہ سے ڈرائے، امید کا موقع اس کے اندر اللہ کا شوق پیدا کرے۔ اس کا بھروسہ اللہ پر ہو۔ اس کی توجهات اللہ کی طرف لگی ہوئی ہوں۔ جو چیز ملے اس کو وہ اللہ کی طرف سے آئی ہوئی جانے اور جو چیز نہ ملے اس کو اللہ کے حکم کا نتیجہ سمجھے۔ اس کی پوری اندرونی ہستی اللہ کے جلال وجمال میں کھوئی ہوئی ہو۔ یہ معاملہ اتنا اہم ہے کہ جنگ کے نازک ترین موقع پر بھی کسی نہ کسی شکل میں نماز ادا کرنے کا حکم ہوا تاکہ موت کے کنارے کھڑے ہو کر انسان کو یاد دلایا جائے کہ وہ اصل چیز کیا ہے جو بندے کو اس دنیا سے لے کر اپنے رب کے پاس جانا چاہیے۔ اہل ایمان کا بھروسہ اگرچہ تمام تر اللہ پر ہوتا ہے ۔ مگر اسی کے ساتھ حکم ہے کہ دشمنوں سے اپنے بچاؤ کا ظاہری سامان مہیا رکھو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مدد ظاہری سامان کے اندر ہو کر ہی آتی ہے۔ اہل ایمان نے اگر اپنے بچاؤ کا ممکن انتظام نہ کیا ہو تو گویا انھوںنے وہ شکل ہی کھڑی نہیں کی جس کے ڈھانچے میں اللہ کی مدد اتر کر ان کی طرف آئے۔ مومن کو دنیا میں جو مصیبتیں پیش آتی ہیں وہ اللہ کے منصوبہ کی قیمت ہیں کہ وہ آزمائشی حالات پیدا کرکے دیکھے کہ کون سچائی پر قائم رہنے والا ہے اور کون دوسروں کو ناحق ستانے والا۔ اسلام اور غیر اسلام کی کش مکش میں کبھی اہل اسلام کو شکست اور نقصان پہنچ جاتا ہے۔ اس وقت کچھ لوگ پست ہمت ہونے لگتے ہیں۔ مگر ایسے حادثات میں بھی اللہ کی مصلحت شامل رہتی ہے۔ وہ اس لیے پیش آتے ہیں کہ بندہ کے اندر مزید انابت اور توجہ ابھرے اور اس کے نتیجہ میں وہ اللہ کی مزید عنایتوں کا مستحق بنے۔

إِنَّا أَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الْكِتَابَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَيْنَ النَّاسِ بِمَا أَرَاكَ اللَّهُ ۚ وَلَا تَكُنْ لِلْخَائِنِينَ خَصِيمًا

📘 انسان کی یہ ضرورت ہے کہ وہ مل جل کر رہے۔ یہی ضرورت قوم یا گروہ کو وجود میں لاتی ہے۔ اجتماعیت سے وابستہ ہو کر ایک آدمی اپنی طاقت کو ہزاروں لاکھوں گنا بڑا کرلیتا ہے۔ مگر دھیرے دھیرے ایساہوتا ہے کہ جو چیز اجتماعی ضرورت کے طورپر بنی تھی وہ اجتماعی مذہب کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ وہ بذات خود لوگوں کا مقصود بن جاتی ہے۔ اب یہ ذہن بن جاتاہے کہ ’’میرا گروہ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ میری قوم خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر‘‘ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا حلقہ اہم دکھائی دیتا ہے اور دوسرا حلقہ غیراہم۔ اپنے حلقہ کا آدمی اگر باطل پر ہے تب بھی اس کی حمایت ضروری سمجھی جاتی ہے اور دوسرے حلقہ کا آدمی اگر حق پر ہے تب بھی اس کا ساتھ نہیں دیاجاتا۔ کسی گروہ میں یہ ذہن بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی گروہی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کو معیار کا درجہ دے دیا۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ہدایت کو معیار کا درجہ دے اور اس کی روشنی میں اپنا رویہ متعین کرے نہ کہ دنیوی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کے تحت۔ ایک آدمی غلطی کرے تو اس کا ہاتھ پکڑا جائے خواہ وہ اپنا ہو۔ ایک آدمی صحیح بات کہے تو اس کا ساتھ دیا جائے خواہ وہ کوئی غیر ہو۔ حتی کہ ایسا معاملہ جس میں ایک فریق اپناہو اور ایک فريق باہر کا، تب بھی معاملہ کو اپنے اور غیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ حق اور ناحق کی نظر سے دیکھا جائے اور ہر دوسری چیز کی پر واہ کیے بغیر اپنے کو حق کی جانب کھڑا کیاجائے۔ سچائی کو چھوڑنا، خود اپنے آپ کو چھوڑنے کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے ساتھ خیانت کرچکا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہر سینہ کے اندر اللہ نے اپنا ایک نمائندہ بٹھا دیا ہے۔ یہ انسان کا ضمیر ہے۔ جب بھی آدمی حق کے خلاف جانے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اندر کا چھپا ہوا نمائندهٔ حق اس کو ٹوکتا ہے۔ اس اندرونی آواز کو آدمی دباتا ہے اور اس کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے راستہ کو چھوڑے اور بے انصافی کے راستہ پر چل پڑے۔ مزید یہ کہ آدمی جب ناحق میں كسی کا ساتھ دیتا ہے تو وہ انسان کا لحاظ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دنیوی تعلقات اور مصلحتوں کی وجہ سے وہ ایک شخص کو نظر انداز نہیں کر پاتا اس لیے وہ اس کو غلط جانتے ہوئے بھي اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ مگرناحق کے باوجود ایک شخص کو نہ چھوڑنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے خدا کو چھوڑ دے۔ عین اس وقت جب کہ وہ دنیا میں ایک شخص کا ساتھ دیتا ہے، آخرت میں وہ خدا کے ساتھ سے محروم ہوجاتا ہے۔

وَاسْتَغْفِرِ اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 انسان کی یہ ضرورت ہے کہ وہ مل جل کر رہے۔ یہی ضرورت قوم یا گروہ کو وجود میں لاتی ہے۔ اجتماعیت سے وابستہ ہو کر ایک آدمی اپنی طاقت کو ہزاروں لاکھوں گنا بڑا کرلیتا ہے۔ مگر دھیرے دھیرے ایساہوتا ہے کہ جو چیز اجتماعی ضرورت کے طورپر بنی تھی وہ اجتماعی مذہب کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ وہ بذات خود لوگوں کا مقصود بن جاتی ہے۔ اب یہ ذہن بن جاتاہے کہ ’’میرا گروہ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ میری قوم خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر‘‘ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا حلقہ اہم دکھائی دیتا ہے اور دوسرا حلقہ غیراہم۔ اپنے حلقہ کا آدمی اگر باطل پر ہے تب بھی اس کی حمایت ضروری سمجھی جاتی ہے اور دوسرے حلقہ کا آدمی اگر حق پر ہے تب بھی اس کا ساتھ نہیں دیاجاتا۔ کسی گروہ میں یہ ذہن بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی گروہی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کو معیار کا درجہ دے دیا۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ہدایت کو معیار کا درجہ دے اور اس کی روشنی میں اپنا رویہ متعین کرے نہ کہ دنیوی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کے تحت۔ ایک آدمی غلطی کرے تو اس کا ہاتھ پکڑا جائے خواہ وہ اپنا ہو۔ ایک آدمی صحیح بات کہے تو اس کا ساتھ دیا جائے خواہ وہ کوئی غیر ہو۔ حتی کہ ایسا معاملہ جس میں ایک فریق اپناہو اور ایک فريق باہر کا، تب بھی معاملہ کو اپنے اور غیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ حق اور ناحق کی نظر سے دیکھا جائے اور ہر دوسری چیز کی پر واہ کیے بغیر اپنے کو حق کی جانب کھڑا کیاجائے۔ سچائی کو چھوڑنا، خود اپنے آپ کو چھوڑنے کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے ساتھ خیانت کرچکا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہر سینہ کے اندر اللہ نے اپنا ایک نمائندہ بٹھا دیا ہے۔ یہ انسان کا ضمیر ہے۔ جب بھی آدمی حق کے خلاف جانے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اندر کا چھپا ہوا نمائندهٔ حق اس کو ٹوکتا ہے۔ اس اندرونی آواز کو آدمی دباتا ہے اور اس کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے راستہ کو چھوڑے اور بے انصافی کے راستہ پر چل پڑے۔ مزید یہ کہ آدمی جب ناحق میں كسی کا ساتھ دیتا ہے تو وہ انسان کا لحاظ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دنیوی تعلقات اور مصلحتوں کی وجہ سے وہ ایک شخص کو نظر انداز نہیں کر پاتا اس لیے وہ اس کو غلط جانتے ہوئے بھي اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ مگرناحق کے باوجود ایک شخص کو نہ چھوڑنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے خدا کو چھوڑ دے۔ عین اس وقت جب کہ وہ دنیا میں ایک شخص کا ساتھ دیتا ہے، آخرت میں وہ خدا کے ساتھ سے محروم ہوجاتا ہے۔

وَلَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِينَ يَخْتَانُونَ أَنْفُسَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا أَثِيمًا

📘 انسان کی یہ ضرورت ہے کہ وہ مل جل کر رہے۔ یہی ضرورت قوم یا گروہ کو وجود میں لاتی ہے۔ اجتماعیت سے وابستہ ہو کر ایک آدمی اپنی طاقت کو ہزاروں لاکھوں گنا بڑا کرلیتا ہے۔ مگر دھیرے دھیرے ایساہوتا ہے کہ جو چیز اجتماعی ضرورت کے طورپر بنی تھی وہ اجتماعی مذہب کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ وہ بذات خود لوگوں کا مقصود بن جاتی ہے۔ اب یہ ذہن بن جاتاہے کہ ’’میرا گروہ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ میری قوم خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر‘‘ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا حلقہ اہم دکھائی دیتا ہے اور دوسرا حلقہ غیراہم۔ اپنے حلقہ کا آدمی اگر باطل پر ہے تب بھی اس کی حمایت ضروری سمجھی جاتی ہے اور دوسرے حلقہ کا آدمی اگر حق پر ہے تب بھی اس کا ساتھ نہیں دیاجاتا۔ کسی گروہ میں یہ ذہن بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی گروہی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کو معیار کا درجہ دے دیا۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ہدایت کو معیار کا درجہ دے اور اس کی روشنی میں اپنا رویہ متعین کرے نہ کہ دنیوی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کے تحت۔ ایک آدمی غلطی کرے تو اس کا ہاتھ پکڑا جائے خواہ وہ اپنا ہو۔ ایک آدمی صحیح بات کہے تو اس کا ساتھ دیا جائے خواہ وہ کوئی غیر ہو۔ حتی کہ ایسا معاملہ جس میں ایک فریق اپناہو اور ایک فريق باہر کا، تب بھی معاملہ کو اپنے اور غیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ حق اور ناحق کی نظر سے دیکھا جائے اور ہر دوسری چیز کی پر واہ کیے بغیر اپنے کو حق کی جانب کھڑا کیاجائے۔ سچائی کو چھوڑنا، خود اپنے آپ کو چھوڑنے کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے ساتھ خیانت کرچکا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہر سینہ کے اندر اللہ نے اپنا ایک نمائندہ بٹھا دیا ہے۔ یہ انسان کا ضمیر ہے۔ جب بھی آدمی حق کے خلاف جانے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اندر کا چھپا ہوا نمائندهٔ حق اس کو ٹوکتا ہے۔ اس اندرونی آواز کو آدمی دباتا ہے اور اس کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے راستہ کو چھوڑے اور بے انصافی کے راستہ پر چل پڑے۔ مزید یہ کہ آدمی جب ناحق میں كسی کا ساتھ دیتا ہے تو وہ انسان کا لحاظ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دنیوی تعلقات اور مصلحتوں کی وجہ سے وہ ایک شخص کو نظر انداز نہیں کر پاتا اس لیے وہ اس کو غلط جانتے ہوئے بھي اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ مگرناحق کے باوجود ایک شخص کو نہ چھوڑنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے خدا کو چھوڑ دے۔ عین اس وقت جب کہ وہ دنیا میں ایک شخص کا ساتھ دیتا ہے، آخرت میں وہ خدا کے ساتھ سے محروم ہوجاتا ہے۔

يَسْتَخْفُونَ مِنَ النَّاسِ وَلَا يَسْتَخْفُونَ مِنَ اللَّهِ وَهُوَ مَعَهُمْ إِذْ يُبَيِّتُونَ مَا لَا يَرْضَىٰ مِنَ الْقَوْلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا يَعْمَلُونَ مُحِيطًا

📘 انسان کی یہ ضرورت ہے کہ وہ مل جل کر رہے۔ یہی ضرورت قوم یا گروہ کو وجود میں لاتی ہے۔ اجتماعیت سے وابستہ ہو کر ایک آدمی اپنی طاقت کو ہزاروں لاکھوں گنا بڑا کرلیتا ہے۔ مگر دھیرے دھیرے ایساہوتا ہے کہ جو چیز اجتماعی ضرورت کے طورپر بنی تھی وہ اجتماعی مذہب کا درجہ حاصل کرلیتی ہے۔ وہ بذات خود لوگوں کا مقصود بن جاتی ہے۔ اب یہ ذہن بن جاتاہے کہ ’’میرا گروہ خواہ وہ صحیح ہو یا غلط۔ میری قوم خواہ وہ حق پر ہو یا باطل پر‘‘ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنا حلقہ اہم دکھائی دیتا ہے اور دوسرا حلقہ غیراہم۔ اپنے حلقہ کا آدمی اگر باطل پر ہے تب بھی اس کی حمایت ضروری سمجھی جاتی ہے اور دوسرے حلقہ کا آدمی اگر حق پر ہے تب بھی اس کا ساتھ نہیں دیاجاتا۔ کسی گروہ میں یہ ذہن بن جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنی گروہی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کو معیار کا درجہ دے دیا۔ حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ہدایت کو معیار کا درجہ دے اور اس کی روشنی میں اپنا رویہ متعین کرے نہ کہ دنیوی مصلحتوں اور جماعتی تعصبات کے تحت۔ ایک آدمی غلطی کرے تو اس کا ہاتھ پکڑا جائے خواہ وہ اپنا ہو۔ ایک آدمی صحیح بات کہے تو اس کا ساتھ دیا جائے خواہ وہ کوئی غیر ہو۔ حتی کہ ایسا معاملہ جس میں ایک فریق اپناہو اور ایک فريق باہر کا، تب بھی معاملہ کو اپنے اور غیر کی نظر سے نہ دیکھا جائے بلکہ حق اور ناحق کی نظر سے دیکھا جائے اور ہر دوسری چیز کی پر واہ کیے بغیر اپنے کو حق کی جانب کھڑا کیاجائے۔ سچائی کو چھوڑنا، خود اپنے آپ کو چھوڑنے کے ہم معنی ہے۔ جب آدمی دوسرے کے ساتھ خیانت کرتا ہے تو سب سے پہلے وہ اپنے ساتھ خیانت کرچکا ہوتا ہے۔ کیوں کہ ہر سینہ کے اندر اللہ نے اپنا ایک نمائندہ بٹھا دیا ہے۔ یہ انسان کا ضمیر ہے۔ جب بھی آدمی حق کے خلاف جانے کا ارادہ کرتا ہے تو یہ اندر کا چھپا ہوا نمائندهٔ حق اس کو ٹوکتا ہے۔ اس اندرونی آواز کو آدمی دباتا ہے اور اس کو نظر انداز کرتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ وہ انصاف کے راستہ کو چھوڑے اور بے انصافی کے راستہ پر چل پڑے۔ مزید یہ کہ آدمی جب ناحق میں كسی کا ساتھ دیتا ہے تو وہ انسان کا لحاظ کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ دنیوی تعلقات اور مصلحتوں کی وجہ سے وہ ایک شخص کو نظر انداز نہیں کر پاتا اس لیے وہ اس کو غلط جانتے ہوئے بھي اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ مگرناحق کے باوجود ایک شخص کو نہ چھوڑنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ آدمی اپنے خدا کو چھوڑ دے۔ عین اس وقت جب کہ وہ دنیا میں ایک شخص کا ساتھ دیتا ہے، آخرت میں وہ خدا کے ساتھ سے محروم ہوجاتا ہے۔

هَا أَنْتُمْ هَٰؤُلَاءِ جَادَلْتُمْ عَنْهُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَمَنْ يُجَادِلُ اللَّهَ عَنْهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَمْ مَنْ يَكُونُ عَلَيْهِمْ وَكِيلًا

📘 دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی سے غلطي ہوسکتی ہے۔ خدا کے معاملہ میں بھی اور بندوں کے معاملہ میں بھی۔ جب کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ کی طرف اور زیادہ توجہ کے ساتھ دوڑے۔ وہ اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطی کو معاف کردے اور آئندہ کے لیے اس کو نیکی کی توفیق دے۔ جو شخص اس طرح اللہ کی پناہ چاہے تو اللہ بھی اس کو اپنی پناہ میں لے لیتاہے۔ اللہ اس کے دینی احساس کو بیدار کرکے اس کو اس قابل بنادیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر دنیا میں رہنے لگے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی جب غلطی کرے تو وہ غلطی کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔ بلکہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ اپنے ساتھیوں کی حمایت سے خود ان لوگوں سے لڑنے لگے جو اس کی غلطی سے اس کو آگاہ کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنی غلطی پر اس طرح اکڑتے ہیں اور جو لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ خدا کے نزدیک بدترین مجرم ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے جن الفاظ کا سہارا لیتے ہیں وہ آخرت میں بالکل بے معنی ثابت ہوں گے اور جن حمایتیوں کے بھروسے پر وہ گھمنڈ کررہے ہیں وہ بالآخر جان لیں گے کہ وہ کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہ تھے۔ ایک شخص کسی کا مال چرائے اور جب پکڑے جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو دوسرے کے گھر میں رکھ کر کہے کہ فلاں نے اس کو چرایا تھا۔ ایک شخص کسی عورت کو اپنی ہوس کا نشانا بنانا چاہے اور جب وہ پاک دامن خاتون اس کا ساتھ نہ دے تو وہ جھوٹے افسانے گھڑ کر اس خاتون کو بدنام کرے۔ دو آدمی مل کر ایک کام شروع کریں۔ اس کے بعد ایک شخص کو محسوس ہو کہ اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہورہی ہیں، وہ تدبیر کرکے اس کام کو بند کرادے اور اس کے بعد مشہور کرے کہ اس کے بند ہونے کی ذمہ داری فریق ثانی کے اوپر ہے۔ یہ سب اپنا جرم دوسرے کے سر ڈالنے کی کوششیں ہیں۔ مگر ایسی کوششیں صرف آدمی کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ اس کو بری الذمہ ثابت نہیں کرتیں۔ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ وہ ہدایت کے دروازے کھولے۔ وہ آدمی کو سمجھائے کہ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کو مان لو، نہ کہ بحث کرکے اپنے کو صحیح ثابت کرو۔کسی سے معاملہ پڑے تو ساتھیوں کے بل پر گھمنڈ نہ کرو بلکہ اللہ سے ڈر کر تواضع کا انداز اختیار کرو۔ کسی کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع مل جائے تو اپنے کو کامیاب سمجھ کر خوش نہ ہو بلکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ظالم بننے سے بچائے۔

يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ ۖ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ۚ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ ۖ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَكَ إِنْ كَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِنْ كَانَ لَهُ إِخْوَةٌ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِي بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا ۚ فَرِيضَةً مِنَ اللَّهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا

📘 حق كا اعتراف اكثر حالات ميں اپني بڑائي كو كھونے كے هم معني هوتا هے۔ آدمي اپني بڑائي كو كھونا نهيں چاهتا۔ اس ليے وه حق كا اعتراف بھي نهيں كرتا۔ مگر حق كے آگے نه جھكنا خداكے آگے نه جھكنا هے۔ ايسے لوگوں كے لیے خدا كے يهاں سخت ترين عذاب هے۔ آدمي اگر چه تكبر كي بنا پر حق سے اعراض كرتا هے تاهم اپنے رويه كے جواز كے ليے وه نظرياتي دليل پيش كرتا هے۔ مگر اس دليل كي حقيقت جھوٹے الفاظ سے زياده نهيں هوتي۔ ايسا آدمي كسي چيز كو غلط مفهوم دے كر اس كو شوشه بناتاهے۔ اور اس شوشه كي بنياد پر حق كا اور اس کے داعي كا مذاق اڑانے لگتا هے۔ ايسے لوگ سخت ترين سزاكے مستحق هيں۔ كيوں كه وه بد عملي پر سركشي كا اضافه كررهے هيں۔ اس سركشي پر انھيں جو چيز آماده كرتي هے وه ان كي دنيوي حيثيت هے۔ مگر كسي كي دنيوي حيثيت آخرت ميں ا س كے كچھ كام آنے والي نهيں۔

وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی سے غلطي ہوسکتی ہے۔ خدا کے معاملہ میں بھی اور بندوں کے معاملہ میں بھی۔ جب کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ کی طرف اور زیادہ توجہ کے ساتھ دوڑے۔ وہ اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطی کو معاف کردے اور آئندہ کے لیے اس کو نیکی کی توفیق دے۔ جو شخص اس طرح اللہ کی پناہ چاہے تو اللہ بھی اس کو اپنی پناہ میں لے لیتاہے۔ اللہ اس کے دینی احساس کو بیدار کرکے اس کو اس قابل بنادیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر دنیا میں رہنے لگے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی جب غلطی کرے تو وہ غلطی کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔ بلکہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ اپنے ساتھیوں کی حمایت سے خود ان لوگوں سے لڑنے لگے جو اس کی غلطی سے اس کو آگاہ کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنی غلطی پر اس طرح اکڑتے ہیں اور جو لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ خدا کے نزدیک بدترین مجرم ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے جن الفاظ کا سہارا لیتے ہیں وہ آخرت میں بالکل بے معنی ثابت ہوں گے اور جن حمایتیوں کے بھروسے پر وہ گھمنڈ کررہے ہیں وہ بالآخر جان لیں گے کہ وہ کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہ تھے۔ ایک شخص کسی کا مال چرائے اور جب پکڑے جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو دوسرے کے گھر میں رکھ کر کہے کہ فلاں نے اس کو چرایا تھا۔ ایک شخص کسی عورت کو اپنی ہوس کا نشانا بنانا چاہے اور جب وہ پاک دامن خاتون اس کا ساتھ نہ دے تو وہ جھوٹے افسانے گھڑ کر اس خاتون کو بدنام کرے۔ دو آدمی مل کر ایک کام شروع کریں۔ اس کے بعد ایک شخص کو محسوس ہو کہ اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہورہی ہیں، وہ تدبیر کرکے اس کام کو بند کرادے اور اس کے بعد مشہور کرے کہ اس کے بند ہونے کی ذمہ داری فریق ثانی کے اوپر ہے۔ یہ سب اپنا جرم دوسرے کے سر ڈالنے کی کوششیں ہیں۔ مگر ایسی کوششیں صرف آدمی کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ اس کو بری الذمہ ثابت نہیں کرتیں۔ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ وہ ہدایت کے دروازے کھولے۔ وہ آدمی کو سمجھائے کہ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کو مان لو، نہ کہ بحث کرکے اپنے کو صحیح ثابت کرو۔کسی سے معاملہ پڑے تو ساتھیوں کے بل پر گھمنڈ نہ کرو بلکہ اللہ سے ڈر کر تواضع کا انداز اختیار کرو۔ کسی کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع مل جائے تو اپنے کو کامیاب سمجھ کر خوش نہ ہو بلکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ظالم بننے سے بچائے۔

وَمَنْ يَكْسِبْ إِثْمًا فَإِنَّمَا يَكْسِبُهُ عَلَىٰ نَفْسِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

📘 دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی سے غلطي ہوسکتی ہے۔ خدا کے معاملہ میں بھی اور بندوں کے معاملہ میں بھی۔ جب کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ کی طرف اور زیادہ توجہ کے ساتھ دوڑے۔ وہ اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطی کو معاف کردے اور آئندہ کے لیے اس کو نیکی کی توفیق دے۔ جو شخص اس طرح اللہ کی پناہ چاہے تو اللہ بھی اس کو اپنی پناہ میں لے لیتاہے۔ اللہ اس کے دینی احساس کو بیدار کرکے اس کو اس قابل بنادیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر دنیا میں رہنے لگے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی جب غلطی کرے تو وہ غلطی کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔ بلکہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ اپنے ساتھیوں کی حمایت سے خود ان لوگوں سے لڑنے لگے جو اس کی غلطی سے اس کو آگاہ کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنی غلطی پر اس طرح اکڑتے ہیں اور جو لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ خدا کے نزدیک بدترین مجرم ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے جن الفاظ کا سہارا لیتے ہیں وہ آخرت میں بالکل بے معنی ثابت ہوں گے اور جن حمایتیوں کے بھروسے پر وہ گھمنڈ کررہے ہیں وہ بالآخر جان لیں گے کہ وہ کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہ تھے۔ ایک شخص کسی کا مال چرائے اور جب پکڑے جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو دوسرے کے گھر میں رکھ کر کہے کہ فلاں نے اس کو چرایا تھا۔ ایک شخص کسی عورت کو اپنی ہوس کا نشانا بنانا چاہے اور جب وہ پاک دامن خاتون اس کا ساتھ نہ دے تو وہ جھوٹے افسانے گھڑ کر اس خاتون کو بدنام کرے۔ دو آدمی مل کر ایک کام شروع کریں۔ اس کے بعد ایک شخص کو محسوس ہو کہ اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہورہی ہیں، وہ تدبیر کرکے اس کام کو بند کرادے اور اس کے بعد مشہور کرے کہ اس کے بند ہونے کی ذمہ داری فریق ثانی کے اوپر ہے۔ یہ سب اپنا جرم دوسرے کے سر ڈالنے کی کوششیں ہیں۔ مگر ایسی کوششیں صرف آدمی کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ اس کو بری الذمہ ثابت نہیں کرتیں۔ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ وہ ہدایت کے دروازے کھولے۔ وہ آدمی کو سمجھائے کہ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کو مان لو، نہ کہ بحث کرکے اپنے کو صحیح ثابت کرو۔کسی سے معاملہ پڑے تو ساتھیوں کے بل پر گھمنڈ نہ کرو بلکہ اللہ سے ڈر کر تواضع کا انداز اختیار کرو۔ کسی کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع مل جائے تو اپنے کو کامیاب سمجھ کر خوش نہ ہو بلکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ظالم بننے سے بچائے۔

وَمَنْ يَكْسِبْ خَطِيئَةً أَوْ إِثْمًا ثُمَّ يَرْمِ بِهِ بَرِيئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا

📘 دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی سے غلطي ہوسکتی ہے۔ خدا کے معاملہ میں بھی اور بندوں کے معاملہ میں بھی۔ جب کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ کی طرف اور زیادہ توجہ کے ساتھ دوڑے۔ وہ اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطی کو معاف کردے اور آئندہ کے لیے اس کو نیکی کی توفیق دے۔ جو شخص اس طرح اللہ کی پناہ چاہے تو اللہ بھی اس کو اپنی پناہ میں لے لیتاہے۔ اللہ اس کے دینی احساس کو بیدار کرکے اس کو اس قابل بنادیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر دنیا میں رہنے لگے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی جب غلطی کرے تو وہ غلطی کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔ بلکہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ اپنے ساتھیوں کی حمایت سے خود ان لوگوں سے لڑنے لگے جو اس کی غلطی سے اس کو آگاہ کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنی غلطی پر اس طرح اکڑتے ہیں اور جو لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ خدا کے نزدیک بدترین مجرم ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے جن الفاظ کا سہارا لیتے ہیں وہ آخرت میں بالکل بے معنی ثابت ہوں گے اور جن حمایتیوں کے بھروسے پر وہ گھمنڈ کررہے ہیں وہ بالآخر جان لیں گے کہ وہ کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہ تھے۔ ایک شخص کسی کا مال چرائے اور جب پکڑے جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو دوسرے کے گھر میں رکھ کر کہے کہ فلاں نے اس کو چرایا تھا۔ ایک شخص کسی عورت کو اپنی ہوس کا نشانا بنانا چاہے اور جب وہ پاک دامن خاتون اس کا ساتھ نہ دے تو وہ جھوٹے افسانے گھڑ کر اس خاتون کو بدنام کرے۔ دو آدمی مل کر ایک کام شروع کریں۔ اس کے بعد ایک شخص کو محسوس ہو کہ اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہورہی ہیں، وہ تدبیر کرکے اس کام کو بند کرادے اور اس کے بعد مشہور کرے کہ اس کے بند ہونے کی ذمہ داری فریق ثانی کے اوپر ہے۔ یہ سب اپنا جرم دوسرے کے سر ڈالنے کی کوششیں ہیں۔ مگر ایسی کوششیں صرف آدمی کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ اس کو بری الذمہ ثابت نہیں کرتیں۔ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ وہ ہدایت کے دروازے کھولے۔ وہ آدمی کو سمجھائے کہ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کو مان لو، نہ کہ بحث کرکے اپنے کو صحیح ثابت کرو۔کسی سے معاملہ پڑے تو ساتھیوں کے بل پر گھمنڈ نہ کرو بلکہ اللہ سے ڈر کر تواضع کا انداز اختیار کرو۔ کسی کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع مل جائے تو اپنے کو کامیاب سمجھ کر خوش نہ ہو بلکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ظالم بننے سے بچائے۔

وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ وَرَحْمَتُهُ لَهَمَّتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ أَنْ يُضِلُّوكَ وَمَا يُضِلُّونَ إِلَّا أَنْفُسَهُمْ ۖ وَمَا يَضُرُّونَكَ مِنْ شَيْءٍ ۚ وَأَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ ۚ وَكَانَ فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكَ عَظِيمًا

📘 دنیا آزمائش کی جگہ ہے۔ یہاں ہر آدمی سے غلطي ہوسکتی ہے۔ خدا کے معاملہ میں بھی اور بندوں کے معاملہ میں بھی۔ جب کسی سے کوئی غلطی ہوجائے تو صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنی غلطی پر شرمندہ ہو۔ وہ اللہ کی طرف اور زیادہ توجہ کے ساتھ دوڑے۔ وہ اللہ سے درخواست کرے کہ وہ اس کی غلطی کو معاف کردے اور آئندہ کے لیے اس کو نیکی کی توفیق دے۔ جو شخص اس طرح اللہ کی پناہ چاہے تو اللہ بھی اس کو اپنی پناہ میں لے لیتاہے۔ اللہ اس کے دینی احساس کو بیدار کرکے اس کو اس قابل بنادیتا ہے کہ وہ پہلے سے زیادہ محتاط ہو کر دنیا میں رہنے لگے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی جب غلطی کرے تو وہ غلطی کو ماننے کے لیے تیار نہ ہو۔ بلکہ اپنی غلطی کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش میں لگ جائے۔ وہ اپنے ساتھیوں کی حمایت سے خود ان لوگوں سے لڑنے لگے جو اس کی غلطی سے اس کو آگاہ کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنی غلطی پر اس طرح اکڑتے ہیں اور جو لوگ ان کا ساتھ دیتے ہیں وہ خدا کے نزدیک بدترین مجرم ہیں۔ وہ اپنی غلطی پر پردہ ڈالنے کے لیے جن الفاظ کا سہارا لیتے ہیں وہ آخرت میں بالکل بے معنی ثابت ہوں گے اور جن حمایتیوں کے بھروسے پر وہ گھمنڈ کررہے ہیں وہ بالآخر جان لیں گے کہ وہ کچھ بھی ان کے کام آنے والے نہ تھے۔ ایک شخص کسی کا مال چرائے اور جب پکڑے جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو دوسرے کے گھر میں رکھ کر کہے کہ فلاں نے اس کو چرایا تھا۔ ایک شخص کسی عورت کو اپنی ہوس کا نشانا بنانا چاہے اور جب وہ پاک دامن خاتون اس کا ساتھ نہ دے تو وہ جھوٹے افسانے گھڑ کر اس خاتون کو بدنام کرے۔ دو آدمی مل کر ایک کام شروع کریں۔ اس کے بعد ایک شخص کو محسوس ہو کہ اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہورہی ہیں، وہ تدبیر کرکے اس کام کو بند کرادے اور اس کے بعد مشہور کرے کہ اس کے بند ہونے کی ذمہ داری فریق ثانی کے اوپر ہے۔ یہ سب اپنا جرم دوسرے کے سر ڈالنے کی کوششیں ہیں۔ مگر ایسی کوششیں صرف آدمی کے جرم کو بڑھاتی ہیں، وہ اس کو بری الذمہ ثابت نہیں کرتیں۔ اللہ کا سب سے بڑا فضل یہ ہے کہ وہ ہدایت کے دروازے کھولے۔ وہ آدمی کو سمجھائے کہ غلطی کرنے کے بعد اپنی غلطی کو مان لو، نہ کہ بحث کرکے اپنے کو صحیح ثابت کرو۔کسی سے معاملہ پڑے تو ساتھیوں کے بل پر گھمنڈ نہ کرو بلکہ اللہ سے ڈر کر تواضع کا انداز اختیار کرو۔ کسی کے خلاف کارروائی کرنے کا موقع مل جائے تو اپنے کو کامیاب سمجھ کر خوش نہ ہو بلکہ اللہ سے دعا کرو کہ وہ تم کو ظالم بننے سے بچائے۔

۞ لَا خَيْرَ فِي كَثِيرٍ مِنْ نَجْوَاهُمْ إِلَّا مَنْ أَمَرَ بِصَدَقَةٍ أَوْ مَعْرُوفٍ أَوْ إِصْلَاحٍ بَيْنَ النَّاسِ ۚ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّهِ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا

📘 حق کی بے آمیز دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ زمین پر خدا کا ترازو کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ اس کی میزان میںہر آدمی اپنے کو تُلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ حق کی دعوت ہر ایک کے اوپر سے اس کا ظاہری پردہ اتاردیتی ہے اور ہر شخص کو اس کے اس مقام پر کھڑا کردیتی ہے جہاں وہ باعتبار حقیقت تھا۔ یہ صورت حال اتنی سخت ہوتی ہے کہ لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ سارا ماحول داعی کے لیے ایسا بن جاتا ہے جیسے وہ انگاروں کے درمیان کھڑا ہوا ہو۔ جو لوگ دعوت حق کے ترازومیں اپنے کو بے وزن ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں ان کے اندر ضد اور گھمنڈ کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ تیزی سے مخالفانہ رخ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ایسی دعوت کو مٹا دیں جو ان کی حق پرستانہ حیثیت کو مشتبہ ثابت کرتی ہو۔ ان کے لیے اپنی زبان کا استعمال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ دعوت اور داعی کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلائیں۔ اس کو زیر کرنے کے منصوبے بنائیں۔ وہ لوگوں کو منع کریں کہ اس کی مالي مدد نہ کرو۔ جو اللہ کے بندے اللہ کی رسّی کے گرد متحد ہورہے ہوں ان کو بدگمانیوں میں مبتلا کرکے منتشر کریں۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی فطرت کو زندہ رکھے ہوئے تھے ان کو اللہ کی مدد سے یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائیں، وہ اس کا ساتھ دیں، وہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا شروع کردیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی زبان کا استعمال یہ ہوتا ہے کہ وہ کھلے طور پر سچائی کا اعتراف کرلیں۔ وہ لوگوں سے کہیں کہ یہ اللہ کا کام ہے اس میں اپنا مال اور اپنا وقت خرچ کرو۔ وہ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ اپنی قوتوں کو نیکی اور بھلائی کے کاموں میں لگائیں۔ وہ آپس کی رنجشوں اور شکایتوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ حق کا اعتراف ان کے اندر جو نفسیات جگاتا ہے اس کا قدرتی نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے تعميري کاموں میں لگ جائیں۔ اللہ کے نزدیک یہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے کہ حق کی دعوت کی مخالفت کی جائے اور جو لوگ حق کی دعوت کے گرد جمع ہوئے ہیں ان کو اپنی دشمنی کی آگ میں جلانے کی کوشش کی جائے۔ دوسرے اکثر گناہوں میں یہ امکان رہتا ہے کہ وہ انسان کی غفلت یا کمزوری کی وجہ سے صادر ہوئے ہوں۔ مگر دعوت حق کی مخالفت تمام تر سرکشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور سرکشی کسی آدمی کا وہ جرم ہے جس کو اللہ کبھی معاف نہیں کرتا، اِلاّ یہ کہ وہ اپنی غلطی کا اقرار کرے اور سرکشی سے باز آجائے۔ دین کی دعوت جب بھی اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو وہ ایک خدائی کام ہوتا ہے جو خدا کی خصوصی مدد پر شروع ہوتا ہے۔ ایسے کام کی مخالفت کرنا گویا خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہونا ہے اور کون ہے جو خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر کامیاب ہو۔

وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُولَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَىٰ وَيَتَّبِعْ غَيْرَ سَبِيلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّىٰ وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا

📘 حق کی بے آمیز دعوت جب اٹھتی ہے تو وہ زمین پر خدا کا ترازو کھڑا کرنا ہوتا ہے۔ اس کی میزان میںہر آدمی اپنے کو تُلتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ حق کی دعوت ہر ایک کے اوپر سے اس کا ظاہری پردہ اتاردیتی ہے اور ہر شخص کو اس کے اس مقام پر کھڑا کردیتی ہے جہاں وہ باعتبار حقیقت تھا۔ یہ صورت حال اتنی سخت ہوتی ہے کہ لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ سارا ماحول داعی کے لیے ایسا بن جاتا ہے جیسے وہ انگاروں کے درمیان کھڑا ہوا ہو۔ جو لوگ دعوت حق کے ترازومیں اپنے کو بے وزن ہوتا ہوا محسوس کرتے ہیں ان کے اندر ضد اور گھمنڈ کے جذبات جاگ اٹھتے ہیں۔ وہ تیزی سے مخالفانہ رخ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ چاہنے لگتے ہیں کہ ایسی دعوت کو مٹا دیں جو ان کی حق پرستانہ حیثیت کو مشتبہ ثابت کرتی ہو۔ ان کے لیے اپنی زبان کا استعمال یہ ہو جاتا ہے کہ وہ دعوت اور داعی کے خلاف جھوٹی باتیں پھیلائیں۔ اس کو زیر کرنے کے منصوبے بنائیں۔ وہ لوگوں کو منع کریں کہ اس کی مالي مدد نہ کرو۔ جو اللہ کے بندے اللہ کی رسّی کے گرد متحد ہورہے ہوں ان کو بدگمانیوں میں مبتلا کرکے منتشر کریں۔ اس کے برعکس، جو لوگ اپنی فطرت کو زندہ رکھے ہوئے تھے ان کو اللہ کی مدد سے یہ توفیق ملتی ہے کہ وہ اس کے آگے جھک جائیں، وہ اس کا ساتھ دیں، وہ اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنا شروع کردیں۔ ایسے لوگوں کے لیے ان کی زبان کا استعمال یہ ہوتا ہے کہ وہ کھلے طور پر سچائی کا اعتراف کرلیں۔ وہ لوگوں سے کہیں کہ یہ اللہ کا کام ہے اس میں اپنا مال اور اپنا وقت خرچ کرو۔ وہ لوگوں کو ترغیب دیں کہ وہ اپنی قوتوں کو نیکی اور بھلائی کے کاموں میں لگائیں۔ وہ آپس کی رنجشوں اور شکایتوں کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ حق کا اعتراف ان کے اندر جو نفسیات جگاتا ہے اس کا قدرتی نتیجہ ہے کہ وہ اس قسم کے تعميري کاموں میں لگ جائیں۔ اللہ کے نزدیک یہ ایک ناقابلِ معافی جرم ہے کہ حق کی دعوت کی مخالفت کی جائے اور جو لوگ حق کی دعوت کے گرد جمع ہوئے ہیں ان کو اپنی دشمنی کی آگ میں جلانے کی کوشش کی جائے۔ دوسرے اکثر گناہوں میں یہ امکان رہتا ہے کہ وہ انسان کی غفلت یا کمزوری کی وجہ سے صادر ہوئے ہوں۔ مگر دعوت حق کی مخالفت تمام تر سرکشی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اور سرکشی کسی آدمی کا وہ جرم ہے جس کو اللہ کبھی معاف نہیں کرتا، اِلاّ یہ کہ وہ اپنی غلطی کا اقرار کرے اور سرکشی سے باز آجائے۔ دین کی دعوت جب بھی اپنی بے آمیز شکل میں اٹھتی ہے تو وہ ایک خدائی کام ہوتا ہے جو خدا کی خصوصی مدد پر شروع ہوتا ہے۔ ایسے کام کی مخالفت کرنا گویا خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہونا ہے اور کون ہے جو خدا کے مقابلہ میں کھڑا ہو کر کامیاب ہو۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا

📘 جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔ اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔

إِنْ يَدْعُونَ مِنْ دُونِهِ إِلَّا إِنَاثًا وَإِنْ يَدْعُونَ إِلَّا شَيْطَانًا مَرِيدًا

📘 جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔ اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔

لَعَنَهُ اللَّهُ ۘ وَقَالَ لَأَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِيبًا مَفْرُوضًا

📘 جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔ اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔

وَلَأُضِلَّنَّهُمْ وَلَأُمَنِّيَنَّهُمْ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُبَتِّكُنَّ آذَانَ الْأَنْعَامِ وَلَآمُرَنَّهُمْ فَلَيُغَيِّرُنَّ خَلْقَ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يَتَّخِذِ الشَّيْطَانَ وَلِيًّا مِنْ دُونِ اللَّهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُبِينًا

📘 جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔ اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔

۞ وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ ۚ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ ۚ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۚ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ ۚ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ ۚ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ ۗ وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ ۚ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَٰلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ ۚ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَىٰ بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ ۚ وَصِيَّةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَلِيمٌ

📘 کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ اس کی تخلیق کئی دوروں میں تدریجی طورپر ہوئی ہے۔ تدریجی تخلیق دوسرے لفظوں میں منصوبہ بند تخلیق ہے۔ اور جب کائنات کی تخلیق منصوبہ بند انداز میں ہوئی ہے تو یقینی ہے کہ اس کا ایک منصوبہ ساز ہو جس نے اپنے مقرر منصوبہ کے تحت اس کو ارادۃً بنایا ہو۔ اسی طرح یہاں زمین کے اوپر جگہ جگہ پہاڑ ہیں جو زمین کے توازن کو برقرار رکھتے ہیں۔ اس دنیا میں کروڑوں قسم کے ذی حیات ہیں۔ ہر ایک کو الگ الگ رزق درکار ہے۔ مگر ہر ایک کا رزق اس طرح کامل مطابقت کے ساتھ موجود ہے کہ جس کو جو روزی درکار ہے وہ اپنے قریب ہی اس کو پالیتا ہے۔ اسی طرح کائنات کا مطالعہ بتاتا ہے کہ تمام چیزیں ابتداء ًمنتشر ایٹم کی صورت میں تھیں۔ پھر وہ مجتمع ہو کر الگ الگ اشیاء کی صورت میں متشکل ہوئیں۔ اسی طرح کائنات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وسیع کائنات کی تمام چیزیں ایک ہی قانون فطرت میں نہایت محکم طورپر جکڑی ہوئی ہیں۔ یہ مشاہدات واضح طورپر ثابت کرتے ہیں کہ کائنات کا خالق علیم اور خبیر ہے۔ وہ قوت اور غلبہ والا ہے۔ پھر دوسرا کون ہے جس کو انسان اپنا معبود قرار دے۔

يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ ۖ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلَّا غُرُورًا

📘 جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔ اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔

أُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَلَا يَجِدُونَ عَنْهَا مَحِيصًا

📘 جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔ اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ وَعْدَ اللَّهِ حَقًّا ۚ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا

📘 جو شخص ایک اللہ کو پکڑ لے اس کے عمل کی جڑیں خدا میں قائم ہوجاتی ہیں۔ اس سے وقتی لغزش بھی ہوتی ہے۔ مگر اس کے بعد جب وہ پلٹتا ہے تو دوبارہ وہ حقیقی سرے کو پالیتا ہے۔ اور جو شخص اللہ کے سوا کہیں اور اٹکا ہوا ہو وہ گویا اس زمین سے محروم ہے جو اس کائنات میں واحد حقیقی زمین ہے۔ بظاہر اگر وہ کوئی اچھا عمل کرے تب بھی وہ خدا کے سرچشمہ سے نکلا ہوا عمل نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک اوپری عمل ہوتا ہے جو معمولی جھٹکا لگتے ہی باطل ثابت ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ توحید کے ساتھ کیا ہوا عمل آخرت میں اپنا نتیجہ دکھاتا ہے اور شرک کے ساتھ کیا ہوا عمل اسی دنیا میں برباد ہو کر رہ جاتا ہے، وہ آخرت تک نہیں پہنچتا۔ اس دنیا میں آدمی کا اصلی مقابلہ شیطان سے ہے۔ تاہم شیطان کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ وه اتنا کرسکتا ہے کہ آدمی کو لفظی وعدوں کا فریب دے اور فرضی تمناؤں میںالجھائے۔ اور اس طرح لوگوں کو حق سے دور کردے۔ شیطان کی گمراہی کی دو خاص صورتیں ہیں۔ ایک، توہم پرستی اور دوسرے، خدا کی تخلیق میں فرق کرنا۔ توہم پرستی یہ ہے کہ کسی چیز سے ایسے نتیجہ کی امید کرلی جائے جس نتیجہ کا کوئی تعلق اس سے نہ ہو۔ مثلاً خود ساختہ مفروضوں کی بنیاد پر اللہ کے سوا کسی اورچیز کو معاملات میں مؤثر مان لینا، حالاں کہ اس دنیا میں اللہ کے سوا کسی کے پاس کوئی طاقت نہیں۔ یا زندگی کو عملاً دنیا کے حصول میں لگا دینا اور آخرت کے بارے میں فرضی خوش خیالیوں کی بنا پر یہ امید قائم کرلینا کہ وہ اپنے آپ حاصل ہوجائے گی۔ شیطان کے بہکاوے کا دوسرا طریقہ اللہ کے بتائے ہوئے نقشہ کو بدلنا ہے۔ خدا نے انسان کو اس فطرت پر پیدا کیا ہے کہ وہ اپنی تمام توجہ کو اللہ کی طرف لگائے، اس فطرت کو بدلنا یہ ہے کہ انسان کی توجہات کو دوسری دوسری چیزوں کی طرف مائل کردیا جائے۔ یا کسی مقصد کے حصول کا جو طریقہ فطری طورپر مقرر کیا گیا ہے اس کو بدل کر کسی خود ساختہ طریقے سے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کی جائے۔ کائنات کے خدائی نقشہ کی مطابقت میں انسان کو جس طرح رہنا چاہیے اس نقشہ کو ناپيد کردیا جائے۔

لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلَا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ ۗ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلَا يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا

📘 خدا اور آخرت کو ماننے والے لوگ جب دنیا پرستی میں غرق ہوتے ہیں تو وہ خدا اور آخرت کا انکار کرکے ایسا نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ آخرت کے معاملہ کو رسمی عقیدہ کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں اور عملاً اپنی تمام محنتیں اور سرگرمیاں دنیا کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ دنیا کی عزت اور دنیا کے فائدہ کو سمیٹنے کے معاملہ میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ان کو پانے کے لیے ان کے نزدیک مکمل جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔ مگر آخرت کی کامیابی کو پانے کے لیے صرف خوش فہمیاں ان کو کافی نظر آنے لگتی ہیں۔ کسی بزرگ کی سفارش، کسی بڑے گروہ سے وابستگی، کچھ پاک کلمات کا ورد، بس اس قسم کے سستے اعمال سے یہ امید قائم کرلی جاتی ہے کہ وہ آدمی کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائیں گے اور اس کو جنت کے پُربہار باغوں میں داخل کریں گے۔ مگر اس قسم کی خوش خیالیاں خواہ ان کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو، وہ کسی کے کچھ کام آنے والے نہیں۔ اللہ کا نظام حد درجہ محکم نظام ہے۔ اس کے یہاں تمام فیصلے حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ محض آرزوؤں کی بنیاد پر۔ اللہ کی عدالت میں ہر آدمی کا اپنا عمل دیکھا جائے گا اور جیسا جس کا عمل ہوگا ٹھیک اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ اللہ کے قانونِ عدل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو اللہ کے یہاں فیصلہ کی بنیاد بننے والی ہو۔ اللہ کا وہ بندہ کون ہے جس پر اللہ اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔ اس کی ایک تاریخی مثال ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ یہ وہ بندے ہیں جو دنیا میں اللہ کے مومن بن کررہیں۔ جو اپنے آپ کو ہمہ تن اپنے رب کی طرف یکسو کرلیں۔ جو اپنی وفاداریاں پوری طرح اللہ کے لیے خاص کردیں۔ انھوںنے دنیا میں اپنے معاملات کو اس طرح قائم کیا ہو کہ وہ ظلم اور سرکشی سے دور رہنے والے اور عدل اور تواضع کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہوں۔ چہرہ آدمی کے پورے وجود کا نمائندہ ہے۔ چہرہ خدا کی طرف پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کو خدا کی طرف پھیر دے۔ اللہ تمام کائنا ت کا مالک ہے۔ اس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ نے اپنے کو غیب کے پردہ میں چھپا دیا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اسی لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی خدا کو نہیں دیکھتا، وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ اگرآدمی یہ جان لے کہ انسان کے اختیار میں کچھ نہیں تو آدمی پر جو کچھ قیامت کے دن بیتنے والا ہے وہ اس پر آج ہی بیت جائے۔

وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَٰئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلَا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا

📘 خدا اور آخرت کو ماننے والے لوگ جب دنیا پرستی میں غرق ہوتے ہیں تو وہ خدا اور آخرت کا انکار کرکے ایسا نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ آخرت کے معاملہ کو رسمی عقیدہ کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں اور عملاً اپنی تمام محنتیں اور سرگرمیاں دنیا کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ دنیا کی عزت اور دنیا کے فائدہ کو سمیٹنے کے معاملہ میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ان کو پانے کے لیے ان کے نزدیک مکمل جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔ مگر آخرت کی کامیابی کو پانے کے لیے صرف خوش فہمیاں ان کو کافی نظر آنے لگتی ہیں۔ کسی بزرگ کی سفارش، کسی بڑے گروہ سے وابستگی، کچھ پاک کلمات کا ورد، بس اس قسم کے سستے اعمال سے یہ امید قائم کرلی جاتی ہے کہ وہ آدمی کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائیں گے اور اس کو جنت کے پُربہار باغوں میں داخل کریں گے۔ مگر اس قسم کی خوش خیالیاں خواہ ان کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو، وہ کسی کے کچھ کام آنے والے نہیں۔ اللہ کا نظام حد درجہ محکم نظام ہے۔ اس کے یہاں تمام فیصلے حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ محض آرزوؤں کی بنیاد پر۔ اللہ کی عدالت میں ہر آدمی کا اپنا عمل دیکھا جائے گا اور جیسا جس کا عمل ہوگا ٹھیک اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ اللہ کے قانونِ عدل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو اللہ کے یہاں فیصلہ کی بنیاد بننے والی ہو۔ اللہ کا وہ بندہ کون ہے جس پر اللہ اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔ اس کی ایک تاریخی مثال ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ یہ وہ بندے ہیں جو دنیا میں اللہ کے مومن بن کررہیں۔ جو اپنے آپ کو ہمہ تن اپنے رب کی طرف یکسو کرلیں۔ جو اپنی وفاداریاں پوری طرح اللہ کے لیے خاص کردیں۔ انھوںنے دنیا میں اپنے معاملات کو اس طرح قائم کیا ہو کہ وہ ظلم اور سرکشی سے دور رہنے والے اور عدل اور تواضع کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہوں۔ چہرہ آدمی کے پورے وجود کا نمائندہ ہے۔ چہرہ خدا کی طرف پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کو خدا کی طرف پھیر دے۔ اللہ تمام کائنا ت کا مالک ہے۔ اس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ نے اپنے کو غیب کے پردہ میں چھپا دیا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اسی لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی خدا کو نہیں دیکھتا، وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ اگرآدمی یہ جان لے کہ انسان کے اختیار میں کچھ نہیں تو آدمی پر جو کچھ قیامت کے دن بیتنے والا ہے وہ اس پر آج ہی بیت جائے۔

وَمَنْ أَحْسَنُ دِينًا مِمَّنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَاتَّبَعَ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا ۗ وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا

📘 خدا اور آخرت کو ماننے والے لوگ جب دنیا پرستی میں غرق ہوتے ہیں تو وہ خدا اور آخرت کا انکار کرکے ایسا نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ آخرت کے معاملہ کو رسمی عقیدہ کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں اور عملاً اپنی تمام محنتیں اور سرگرمیاں دنیا کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ دنیا کی عزت اور دنیا کے فائدہ کو سمیٹنے کے معاملہ میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ان کو پانے کے لیے ان کے نزدیک مکمل جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔ مگر آخرت کی کامیابی کو پانے کے لیے صرف خوش فہمیاں ان کو کافی نظر آنے لگتی ہیں۔ کسی بزرگ کی سفارش، کسی بڑے گروہ سے وابستگی، کچھ پاک کلمات کا ورد، بس اس قسم کے سستے اعمال سے یہ امید قائم کرلی جاتی ہے کہ وہ آدمی کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائیں گے اور اس کو جنت کے پُربہار باغوں میں داخل کریں گے۔ مگر اس قسم کی خوش خیالیاں خواہ ان کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو، وہ کسی کے کچھ کام آنے والے نہیں۔ اللہ کا نظام حد درجہ محکم نظام ہے۔ اس کے یہاں تمام فیصلے حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ محض آرزوؤں کی بنیاد پر۔ اللہ کی عدالت میں ہر آدمی کا اپنا عمل دیکھا جائے گا اور جیسا جس کا عمل ہوگا ٹھیک اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ اللہ کے قانونِ عدل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو اللہ کے یہاں فیصلہ کی بنیاد بننے والی ہو۔ اللہ کا وہ بندہ کون ہے جس پر اللہ اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔ اس کی ایک تاریخی مثال ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ یہ وہ بندے ہیں جو دنیا میں اللہ کے مومن بن کررہیں۔ جو اپنے آپ کو ہمہ تن اپنے رب کی طرف یکسو کرلیں۔ جو اپنی وفاداریاں پوری طرح اللہ کے لیے خاص کردیں۔ انھوںنے دنیا میں اپنے معاملات کو اس طرح قائم کیا ہو کہ وہ ظلم اور سرکشی سے دور رہنے والے اور عدل اور تواضع کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہوں۔ چہرہ آدمی کے پورے وجود کا نمائندہ ہے۔ چہرہ خدا کی طرف پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کو خدا کی طرف پھیر دے۔ اللہ تمام کائنا ت کا مالک ہے۔ اس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ نے اپنے کو غیب کے پردہ میں چھپا دیا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اسی لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی خدا کو نہیں دیکھتا، وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ اگرآدمی یہ جان لے کہ انسان کے اختیار میں کچھ نہیں تو آدمی پر جو کچھ قیامت کے دن بیتنے والا ہے وہ اس پر آج ہی بیت جائے۔

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطًا

📘 خدا اور آخرت کو ماننے والے لوگ جب دنیا پرستی میں غرق ہوتے ہیں تو وہ خدا اور آخرت کا انکار کرکے ایسا نہیں کرتے۔ وہ صرف یہ کرتے ہیں کہ آخرت کے معاملہ کو رسمی عقیدہ کے خانہ میں ڈال دیتے ہیں اور عملاً اپنی تمام محنتیں اور سرگرمیاں دنیا کو حاصل کرنے میں لگا دیتے ہیں۔ دنیا کی عزت اور دنیا کے فائدہ کو سمیٹنے کے معاملہ میں وہ پوری طرح سنجیدہ ہوتے ہیں۔ ان کو پانے کے لیے ان کے نزدیک مکمل جدوجہد ضروری ہوتی ہے۔ مگر آخرت کی کامیابی کو پانے کے لیے صرف خوش فہمیاں ان کو کافی نظر آنے لگتی ہیں۔ کسی بزرگ کی سفارش، کسی بڑے گروہ سے وابستگی، کچھ پاک کلمات کا ورد، بس اس قسم کے سستے اعمال سے یہ امید قائم کرلی جاتی ہے کہ وہ آدمی کو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ سے بچائیں گے اور اس کو جنت کے پُربہار باغوں میں داخل کریں گے۔ مگر اس قسم کی خوش خیالیاں خواہ ان کو کتنے ہی خوب صورت الفاظ میں بیان کیا گیا ہو، وہ کسی کے کچھ کام آنے والے نہیں۔ اللہ کا نظام حد درجہ محکم نظام ہے۔ اس کے یہاں تمام فیصلے حقیقتوں کی بنیاد پر ہوتے ہیں، نہ کہ محض آرزوؤں کی بنیاد پر۔ اللہ کی عدالت میں ہر آدمی کا اپنا عمل دیکھا جائے گا اور جیسا جس کا عمل ہوگا ٹھیک اسی کے مطابق اس کا فیصلہ ہوگا۔ اللہ کے قانونِ عدل کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو اللہ کے یہاں فیصلہ کی بنیاد بننے والی ہو۔ اللہ کا وہ بندہ کون ہے جس پر اللہ اپنی رحمتوں کی بارش کرے گا۔ اس کی ایک تاریخی مثال ابراہیم علیہ السلام ہیں۔ یہ وہ بندے ہیں جو دنیا میں اللہ کے مومن بن کررہیں۔ جو اپنے آپ کو ہمہ تن اپنے رب کی طرف یکسو کرلیں۔ جو اپنی وفاداریاں پوری طرح اللہ کے لیے خاص کردیں۔ انھوںنے دنیا میں اپنے معاملات کو اس طرح قائم کیا ہو کہ وہ ظلم اور سرکشی سے دور رہنے والے اور عدل اور تواضع کے ساتھ زندگی بسر کرنے والے ہوں۔ چہرہ آدمی کے پورے وجود کا نمائندہ ہے۔ چہرہ خدا کی طرف پھیرنے کا مطلب یہ ہے کہ آدمی اپنے پورے وجود کو خدا کی طرف پھیر دے۔ اللہ تمام کائنا ت کا مالک ہے۔ اس کے پاس ہر قسم کی طاقتیں ہیں۔ مگر موجودہ دنیا میں اللہ نے اپنے کو غیب کے پردہ میں چھپا دیا ہے۔ دنیا میں جتنی بھی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں اسی لیے پیدا ہوتی ہیں کہ آدمی خدا کو نہیں دیکھتا، وہ سمجھ لیتا ہے کہ میں آزاد ہوں کہ جو چاہوں کروں۔ اگرآدمی یہ جان لے کہ انسان کے اختیار میں کچھ نہیں تو آدمی پر جو کچھ قیامت کے دن بیتنے والا ہے وہ اس پر آج ہی بیت جائے۔

وَيَسْتَفْتُونَكَ فِي النِّسَاءِ ۖ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَىٰ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ فِي يَتَامَى النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا كُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْكِحُوهُنَّ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الْوِلْدَانِ وَأَنْ تَقُومُوا لِلْيَتَامَىٰ بِالْقِسْطِ ۚ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِهِ عَلِيمًا

📘 پوچھنے والوں نے بعض معاشرتی امور کی بابت شرعی حکم دریافت کیا تھا۔ اس سلسلے میں حکم بتاتے ہوئے خیر وانصاف اور صلاح وتقویٰ پر زور دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون اسی وقت اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے جب کہ اس کو عمل میں لانے والا آدمی اللہ سے ڈرتا ہو اور فی الواقع انصاف کا طالب ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قانون کی ظاہری تعمیل کے باوجود حقیقی بہتری پیدا نہیں ہوسکتی۔ معاشرہ کی واقعی اصلاح صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ برائی کرنے والا برائی سے اس ليے ڈرے کہ اصل معاملہ خدا سے ہے اور برائی کرنے کے بعد میں کسی طرح اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح بھلائی کرنے والا یہ سوچے کہ لوگوں کی طرف سے خواہ مجھے اس کا کوئی صلہ نہ ملے مگر اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ ضرور مجھ کو اس کا انعام دے گا۔ جہنم کا اندیشہ آدمی کو ظلم سے روکتا ہے اور جنت کی امید اس نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کردیتی ہے جو حق پرستانہ زندگی کے نتیجہ میں لازماً سامنے آتا ہے۔ میاں بیوی یادو آدمیوں میں اختلاف کی وجہ ہمیشہ حرص ہوتی ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کا لحاظ كيے بغیر صرف اپنے مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ذہنیت ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطمئن بنا دیتی ہے۔ صحیح مزاج یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی معذوری کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی رعایت کرتے ہوئے کسی باہمی تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اللہ کا مطالبہ جس طرح یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی رعایت کرے، اسی طرح اللہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ آخری حد تک رعایت فرماتا ہے۔ اللہ کے یہاں آدمی کی پکڑ ا س کی فطری کمزوریوں پر نہیں ہے بلکہ اس کی اس سرکشی پر ہے جو وہ جان بوجھ کر کرتا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے اور دل میں اصلاح کا جذبہ رکھے تو وہ نیت کی درستگی کے ساتھ جو کچھ کرے گا اس کے لیے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی قرار پائے گا۔ اسی کے ساتھ آدمی کو کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑنا چاہیے کہ وہ دوسرے کا کام بنانے والا ہے۔ ہر ایک کا کام بنانے والا صرف اللہ ہے، خواہ وہ بظاہر ایک طرح کے حالات میں ہو یا دوسری طرح کے حالات میں۔

وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا ۚ وَالصُّلْحُ خَيْرٌ ۗ وَأُحْضِرَتِ الْأَنْفُسُ الشُّحَّ ۚ وَإِنْ تُحْسِنُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

📘 پوچھنے والوں نے بعض معاشرتی امور کی بابت شرعی حکم دریافت کیا تھا۔ اس سلسلے میں حکم بتاتے ہوئے خیر وانصاف اور صلاح وتقویٰ پر زور دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون اسی وقت اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے جب کہ اس کو عمل میں لانے والا آدمی اللہ سے ڈرتا ہو اور فی الواقع انصاف کا طالب ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قانون کی ظاہری تعمیل کے باوجود حقیقی بہتری پیدا نہیں ہوسکتی۔ معاشرہ کی واقعی اصلاح صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ برائی کرنے والا برائی سے اس ليے ڈرے کہ اصل معاملہ خدا سے ہے اور برائی کرنے کے بعد میں کسی طرح اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح بھلائی کرنے والا یہ سوچے کہ لوگوں کی طرف سے خواہ مجھے اس کا کوئی صلہ نہ ملے مگر اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ ضرور مجھ کو اس کا انعام دے گا۔ جہنم کا اندیشہ آدمی کو ظلم سے روکتا ہے اور جنت کی امید اس نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کردیتی ہے جو حق پرستانہ زندگی کے نتیجہ میں لازماً سامنے آتا ہے۔ میاں بیوی یادو آدمیوں میں اختلاف کی وجہ ہمیشہ حرص ہوتی ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کا لحاظ كيے بغیر صرف اپنے مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ذہنیت ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطمئن بنا دیتی ہے۔ صحیح مزاج یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی معذوری کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی رعایت کرتے ہوئے کسی باہمی تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اللہ کا مطالبہ جس طرح یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی رعایت کرے، اسی طرح اللہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ آخری حد تک رعایت فرماتا ہے۔ اللہ کے یہاں آدمی کی پکڑ ا س کی فطری کمزوریوں پر نہیں ہے بلکہ اس کی اس سرکشی پر ہے جو وہ جان بوجھ کر کرتا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے اور دل میں اصلاح کا جذبہ رکھے تو وہ نیت کی درستگی کے ساتھ جو کچھ کرے گا اس کے لیے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی قرار پائے گا۔ اسی کے ساتھ آدمی کو کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑنا چاہیے کہ وہ دوسرے کا کام بنانے والا ہے۔ ہر ایک کا کام بنانے والا صرف اللہ ہے، خواہ وہ بظاہر ایک طرح کے حالات میں ہو یا دوسری طرح کے حالات میں۔

وَلَنْ تَسْتَطِيعُوا أَنْ تَعْدِلُوا بَيْنَ النِّسَاءِ وَلَوْ حَرَصْتُمْ ۖ فَلَا تَمِيلُوا كُلَّ الْمَيْلِ فَتَذَرُوهَا كَالْمُعَلَّقَةِ ۚ وَإِنْ تُصْلِحُوا وَتَتَّقُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 پوچھنے والوں نے بعض معاشرتی امور کی بابت شرعی حکم دریافت کیا تھا۔ اس سلسلے میں حکم بتاتے ہوئے خیر وانصاف اور صلاح وتقویٰ پر زور دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون اسی وقت اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے جب کہ اس کو عمل میں لانے والا آدمی اللہ سے ڈرتا ہو اور فی الواقع انصاف کا طالب ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قانون کی ظاہری تعمیل کے باوجود حقیقی بہتری پیدا نہیں ہوسکتی۔ معاشرہ کی واقعی اصلاح صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ برائی کرنے والا برائی سے اس ليے ڈرے کہ اصل معاملہ خدا سے ہے اور برائی کرنے کے بعد میں کسی طرح اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح بھلائی کرنے والا یہ سوچے کہ لوگوں کی طرف سے خواہ مجھے اس کا کوئی صلہ نہ ملے مگر اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ ضرور مجھ کو اس کا انعام دے گا۔ جہنم کا اندیشہ آدمی کو ظلم سے روکتا ہے اور جنت کی امید اس نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کردیتی ہے جو حق پرستانہ زندگی کے نتیجہ میں لازماً سامنے آتا ہے۔ میاں بیوی یادو آدمیوں میں اختلاف کی وجہ ہمیشہ حرص ہوتی ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کا لحاظ كيے بغیر صرف اپنے مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ذہنیت ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطمئن بنا دیتی ہے۔ صحیح مزاج یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی معذوری کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی رعایت کرتے ہوئے کسی باہمی تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اللہ کا مطالبہ جس طرح یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی رعایت کرے، اسی طرح اللہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ آخری حد تک رعایت فرماتا ہے۔ اللہ کے یہاں آدمی کی پکڑ ا س کی فطری کمزوریوں پر نہیں ہے بلکہ اس کی اس سرکشی پر ہے جو وہ جان بوجھ کر کرتا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے اور دل میں اصلاح کا جذبہ رکھے تو وہ نیت کی درستگی کے ساتھ جو کچھ کرے گا اس کے لیے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی قرار پائے گا۔ اسی کے ساتھ آدمی کو کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑنا چاہیے کہ وہ دوسرے کا کام بنانے والا ہے۔ ہر ایک کا کام بنانے والا صرف اللہ ہے، خواہ وہ بظاہر ایک طرح کے حالات میں ہو یا دوسری طرح کے حالات میں۔

تِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ ۚ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يُدْخِلْهُ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ۚ وَذَٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ

📘 آدمی جو قانون بناتا ہے اس میں کسی نہ کسی پہلو کی طرف جھکاؤ ہوجاتا ہے۔ قدیم قبائلی دور میں لڑکا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ وہ قبیلہ کے لیے طاقت کا ذریعہ تھا۔ اس ليے وراثت میں لڑکی کو محروم کرکے سارا حق لڑکے کو دے دیاگیا۔ موجودہ زمانے میں اس کا رد عمل ہوا تو لڑکا اور لڑکی دونوں برابر کرديے گئے۔ لیکن پچھلا اصول اگر غیر منصفانہ تھا تو موجودہ اصول غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کا علم وحکمت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ جو قانون دے وہ ہر قسم کی بے اعتدالی سے پاک ہو۔ اللہ نے اس سلسلہ میں جو ضابطے مقرر کيے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ سماجی انصاف کا حقیقی ذریعہ ہیں بلکہ آخرت کی زندگی سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے۔ یتیموں کے حقوق ادا کرنا، وصیت کی تعمیل کرنا، وراثت کو اس کے وارثوں تک پہنچانا ان امور میں سے ہیں جن پر آدمی کی دوزخ اور جنت کا انحصار ہے۔ 1/3 حصہ میں وصیت کرنا شرعاً جائزہے۔ لیکن کوئی شخص ایسی وصیت کرے جس کا مقصد حق دار کو وراثت سے محروم کرنا ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو اس کو جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے (مَنْ ضَارَّ فِي وَصِيَّتِهِ أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي وَادِي جَهَنَّمَ ) البحر المحيط لأبی حيان الأندلسی، جلد 3، صفحہ 549 ۔اس معاملہ میں آدمی کو خدا کے مقرر کیے ہوئے ضابطہ پر چلنا ہے، نہ کہ ذاتی خواہشوں اور خاندانی مصلحتوں کے اوپر۔

وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلًّا مِنْ سَعَتِهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا

📘 پوچھنے والوں نے بعض معاشرتی امور کی بابت شرعی حکم دریافت کیا تھا۔ اس سلسلے میں حکم بتاتے ہوئے خیر وانصاف اور صلاح وتقویٰ پر زور دیا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کوئی بھی قانون اسی وقت اپنے مقصد کو پورا کرتا ہے جب کہ اس کو عمل میں لانے والا آدمی اللہ سے ڈرتا ہو اور فی الواقع انصاف کا طالب ہو۔ اگر ایسا نہ ہو تو قانون کی ظاہری تعمیل کے باوجود حقیقی بہتری پیدا نہیں ہوسکتی۔ معاشرہ کی واقعی اصلاح صرف اس وقت ہوتی ہے جب کہ برائی کرنے والا برائی سے اس ليے ڈرے کہ اصل معاملہ خدا سے ہے اور برائی کرنے کے بعد میں کسی طرح اس کی پکڑ سے بچ نہیں سکتا۔ اسی طرح بھلائی کرنے والا یہ سوچے کہ لوگوں کی طرف سے خواہ مجھے اس کا کوئی صلہ نہ ملے مگر اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور وہ ضرور مجھ کو اس کا انعام دے گا۔ جہنم کا اندیشہ آدمی کو ظلم سے روکتا ہے اور جنت کی امید اس نقصان کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کردیتی ہے جو حق پرستانہ زندگی کے نتیجہ میں لازماً سامنے آتا ہے۔ میاں بیوی یادو آدمیوں میں اختلاف کی وجہ ہمیشہ حرص ہوتی ہے۔ ایک فریق دوسرے فریق کا لحاظ كيے بغیر صرف اپنے مطالبات کو پورا کرنا چاہتا ہے۔ یہ ذہنیت ہر ایک کو دوسرے کی طرف سے غیر مطمئن بنا دیتی ہے۔ صحیح مزاج یہ ہے کہ دونوں فریق ایک دوسرے کی معذوری کو سمجھیں اور ایک دوسرے کی رعایت کرتے ہوئے کسی باہمی تصفیہ پر پہنچنے کی کوشش کریں۔ اللہ کا مطالبہ جس طرح یہ ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کی رعایت کرے، اسی طرح اللہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ آخری حد تک رعایت فرماتا ہے۔ اللہ کے یہاں آدمی کی پکڑ ا س کی فطری کمزوریوں پر نہیں ہے بلکہ اس کی اس سرکشی پر ہے جو وہ جان بوجھ کر کرتا ہے۔ اگر آدمی اللہ سے ڈرے اور دل میں اصلاح کا جذبہ رکھے تو وہ نیت کی درستگی کے ساتھ جو کچھ کرے گا اس کے لیے وہ اللہ کے یہاں قابل معافی قرار پائے گا۔ اسی کے ساتھ آدمی کو کبھی اس غلط فہمی میں نہ پڑنا چاہیے کہ وہ دوسرے کا کام بنانے والا ہے۔ ہر ایک کا کام بنانے والا صرف اللہ ہے، خواہ وہ بظاہر ایک طرح کے حالات میں ہو یا دوسری طرح کے حالات میں۔

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَلَقَدْ وَصَّيْنَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَإِيَّاكُمْ أَنِ اتَّقُوا اللَّهَ ۚ وَإِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَنِيًّا حَمِيدًا

📘 دنیا میں آدمی کو جو صالح زندگی اختیار کرنا ہے وہ اس کو اسی وقت اختیار کرسکتا ہے جب کہ وہ اندر سے اللہ والا بن گیا ہو۔ اللہ کو مالک کائنات کی حیثیت سے پالینا، صرف اللہ سے ڈرنا اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا، آخرت کو اصل سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دنیا میں اس طرح كي صالح زندگی گزارے جو اللہ کو مطلوب ہے اور جو اس کو آخرت کی دنیا میں کامیاب کرنے والی ہے۔ اسی لیے نبیوں کی تعلیمات میں ہمیشہ اسی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ دنیا آزمائش کے لیے ہے۔ یہاں ہر آدمی کو جانچ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں آدمی کو ہر قسم کے عمل کی آزادی ہو۔ حتی کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہو کہ وہ اپنے سیاہ کو سفید کہہ سکے اور اپنی بے عملی کو عمل کا نام دے۔ یہاں ایک آدمی کے لیے ممکن ہے کہ وہ برائیوںمیں مبتلا ہو مگر اس کو بیان کرنے کے لیے وہ بہترین الفاظ پالے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک کھلی ہوئی سچائی کا انکار کردے اور اپنے انکار کی ایک خوب صورت توجیہہ تلا ش کرلے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی جاہ طلبی، شہرت پسندی، نفع اندوزی اور مصلحت پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے اور اس کے باوجود وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ خالص حق کے لیے کام کررہا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کے دین کو اپنے دنیوی اور مادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنائے، اور پھر بھی وہ دنیا میں پھلتا اور پھولتا رہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی حلال کو چھوڑ کر حرام ذرائع اختیار کرے، انصاف کے بجائے وہ ظلم کے راستہ پر چلے اور اس کے باوجوداس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ ان مختلف مواقع پر آدمی چاہے تو اپنے کو حق وصداقت کا پابند بنا لے اور چاہے تو سرکشی اور بے انصافی کی طرف چل پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کے تمام احکام میں اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں۔ یہ صرف اللہ کا ڈر ہے جو اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ اگر اللہ کا ڈر نہ ہو تو ایک ایسی دنیا میں کسی کو باطل سے روکنے والی کیا چیز ہوسکتی ہے جہاں باطل کو بھی حق کے پیرایہ میں بیان کیا جاسکتا ہو اور جہاں بے انصافی کی بنیاد پر بھی بڑی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہوں۔ جہاں ہر ظالم کو اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے خوب صورت الفاظ مل جاتے ہوں۔

وَلِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا

📘 دنیا میں آدمی کو جو صالح زندگی اختیار کرنا ہے وہ اس کو اسی وقت اختیار کرسکتا ہے جب کہ وہ اندر سے اللہ والا بن گیا ہو۔ اللہ کو مالک کائنات کی حیثیت سے پالینا، صرف اللہ سے ڈرنا اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا، آخرت کو اصل سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دنیا میں اس طرح كي صالح زندگی گزارے جو اللہ کو مطلوب ہے اور جو اس کو آخرت کی دنیا میں کامیاب کرنے والی ہے۔ اسی لیے نبیوں کی تعلیمات میں ہمیشہ اسی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ دنیا آزمائش کے لیے ہے۔ یہاں ہر آدمی کو جانچ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں آدمی کو ہر قسم کے عمل کی آزادی ہو۔ حتی کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہو کہ وہ اپنے سیاہ کو سفید کہہ سکے اور اپنی بے عملی کو عمل کا نام دے۔ یہاں ایک آدمی کے لیے ممکن ہے کہ وہ برائیوںمیں مبتلا ہو مگر اس کو بیان کرنے کے لیے وہ بہترین الفاظ پالے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک کھلی ہوئی سچائی کا انکار کردے اور اپنے انکار کی ایک خوب صورت توجیہہ تلا ش کرلے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی جاہ طلبی، شہرت پسندی، نفع اندوزی اور مصلحت پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے اور اس کے باوجود وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ خالص حق کے لیے کام کررہا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کے دین کو اپنے دنیوی اور مادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنائے، اور پھر بھی وہ دنیا میں پھلتا اور پھولتا رہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی حلال کو چھوڑ کر حرام ذرائع اختیار کرے، انصاف کے بجائے وہ ظلم کے راستہ پر چلے اور اس کے باوجوداس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ ان مختلف مواقع پر آدمی چاہے تو اپنے کو حق وصداقت کا پابند بنا لے اور چاہے تو سرکشی اور بے انصافی کی طرف چل پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کے تمام احکام میں اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں۔ یہ صرف اللہ کا ڈر ہے جو اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ اگر اللہ کا ڈر نہ ہو تو ایک ایسی دنیا میں کسی کو باطل سے روکنے والی کیا چیز ہوسکتی ہے جہاں باطل کو بھی حق کے پیرایہ میں بیان کیا جاسکتا ہو اور جہاں بے انصافی کی بنیاد پر بھی بڑی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہوں۔ جہاں ہر ظالم کو اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے خوب صورت الفاظ مل جاتے ہوں۔

إِنْ يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ أَيُّهَا النَّاسُ وَيَأْتِ بِآخَرِينَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ ذَٰلِكَ قَدِيرًا

📘 دنیا میں آدمی کو جو صالح زندگی اختیار کرنا ہے وہ اس کو اسی وقت اختیار کرسکتا ہے جب کہ وہ اندر سے اللہ والا بن گیا ہو۔ اللہ کو مالک کائنات کی حیثیت سے پالینا، صرف اللہ سے ڈرنا اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا، آخرت کو اصل سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دنیا میں اس طرح كي صالح زندگی گزارے جو اللہ کو مطلوب ہے اور جو اس کو آخرت کی دنیا میں کامیاب کرنے والی ہے۔ اسی لیے نبیوں کی تعلیمات میں ہمیشہ اسی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ دنیا آزمائش کے لیے ہے۔ یہاں ہر آدمی کو جانچ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں آدمی کو ہر قسم کے عمل کی آزادی ہو۔ حتی کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہو کہ وہ اپنے سیاہ کو سفید کہہ سکے اور اپنی بے عملی کو عمل کا نام دے۔ یہاں ایک آدمی کے لیے ممکن ہے کہ وہ برائیوںمیں مبتلا ہو مگر اس کو بیان کرنے کے لیے وہ بہترین الفاظ پالے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک کھلی ہوئی سچائی کا انکار کردے اور اپنے انکار کی ایک خوب صورت توجیہہ تلا ش کرلے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی جاہ طلبی، شہرت پسندی، نفع اندوزی اور مصلحت پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے اور اس کے باوجود وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ خالص حق کے لیے کام کررہا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کے دین کو اپنے دنیوی اور مادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنائے، اور پھر بھی وہ دنیا میں پھلتا اور پھولتا رہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی حلال کو چھوڑ کر حرام ذرائع اختیار کرے، انصاف کے بجائے وہ ظلم کے راستہ پر چلے اور اس کے باوجوداس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ ان مختلف مواقع پر آدمی چاہے تو اپنے کو حق وصداقت کا پابند بنا لے اور چاہے تو سرکشی اور بے انصافی کی طرف چل پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کے تمام احکام میں اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں۔ یہ صرف اللہ کا ڈر ہے جو اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ اگر اللہ کا ڈر نہ ہو تو ایک ایسی دنیا میں کسی کو باطل سے روکنے والی کیا چیز ہوسکتی ہے جہاں باطل کو بھی حق کے پیرایہ میں بیان کیا جاسکتا ہو اور جہاں بے انصافی کی بنیاد پر بھی بڑی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہوں۔ جہاں ہر ظالم کو اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے خوب صورت الفاظ مل جاتے ہوں۔

مَنْ كَانَ يُرِيدُ ثَوَابَ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ ثَوَابُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا بَصِيرًا

📘 دنیا میں آدمی کو جو صالح زندگی اختیار کرنا ہے وہ اس کو اسی وقت اختیار کرسکتا ہے جب کہ وہ اندر سے اللہ والا بن گیا ہو۔ اللہ کو مالک کائنات کی حیثیت سے پالینا، صرف اللہ سے ڈرنا اور صرف اللہ پر بھروسہ کرنا، آخرت کو اصل سمجھ کر اس کی طرف متوجہ ہوجانا، یہی وہ چیزیں ہیں جو کسی آدمی کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ دنیا میں اس طرح كي صالح زندگی گزارے جو اللہ کو مطلوب ہے اور جو اس کو آخرت کی دنیا میں کامیاب کرنے والی ہے۔ اسی لیے نبیوں کی تعلیمات میں ہمیشہ اسی پر سب سے زیادہ زور دیا جاتا رہا ہے۔ موجودہ دنیا آزمائش کے لیے ہے۔ یہاں ہر آدمی کو جانچ کر دیکھا جارہا ہے کہ کون اچھا ہے اور کون برا۔ اس مقصد کے لیے موجودہ دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا گیا ہے کہ یہاں آدمی کو ہر قسم کے عمل کی آزادی ہو۔ حتی کہ اس کو یہ موقع بھی حاصل ہو کہ وہ اپنے سیاہ کو سفید کہہ سکے اور اپنی بے عملی کو عمل کا نام دے۔ یہاں ایک آدمی کے لیے ممکن ہے کہ وہ برائیوںمیں مبتلا ہو مگر اس کو بیان کرنے کے لیے وہ بہترین الفاظ پالے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی ایک کھلی ہوئی سچائی کا انکار کردے اور اپنے انکار کی ایک خوب صورت توجیہہ تلا ش کرلے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی جاہ طلبی، شہرت پسندی، نفع اندوزی اور مصلحت پر اپنی زندگی کی تعمیر کرے اور اس کے باوجود وہ لوگوں کو یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوجائے کہ وہ خالص حق کے لیے کام کررہا ہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ ایک شخص خدا کے دین کو اپنے دنیوی اور مادی مقاصد کے حصول کا ذریعہ بنائے، اور پھر بھی وہ دنیا میں پھلتا اور پھولتا رہے۔ یہاں یہ ممکن ہے کہ آدمی حلال کو چھوڑ کر حرام ذرائع اختیار کرے، انصاف کے بجائے وہ ظلم کے راستہ پر چلے اور اس کے باوجوداس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہ ہو۔ ان مختلف مواقع پر آدمی چاہے تو اپنے کو حق وصداقت کا پابند بنا لے اور چاہے تو سرکشی اور بے انصافی کی طرف چل پڑے۔ حقیقت یہ ہے کہ دین کے تمام احکام میں اہمیت کی چیز یہ ہے کہ آدمی اللہ سے ڈرتا ہے یا نہیں۔ یہ صرف اللہ کا ڈر ہے جو اس کو ذمہ دارانہ زندگی گزارنے کے قابل بناتا ہے۔ اگر اللہ کا ڈر نہ ہو تو ایک ایسی دنیا میں کسی کو باطل سے روکنے والی کیا چیز ہوسکتی ہے جہاں باطل کو بھی حق کے پیرایہ میں بیان کیا جاسکتا ہو اور جہاں بے انصافی کی بنیاد پر بھی بڑی بڑی ترقیاں حاصل کی جاسکتی ہوں۔ جہاں ہر ظالم کو اپنے ظلم کو چھپانے کے لیے خوب صورت الفاظ مل جاتے ہوں۔

۞ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَىٰ أَنْفُسِكُمْ أَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ ۚ إِنْ يَكُنْ غَنِيًّا أَوْ فَقِيرًا فَاللَّهُ أَوْلَىٰ بِهِمَا ۖ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوَىٰ أَنْ تَعْدِلُوا ۚ وَإِنْ تَلْوُوا أَوْ تُعْرِضُوا فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

📘 اجتماعی زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کے سامنے ایسا معاملہ آتا ہے جس میں ایک راستہ اپنے مفاد اور خواہش کا ہوتا ہے اور دوسرا حق اور انصاف کا۔ جولوگ اللہ کی طرف سے غافل ہوتے ہیں، جن کو یقین نہیں ہوتا کہ اللہ ہر وقت ان کو دیکھ رہا ہے وہ ایسے مواقع پر اپنی خواہش کے رخ پر چل پڑتے ہیں۔ وہ اس کو کامیابی سمجھتے ہیں کہ حق کی پروا نہ کریں اور معاملہ کو اپنے مفاد اور اپنی مصلحت کے مطابق طے کریں۔ مگر جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں، جو اللہ کو اپنا نگراں بنائے ہوئے ہیں وہ تمام تر انصاف کے پہلو کو دیکھتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو حق و انصاف کا تقاضا ہو۔ ان کی کوشش ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ ان کو موت آئے تو اس حال میں آئے کہ انھوں نے کسی کے ساتھ بے انصافی نہ کی ہو، وہ اپنے آپ کو مکمل طورپر قسط اور عدل پر قائم کیے ہوئے ہوں۔ ان کی انصاف پسندی کا یہ جذبہ اتنا بڑھا ہوا ہوتا ہے کہ ان کے لیے ناممکن ہوجاتا ہے کہ وہ انصاف سے ہٹا ہوا کوئی رویہ دیکھیں اور اس کو برداشت کرلیں۔ جب بھی ایسا کوئی معاملہ سامنے آتا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے ساتھ ناانصافی کررہا ہو تو وہ ایسے موقع پر حق کا اعلان کرنے سے باز نہیں رہتے۔ اگر انصاف کا اعلان کرنے میں ان کے قریبی تعلق والوں پر زد پڑتی ہو یا ان کی اپنی مصلحتیں مجروح ہوتی ہوں تب بھی وہ وہی کہتے ہیں جو انصاف کی رو سے انھیں کہنا چاہیے۔ ان کی زبان کھلتی ہے تو اللہ کے لیے کھلتی ہے، نہ کہ کسی اور چیز کے لیے۔ اسی طرح یہ بات بھی غلط ہے کہ صاحب معاملہ طاقت ور ہو تو اس کو اس کا حق دیا جائے اور اگر صاحب معاملہ کمزور ہو تو اس کا حق اس کو نہ دیا جائے۔ مومن وہ ہے جو ہر آدمی کے ساتھ انصاف کرے، خواہ وہ زور آور ہو یاکم زور۔ جب کوئی آدمی ناانصافی کا ساتھ دے تو وہ یہ کہہ کر ایسا نہیں کرتا کہ میں نا انصافی کرنے والے کا ساتھی ہوں۔ بلکہ وہ اپنی ناانصافی کو انصاف کا رنگ دینے کی کوشش کرتاہے۔ ایسے موقع پر ہر آدمی دو میں سے کوئی ایک رویہ اختیار کرتا ہے۔ یا تو وہ یہ کرتا ہے کہ بات کو بدل دیتا ہے۔وہ معاملہ کی نوعیت کو ایسے الفاظ میں بیان کرتا ہے جس سے ظاہر ہو که یہ ناانصافی کا معاملہ نہیں بلکہ عین انصاف کا معاملہ ہے جس کے ساتھ زیادتی کی جارہی ہے وہ اسی کا مستحق ہے کہ اس کے ساتھ ایسا کیا جائے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ آدمی خاموشی اختیار کرلے۔ یہ جانتے ہوئے کہ یہاں ناانصافی کی جارہی ہے وہ کتراکر نکل جائے اور جو کہنے کی بات ہے اس کو زبان پر نہ لائے۔ اس قسم کا طرز عمل ثابت کرتاہے کہ آدمی اپنے اوپر اللہ کو نگراں نہیں سمجھتا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا آمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي نَزَّلَ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَالْكِتَابِ الَّذِي أَنْزَلَ مِنْ قَبْلُ ۚ وَمَنْ يَكْفُرْ بِاللَّهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا بَعِيدًا

📘 ’’ایمان والوایمان لاؤ‘‘ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ مسلمانوں مسلمان بنو۔ اپنے کو مسلمان کہنا یا مسلمان سمجھنا اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ آدمی اللہ کے یہاں بھی مسلمان قرار پائے۔ اللہ کے یہاں صرف وہ شخص مسلمان قرار پائے گا جو اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کے یقین واعتماد کا مرکز بن جائے۔ جو رسول کو اس طرح مانے کہ ہر دوسری رہنمائی اس کے لیے بے حقیقت ہوجائے۔ جو آسمانی کتاب کو اس طرح اپنائے کہ اس کی سوچ اور جذبات بالکل اس کے تابع ہوجائیں۔ جو فرشتوں کے عقیدہ کو اس طرح اپنے دل میں بٹھائے کہ اس کو محسوس ہونے لگے کہ اس کے دائیں بائیں ہر وقت خدا کے چوکیدار کھڑے ہوئے ہیں۔ جو آخرت کا اس طرح اقرار کرے کہ وہ اپنے ہر قول وفعل کو آخرت کی میزان پر جانچنے لگے۔ جو شخص اس طرح مومن بنے وہی اللہ کے نزدیک اس راستہ پر ہے جو ہدایت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ اور جو شخص اس طرح مومن نہ بنے وہ ایک بھٹکا ہوا انسان ہے، خواہ وہ اپنے آپ خود کو کتنا ہی مومن ومسلم سمجھتا ہو۔ ماننے اور نہ ماننے کا یہ معرکہ آدمی کی زندگی میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ پڑتا ہے تو آدمی کا ذہن دو میں سے کسی ایک رخ پر چل پڑتا ہے۔ یا خواہشات کی طرف یا حق کے تقاضے پورے کرنے کی طرف۔ اگر ایسا ہو کہ معاملہ کے وقت آدمی کی سوچ اور جذبات خواہش کی سمت میں چل پڑیں تو گویا ایمان لانے والے نے ایمان سے انکار کیا۔ ا س کے برعکس، اگر وہ اپنی سوچ اور جذبات کو حق کا پابند بنا لے تو گویا ایمان لانے والا ایمان لے آیا۔ آدمی مسلمان بن کر دنیا کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک حق بات اس کے سامنے آتی ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جو ایسے موقع پر تواضع کا رویہ اختیار کرے اور حق کا اعتراف کرے۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے اندر کبر کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ حق بات کو ٹھکرادے۔ پہلی صورت ایمان کی صورت ہے اور دوسری صورت ایمان کا انکار کرنے کی۔ جو شخص سچا مومن نہ ہو وہ دنیا کی عزت و جاہ کو پسند کرتا ہے اس لیے وہ ان لوگوں کی طرف جھک پڑتا ہے جن سے منسوب ہو کر اس کی عزت وجاہ میں اضافہ ہو، خواہ وہ اہلِ باطل ہوں۔ اس کو ان لوگوں سے دل چسپی نہیں ہوتی جن سے منسوب ہونا اس کی عزت وجاہ میں اضافہ نہ کرے، خواہ وہ اہلِ حق ہوں۔

إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ آمَنُوا ثُمَّ كَفَرُوا ثُمَّ ازْدَادُوا كُفْرًا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ سَبِيلًا

📘 ’’ایمان والوایمان لاؤ‘‘ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ مسلمانوں مسلمان بنو۔ اپنے کو مسلمان کہنا یا مسلمان سمجھنا اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ آدمی اللہ کے یہاں بھی مسلمان قرار پائے۔ اللہ کے یہاں صرف وہ شخص مسلمان قرار پائے گا جو اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کے یقین واعتماد کا مرکز بن جائے۔ جو رسول کو اس طرح مانے کہ ہر دوسری رہنمائی اس کے لیے بے حقیقت ہوجائے۔ جو آسمانی کتاب کو اس طرح اپنائے کہ اس کی سوچ اور جذبات بالکل اس کے تابع ہوجائیں۔ جو فرشتوں کے عقیدہ کو اس طرح اپنے دل میں بٹھائے کہ اس کو محسوس ہونے لگے کہ اس کے دائیں بائیں ہر وقت خدا کے چوکیدار کھڑے ہوئے ہیں۔ جو آخرت کا اس طرح اقرار کرے کہ وہ اپنے ہر قول وفعل کو آخرت کی میزان پر جانچنے لگے۔ جو شخص اس طرح مومن بنے وہی اللہ کے نزدیک اس راستہ پر ہے جو ہدایت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ اور جو شخص اس طرح مومن نہ بنے وہ ایک بھٹکا ہوا انسان ہے، خواہ وہ اپنے آپ خود کو کتنا ہی مومن ومسلم سمجھتا ہو۔ ماننے اور نہ ماننے کا یہ معرکہ آدمی کی زندگی میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ پڑتا ہے تو آدمی کا ذہن دو میں سے کسی ایک رخ پر چل پڑتا ہے۔ یا خواہشات کی طرف یا حق کے تقاضے پورے کرنے کی طرف۔ اگر ایسا ہو کہ معاملہ کے وقت آدمی کی سوچ اور جذبات خواہش کی سمت میں چل پڑیں تو گویا ایمان لانے والے نے ایمان سے انکار کیا۔ ا س کے برعکس، اگر وہ اپنی سوچ اور جذبات کو حق کا پابند بنا لے تو گویا ایمان لانے والا ایمان لے آیا۔ آدمی مسلمان بن کر دنیا کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک حق بات اس کے سامنے آتی ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جو ایسے موقع پر تواضع کا رویہ اختیار کرے اور حق کا اعتراف کرے۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے اندر کبر کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ حق بات کو ٹھکرادے۔ پہلی صورت ایمان کی صورت ہے اور دوسری صورت ایمان کا انکار کرنے کی۔ جو شخص سچا مومن نہ ہو وہ دنیا کی عزت و جاہ کو پسند کرتا ہے اس لیے وہ ان لوگوں کی طرف جھک پڑتا ہے جن سے منسوب ہو کر اس کی عزت وجاہ میں اضافہ ہو، خواہ وہ اہلِ باطل ہوں۔ اس کو ان لوگوں سے دل چسپی نہیں ہوتی جن سے منسوب ہونا اس کی عزت وجاہ میں اضافہ نہ کرے، خواہ وہ اہلِ حق ہوں۔

بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

📘 ’’ایمان والوایمان لاؤ‘‘ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ مسلمانوں مسلمان بنو۔ اپنے کو مسلمان کہنا یا مسلمان سمجھنا اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ آدمی اللہ کے یہاں بھی مسلمان قرار پائے۔ اللہ کے یہاں صرف وہ شخص مسلمان قرار پائے گا جو اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کے یقین واعتماد کا مرکز بن جائے۔ جو رسول کو اس طرح مانے کہ ہر دوسری رہنمائی اس کے لیے بے حقیقت ہوجائے۔ جو آسمانی کتاب کو اس طرح اپنائے کہ اس کی سوچ اور جذبات بالکل اس کے تابع ہوجائیں۔ جو فرشتوں کے عقیدہ کو اس طرح اپنے دل میں بٹھائے کہ اس کو محسوس ہونے لگے کہ اس کے دائیں بائیں ہر وقت خدا کے چوکیدار کھڑے ہوئے ہیں۔ جو آخرت کا اس طرح اقرار کرے کہ وہ اپنے ہر قول وفعل کو آخرت کی میزان پر جانچنے لگے۔ جو شخص اس طرح مومن بنے وہی اللہ کے نزدیک اس راستہ پر ہے جو ہدایت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ اور جو شخص اس طرح مومن نہ بنے وہ ایک بھٹکا ہوا انسان ہے، خواہ وہ اپنے آپ خود کو کتنا ہی مومن ومسلم سمجھتا ہو۔ ماننے اور نہ ماننے کا یہ معرکہ آدمی کی زندگی میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ پڑتا ہے تو آدمی کا ذہن دو میں سے کسی ایک رخ پر چل پڑتا ہے۔ یا خواہشات کی طرف یا حق کے تقاضے پورے کرنے کی طرف۔ اگر ایسا ہو کہ معاملہ کے وقت آدمی کی سوچ اور جذبات خواہش کی سمت میں چل پڑیں تو گویا ایمان لانے والے نے ایمان سے انکار کیا۔ ا س کے برعکس، اگر وہ اپنی سوچ اور جذبات کو حق کا پابند بنا لے تو گویا ایمان لانے والا ایمان لے آیا۔ آدمی مسلمان بن کر دنیا کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک حق بات اس کے سامنے آتی ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جو ایسے موقع پر تواضع کا رویہ اختیار کرے اور حق کا اعتراف کرے۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے اندر کبر کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ حق بات کو ٹھکرادے۔ پہلی صورت ایمان کی صورت ہے اور دوسری صورت ایمان کا انکار کرنے کی۔ جو شخص سچا مومن نہ ہو وہ دنیا کی عزت و جاہ کو پسند کرتا ہے اس لیے وہ ان لوگوں کی طرف جھک پڑتا ہے جن سے منسوب ہو کر اس کی عزت وجاہ میں اضافہ ہو، خواہ وہ اہلِ باطل ہوں۔ اس کو ان لوگوں سے دل چسپی نہیں ہوتی جن سے منسوب ہونا اس کی عزت وجاہ میں اضافہ نہ کرے، خواہ وہ اہلِ حق ہوں۔

الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا

📘 ’’ایمان والوایمان لاؤ‘‘ ایسا ہی ہے جیسے کہا جائے کہ مسلمانوں مسلمان بنو۔ اپنے کو مسلمان کہنا یا مسلمان سمجھنا اس بات کے لیے کافی نہیں ہے کہ آدمی اللہ کے یہاں بھی مسلمان قرار پائے۔ اللہ کے یہاں صرف وہ شخص مسلمان قرار پائے گا جو اللہ کو اس طرح پائے کہ وہی اس کے یقین واعتماد کا مرکز بن جائے۔ جو رسول کو اس طرح مانے کہ ہر دوسری رہنمائی اس کے لیے بے حقیقت ہوجائے۔ جو آسمانی کتاب کو اس طرح اپنائے کہ اس کی سوچ اور جذبات بالکل اس کے تابع ہوجائیں۔ جو فرشتوں کے عقیدہ کو اس طرح اپنے دل میں بٹھائے کہ اس کو محسوس ہونے لگے کہ اس کے دائیں بائیں ہر وقت خدا کے چوکیدار کھڑے ہوئے ہیں۔ جو آخرت کا اس طرح اقرار کرے کہ وہ اپنے ہر قول وفعل کو آخرت کی میزان پر جانچنے لگے۔ جو شخص اس طرح مومن بنے وہی اللہ کے نزدیک اس راستہ پر ہے جو ہدایت اور کامیابی کا راستہ ہے۔ اور جو شخص اس طرح مومن نہ بنے وہ ایک بھٹکا ہوا انسان ہے، خواہ وہ اپنے آپ خود کو کتنا ہی مومن ومسلم سمجھتا ہو۔ ماننے اور نہ ماننے کا یہ معرکہ آدمی کی زندگی میں ہر وقت جاری رہتا ہے۔ جب بھی کوئی معاملہ پڑتا ہے تو آدمی کا ذہن دو میں سے کسی ایک رخ پر چل پڑتا ہے۔ یا خواہشات کی طرف یا حق کے تقاضے پورے کرنے کی طرف۔ اگر ایسا ہو کہ معاملہ کے وقت آدمی کی سوچ اور جذبات خواہش کی سمت میں چل پڑیں تو گویا ایمان لانے والے نے ایمان سے انکار کیا۔ ا س کے برعکس، اگر وہ اپنی سوچ اور جذبات کو حق کا پابند بنا لے تو گویا ایمان لانے والا ایمان لے آیا۔ آدمی مسلمان بن کر دنیا کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ اس کے بعد ایک حق بات اس کے سامنے آتی ہے۔ اب ایک شخص وہ ہے جو ایسے موقع پر تواضع کا رویہ اختیار کرے اور حق کا اعتراف کرے۔ دوسرا شخص وہ ہے جس کے اندر کبر کی نفسیات جاگ اٹھیں اور وہ حق بات کو ٹھکرادے۔ پہلی صورت ایمان کی صورت ہے اور دوسری صورت ایمان کا انکار کرنے کی۔ جو شخص سچا مومن نہ ہو وہ دنیا کی عزت و جاہ کو پسند کرتا ہے اس لیے وہ ان لوگوں کی طرف جھک پڑتا ہے جن سے منسوب ہو کر اس کی عزت وجاہ میں اضافہ ہو، خواہ وہ اہلِ باطل ہوں۔ اس کو ان لوگوں سے دل چسپی نہیں ہوتی جن سے منسوب ہونا اس کی عزت وجاہ میں اضافہ نہ کرے، خواہ وہ اہلِ حق ہوں۔

وَمَنْ يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُهِينٌ

📘 آدمی جو قانون بناتا ہے اس میں کسی نہ کسی پہلو کی طرف جھکاؤ ہوجاتا ہے۔ قدیم قبائلی دور میں لڑکا بہت اہمیت رکھتا تھا۔ کیوں کہ وہ قبیلہ کے لیے طاقت کا ذریعہ تھا۔ اس ليے وراثت میں لڑکی کو محروم کرکے سارا حق لڑکے کو دے دیاگیا۔ موجودہ زمانے میں اس کا رد عمل ہوا تو لڑکا اور لڑکی دونوں برابر کرديے گئے۔ لیکن پچھلا اصول اگر غیر منصفانہ تھا تو موجودہ اصول غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ صرف اللہ ہے جس کا علم وحکمت اس بات کی ضمانت ہے کہ وہ جو قانون دے وہ ہر قسم کی بے اعتدالی سے پاک ہو۔ اللہ نے اس سلسلہ میں جو ضابطے مقرر کيے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ سماجی انصاف کا حقیقی ذریعہ ہیں بلکہ آخرت کی زندگی سے بھی ان کا گہرا تعلق ہے۔ یتیموں کے حقوق ادا کرنا، وصیت کی تعمیل کرنا، وراثت کو اس کے وارثوں تک پہنچانا ان امور میں سے ہیں جن پر آدمی کی دوزخ اور جنت کا انحصار ہے۔ 1/3 حصہ میں وصیت کرنا شرعاً جائزہے۔ لیکن کوئی شخص ایسی وصیت کرے جس کا مقصد حق دار کو وراثت سے محروم کرنا ہو تو یہ ایسا گناہ ہے جو اس کو جہنم کا مستحق بنا سکتا ہے (مَنْ ضَارَّ فِي وَصِيَّتِهِ أَلْقَاهُ اللَّهُ فِي وَادِي جَهَنَّمَ ) البحر المحيط لأبی حيان الأندلسی، جلد 3، صفحہ 549 ۔اس معاملہ میں آدمی کو خدا کے مقرر کیے ہوئے ضابطہ پر چلنا ہے، نہ کہ ذاتی خواہشوں اور خاندانی مصلحتوں کے اوپر۔

وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ ۚ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ جَامِعُ الْمُنَافِقِينَ وَالْكَافِرِينَ فِي جَهَنَّمَ جَمِيعًا

📘 اللہ کی پکار جب بھی کسی انسانی گروہ میں اٹھتی ہے تو اتنی مضبوط بنیادوں پر اٹھتی ہے کہ دلیل کے ذریعہ اس کی کاٹ کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ اس کا مذاق اڑا کر اس کو بے وزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اپنے اس رویہ سے بتا رہے ہیں کہ وہ حق کے معاملہ کو کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے اور جب آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو تو اس وقت اس سے بحث کرنا بالکل بے کار ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی چپ ہوجائے اور اس وقت کا انتظار کرے جب کہ گفتگو کا موضوع بدل جائے اور مخاطب اس قابل ہوجائے کہ وہ بات کو سن سکے۔ جس مجلس میں خدا کی دعوت کا مذاق اڑایا جائے وہاں بیٹھنا یہ ثابت کرتاہے کہ آدمی حق کے معاملہ میں غیرت مند نہیں۔ منافق اس کی پروا نہیں کرتا کہ اصول پسندی کا تقاضا کیا ہے، بلکہ جس چیز میں فائدہ نظر آئے اس طرف وه جھک جاتاہے۔ وہ اپنے آپ کو اس حلقہ کے ساتھ جوڑتا ہے جس کا ساتھ دینے میں اس کے دنیوی حوصلے پورے ہوتے ہوں، خواہ وہ اہلِ ایمان کا حلقہ ہو یا غیر اہل ایمان كا۔ وه جس مجلس ميں جاتا هے اس كو خوش كرنے والي باتيں كرتا هے۔ مصلحتوں كي بنا پر كبھي اس كو سچے اهل ايمان کے ساتھ جڑنا پڑے تب بھی وہ دل سے ان کا خیرخواہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ سچے اہلِ ایمان کا وجود کسی معاشرہ میں حق کا پیمانہ بن جاتا ہے۔ اس لیے جو لوگ جھوٹی دین داری پر کھڑے هوئے ہوں وہ چاہتے ہیںکہ ایسے پیمانے ٹوٹ جائیں جو ان كي دين داري کو مشتبہ ثابت کرنے والے ہیں۔ مگر اہلِ ایمان کے بدخواہ جو کچھ زور دکھا سکتے ہیں اسی دنیا میں دکھا سکتے ہیں۔ آخرت میں وہ ان کے خلاف کچھ بھی نہ کر سکیں گے۔ منافق وہ ہے جو بظاہر دین دار مگر اندر سے بے دین ہو۔ ایسے شخص کا انجام کافر کے ساتھ ہونا بتاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ظاہری دین داری اور کھلی ہوئی بے دینی میں کوئی فرق نہیں۔ کیوں کہ ظاہرکی سطح پر خواہ دونوں مختلف نظر آئیں مگر باطن کی سطح پردونوں ایک ہوتے ہیں۔ اور اللہ کے یہاں اعتبار باطن کا ہے، نہ کہ ظاہر کا۔

الَّذِينَ يَتَرَبَّصُونَ بِكُمْ فَإِنْ كَانَ لَكُمْ فَتْحٌ مِنَ اللَّهِ قَالُوا أَلَمْ نَكُنْ مَعَكُمْ وَإِنْ كَانَ لِلْكَافِرِينَ نَصِيبٌ قَالُوا أَلَمْ نَسْتَحْوِذْ عَلَيْكُمْ وَنَمْنَعْكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ ۚ فَاللَّهُ يَحْكُمُ بَيْنَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا

📘 اللہ کی پکار جب بھی کسی انسانی گروہ میں اٹھتی ہے تو اتنی مضبوط بنیادوں پر اٹھتی ہے کہ دلیل کے ذریعہ اس کی کاٹ کرنا کسی کے لیے ممکن نہیں رہتا۔ اس لیے جو لوگ اس کو ماننا نہیں چاہتے وہ اس کا مذاق اڑا کر اس کو بے وزن کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جو لوگ ایسا کریں وہ اپنے اس رویہ سے بتا رہے ہیں کہ وہ حق کے معاملہ کو کوئی سنجیدہ معاملہ نہیں سمجھتے اور جب آدمی کسی معاملہ میں سنجیدہ نہ ہو تو اس وقت اس سے بحث کرنا بالکل بے کار ہوتا ہے۔ ایسے موقع پر صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی چپ ہوجائے اور اس وقت کا انتظار کرے جب کہ گفتگو کا موضوع بدل جائے اور مخاطب اس قابل ہوجائے کہ وہ بات کو سن سکے۔ جس مجلس میں خدا کی دعوت کا مذاق اڑایا جائے وہاں بیٹھنا یہ ثابت کرتاہے کہ آدمی حق کے معاملہ میں غیرت مند نہیں۔ منافق اس کی پروا نہیں کرتا کہ اصول پسندی کا تقاضا کیا ہے، بلکہ جس چیز میں فائدہ نظر آئے اس طرف وه جھک جاتاہے۔ وہ اپنے آپ کو اس حلقہ کے ساتھ جوڑتا ہے جس کا ساتھ دینے میں اس کے دنیوی حوصلے پورے ہوتے ہوں، خواہ وہ اہلِ ایمان کا حلقہ ہو یا غیر اہل ایمان كا۔ وه جس مجلس ميں جاتا هے اس كو خوش كرنے والي باتيں كرتا هے۔ مصلحتوں كي بنا پر كبھي اس كو سچے اهل ايمان کے ساتھ جڑنا پڑے تب بھی وہ دل سے ان کا خیرخواہ نہیں ہوتا۔ کیوں کہ سچے اہلِ ایمان کا وجود کسی معاشرہ میں حق کا پیمانہ بن جاتا ہے۔ اس لیے جو لوگ جھوٹی دین داری پر کھڑے هوئے ہوں وہ چاہتے ہیںکہ ایسے پیمانے ٹوٹ جائیں جو ان كي دين داري کو مشتبہ ثابت کرنے والے ہیں۔ مگر اہلِ ایمان کے بدخواہ جو کچھ زور دکھا سکتے ہیں اسی دنیا میں دکھا سکتے ہیں۔ آخرت میں وہ ان کے خلاف کچھ بھی نہ کر سکیں گے۔ منافق وہ ہے جو بظاہر دین دار مگر اندر سے بے دین ہو۔ ایسے شخص کا انجام کافر کے ساتھ ہونا بتاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ظاہری دین داری اور کھلی ہوئی بے دینی میں کوئی فرق نہیں۔ کیوں کہ ظاہرکی سطح پر خواہ دونوں مختلف نظر آئیں مگر باطن کی سطح پردونوں ایک ہوتے ہیں۔ اور اللہ کے یہاں اعتبار باطن کا ہے، نہ کہ ظاہر کا۔

إِنَّ الْمُنَافِقِينَ يُخَادِعُونَ اللَّهَ وَهُوَ خَادِعُهُمْ وَإِذَا قَامُوا إِلَى الصَّلَاةِ قَامُوا كُسَالَىٰ يُرَاءُونَ النَّاسَ وَلَا يَذْكُرُونَ اللَّهَ إِلَّا قَلِيلًا

📘 جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے كيے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہوجاتے ہیں، خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین۔ ایسے لوگ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتےرہتے ہیں، مگر ان کا عمل اللہ کے ليے نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے ليے ہوتا ہے۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں، اس کے باوجود اپنے مفاد ات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے ليے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے ليے۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سےمحروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے ليے اللہ کے راستہ پر جمنا ضروری ہے۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی— حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہوچکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ یہ کسی کے قابلِ سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے، اس ليے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو ہر طرف سے موڑ کر اللہ کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کردے گا۔

مُذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَٰؤُلَاءِ ۚ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا

📘 جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے كيے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہوجاتے ہیں، خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین۔ ایسے لوگ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتےرہتے ہیں، مگر ان کا عمل اللہ کے ليے نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے ليے ہوتا ہے۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں، اس کے باوجود اپنے مفاد ات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے ليے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے ليے۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سےمحروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے ليے اللہ کے راستہ پر جمنا ضروری ہے۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی— حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہوچکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ یہ کسی کے قابلِ سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے، اس ليے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو ہر طرف سے موڑ کر اللہ کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کردے گا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ۚ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُبِينًا

📘 جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے كيے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہوجاتے ہیں، خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین۔ ایسے لوگ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتےرہتے ہیں، مگر ان کا عمل اللہ کے ليے نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے ليے ہوتا ہے۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں، اس کے باوجود اپنے مفاد ات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے ليے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے ليے۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سےمحروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے ليے اللہ کے راستہ پر جمنا ضروری ہے۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی— حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہوچکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ یہ کسی کے قابلِ سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے، اس ليے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو ہر طرف سے موڑ کر اللہ کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کردے گا۔

إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا

📘 جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے كيے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہوجاتے ہیں، خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین۔ ایسے لوگ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتےرہتے ہیں، مگر ان کا عمل اللہ کے ليے نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے ليے ہوتا ہے۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں، اس کے باوجود اپنے مفاد ات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے ليے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے ليے۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سےمحروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے ليے اللہ کے راستہ پر جمنا ضروری ہے۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی— حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہوچکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ یہ کسی کے قابلِ سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے، اس ليے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو ہر طرف سے موڑ کر اللہ کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کردے گا۔

إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ ۖ وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا

📘 جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے كيے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہوجاتے ہیں، خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین۔ ایسے لوگ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتےرہتے ہیں، مگر ان کا عمل اللہ کے ليے نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے ليے ہوتا ہے۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں، اس کے باوجود اپنے مفاد ات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے ليے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے ليے۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سےمحروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے ليے اللہ کے راستہ پر جمنا ضروری ہے۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی— حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہوچکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ یہ کسی کے قابلِ سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے، اس ليے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو ہر طرف سے موڑ کر اللہ کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کردے گا۔

مَا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِنْ شَكَرْتُمْ وَآمَنْتُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا

📘 جو لوگ اپنے کو اللہ کے حوالے كيے ہوئے نہ ہوں وہ اپنے کو اپنے دنیوی مفاد کے حوالے كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ دنیوی مفاد جس سے وابستہ ہو وہ اسی کے ساتھ ہوجاتے ہیں، خواہ وہ دین دار ہو یا بے دین۔ ایسے لوگ زبان سے اسلام کے الفاظ بولتے ہیں اور بعض اسلامی اعمال بھی ظاہری حد تک ادا کرتےرہتے ہیں، مگر ان کا عمل اللہ کے ليے نہیں ہوتا۔ بلکہ لوگوں کی نظر میں مسلمان بنے رہنے کے ليے ہوتا ہے۔ ان کا اصلی دین موقع پرستی ہوتا ہے مگر لوگوں کے سامنے وہ اپنے کو خدا پرست ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگ گویا خدا کو دھوکا دے رہے ہیں۔ وہ خدا والے نہ ہو کر اپنے کو خدا والا ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ وہ اسلام کو سچا دین جانتے ہیں، اس کے باوجود اپنے مفاد ات کو چھوڑنا نہیں چاہتے۔ اس کی وجہ سے وہ دونوں کے درمیان معلق رہتے ہیں، نہ پوری طرح اپنے عقیدہ کے ليے یکسو ہوتے اور نہ پوری طرح اپنے مفادات کے ليے۔ ایسے لوگ اللہ کی مدد سےمحروم رہتے ہیں۔ کیوں کہ اللہ کی مدد کا مستحق بننے کے ليے اللہ کے راستہ پر جمنا ضروری ہے۔ اور یہی چیز ان کے یہاں موجود نہیں ہوتی— حق کو ماننے والے اور حق کا انکار کرنے والے جب الگ الگ ہوچکے ہوں تو ایسی حالت میں حق کا انکار کرنے والوں کا ساتھ دینا اپنے خلاف خدا کی کھلی حجت قائم کرنا ہے۔ یہ کسی کے قابلِ سزا ہونے کا ایسا ثبوت ہے جس کے بعد کسی اور ثبوت کی ضرورت نہیں۔ اس قسم کے لوگ اپنے دکھاوے کے اعمال کی بنا پر خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ اسلام کی ظاہری نمائش کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے وہ اسلام سے دور تھے، اس ليے ان کا انجام بھی ان کی حقیقت کے اعتبار سے ہوگا، نہ کہ ان کے ظاہر کے اعتبار سے۔ تاہم کسی کی گمراہی کی وجہ سے خدا اس کا دشمن نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے لوگ اگر اپنی غلطی پر شرمندہ ہوں، وہ اپنی زندگی کو بدلیں ، اپنی توجہات کو ہر طرف سے موڑ کر اللہ کی طرف لگائیں اور یکسو ہو کر دین کے راستہ پر چلنے لگیں تو یقیناً اللہ انہیں معاف کردے گا۔

۞ لَا يُحِبُّ اللَّهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَنْ ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّهُ سَمِيعًا عَلِيمًا

📘 کسی شخص کے اندر کوئی دینی یا دنیوی عیب معلوم ہو تو اس کو شہرت دینا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ نصیحت کا حق ہر ایک کو ہے۔ مگر نصیحت یا تو کسی کا نام لیے بغیر عمومی انداز میں کی جانی چاہیے یا متعلقہ شخص سے مل کر تنہائی میں۔ اللہ صبح وشام لوگوں کے جرائم نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ بندوں کو بھی اپنے اندر یہی اخلاق پیدا کرنا ہے۔ البتہ اگر ایک شخص مظلوم ہو تو اس کے لیے رخصت ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو لوگوں کے سامنے بیان کرے۔ تاہم مظلوم اگر صبر کرے اور ظلم کرنے والے کو معاف کردے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ کیوںکہ اس طرح وہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو دنیا کے نقصان سے زیادہ آخرت کے نقصان کی فکر ہے۔ جو شخص کسی بڑے غم میں مبتلا ہو اس کے ليے چھوٹے غم بے حقیقت ہوجاتے ہیں۔ یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے دل میں آنے والے ہولناک دن کا غم سمایا ہوا ہو۔ مکہ کے لوگ حضرت ابراہیم کی نبوت کو مانتے تھے۔ اسی طرح یہودی حضرت موسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرتے تھے اور مسیحی حضرت عیسیٰ کی نبوت کو ۔ مگر ان سب نے پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ماننے سے انکار کردیا۔ ان میں سے ہر ایک ماضی کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار تھا مگر ان میں سے کوئی بھي وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ حالاں کہ جن نبیوں کو وہ مان رہے تھے وہ بھی اپنے زمانہ میں اسی قسم کے مخالفانہ رد عمل سے دوچار ہوئے تھے جس سے پیغمبر عربی کو دوچار ہونا پڑا — اس قسم کی ہر کوشش حق پرستی اور نفس پرستی کے درمیان راستہ نکالنے کے لیے ہوتی ہے تاکہ خواہشات کا ڈھانچہ بھی ٹوٹنے نہ پائے اور آدمی خدا کی جنت تک پہنچ جائے۔ اصل یہ ہے کہ ماضی کی نبوت ایک مانی ہوئی نبوت ہوتی ہے جب کہ وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے آدمی کو نیا ذہنی سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ماضی کی نبوت زمانہ گزرنے کے بعد ایک تسلیم شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ پیدائشی طورپر آدمی کے ذہن کا جز بن چکی ہوتی ہے۔ مگر زمانهٔ حال کا پیغمبر ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، وہ دیکھنے والوں کو محض ’’ایک انسان‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے اس کو ماننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی ایک نیا ذہنی سفر کرے۔ وہ خدا کو دوبارہ شعور کی سطح پر پائے۔ ماضی کے پیغمبر کو ماننا تقلیدی ایمان کے تحت ہوتا ہے اور وقت کے پیغمبر کو ماننا ارادی ایمان کے تحت۔ مگر اللہ کے یہاں قیمت ارادی ایمان کی ہے، نہ کہ تقلیدی ایمان کی۔

إِنْ تُبْدُوا خَيْرًا أَوْ تُخْفُوهُ أَوْ تَعْفُوا عَنْ سُوءٍ فَإِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِيرًا

📘 کسی شخص کے اندر کوئی دینی یا دنیوی عیب معلوم ہو تو اس کو شہرت دینا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ نصیحت کا حق ہر ایک کو ہے۔ مگر نصیحت یا تو کسی کا نام لیے بغیر عمومی انداز میں کی جانی چاہیے یا متعلقہ شخص سے مل کر تنہائی میں۔ اللہ صبح وشام لوگوں کے جرائم نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ بندوں کو بھی اپنے اندر یہی اخلاق پیدا کرنا ہے۔ البتہ اگر ایک شخص مظلوم ہو تو اس کے لیے رخصت ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو لوگوں کے سامنے بیان کرے۔ تاہم مظلوم اگر صبر کرے اور ظلم کرنے والے کو معاف کردے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ کیوںکہ اس طرح وہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو دنیا کے نقصان سے زیادہ آخرت کے نقصان کی فکر ہے۔ جو شخص کسی بڑے غم میں مبتلا ہو اس کے ليے چھوٹے غم بے حقیقت ہوجاتے ہیں۔ یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے دل میں آنے والے ہولناک دن کا غم سمایا ہوا ہو۔ مکہ کے لوگ حضرت ابراہیم کی نبوت کو مانتے تھے۔ اسی طرح یہودی حضرت موسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرتے تھے اور مسیحی حضرت عیسیٰ کی نبوت کو ۔ مگر ان سب نے پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ماننے سے انکار کردیا۔ ان میں سے ہر ایک ماضی کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار تھا مگر ان میں سے کوئی بھي وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ حالاں کہ جن نبیوں کو وہ مان رہے تھے وہ بھی اپنے زمانہ میں اسی قسم کے مخالفانہ رد عمل سے دوچار ہوئے تھے جس سے پیغمبر عربی کو دوچار ہونا پڑا — اس قسم کی ہر کوشش حق پرستی اور نفس پرستی کے درمیان راستہ نکالنے کے لیے ہوتی ہے تاکہ خواہشات کا ڈھانچہ بھی ٹوٹنے نہ پائے اور آدمی خدا کی جنت تک پہنچ جائے۔ اصل یہ ہے کہ ماضی کی نبوت ایک مانی ہوئی نبوت ہوتی ہے جب کہ وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے آدمی کو نیا ذہنی سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ماضی کی نبوت زمانہ گزرنے کے بعد ایک تسلیم شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ پیدائشی طورپر آدمی کے ذہن کا جز بن چکی ہوتی ہے۔ مگر زمانهٔ حال کا پیغمبر ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، وہ دیکھنے والوں کو محض ’’ایک انسان‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے اس کو ماننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی ایک نیا ذہنی سفر کرے۔ وہ خدا کو دوبارہ شعور کی سطح پر پائے۔ ماضی کے پیغمبر کو ماننا تقلیدی ایمان کے تحت ہوتا ہے اور وقت کے پیغمبر کو ماننا ارادی ایمان کے تحت۔ مگر اللہ کے یہاں قیمت ارادی ایمان کی ہے، نہ کہ تقلیدی ایمان کی۔

وَاللَّاتِي يَأْتِينَ الْفَاحِشَةَ مِنْ نِسَائِكُمْ فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ شَهِدُوا فَأَمْسِكُوهُنَّ فِي الْبُيُوتِ حَتَّىٰ يَتَوَفَّاهُنَّ الْمَوْتُ أَوْ يَجْعَلَ اللَّهُ لَهُنَّ سَبِيلًا

📘 قرآن كے يه مخاطبين جس معامله ميں شك ميں پڑےهوئے تھے وه خدا كے وجود كا معامله نه تھا۔ بلكه خدا كي توحيد كامعامله تھا۔ وه روايتي طورپر خدا كو مانتے هوئے عملاً اپنے اكابر كے دين پر قائم تھے۔ قرآن نے ان اكابر كو بے بنياد ثابت كيا۔ مگر وه اس كو ماننے كے ليے تيار نه هوئے۔ ايك طرف وه اپنے آپ كوبے دليل پارهے تھے۔ دوسري طرف اپنے اكابر كي عظمت كو اپنے ذهن سے نكالنا بھي انھيں ناممكن نظر آتا تھا۔ اس دو طرفه تقاضوں نے انھيں شك ميں مبتلا كر ديا۔ خدا كا داعي انھيں اس سے كم نظر آيا كه اس كے كهنے سے وه اپنے مفروضه اكابر كو چھوڑ ديں۔ جو لوگ نصيحت كے ذريعے حق كو نه مانيں وه اپنے آپ كو اس خطرے ميں ڈال رهے هيں كه ان كو عذاب كے ذريعه اسے ماننا پڑے۔ اس وقت وه اعتراف كريں گے۔ مگر اس وقت كا اعتراف كرنا ان كے كچھ كام نه آئے گا۔

إِنَّ الَّذِينَ يَكْفُرُونَ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيُرِيدُونَ أَنْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ اللَّهِ وَرُسُلِهِ وَيَقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَكْفُرُ بِبَعْضٍ وَيُرِيدُونَ أَنْ يَتَّخِذُوا بَيْنَ ذَٰلِكَ سَبِيلًا

📘 کسی شخص کے اندر کوئی دینی یا دنیوی عیب معلوم ہو تو اس کو شہرت دینا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ نصیحت کا حق ہر ایک کو ہے۔ مگر نصیحت یا تو کسی کا نام لیے بغیر عمومی انداز میں کی جانی چاہیے یا متعلقہ شخص سے مل کر تنہائی میں۔ اللہ صبح وشام لوگوں کے جرائم نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ بندوں کو بھی اپنے اندر یہی اخلاق پیدا کرنا ہے۔ البتہ اگر ایک شخص مظلوم ہو تو اس کے لیے رخصت ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو لوگوں کے سامنے بیان کرے۔ تاہم مظلوم اگر صبر کرے اور ظلم کرنے والے کو معاف کردے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ کیوںکہ اس طرح وہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو دنیا کے نقصان سے زیادہ آخرت کے نقصان کی فکر ہے۔ جو شخص کسی بڑے غم میں مبتلا ہو اس کے ليے چھوٹے غم بے حقیقت ہوجاتے ہیں۔ یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے دل میں آنے والے ہولناک دن کا غم سمایا ہوا ہو۔ مکہ کے لوگ حضرت ابراہیم کی نبوت کو مانتے تھے۔ اسی طرح یہودی حضرت موسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرتے تھے اور مسیحی حضرت عیسیٰ کی نبوت کو ۔ مگر ان سب نے پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ماننے سے انکار کردیا۔ ان میں سے ہر ایک ماضی کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار تھا مگر ان میں سے کوئی بھي وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ حالاں کہ جن نبیوں کو وہ مان رہے تھے وہ بھی اپنے زمانہ میں اسی قسم کے مخالفانہ رد عمل سے دوچار ہوئے تھے جس سے پیغمبر عربی کو دوچار ہونا پڑا — اس قسم کی ہر کوشش حق پرستی اور نفس پرستی کے درمیان راستہ نکالنے کے لیے ہوتی ہے تاکہ خواہشات کا ڈھانچہ بھی ٹوٹنے نہ پائے اور آدمی خدا کی جنت تک پہنچ جائے۔ اصل یہ ہے کہ ماضی کی نبوت ایک مانی ہوئی نبوت ہوتی ہے جب کہ وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے آدمی کو نیا ذہنی سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ماضی کی نبوت زمانہ گزرنے کے بعد ایک تسلیم شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ پیدائشی طورپر آدمی کے ذہن کا جز بن چکی ہوتی ہے۔ مگر زمانهٔ حال کا پیغمبر ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، وہ دیکھنے والوں کو محض ’’ایک انسان‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے اس کو ماننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی ایک نیا ذہنی سفر کرے۔ وہ خدا کو دوبارہ شعور کی سطح پر پائے۔ ماضی کے پیغمبر کو ماننا تقلیدی ایمان کے تحت ہوتا ہے اور وقت کے پیغمبر کو ماننا ارادی ایمان کے تحت۔ مگر اللہ کے یہاں قیمت ارادی ایمان کی ہے، نہ کہ تقلیدی ایمان کی۔

أُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ حَقًّا ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُهِينًا

📘 کسی شخص کے اندر کوئی دینی یا دنیوی عیب معلوم ہو تو اس کو شہرت دینا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ نصیحت کا حق ہر ایک کو ہے۔ مگر نصیحت یا تو کسی کا نام لیے بغیر عمومی انداز میں کی جانی چاہیے یا متعلقہ شخص سے مل کر تنہائی میں۔ اللہ صبح وشام لوگوں کے جرائم نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ بندوں کو بھی اپنے اندر یہی اخلاق پیدا کرنا ہے۔ البتہ اگر ایک شخص مظلوم ہو تو اس کے لیے رخصت ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو لوگوں کے سامنے بیان کرے۔ تاہم مظلوم اگر صبر کرے اور ظلم کرنے والے کو معاف کردے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ کیوںکہ اس طرح وہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو دنیا کے نقصان سے زیادہ آخرت کے نقصان کی فکر ہے۔ جو شخص کسی بڑے غم میں مبتلا ہو اس کے ليے چھوٹے غم بے حقیقت ہوجاتے ہیں۔ یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے دل میں آنے والے ہولناک دن کا غم سمایا ہوا ہو۔ مکہ کے لوگ حضرت ابراہیم کی نبوت کو مانتے تھے۔ اسی طرح یہودی حضرت موسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرتے تھے اور مسیحی حضرت عیسیٰ کی نبوت کو ۔ مگر ان سب نے پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ماننے سے انکار کردیا۔ ان میں سے ہر ایک ماضی کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار تھا مگر ان میں سے کوئی بھي وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ حالاں کہ جن نبیوں کو وہ مان رہے تھے وہ بھی اپنے زمانہ میں اسی قسم کے مخالفانہ رد عمل سے دوچار ہوئے تھے جس سے پیغمبر عربی کو دوچار ہونا پڑا — اس قسم کی ہر کوشش حق پرستی اور نفس پرستی کے درمیان راستہ نکالنے کے لیے ہوتی ہے تاکہ خواہشات کا ڈھانچہ بھی ٹوٹنے نہ پائے اور آدمی خدا کی جنت تک پہنچ جائے۔ اصل یہ ہے کہ ماضی کی نبوت ایک مانی ہوئی نبوت ہوتی ہے جب کہ وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے آدمی کو نیا ذہنی سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ماضی کی نبوت زمانہ گزرنے کے بعد ایک تسلیم شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ پیدائشی طورپر آدمی کے ذہن کا جز بن چکی ہوتی ہے۔ مگر زمانهٔ حال کا پیغمبر ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، وہ دیکھنے والوں کو محض ’’ایک انسان‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے اس کو ماننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی ایک نیا ذہنی سفر کرے۔ وہ خدا کو دوبارہ شعور کی سطح پر پائے۔ ماضی کے پیغمبر کو ماننا تقلیدی ایمان کے تحت ہوتا ہے اور وقت کے پیغمبر کو ماننا ارادی ایمان کے تحت۔ مگر اللہ کے یہاں قیمت ارادی ایمان کی ہے، نہ کہ تقلیدی ایمان کی۔

وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ وَلَمْ يُفَرِّقُوا بَيْنَ أَحَدٍ مِنْهُمْ أُولَٰئِكَ سَوْفَ يُؤْتِيهِمْ أُجُورَهُمْ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 کسی شخص کے اندر کوئی دینی یا دنیوی عیب معلوم ہو تو اس کو شہرت دینا اللہ کو سخت ناپسند ہے۔ نصیحت کا حق ہر ایک کو ہے۔ مگر نصیحت یا تو کسی کا نام لیے بغیر عمومی انداز میں کی جانی چاہیے یا متعلقہ شخص سے مل کر تنہائی میں۔ اللہ صبح وشام لوگوں کے جرائم نظر انداز کرتا رہتا ہے۔ بندوں کو بھی اپنے اندر یہی اخلاق پیدا کرنا ہے۔ البتہ اگر ایک شخص مظلوم ہو تو اس کے لیے رخصت ہے کہ وہ ظالم کے ظلم کو لوگوں کے سامنے بیان کرے۔ تاہم مظلوم اگر صبر کرے اور ظلم کرنے والے کو معاف کردے تو یہ اس کے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ کیوںکہ اس طرح وہ ثابت کرتا ہے کہ اس کو دنیا کے نقصان سے زیادہ آخرت کے نقصان کی فکر ہے۔ جو شخص کسی بڑے غم میں مبتلا ہو اس کے ليے چھوٹے غم بے حقیقت ہوجاتے ہیں۔ یہی حال اس شخص کا ہوتا ہے جس کے دل میں آنے والے ہولناک دن کا غم سمایا ہوا ہو۔ مکہ کے لوگ حضرت ابراہیم کی نبوت کو مانتے تھے۔ اسی طرح یہودی حضرت موسیٰ کی نبوت کو تسلیم کرتے تھے اور مسیحی حضرت عیسیٰ کی نبوت کو ۔ مگر ان سب نے پیغمبر عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کو ماننے سے انکار کردیا۔ ان میں سے ہر ایک ماضی کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار تھا مگر ان میں سے کوئی بھي وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے تیار نہ ہوا۔ حالاں کہ جن نبیوں کو وہ مان رہے تھے وہ بھی اپنے زمانہ میں اسی قسم کے مخالفانہ رد عمل سے دوچار ہوئے تھے جس سے پیغمبر عربی کو دوچار ہونا پڑا — اس قسم کی ہر کوشش حق پرستی اور نفس پرستی کے درمیان راستہ نکالنے کے لیے ہوتی ہے تاکہ خواہشات کا ڈھانچہ بھی ٹوٹنے نہ پائے اور آدمی خدا کی جنت تک پہنچ جائے۔ اصل یہ ہے کہ ماضی کی نبوت ایک مانی ہوئی نبوت ہوتی ہے جب کہ وقت کے پیغمبر کو ماننے کے لیے آدمی کو نیا ذہنی سفر طے کرنا پڑتا ہے۔ ماضی کی نبوت زمانہ گزرنے کے بعد ایک تسلیم شدہ نبوت بن جاتی ہے۔ وہ پیدائشی طورپر آدمی کے ذہن کا جز بن چکی ہوتی ہے۔ مگر زمانهٔ حال کا پیغمبر ایک متنازعہ شخصیت ہوتا ہے، وہ دیکھنے والوں کو محض ’’ایک انسان‘‘ دکھائی دیتا ہے۔ اس لیے اس کو ماننے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ آدمی ایک نیا ذہنی سفر کرے۔ وہ خدا کو دوبارہ شعور کی سطح پر پائے۔ ماضی کے پیغمبر کو ماننا تقلیدی ایمان کے تحت ہوتا ہے اور وقت کے پیغمبر کو ماننا ارادی ایمان کے تحت۔ مگر اللہ کے یہاں قیمت ارادی ایمان کی ہے، نہ کہ تقلیدی ایمان کی۔

يَسْأَلُكَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَنْ تُنَزِّلَ عَلَيْهِمْ كِتَابًا مِنَ السَّمَاءِ ۚ فَقَدْ سَأَلُوا مُوسَىٰ أَكْبَرَ مِنْ ذَٰلِكَ فَقَالُوا أَرِنَا اللَّهَ جَهْرَةً فَأَخَذَتْهُمُ الصَّاعِقَةُ بِظُلْمِهِمْ ۚ ثُمَّ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَتْهُمُ الْبَيِّنَاتُ فَعَفَوْنَا عَنْ ذَٰلِكَ ۚ وَآتَيْنَا مُوسَىٰ سُلْطَانًا مُبِينًا

📘 خدا کا پیغمبر انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے۔ وہ عام آدمی کی صورت میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ اس ليے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ایک عام آدمی کو کس طرح خدا کا نمائندہ مان لیں۔ وہ کیسے یقین کرلیں کہ سامنے کا آدمی ایک ایسا شخص ہے جو خدا کی طرف سے بولنے کے لیے مقرر ہوا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ جو کلام تم پیش کررہے ہو اس کو آسمان سے آتا ہوا دکھاؤ یا خداخود تمھاری تصدیق کے لیے آسمان سے اتر پڑے تب ہم تمھاری بات مانیںگے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ حد درجہ غیر سنجیدہ مطالبہ ہے۔ کیوں کہ انسان کا امتحان تو یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے، وہ حقیقتوں کو ان کی معنوی صورت میں پالے۔ ایسی حالت میں دکھا کر منوانے کا کیا فائدہ۔ نیز یہ کہ اگر کچھ دیر کے لیے عالم کے نظام کو بدل دیا جائے اور آدمی کو اس کے مطالبہ کے مطابق چیزوں کو دکھا دیا جائے تب بھی وہ بے فائدہ ہوگا۔ کیوں کہ یہ دکھانا بہر حال وقتی ہوگا، نہ کہ مستقل۔ اور انسان کی آزادی جو اس کو سرکشی کی طرف لے جاتی ہے اس کے بعد بھی باقی رہے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ دیکھنے کے وقت تک وہ سہم کر مان لے گا اور اس کے بعد دوبارہ اپنی آزادی کا غلط استعمال شروع کردے گا جیسا کہ دیکھنے سے پہلے کررہا تھا۔ یہود کی مثال اس کی تاریخی تصدیق کرتی ہے۔ کوہ طور کے دامن میں غیر معمولی حالات پیدا کرکے یہود سے یہ عہد لیاگیا تھا کہ وہ اپنے عبادت خانہ (خروج، 19:16-19 )میں تواضع کے ساتھ داخل ہوں اور خشوع کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔ اور یہ کہ معاش کے حصول کے لیے جو جدوجہد کریں وہ اللہ کے حدود میں رہ کر کریں، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔ مگر یہود نے اس قسم کے تمام عهدوںکو توڑ دیا۔ ’’موسی کو ہم نے سلطان مبین (کھلی حجت) دی‘‘— اللہ کا یہ معاملہ ہر پیغمبر کے ساتھ ہوتا ہے۔ پیغمبر اگرچہ ایک عام انسان کی طرح ہوتا ہے مگر اس کے کلام اور اس کے احوال میں ایسے کھلے ہوئے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اس کی خدائی حیثیت کو قطعیت کے ساتھ ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ مگر ظالم انسان ہر خدائی نشانی کی ایک ایسی توجیہہ ڈھونڈ لیتاہے جس کے بعد وہ اس کو رد کرکے اپنی سرکشی کی زندگی کو بدستور جاری رکھے۔

وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا

📘 خدا کا پیغمبر انسانوں میں سے ایک انسان ہوتا ہے۔ وہ عام آدمی کی صورت میں لوگوں کے سامنے آتا ہے۔ اس ليے لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ ایک عام آدمی کو کس طرح خدا کا نمائندہ مان لیں۔ وہ کیسے یقین کرلیں کہ سامنے کا آدمی ایک ایسا شخص ہے جو خدا کی طرف سے بولنے کے لیے مقرر ہوا ہے۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ جو کلام تم پیش کررہے ہو اس کو آسمان سے آتا ہوا دکھاؤ یا خداخود تمھاری تصدیق کے لیے آسمان سے اتر پڑے تب ہم تمھاری بات مانیںگے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ حد درجہ غیر سنجیدہ مطالبہ ہے۔ کیوں کہ انسان کا امتحان تو یہ ہے کہ وہ دیکھے بغیر مانے، وہ حقیقتوں کو ان کی معنوی صورت میں پالے۔ ایسی حالت میں دکھا کر منوانے کا کیا فائدہ۔ نیز یہ کہ اگر کچھ دیر کے لیے عالم کے نظام کو بدل دیا جائے اور آدمی کو اس کے مطالبہ کے مطابق چیزوں کو دکھا دیا جائے تب بھی وہ بے فائدہ ہوگا۔ کیوں کہ یہ دکھانا بہر حال وقتی ہوگا، نہ کہ مستقل۔ اور انسان کی آزادی جو اس کو سرکشی کی طرف لے جاتی ہے اس کے بعد بھی باقی رہے گی۔ نتیجہ یہ ہوگا کہ دیکھنے کے وقت تک وہ سہم کر مان لے گا اور اس کے بعد دوبارہ اپنی آزادی کا غلط استعمال شروع کردے گا جیسا کہ دیکھنے سے پہلے کررہا تھا۔ یہود کی مثال اس کی تاریخی تصدیق کرتی ہے۔ کوہ طور کے دامن میں غیر معمولی حالات پیدا کرکے یہود سے یہ عہد لیاگیا تھا کہ وہ اپنے عبادت خانہ (خروج، 19:16-19 )میں تواضع کے ساتھ داخل ہوں اور خشوع کے ساتھ اللہ کی عبادت کریں۔ اور یہ کہ معاش کے حصول کے لیے جو جدوجہد کریں وہ اللہ کے حدود میں رہ کر کریں، نہ کہ اس سے آزاد ہو کر۔ مگر یہود نے اس قسم کے تمام عهدوںکو توڑ دیا۔ ’’موسی کو ہم نے سلطان مبین (کھلی حجت) دی‘‘— اللہ کا یہ معاملہ ہر پیغمبر کے ساتھ ہوتا ہے۔ پیغمبر اگرچہ ایک عام انسان کی طرح ہوتا ہے مگر اس کے کلام اور اس کے احوال میں ایسے کھلے ہوئے دلائل موجود ہوتے ہیں جو اس کی خدائی حیثیت کو قطعیت کے ساتھ ثابت کررہے ہوتے ہیں۔ مگر ظالم انسان ہر خدائی نشانی کی ایک ایسی توجیہہ ڈھونڈ لیتاہے جس کے بعد وہ اس کو رد کرکے اپنی سرکشی کی زندگی کو بدستور جاری رکھے۔

فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِيثَاقَهُمْ وَكُفْرِهِمْ بِآيَاتِ اللَّهِ وَقَتْلِهِمُ الْأَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌ ۚ بَلْ طَبَعَ اللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا

📘 یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

وَبِكُفْرِهِمْ وَقَوْلِهِمْ عَلَىٰ مَرْيَمَ بُهْتَانًا عَظِيمًا

📘 یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَٰكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ ۚ مَا لَهُمْ بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا

📘 یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

بَلْ رَفَعَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

📘 یہودپر آسمانی ہدایت اتاری گئی تھی جس میں یہ بتایا گیا تھا کہ وہ دنیا میں اللہ کی مرضی پر چلیں تو آخرت میں اللہ ان کو جنت دے گا۔ انھوں نے پہلے حصہ کو بھلا دیاالبتہ دوسرے حصہ کو اپنا پیدائشی حق سمجھ لیا۔ یہود ہر قسم کے بگاڑ میں مبتلا ہوئے۔ اس کے باوجود اپنے نجات یافتہ ہونے کے بارے میں ان کا یقین اتنا بڑھا ہوا تھا کہ انھوں نے سمجھ لیا کہ اب ان کو نئے نبی کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ وہ بطور طنز کہتے —’’ہمارے دل تو بند ہیں‘‘۔ ان کا یہ جملہ رسول کو ماننے کے بارے میں اپنی عدم صلاحیت کا اظہار نہ تھا بلکہ اس اطمینان کا اظہار تھا کہ وہ رسول کے ساتھ خواہ جو بھی سلوک کریں ان کی نجات کسی حال میں مشتبہ ہونے والی نہیں۔ جو لوگ اس قسم کے جھوٹے یقین میں مبتلا ہوں وہ ہر قسم کے جرم پر جری ہوجاتے ہیں۔ خدا پر ایمان ان کو جس عہد خداوندی میں باندھتا ہے اس کو توڑنا ان کے لیے کچھ مشکل نہیں ہوتا۔اللہ کی طرف سے ظاہر ہونے والے کھلے دلائل کے باوجود وہ اس کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ حق کی طرف بلانے والے جو ان کی غیر خدا پرستانہ روش کو بے نقاب کرتے ہیں ان کے خلاف جارحانہ اقدام کرنے سے وہ نہیں جھجھكتے۔ حتی کہ جھوٹی تہمت لگا کر داعی کو بے عزت کرنے سے بھی انھیں کوئی چیز نہیں روکتی۔ یہود نے حضرت مسیح کے خلاف قتل کا اقدام کیا اور اس کے بعد فخریہ کہا کہ ’’مریم کا بیٹا مسیح جو اپنے کو رسول کہتا تھا اس کو ہم نے مارڈالا‘‘۔ مگر اس قسم کے لوگ اللہ کے داعیوں کے خلاف جو بھی سازش کریں وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ اللہ کی طاقت اور اس کا حکیمانہ نظام ہمیشہ حق کے داعیوں کی پشت پر ہوتا ہے۔ ہر سازش اور مخالفت کے باوجود وہ اس وقت تک اپنا کام جاری رکھنے کی توفیق پاتے ہیں جب کہ وہ اپنے حصہ کا کام مکمل کرلیں۔ جو لوگ حق کے مقابلہ میں سرکشی کا رویہ اختیار کریں اللہ ان سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت چھین ليتا ہے۔ وہ اپنی مخالفانہ سرگرمیوں کو جاری رکھتے ہیںیہاں تک کہ خدا کے فرشتے ان کو مجرم کی حیثیت سے پکڑ کر خدا کی عدالت میں حاضر کردیتے ہیں۔

وَإِنْ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ إِلَّا لَيُؤْمِنَنَّ بِهِ قَبْلَ مَوْتِهِ ۖ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكُونُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا

📘 عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) تفسير ابن كثير، جلد 2،ص 454 ۔ یہود ونصاري كے پاس آسمانی علم تھا۔ ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت خالص خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آجاتا ہے۔ موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کرلیتاہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ جب کوئی گروہ خدائی دین کے بجائے خود ساختہ دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی دینی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے کچھ خود ساختہ نشانات بھی قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مزاج اور اپنے حالات کے لحاظ سے حرام وحلال کے نئے قاعدے بناتا ہے اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ دین پر قائم ہے۔ ایسے لوگوں کا دین بعض ظاہری چیزوں کے اہتمام پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اللہ والا بننے پر۔ چنانچہ وہ اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے منع كيے ہوئے طریقوں سے دنیوی فائدے حاصل کریں اور اللہ کے لیے ہونے والے کام کا راستہ روکیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اللہ کے یہاں بے دینوں کے ساتھ ہوگا، نہ کہ دین داروں کے ساتھ۔ یہودیوں میں چند لوگ، عبد اللہ بن سلّام وغیرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ انسانی اضافوں سے گزر کر اصلی آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی کو سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آکر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل كيے جائیں گے۔

وَاللَّذَانِ يَأْتِيَانِهَا مِنْكُمْ فَآذُوهُمَا ۖ فَإِنْ تَابَا وَأَصْلَحَا فَأَعْرِضُوا عَنْهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ تَوَّابًا رَحِيمًا

📘 قرآن كے يه مخاطبين جس معامله ميں شك ميں پڑےهوئے تھے وه خدا كے وجود كا معامله نه تھا۔ بلكه خدا كي توحيد كامعامله تھا۔ وه روايتي طورپر خدا كو مانتے هوئے عملاً اپنے اكابر كے دين پر قائم تھے۔ قرآن نے ان اكابر كو بے بنياد ثابت كيا۔ مگر وه اس كو ماننے كے ليے تيار نه هوئے۔ ايك طرف وه اپنے آپ كوبے دليل پارهے تھے۔ دوسري طرف اپنے اكابر كي عظمت كو اپنے ذهن سے نكالنا بھي انھيں ناممكن نظر آتا تھا۔ اس دو طرفه تقاضوں نے انھيں شك ميں مبتلا كر ديا۔ خدا كا داعي انھيں اس سے كم نظر آيا كه اس كے كهنے سے وه اپنے مفروضه اكابر كو چھوڑ ديں۔ جو لوگ نصيحت كے ذريعے حق كو نه مانيں وه اپنے آپ كو اس خطرے ميں ڈال رهے هيں كه ان كو عذاب كے ذريعه اسے ماننا پڑے۔ اس وقت وه اعتراف كريں گے۔ مگر اس وقت كا اعتراف كرنا ان كے كچھ كام نه آئے گا۔

فَبِظُلْمٍ مِنَ الَّذِينَ هَادُوا حَرَّمْنَا عَلَيْهِمْ طَيِّبَاتٍ أُحِلَّتْ لَهُمْ وَبِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ كَثِيرًا

📘 عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) تفسير ابن كثير، جلد 2،ص 454 ۔ یہود ونصاري كے پاس آسمانی علم تھا۔ ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت خالص خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آجاتا ہے۔ موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کرلیتاہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ جب کوئی گروہ خدائی دین کے بجائے خود ساختہ دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی دینی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے کچھ خود ساختہ نشانات بھی قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مزاج اور اپنے حالات کے لحاظ سے حرام وحلال کے نئے قاعدے بناتا ہے اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ دین پر قائم ہے۔ ایسے لوگوں کا دین بعض ظاہری چیزوں کے اہتمام پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اللہ والا بننے پر۔ چنانچہ وہ اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے منع كيے ہوئے طریقوں سے دنیوی فائدے حاصل کریں اور اللہ کے لیے ہونے والے کام کا راستہ روکیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اللہ کے یہاں بے دینوں کے ساتھ ہوگا، نہ کہ دین داروں کے ساتھ۔ یہودیوں میں چند لوگ، عبد اللہ بن سلّام وغیرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ انسانی اضافوں سے گزر کر اصلی آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی کو سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آکر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل كيے جائیں گے۔

وَأَخْذِهِمُ الرِّبَا وَقَدْ نُهُوا عَنْهُ وَأَكْلِهِمْ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ ۚ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

📘 عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) تفسير ابن كثير، جلد 2،ص 454 ۔ یہود ونصاري كے پاس آسمانی علم تھا۔ ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت خالص خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آجاتا ہے۔ موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کرلیتاہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ جب کوئی گروہ خدائی دین کے بجائے خود ساختہ دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی دینی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے کچھ خود ساختہ نشانات بھی قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مزاج اور اپنے حالات کے لحاظ سے حرام وحلال کے نئے قاعدے بناتا ہے اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ دین پر قائم ہے۔ ایسے لوگوں کا دین بعض ظاہری چیزوں کے اہتمام پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اللہ والا بننے پر۔ چنانچہ وہ اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے منع كيے ہوئے طریقوں سے دنیوی فائدے حاصل کریں اور اللہ کے لیے ہونے والے کام کا راستہ روکیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اللہ کے یہاں بے دینوں کے ساتھ ہوگا، نہ کہ دین داروں کے ساتھ۔ یہودیوں میں چند لوگ، عبد اللہ بن سلّام وغیرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ انسانی اضافوں سے گزر کر اصلی آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی کو سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آکر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل كيے جائیں گے۔

لَٰكِنِ الرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَالْمُؤْمِنُونَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَالْمُقِيمِينَ الصَّلَاةَ ۚ وَالْمُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَالْمُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أُولَٰئِكَ سَنُؤْتِيهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا

📘 عکرمہ کہتے ہیں کہ کوئی یہودی یا عیسائی نہیں مرے گا یہاں تک کہ وہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے (لَا يَمُوتُ النَّصْرَانِيُّ وَلَا الْيَهُودِيُّ حَتَّى يُؤْمِنَ بِمُحَمَّدٍصَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) تفسير ابن كثير، جلد 2،ص 454 ۔ یہود ونصاري كے پاس آسمانی علم تھا۔ ایسے لوگ یہ سمجھنے میں غلطی نہیں کرسکتے تھے کہ پیغمبر عربی کی دعوت خالص خدائی دعوت ہے۔ مگر پیغمبر عربی کو ماننا اور ان کے مشن میں اپنا مال اور اپنی زندگی لگانا ان کو دنیوی مصلحتوں کے خلاف نظر آتا تھا۔ اس بنا پر انھوں نے آپ کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔ مگر جب موت آدمی کے سامنے آتی ہے تو اس قسم کی تمام مصلحتیں باطل ہوتی ہوئی نظر آنے لگتی ہیں۔ اس وقت آدمی کے ذہن سے تمام مصنوعی پردے ہٹ جاتے ہیں اور حق اپنی کھلی صورت میں سامنے آجاتا ہے۔ موت کے دروازے پر پہنچ کر آدمی اس چیز کا اقرار کرلیتاہے جس کو وہ موت سے پہلے ماننے کے لیے تیار نہ تھا۔ مگر اس وقت کے اقرار کی اللہ کی نظر میں کوئی قیمت نہیں۔ جب کوئی گروہ خدائی دین کے بجائے خود ساختہ دین کو اختیار کرتا ہے تو وہ اپنی دینی حیثیت کو ظاہر کرنے کے لیے کچھ خود ساختہ نشانات بھی قائم کرتا ہے۔ وہ اپنے مزاج اور اپنے حالات کے لحاظ سے حرام وحلال کے نئے قاعدے بناتا ہے اور ان کا خصوصی اہتمام کرکے ثابت کرنا چاہتا ہے کہ وہ دوسروں سے زیادہ دین پر قائم ہے۔ ایسے لوگوں کا دین بعض ظاہری چیزوں کے اہتمام پر مبنی ہوتا ہے، نہ کہ اللہ والا بننے پر۔ چنانچہ وہ اس سے نہیں ڈرتے کہ اللہ کے منع كيے ہوئے طریقوں سے دنیوی فائدے حاصل کریں اور اللہ کے لیے ہونے والے کام کا راستہ روکیں۔ ایسے لوگوں کا انجام اللہ کے یہاں بے دینوں کے ساتھ ہوگا، نہ کہ دین داروں کے ساتھ۔ یہودیوں میں چند لوگ، عبد اللہ بن سلّام وغیرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لائے اور آپ کا ساتھ دیا۔ جو لوگ انسانی اضافوں سے گزر کر اصلی آسمانی دین سے آشنا ہوتے ہیں، جو عصبیت اور تقلید اور مفاد پرستی کی ذہنیت سے آزاد ہوتے ہیں ان کو سچائی کو سمجھنے اور اپنے آپ کو اس کے حوالے کرنے میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی۔ وہ ہر قسم کے ذہنی خول سے باہر آکر سچائی کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کی جنتوں میں داخل كيے جائیں گے۔

۞ إِنَّا أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ كَمَا أَوْحَيْنَا إِلَىٰ نُوحٍ وَالنَّبِيِّينَ مِنْ بَعْدِهِ ۚ وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَعِيسَىٰ وَأَيُّوبَ وَيُونُسَ وَهَارُونَ وَسُلَيْمَانَ ۚ وَآتَيْنَا دَاوُودَ زَبُورًا

📘 اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جنت اور جہنم بنائی۔ اس کے بعد انسان کو زمین پر بسایا۔ یہاں انسان کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی مستقل نہیں ہے بلکہ وقتی ہے اور امتحان کے لیے ہے۔ وہ اس لیے ہے تاکہ اچھے اور برے کو چھانٹا جائے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ لوگوں میں کون وہ شخص ہے جو اپنی آزادی کے باوجود حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور اپنے کو اللہ کا بندہ بنا کر رکھتا ہے اور کون وہ ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے بتاتا ہے کہ وہ ایک سرکش انسان ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ دونوں کو یہاں یکساں طورپر خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہے۔ مگر امتحان کی مقرره مدت پوری ہونے کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے سے الگ کرديے جائیں گے۔ پہلے گروہ کو ابدی طورپر جنت کے باغوں میں بسایا جائے گا اور دوسرے گروہ کو ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ زندگی کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ انسان کو بڑی نزاکت میں ڈال رہا ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مختصر زندگی کا انجام دو انتہائی صورتوں میں سامنے آنے والا ہے، یا ابدی راحت یا ابدی عذاب۔ اس لیے الله نے رہنمائی کے دوسرے فطری انتظامات کے علاوہ پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے کا انتظام کیا تاکہ کوئی شخص زندگی کی حقیقت سے بے خبر نہ رہے اور فیصلہ کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو الٰہی منصوبہ کا پتہ نہ تھا تاكه ہم اپنی زندگی کو اس کے مطابق بناتے۔ اللہ کے اس منصوبہ کے لازم معنی یہ ہیں کہ شروع سے آخر تک آنے والے تمام نبیوں کا پیغام اور ان كا منصبی فریضہ ایک ہو۔ جب تمام انسان ایک ہی امتحان کی ترازو میں کھڑے ہوئے ہیں تو ان کے امتحان کا پرچہ ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہوسکتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام نبیوں کا پیغام ايك تھا اور اسی ایک پیغام سے انھوںنے تمام انسانوں کو باخبر کیا۔ اور وہ یہ کہ ہر آدمی ایک ایسے نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے جس کے ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف جہنم۔ وہ ایک طرف چلے تو جنت میں پہنچے گا اور دوسری طرف چلے تو جہنم میں جاگرے گا — تمام نبیوں کی دعوت ایک تھی۔البتہ زمانی ضرورت کے اعتبار سے ان كو خدا کی تائید مختلف صورتوںمیں ملی۔ اللہ کی یہ سنت آج بھی باقی ہے۔ ڈرانے اور خوش خبری سنانے کا پیغمبرانہ کام کرنے کے لیے آج جو لوگ اٹھیں گے وہ اپنے حالات کے لحاظ سے یقیناً اللہ کی خصوصی تائید کے مستحق ہوں گے۔ تاکہ وہ اپني دعوتی ذمہ داری کو مؤثر طور پر جاری رکھ سکیں۔

وَرُسُلًا قَدْ قَصَصْنَاهُمْ عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ وَرُسُلًا لَمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَيْكَ ۚ وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا

📘 اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جنت اور جہنم بنائی۔ اس کے بعد انسان کو زمین پر بسایا۔ یہاں انسان کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی مستقل نہیں ہے بلکہ وقتی ہے اور امتحان کے لیے ہے۔ وہ اس لیے ہے تاکہ اچھے اور برے کو چھانٹا جائے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ لوگوں میں کون وہ شخص ہے جو اپنی آزادی کے باوجود حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور اپنے کو اللہ کا بندہ بنا کر رکھتا ہے اور کون وہ ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے بتاتا ہے کہ وہ ایک سرکش انسان ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ دونوں کو یہاں یکساں طورپر خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہے۔ مگر امتحان کی مقرره مدت پوری ہونے کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے سے الگ کرديے جائیں گے۔ پہلے گروہ کو ابدی طورپر جنت کے باغوں میں بسایا جائے گا اور دوسرے گروہ کو ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ زندگی کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ انسان کو بڑی نزاکت میں ڈال رہا ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مختصر زندگی کا انجام دو انتہائی صورتوں میں سامنے آنے والا ہے، یا ابدی راحت یا ابدی عذاب۔ اس لیے الله نے رہنمائی کے دوسرے فطری انتظامات کے علاوہ پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے کا انتظام کیا تاکہ کوئی شخص زندگی کی حقیقت سے بے خبر نہ رہے اور فیصلہ کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو الٰہی منصوبہ کا پتہ نہ تھا تاكه ہم اپنی زندگی کو اس کے مطابق بناتے۔ اللہ کے اس منصوبہ کے لازم معنی یہ ہیں کہ شروع سے آخر تک آنے والے تمام نبیوں کا پیغام اور ان كا منصبی فریضہ ایک ہو۔ جب تمام انسان ایک ہی امتحان کی ترازو میں کھڑے ہوئے ہیں تو ان کے امتحان کا پرچہ ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہوسکتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام نبیوں کا پیغام ايك تھا اور اسی ایک پیغام سے انھوںنے تمام انسانوں کو باخبر کیا۔ اور وہ یہ کہ ہر آدمی ایک ایسے نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے جس کے ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف جہنم۔ وہ ایک طرف چلے تو جنت میں پہنچے گا اور دوسری طرف چلے تو جہنم میں جاگرے گا — تمام نبیوں کی دعوت ایک تھی۔البتہ زمانی ضرورت کے اعتبار سے ان كو خدا کی تائید مختلف صورتوںمیں ملی۔ اللہ کی یہ سنت آج بھی باقی ہے۔ ڈرانے اور خوش خبری سنانے کا پیغمبرانہ کام کرنے کے لیے آج جو لوگ اٹھیں گے وہ اپنے حالات کے لحاظ سے یقیناً اللہ کی خصوصی تائید کے مستحق ہوں گے۔ تاکہ وہ اپني دعوتی ذمہ داری کو مؤثر طور پر جاری رکھ سکیں۔

رُسُلًا مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ لِئَلَّا يَكُونَ لِلنَّاسِ عَلَى اللَّهِ حُجَّةٌ بَعْدَ الرُّسُلِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَزِيزًا حَكِيمًا

📘 اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور پھر جنت اور جہنم بنائی۔ اس کے بعد انسان کو زمین پر بسایا۔ یہاں انسان کو آزادی ہے کہ وہ جو چاہے کرے۔ مگر یہ آزادی مستقل نہیں ہے بلکہ وقتی ہے اور امتحان کے لیے ہے۔ وہ اس لیے ہے تاکہ اچھے اور برے کو چھانٹا جائے۔ خدا یہ دیکھ رہا ہے کہ لوگوں میں کون وہ شخص ہے جو اپنی آزادی کے باوجود حقیقت پسندی کا رویہ اختیار کرتا ہے اور اپنے کو اللہ کا بندہ بنا کر رکھتا ہے اور کون وہ ہے جو اپنی آزادی کا غلط استعمال کرکے بتاتا ہے کہ وہ ایک سرکش انسان ہے۔ دنیا میں دونوں قسم کے لوگ ملے ہوئے ہیں۔ دونوں کو یہاں یکساں طورپر خدا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کا موقع حاصل ہے۔ مگر امتحان کی مقرره مدت پوری ہونے کے بعد دونوں گروہ ایک دوسرے سے الگ کرديے جائیں گے۔ پہلے گروہ کو ابدی طورپر جنت کے باغوں میں بسایا جائے گا اور دوسرے گروہ کو ابدی طور پر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ زندگی کے بارے میں اللہ کا یہ منصوبہ انسان کو بڑی نزاکت میں ڈال رہا ہے۔ کیوں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی مختصر زندگی کا انجام دو انتہائی صورتوں میں سامنے آنے والا ہے، یا ابدی راحت یا ابدی عذاب۔ اس لیے الله نے رہنمائی کے دوسرے فطری انتظامات کے علاوہ پیغمبروں اور کتابوں کے بھیجنے کا انتظام کیا تاکہ کوئی شخص زندگی کی حقیقت سے بے خبر نہ رہے اور فیصلہ کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ ہم کو الٰہی منصوبہ کا پتہ نہ تھا تاكه ہم اپنی زندگی کو اس کے مطابق بناتے۔ اللہ کے اس منصوبہ کے لازم معنی یہ ہیں کہ شروع سے آخر تک آنے والے تمام نبیوں کا پیغام اور ان كا منصبی فریضہ ایک ہو۔ جب تمام انسان ایک ہی امتحان کی ترازو میں کھڑے ہوئے ہیں تو ان کے امتحان کا پرچہ ایک دوسرے سے مختلف کیسے ہوسکتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمام نبیوں کا پیغام ايك تھا اور اسی ایک پیغام سے انھوںنے تمام انسانوں کو باخبر کیا۔ اور وہ یہ کہ ہر آدمی ایک ایسے نازک مقام پر کھڑا ہوا ہے جس کے ایک طرف جنت ہے اور دوسری طرف جہنم۔ وہ ایک طرف چلے تو جنت میں پہنچے گا اور دوسری طرف چلے تو جہنم میں جاگرے گا — تمام نبیوں کی دعوت ایک تھی۔البتہ زمانی ضرورت کے اعتبار سے ان كو خدا کی تائید مختلف صورتوںمیں ملی۔ اللہ کی یہ سنت آج بھی باقی ہے۔ ڈرانے اور خوش خبری سنانے کا پیغمبرانہ کام کرنے کے لیے آج جو لوگ اٹھیں گے وہ اپنے حالات کے لحاظ سے یقیناً اللہ کی خصوصی تائید کے مستحق ہوں گے۔ تاکہ وہ اپني دعوتی ذمہ داری کو مؤثر طور پر جاری رکھ سکیں۔

لَٰكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔ خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ قَدْ ضَلُّوا ضَلَالًا بَعِيدًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔ خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَظَلَمُوا لَمْ يَكُنِ اللَّهُ لِيَغْفِرَ لَهُمْ وَلَا لِيَهْدِيَهُمْ طَرِيقًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔ خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔ خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللَّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِنْ قَرِيبٍ فَأُولَٰئِكَ يَتُوبُ اللَّهُ عَلَيْهِمْ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

📘 کوئی مرد یا عورت اگر ایسا فعل کر بیٹھے جو شریعت کے نزدیک گناہ ہو تب بھی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا وہ قانون کے مطابق کیا جائے گا، نہ کہ قانون سے آزاد ہو کر۔ قانون کے تقاضے پورا کیے بغیر کسی کو مجرم قرار دینا درست نہیں، کسی کا مجرم ہونا دوسرے کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرنے لگے۔ سزا کا مقصد عدل کا قیام ہے، اور عدل کا قیام ظلم اور بے انصافی کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ اور اگر گناہ کرنے والا تائب ہو اور اپنی اصلاح کرلے تو اس كے بعد تو لازم هوجاتا هے كه اس كے ساتھ شفقت اور درگزر كا معامله كيا جائے۔ كسي كے ماضي كي بنياد پر اس كو مطعون كرنا درست نهيں۔ جب الله توبه كرنے والوں كي توبه قبول كرتاهے اور اپني اصلاح كرلینے والوں کی طرف دوبارہ مہربانی کے ساتھ پلٹ آتا ہے تو انسانوں کو کیا حق ہے کہ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنائیں۔ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنا کر آدمی خود اپنے آپ کو مجرم ثابت کررہا ہے نہ کہ کسی دوسرے آدمی کو۔ توبہ زبان سے ’’توبہ‘‘ کا لفظ بولنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی گنہ گاری کے شدید احساس کا نام ہے۔ اور آدمی اگر اپنی توبہ میں سنجیدہ ہو اور واقعی شدت کے ساتھ اس نے اپنی گنہ گاری کو محسوس کیا ہو تو وہ آدمی کے لیے اتنا سخت معاملہ ہوتا ہے کہ توبہ آدمی کے لیے اپنی سزا آپ دینے کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت آدمی کے اندر اگر اللہ کے ڈر سے پیدا ہوئی ہو تو اللہ ضرور اس کو معاف کردیتا ہے۔ مگر ان لوگوں کے توبہ کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں جو اتنے جری ہو ں کہ جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کرتے رہيں۔ اور تنبیہ کے باوجود اس پر قائم رہیں، البتہ جب دنیا سے جانے کا وقت آجائے تو کهيں کہ ’’میں نے توبہ کی،‘‘ اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی بے فائدہ ہے جو آخرت میں عذاب کو سامنے دیکھ کر اپنے جرم کا اقرار کریںگے۔ توبہ کی حقیقت بندے کا اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے تاکہ اس کا رب بھی اس کی طرف پلٹے۔ توبہ اس شخص کے لیے ہے جو وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر بری حرکت کربیٹھے، پھر اس کا احتسابِ نفس جلد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس کرادے۔ وہ برائی کو چھوڑ کر دوبارہ نیکی کی روش اختیار کرے اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرلے۔ ایسا ہی آدمی توبہ کرنے والا ہے اور جو شخص اس طرح توبہ کرے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گھر کا بھٹکا ہوا آدمی دوبارہ اپنے گھر واپس آجائے۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمُ الرَّسُولُ بِالْحَقِّ مِنْ رَبِّكُمْ فَآمِنُوا خَيْرًا لَكُمْ ۚ وَإِنْ تَكْفُرُوا فَإِنَّ لِلَّهِ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

📘 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کے وقت یہود کو آسمانی مذہب کے نمائندہ کی حیثیت حاصل تھی۔ وہ مذہب کے بڑے بڑے مناصب پر بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کو منظور نہ ہوا کہ وہ اپنے سوا کسی اورکی بڑائی تسلیم کریں۔ انھوںنے یہ ماننے سے انکار کردیا کہ آپ اللہ کی طرف سے انسانوں تک الله کا پیغام پہنچانے کے لیے بھیجے گئے ہیں۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم دین کے اجارہ دار ہیں۔ ہم جس شخص کی دینی صداقت کو تسلیم نہ کریں، وہ بطور واقعہ بھی غیر تسلیم شدہ بن جاتا ہے۔ مگر وہ بھول گئے کہ یہ کائنات خدا کی کائنات ہے اور اس کا نظام خدا کے فرماں بردار فرشتے چلا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں کسی کی اصل تصدیق وہ ہے جو خدا کی طرف سے ہو اور کائنات کا پورا نظام جس کی تائید کرے۔ اور یقیناً خدا اور اس کی پوری کائنات اپنے پیغمبر کے ساتھ ہے، نہ کہ کسی کے خود ساختہ مزعومات کے ساتھ۔ خدا کی پکار کے مقابلہ میں جو لوگ یہ رد عمل دکھائیں ، يعني کہ وہ اس کا اعراض وانکار کریں اور وہ لوگوں کو اس کا ساتھ دینے سے روکیں۔ وہ صرف یہ ثابت کررہے ہیں کہ وہ بندگي کے صحیح مقام سے بھٹک کر بہت دور نکل گئے ہیں۔ وہ ایسی بات کہتے ہیں جس کی تردید ساری کائنات کررہی ہے۔ وہ ایک ایسے منصوبہ کے خلاف محاذ بنا رہے ہیں جس کی پشت پر زمین و آسمان کا مالک کھڑا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے بڑی نادانی اس دنیا میں اور کوئی نہیں۔ ایسے لوگ دین کے نام پر سب سے بڑی بے دینی کررہے ہیں۔ جو لوگ اپنے لیے اس قسم کا ظالمانہ رویہ پسند کریں ان کا ذہن اعتراف کے بجائے انکار کے رخ پر چلنے لگتا ہے۔ وہ دن بدن حق سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ابدی بربادی کے گڑھے میں جاگر تے ہیں۔ خدا کی دعوت کا انکار خود خدا کا انکار ہے۔ خدا کی دعوت اتنے کھلے ہوئے دلائل کے ساتھ ہوتی ہے کہ اس کو سمجھنا کسی کے لیے مشکل نہ رہے۔ اس کے باوجود جو لوگ خدا کی دعوت کا انکار کریں وہ گویا خدا کے سامنے ڈھٹائی کررہے ہیں۔ اور ڈھٹائی اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم ہے۔ اگر آدمی نے اپنے دل کی کھڑکیاں کھلی رکھی ہوں تو اللہ کی پکار اس کو عین اپنی تلاش کا جواب معلوم ہوگی۔ اس کو محسوس ہوگاکہ وہ حق جو انسانی باتوں میں ڈھک کر رہ گیا تھا، اللہ نے اس کی بے آمیز شکل میں اس کے اعلان کا انتظام کیا ہے۔ یہ اللہ کے علم اور حکمت کا ظہور ہے، نہ کہ کسی شخص کے ذاتی جوش کا کوئی معاملہ۔

يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ وَلَا تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ إِلَّا الْحَقَّ ۚ إِنَّمَا الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ رَسُولُ اللَّهِ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَىٰ مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ ۖ فَآمِنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ ۖ وَلَا تَقُولُوا ثَلَاثَةٌ ۚ انْتَهُوا خَيْرًا لَكُمْ ۚ إِنَّمَا اللَّهُ إِلَٰهٌ وَاحِدٌ ۖ سُبْحَانَهُ أَنْ يَكُونَ لَهُ وَلَدٌ ۘ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا

📘 آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میںمبالغہ آمیز تصور قائم کرلیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلاً اسی غلو کی پیداوار ہیں۔ دین میں غلو یہ ہے کہ دین میں کسی چیز کا جو درجہ ہو اس کو اس کے واقعی درجہ پر نہ رکھا جائے بلکہ اس کو بڑھا کر زیادہ بڑا درجہ دینے کی کوشش کی جائے — اللہ اپنے ایک بندے کو باپ کے بغیر پیدا کرے تو کہہ دیا جائے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ اللہ کسی کو کوئی بڑا مرتبہ دے دے تو سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی مافوق شخصیت ہے اور بشری غلطیوں سے پاک ہے۔ دنیا کی چمک دمک سے بچنے کی تاکید کی جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر ترک دنیا تک پہنچا دیا جائے۔ زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں کچھ احکام ديے جائیں تو اس میں مبالغہ کرکے اسی کی بنیاد پر ایک پورا دینی فلسفہ بنا دیا جائے۔ اس قسم کی تمام صورتیں جن میں کسی دینی چیز کو اس کے واقعی مقام سے بڑھا کر مبالغہ آمیز درجہ دیا جائے۔ وہ غلو کی فہرست میں شامل ہوگا۔ ہر قسم کی طاقتیں صرف اللہ کو حاصل ہیں۔ اس کے سوا جتنی چیزیں ہیں سب عاجز اور محکوم ہیں۔ انسان اپنے شعور کے کمال درجے پر پہنچ کر جو چیز دریافت کرتا ہے وہ یہ کہ خدا قادر مطلق ہے اور وہ اس کے مقابلہ میں عاجز مطلق۔ پیغمبراور فرشتے اس شعور میں سب سے آگے ہوتے ہیں، اس لیے وہ خدا کی قدرت اور اپنے عجز کے اعتراف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں۔اعتراف ہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ جس کو اپنے عجز کا شعور ہوجائے اس نے خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پالیا۔ اور جس کو اپنے عجز کا شعور نہ ہو وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پانے سے محروم رہا۔ پہلا شخص آنکھ والا ہے جو کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچے گا۔ دوسرا شخص اندھا ہے جس کے لیے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ بھٹکتا رہے یہاں تک کہ ذلّت کے گڑھے میں جاگرے۔

لَنْ يَسْتَنْكِفَ الْمَسِيحُ أَنْ يَكُونَ عَبْدًا لِلَّهِ وَلَا الْمَلَائِكَةُ الْمُقَرَّبُونَ ۚ وَمَنْ يَسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهِ وَيَسْتَكْبِرْ فَسَيَحْشُرُهُمْ إِلَيْهِ جَمِيعًا

📘 آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میںمبالغہ آمیز تصور قائم کرلیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلاً اسی غلو کی پیداوار ہیں۔ دین میں غلو یہ ہے کہ دین میں کسی چیز کا جو درجہ ہو اس کو اس کے واقعی درجہ پر نہ رکھا جائے بلکہ اس کو بڑھا کر زیادہ بڑا درجہ دینے کی کوشش کی جائے — اللہ اپنے ایک بندے کو باپ کے بغیر پیدا کرے تو کہہ دیا جائے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ اللہ کسی کو کوئی بڑا مرتبہ دے دے تو سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی مافوق شخصیت ہے اور بشری غلطیوں سے پاک ہے۔ دنیا کی چمک دمک سے بچنے کی تاکید کی جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر ترک دنیا تک پہنچا دیا جائے۔ زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں کچھ احکام ديے جائیں تو اس میں مبالغہ کرکے اسی کی بنیاد پر ایک پورا دینی فلسفہ بنا دیا جائے۔ اس قسم کی تمام صورتیں جن میں کسی دینی چیز کو اس کے واقعی مقام سے بڑھا کر مبالغہ آمیز درجہ دیا جائے۔ وہ غلو کی فہرست میں شامل ہوگا۔ ہر قسم کی طاقتیں صرف اللہ کو حاصل ہیں۔ اس کے سوا جتنی چیزیں ہیں سب عاجز اور محکوم ہیں۔ انسان اپنے شعور کے کمال درجے پر پہنچ کر جو چیز دریافت کرتا ہے وہ یہ کہ خدا قادر مطلق ہے اور وہ اس کے مقابلہ میں عاجز مطلق۔ پیغمبراور فرشتے اس شعور میں سب سے آگے ہوتے ہیں، اس لیے وہ خدا کی قدرت اور اپنے عجز کے اعتراف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں۔اعتراف ہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ جس کو اپنے عجز کا شعور ہوجائے اس نے خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پالیا۔ اور جس کو اپنے عجز کا شعور نہ ہو وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پانے سے محروم رہا۔ پہلا شخص آنکھ والا ہے جو کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچے گا۔ دوسرا شخص اندھا ہے جس کے لیے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ بھٹکتا رہے یہاں تک کہ ذلّت کے گڑھے میں جاگرے۔

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَيُوَفِّيهِمْ أُجُورَهُمْ وَيَزِيدُهُمْ مِنْ فَضْلِهِ ۖ وَأَمَّا الَّذِينَ اسْتَنْكَفُوا وَاسْتَكْبَرُوا فَيُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَلَا يَجِدُونَ لَهُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا

📘 آدمی کی یہ کمزوری ہے کہ کسی چیز میں کوئی امتیازی پہلو دیکھتا ہے تو اس کے بارے میںمبالغہ آمیز تصور قائم کرلیتا ہے۔ وہ اس کا مقام متعین کرنے میں حد سے آگے نکل جاتا ہے۔ اسی کا نام غلو ہے۔ شرک اور شخصیت پرستی کی تمام قسمیں اصلاً اسی غلو کی پیداوار ہیں۔ دین میں غلو یہ ہے کہ دین میں کسی چیز کا جو درجہ ہو اس کو اس کے واقعی درجہ پر نہ رکھا جائے بلکہ اس کو بڑھا کر زیادہ بڑا درجہ دینے کی کوشش کی جائے — اللہ اپنے ایک بندے کو باپ کے بغیر پیدا کرے تو کہہ دیا جائے کہ یہ خدا کا بیٹا ہے۔ اللہ کسی کو کوئی بڑا مرتبہ دے دے تو سمجھ لیا جائے کہ وہ کوئی مافوق شخصیت ہے اور بشری غلطیوں سے پاک ہے۔ دنیا کی چمک دمک سے بچنے کی تاکید کی جائے تو اس کو بڑھا چڑھا کر ترک دنیا تک پہنچا دیا جائے۔ زندگی کے کسی پہلو کے بارے میں کچھ احکام ديے جائیں تو اس میں مبالغہ کرکے اسی کی بنیاد پر ایک پورا دینی فلسفہ بنا دیا جائے۔ اس قسم کی تمام صورتیں جن میں کسی دینی چیز کو اس کے واقعی مقام سے بڑھا کر مبالغہ آمیز درجہ دیا جائے۔ وہ غلو کی فہرست میں شامل ہوگا۔ ہر قسم کی طاقتیں صرف اللہ کو حاصل ہیں۔ اس کے سوا جتنی چیزیں ہیں سب عاجز اور محکوم ہیں۔ انسان اپنے شعور کے کمال درجے پر پہنچ کر جو چیز دریافت کرتا ہے وہ یہ کہ خدا قادر مطلق ہے اور وہ اس کے مقابلہ میں عاجز مطلق۔ پیغمبراور فرشتے اس شعور میں سب سے آگے ہوتے ہیں، اس لیے وہ خدا کی قدرت اور اپنے عجز کے اعتراف میں بھی سب سے آگے ہوتے ہیں۔اعتراف ہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ جس کو اپنے عجز کا شعور ہوجائے اس نے خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پالیا۔ اور جس کو اپنے عجز کا شعور نہ ہو وہ خدا کے مقابلہ میں اپنی نسبت کو پانے سے محروم رہا۔ پہلا شخص آنکھ والا ہے جو کامیابی کے ساتھ اپنی منزل کو پہنچے گا۔ دوسرا شخص اندھا ہے جس کے لیے اس کے سوا کوئی انجام نہیں کہ وہ بھٹکتا رہے یہاں تک کہ ذلّت کے گڑھے میں جاگرے۔

يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَكُمْ بُرْهَانٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكُمْ نُورًا مُبِينًا

📘 اللہ کی طرف سے جب اس کی پکار انسانوں کے سامنے بلند ہوتی ہے تو وہ ایسی کھلی ہوئی صورت میں بلند ہوتی ہے جو تاریکیوں کو ختم کرکے حقائق کو آخری حد تک روشن کردے۔ اسی کے ساتھ وہ ایسے دلائل سے مسلّح ہوتی ہے جس کا رد کرنا کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ وہ اس کا استہزا تو کرسکتے ہیں مگر دلیل کی زبان میں اس کو کاٹ نہیں سکتے۔خدا وہ ہے جو سورج نکالتا ہے تو روشنی اور تاریکی ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں۔ خدا کی یہی قدرت اس کی پکار میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد حق اور باطل ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہوجاتے ہیں کہ کسی آنکھ والے کے لیے اس کا جاننا ناممکن نہ رہے۔ تاہم سورج کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی آنکھ کھولے۔ اسی طرح خدا کی پکار سے ہدایت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس پر دھیان دے۔ جو شخص دھیان نہ دے وہ خدا کی پکار کے درمیان رہ کر بھی اس سے محروم رہے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حق کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا جائے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شیطان ہر آدمی کے پیچھے لگا ہوا ہے جو طرح طرح کے دھوکے میں ڈال کر آدمی کو حق سے بدکاتا رہتا ہے۔ اگر آدمی شیطان کے وسوسوں سے لڑکر حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ نہ کرے تو یقینا شیطان اس کو درمیان میں اچک لے گا۔ تاہم آزمائش کی اس دنیا میں انسان اکیلا نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی طرف چلنا چاہیں گے ان کو ہر موڑ پر خدا کی رہنمائی حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی مدد سے منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوںگے۔جب آدمی کا یہ حال ہوجائے کہ وہ صرف حق کو اہمیت دے تو اللہ کی توفیق سے اس کے اندر یہ صلاحیت ابھر آتی ہے کہ وہ خالص حق پر مضبوطی کے ساتھ جمے اور دوسری راہوں میں بھٹکنے سے بچا رہے۔ میراث اور ترکہ کا حکم بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’اللہ اپنا حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہی میں نہ پڑو‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ میراث اور ترکہ کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیںہے۔ یہ ان امور میں سے ہے جس میں اللہ کے بتائے ہوئے قاعدے کی پابندی نہ کرنا آدمی کو گمراہی کی خندق میں ڈال دیتا ہے۔

فَأَمَّا الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَاعْتَصَمُوا بِهِ فَسَيُدْخِلُهُمْ فِي رَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ وَيَهْدِيهِمْ إِلَيْهِ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا

📘 اللہ کی طرف سے جب اس کی پکار انسانوں کے سامنے بلند ہوتی ہے تو وہ ایسی کھلی ہوئی صورت میں بلند ہوتی ہے جو تاریکیوں کو ختم کرکے حقائق کو آخری حد تک روشن کردے۔ اسی کے ساتھ وہ ایسے دلائل سے مسلّح ہوتی ہے جس کا رد کرنا کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ وہ اس کا استہزا تو کرسکتے ہیں مگر دلیل کی زبان میں اس کو کاٹ نہیں سکتے۔خدا وہ ہے جو سورج نکالتا ہے تو روشنی اور تاریکی ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں۔ خدا کی یہی قدرت اس کی پکار میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد حق اور باطل ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہوجاتے ہیں کہ کسی آنکھ والے کے لیے اس کا جاننا ناممکن نہ رہے۔ تاہم سورج کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی آنکھ کھولے۔ اسی طرح خدا کی پکار سے ہدایت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس پر دھیان دے۔ جو شخص دھیان نہ دے وہ خدا کی پکار کے درمیان رہ کر بھی اس سے محروم رہے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حق کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا جائے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شیطان ہر آدمی کے پیچھے لگا ہوا ہے جو طرح طرح کے دھوکے میں ڈال کر آدمی کو حق سے بدکاتا رہتا ہے۔ اگر آدمی شیطان کے وسوسوں سے لڑکر حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ نہ کرے تو یقینا شیطان اس کو درمیان میں اچک لے گا۔ تاہم آزمائش کی اس دنیا میں انسان اکیلا نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی طرف چلنا چاہیں گے ان کو ہر موڑ پر خدا کی رہنمائی حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی مدد سے منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوںگے۔جب آدمی کا یہ حال ہوجائے کہ وہ صرف حق کو اہمیت دے تو اللہ کی توفیق سے اس کے اندر یہ صلاحیت ابھر آتی ہے کہ وہ خالص حق پر مضبوطی کے ساتھ جمے اور دوسری راہوں میں بھٹکنے سے بچا رہے۔ میراث اور ترکہ کا حکم بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’اللہ اپنا حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہی میں نہ پڑو‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ میراث اور ترکہ کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیںہے۔ یہ ان امور میں سے ہے جس میں اللہ کے بتائے ہوئے قاعدے کی پابندی نہ کرنا آدمی کو گمراہی کی خندق میں ڈال دیتا ہے۔

يَسْتَفْتُونَكَ قُلِ اللَّهُ يُفْتِيكُمْ فِي الْكَلَالَةِ ۚ إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ وَلَهُ أُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ ۚ وَهُوَ يَرِثُهَا إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهَا وَلَدٌ ۚ فَإِنْ كَانَتَا اثْنَتَيْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثَانِ مِمَّا تَرَكَ ۚ وَإِنْ كَانُوا إِخْوَةً رِجَالًا وَنِسَاءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ۗ يُبَيِّنُ اللَّهُ لَكُمْ أَنْ تَضِلُّوا ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ

📘 اللہ کی طرف سے جب اس کی پکار انسانوں کے سامنے بلند ہوتی ہے تو وہ ایسی کھلی ہوئی صورت میں بلند ہوتی ہے جو تاریکیوں کو ختم کرکے حقائق کو آخری حد تک روشن کردے۔ اسی کے ساتھ وہ ایسے دلائل سے مسلّح ہوتی ہے جس کا رد کرنا کسی کے لیے ممکن نہ ہو۔ وہ اس کا استہزا تو کرسکتے ہیں مگر دلیل کی زبان میں اس کو کاٹ نہیں سکتے۔خدا وہ ہے جو سورج نکالتا ہے تو روشنی اور تاریکی ایک دوسرے سے جدا ہوجاتی ہیں۔ خدا کی یہی قدرت اس کی پکار میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اس کے بعد حق اور باطل ایک دوسرے سے اس طرح الگ ہوجاتے ہیں کہ کسی آنکھ والے کے لیے اس کا جاننا ناممکن نہ رہے۔ تاہم سورج کو دیکھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنی آنکھ کھولے۔ اسی طرح خدا کی پکار سے ہدایت لینے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی اس پر دھیان دے۔ جو شخص دھیان نہ دے وہ خدا کی پکار کے درمیان رہ کر بھی اس سے محروم رہے گا۔ اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ حق کو مضبوطی کے ساتھ پکڑا جائے۔ کیوں کہ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں شیطان ہر آدمی کے پیچھے لگا ہوا ہے جو طرح طرح کے دھوکے میں ڈال کر آدمی کو حق سے بدکاتا رہتا ہے۔ اگر آدمی شیطان کے وسوسوں سے لڑکر حق کا ساتھ دینے کا فیصلہ نہ کرے تو یقینا شیطان اس کو درمیان میں اچک لے گا۔ تاہم آزمائش کی اس دنیا میں انسان اکیلا نہیں ہے۔ جو لوگ خدا کی طرف چلنا چاہیں گے ان کو ہر موڑ پر خدا کی رہنمائی حاصل ہوگی۔ وہ خدا کی مدد سے منزل پر پہنچنے میں کامیاب ہوںگے۔جب آدمی کا یہ حال ہوجائے کہ وہ صرف حق کو اہمیت دے تو اللہ کی توفیق سے اس کے اندر یہ صلاحیت ابھر آتی ہے کہ وہ خالص حق پر مضبوطی کے ساتھ جمے اور دوسری راہوں میں بھٹکنے سے بچا رہے۔ میراث اور ترکہ کا حکم بتاتے ہوئے یہ کہنا کہ ’’اللہ اپنا حکم بیان کرتا ہے تاکہ تم گمراہی میں نہ پڑو‘‘ ظاہر کرتا ہے کہ میراث اور ترکہ کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیںہے۔ یہ ان امور میں سے ہے جس میں اللہ کے بتائے ہوئے قاعدے کی پابندی نہ کرنا آدمی کو گمراہی کی خندق میں ڈال دیتا ہے۔

وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّىٰ إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الْآنَ وَلَا الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ ۚ أُولَٰئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا

📘 کوئی مرد یا عورت اگر ایسا فعل کر بیٹھے جو شریعت کے نزدیک گناہ ہو تب بھی اس کے ساتھ جو معاملہ کیا جائے گا وہ قانون کے مطابق کیا جائے گا، نہ کہ قانون سے آزاد ہو کر۔ قانون کے تقاضے پورا کیے بغیر کسی کو مجرم قرار دینا درست نہیں، کسی کا مجرم ہونا دوسرے کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرنے لگے۔ سزا کا مقصد عدل کا قیام ہے، اور عدل کا قیام ظلم اور بے انصافی کے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ اور اگر گناہ کرنے والا تائب ہو اور اپنی اصلاح کرلے تو اس كے بعد تو لازم هوجاتا هے كه اس كے ساتھ شفقت اور درگزر كا معامله كيا جائے۔ كسي كے ماضي كي بنياد پر اس كو مطعون كرنا درست نهيں۔ جب الله توبه كرنے والوں كي توبه قبول كرتاهے اور اپني اصلاح كرلینے والوں کی طرف دوبارہ مہربانی کے ساتھ پلٹ آتا ہے تو انسانوں کو کیا حق ہے کہ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنائیں۔ ایسے کسی شخص کو طنز وملامت کا نشانہ بنا کر آدمی خود اپنے آپ کو مجرم ثابت کررہا ہے نہ کہ کسی دوسرے آدمی کو۔ توبہ زبان سے ’’توبہ‘‘ کا لفظ بولنے کا نام نہیں۔ یہ اپنی گنہ گاری کے شدید احساس کا نام ہے۔ اور آدمی اگر اپنی توبہ میں سنجیدہ ہو اور واقعی شدت کے ساتھ اس نے اپنی گنہ گاری کو محسوس کیا ہو تو وہ آدمی کے لیے اتنا سخت معاملہ ہوتا ہے کہ توبہ آدمی کے لیے اپنی سزا آپ دینے کے ہم معنی بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت آدمی کے اندر اگر اللہ کے ڈر سے پیدا ہوئی ہو تو اللہ ضرور اس کو معاف کردیتا ہے۔ مگر ان لوگوں کے توبہ کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں جو اتنے جری ہو ں کہ جان بوجھ کر اللہ کی نافرمانی کرتے رہيں۔ اور تنبیہ کے باوجود اس پر قائم رہیں، البتہ جب دنیا سے جانے کا وقت آجائے تو کهيں کہ ’’میں نے توبہ کی،‘‘ اسی طرح ان لوگوں کی توبہ بھی بے فائدہ ہے جو آخرت میں عذاب کو سامنے دیکھ کر اپنے جرم کا اقرار کریںگے۔ توبہ کی حقیقت بندے کا اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے تاکہ اس کا رب بھی اس کی طرف پلٹے۔ توبہ اس شخص کے لیے ہے جو وقتی جذبہ سے مغلوب ہو کر بری حرکت کربیٹھے، پھر اس کا احتسابِ نفس جلد ہی اس کو اپنی غلطی کا احساس کرادے۔ وہ برائی کو چھوڑ کر دوبارہ نیکی کی روش اختیار کرے اور شریعت کے مطابق اپنی زندگی کی اصلاح کرلے۔ ایسا ہی آدمی توبہ کرنے والا ہے اور جو شخص اس طرح توبہ کرے اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے گھر کا بھٹکا ہوا آدمی دوبارہ اپنے گھر واپس آجائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَحِلُّ لَكُمْ أَنْ تَرِثُوا النِّسَاءَ كَرْهًا ۖ وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَىٰ أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيَجْعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا

📘 مرنے والے کے مال میں یقیناًبعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے — عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لاکر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کونبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی واستحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر وبرداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنّتوں میں داخل کيے جائیں گے۔ جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کرکے علیٰحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتاہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عهد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہو تب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ تحریری عہد کی۔ ’’جو ہوچکا سو ہوچکا ‘‘ کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔ ’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نه ہو مگر اللہ نے اس کے اندر تمھارے لیے کوئی بڑی بھلائی رکھ دی ہو‘‘ — یہ فقرہ یہاں اگرچہ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم بتاتے ہوئے اس کے درمیان ایک ایسی کلی ہدایت دے دیتا ہے جس کا تعلق آدمی کی پوری زندگی سے ہو۔ دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا ناگزیر ہے۔ کوئی شخص بالکل اگ تھلگ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اب چوں کہ طبیعتیں الگ الگ ہیں، اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے ان کے درمیان لازماً شکایات پیدا ہوں گی۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک خرابی آدمی کے سامنے آتی ہے اور وہ بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں کوئی خیر کا پہلو موجود ہے۔ کبھی کسی واقعہ میں آدمی کے لیے صبر کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے۔ کبھی اس کے اندر اللہ کی طرف رجوع اور انابت کی غذا ہوتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی تکلیف میںکوئی بڑا سبق چھپا ہوا ہوتا ہے، وغیرہ۔

وَآتُوا الْيَتَامَىٰ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَتَبَدَّلُوا الْخَبِيثَ بِالطَّيِّبِ ۖ وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَهُمْ إِلَىٰ أَمْوَالِكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ حُوبًا كَبِيرًا

📘 تمام انسان باعتبار پیدائش ایک ہیں۔ بالآخر ایک ہی عورت اور ایک ہی مرد سب کے ماں اور باپ ہیں۔ اس لحاظ سے ضروری ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کو اپنا سمجھے۔ سب کے سب ایک مشترک گھرانے کے افراد کی طرح مل جل کر انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ رہیں۔پھر ان میں جو خوني رشتے ہیں ان میں یہ نسلی اتحاد اور زیادہ قریبی ہوجاتا ہے اس لیے خوني رشتوں میں حسن سلوک کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ انسان کے درمیان اس باہمی حسن سلوک کی اہمیت صرف اخلاقی اعتبار سے نہیں ہے بلکہ یہ خود آدمی کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے۔ کیوں کہ تمام انسانوں کے اوپر عظیم وبرتر خداہے۔ وہ آخر میں سب سے حساب لینے والا ہے اور دنیا میں ان کے عمل کے مطابق آخرت میں ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ انسان کے معاملہ کو صرف انسان کا معاملہ نہ سمجھے بلکہ اس کو اللہ کا معاملہ سمجھے۔ وہ اللہ کی پکڑ سے ڈرے اور اپنے آپ کو اس عمل کا پابند بنائے جو اس کو اللہ کے غضب سے بچانے والا ہو۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص رحم کو جوڑے گا اس سے جڑوں گا اور جو شخص رحم کو کاٹے گا میں اس سے کٹوں گا (مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ)مسند احمد، حديث نمبر 6494۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ سے تعلق کا امتحان بندوں سے تعلق کے معاملہ میں لیاجاتا ہے۔ وہی شخص اللہ سے ڈرنے والا ہے جو بندوں کے حقوق کے معاملے میں اللہ سے ڈرے، وہی شخص اللہ سے محبت کرنے والا ہے جو بندں کے ساتھ محبت میں اس کا ثبوت دے۔ یہ بات عام انسانی تعلقات میں بھی مطلوب ہے۔ مگر رحمی رشتوں سے حسن سلوک کے معاملے میں اس کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف اللہ کے بعد دوسرے نمبر پرہے۔ یتیم لڑکے اور لڑکیاں کسی خاندان یا سماج کا سب سے زیادہ کمزور حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے خدا سے ڈر کا سب سے زیادہ سخت امتحان یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ یتیموںکے بارے میں وہی کرے جو انصاف اور خیر خواہی کا تقاضا ہو اور جس میں یتیموں کے حقوق زیادہ سے زیادہ محفوظ رہنے کی ضمانت ہو۔ یہ بہت گناہ کی بات ہے کہ مشترک اثاثہ کی ایسی تقسیم کی جائے جس میں اچھی چیزیں اپنے حصے میں رکھ لی جائیں اور دوسرے کے حصے میں خراب چیزیں ڈال کر گنتی پوری کردی جائے۔

وَإِنْ أَرَدْتُمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ أَتَأْخُذُونَهُ بُهْتَانًا وَإِثْمًا مُبِينًا

📘 مرنے والے کے مال میں یقیناًبعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے — عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لاکر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کونبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی واستحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر وبرداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنّتوں میں داخل کيے جائیں گے۔ جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کرکے علیٰحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتاہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عهد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہو تب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ تحریری عہد کی۔ ’’جو ہوچکا سو ہوچکا ‘‘ کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔ ’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نه ہو مگر اللہ نے اس کے اندر تمھارے لیے کوئی بڑی بھلائی رکھ دی ہو‘‘ — یہ فقرہ یہاں اگرچہ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم بتاتے ہوئے اس کے درمیان ایک ایسی کلی ہدایت دے دیتا ہے جس کا تعلق آدمی کی پوری زندگی سے ہو۔ دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا ناگزیر ہے۔ کوئی شخص بالکل اگ تھلگ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اب چوں کہ طبیعتیں الگ الگ ہیں، اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے ان کے درمیان لازماً شکایات پیدا ہوں گی۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک خرابی آدمی کے سامنے آتی ہے اور وہ بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں کوئی خیر کا پہلو موجود ہے۔ کبھی کسی واقعہ میں آدمی کے لیے صبر کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے۔ کبھی اس کے اندر اللہ کی طرف رجوع اور انابت کی غذا ہوتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی تکلیف میںکوئی بڑا سبق چھپا ہوا ہوتا ہے، وغیرہ۔

وَكَيْفَ تَأْخُذُونَهُ وَقَدْ أَفْضَىٰ بَعْضُكُمْ إِلَىٰ بَعْضٍ وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا

📘 مرنے والے کے مال میں یقیناًبعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے — عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لاکر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کونبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی واستحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر وبرداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنّتوں میں داخل کيے جائیں گے۔ جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کرکے علیٰحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتاہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عهد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہو تب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ تحریری عہد کی۔ ’’جو ہوچکا سو ہوچکا ‘‘ کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔ ’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نه ہو مگر اللہ نے اس کے اندر تمھارے لیے کوئی بڑی بھلائی رکھ دی ہو‘‘ — یہ فقرہ یہاں اگرچہ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم بتاتے ہوئے اس کے درمیان ایک ایسی کلی ہدایت دے دیتا ہے جس کا تعلق آدمی کی پوری زندگی سے ہو۔ دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا ناگزیر ہے۔ کوئی شخص بالکل اگ تھلگ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اب چوں کہ طبیعتیں الگ الگ ہیں، اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے ان کے درمیان لازماً شکایات پیدا ہوں گی۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک خرابی آدمی کے سامنے آتی ہے اور وہ بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں کوئی خیر کا پہلو موجود ہے۔ کبھی کسی واقعہ میں آدمی کے لیے صبر کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے۔ کبھی اس کے اندر اللہ کی طرف رجوع اور انابت کی غذا ہوتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی تکلیف میںکوئی بڑا سبق چھپا ہوا ہوتا ہے، وغیرہ۔

وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۚ إِنَّهُ كَانَ فَاحِشَةً وَمَقْتًا وَسَاءَ سَبِيلًا

📘 مرنے والے کے مال میں یقیناًبعد والوں کو وراثت کا حق ہے۔ مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ مرنے والے کی بیوی کو بھی بعد کے لوگ اپنی میراث سمجھ لیں اور جس طرح چاہیں اس کو استعمال کریں۔ مال ایک بے حس اور محکوم چیز ہے اور اس میں وراثت چلتی ہے۔ مگر انسان ایک زندہ اور آزاد ہستی ہے۔ اس کو اختیار ہے کہ وہ اپنی مرضی سے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرے — عورت میں اگر کوئی جسمانی یا مزاجی کمی ہے تو اس کو برداشت کرتے ہوئے عورت کو موقع دینا چاہیے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی دوسری خصوصیتوں کو بروئے کار لاکر گھر کی تعمیر میں اپنا حصہ ادا کرے۔ آدمی کو چاہیے کہ ظاہری ناپسندیدگی کو بھول کر باہمی تعلق کونبھائے۔ کسی خاندان اور اسی طرح کسی معاشرہ کی ترقی واستحکام کا راز یہ ہے کہ اس کے افراد ایک دوسرے کی کمیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان کی خوبیوں کو بروئے کار آنے کا موقع دیں۔ جو لوگ اللہ کی خاطر موجودہ دنیا میں صبر وبرداشت کا طریقہ اختیار کریں وہی وہ لوگ ہیں جو آخرت کی جنّتوں میں داخل کيے جائیں گے۔ جب آدمی کو اپنا شریک حیات ناپسند ہو اور وہ صبر کا طریقہ اختیار نہ کرکے علیٰحدگی کا فیصلہ کرے تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اس علیحدگی کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے وہ دوسرے فریق کی خامیوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کرتاہے۔ وہ اس پر جھوٹے الزام لگاتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ظالمانہ کارروائی کرتا ہے تاکہ وہ گھبرا کر خود ہی بھاگ جائے۔ اسی طرح جب آدمی کسی سے تعلق توڑتا ہے تو ضد میں آکر فریق ثانی کو دی ہوئی چیزیں اس سے واپس چھیننے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر یہ سب عہد کی خلاف ورزی ہے اور عهد اللہ کی نظر میں ایسی مقدس چیز ہے کہ اگر وہ غیر تحریری شکل میں ہو تب بھی اس کی پابندی اتنی ہی ضروری ہے جتنا کہ تحریری عہد کی۔ ’’جو ہوچکا سو ہوچکا ‘‘ کا اصول صرف نکاح سے متعلق نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک عام اصول ہے۔ زندگی کے نظام میں جب بھی کوئی تبدیلی آتی ہے، خواہ وہ گھریلو زندگی میں ہو یا قومی زندگی میں، تو ماضی کے بہت سے امور ایسے ہوتے ہیں جو نئے انقلاب کے معیار پر غلط نظر آتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ماضی کو کریدنا اور گزری ہوئی غلطیوں پر احکام صادر کرنا بے شمار نئے مسائل پیدا کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ ماضی کو بھلا دیا جائے اور صرف حال اور مستقبل کی اصلاح پر اپنی کوششیں لگا دی جائیں۔ ’’اور ان کے ساتھ اچھے طریقے سے گزر بسر کرو۔ اگر وہ تم کو ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ تم کو ایک چیز پسند نه ہو مگر اللہ نے اس کے اندر تمھارے لیے کوئی بڑی بھلائی رکھ دی ہو‘‘ — یہ فقرہ یہاں اگرچہ میاں بیوی کے تعلق کے بارے میں آیا ہے۔ مگر اس کے اندر ایک عمومی تعلیم بھی ہے۔ قرآن کا یہ عام اسلوب ہے کہ ایک متعین معاملہ کا حکم بتاتے ہوئے اس کے درمیان ایک ایسی کلی ہدایت دے دیتا ہے جس کا تعلق آدمی کی پوری زندگی سے ہو۔ دنیا کی زندگی میں انسان کے لیے مل جل کر رہنا ناگزیر ہے۔ کوئی شخص بالکل اگ تھلگ زندگی گزار نہیں سکتا۔ اب چوں کہ طبیعتیں الگ الگ ہیں، اس لیے جب بھی کچھ لوگ مل کر رہیں گے ان کے درمیان لازماً شکایات پیدا ہوں گی۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ شکایتوں کو نظر انداز کیا جائے اور خوش اسلوبی کے ساتھ تعلق کو نبھانے کا اصول اختیار کیا جائے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اپنے ساتھی کی ایک خرابی آدمی کے سامنے آتی ہے اور وہ بس اسی کو لے کر اپنے ساتھی سے روٹھ جاتا ہے۔ حالاں کہ اگر وہ سوچے تو وہ پائے گا کہ ہر ناموافق صورت حال میں کوئی خیر کا پہلو موجود ہے۔ کبھی کسی واقعہ میں آدمی کے لیے صبر کی تربیت کا امتحان ہوتا ہے۔ کبھی اس کے اندر اللہ کی طرف رجوع اور انابت کی غذا ہوتی ہے۔ کبھی ایک چھوٹی سی تکلیف میںکوئی بڑا سبق چھپا ہوا ہوتا ہے، وغیرہ۔

حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 انسان کے اندر بہت سی فطری خواہشیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک شہوانی خواہش ہے جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ شریعت تمام انسانی جذبات کی حد بندی کرتی ہے۔ اسی طرح اس نے شہوانی جذبات کے لیے بھی حدود اور ضابطے مقرر کيے ہیں۔ شریعت الٰہی کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان صرف وہی شہوانی تعلق صحیح ہے جو نکاح کی صورت میں ایک سنجیدہ معاشرتی معاہدہ کی حیثیت سے قائم ہو۔ پھر یہ کہ جس طرح فطری جذبات کی تسکین ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ خاندانی زندگی میں تقدس کی فضا موجود رہے۔ اس مقصد کے لیے نسب یا رضاعت یا مصاہرت کے تحت قائم ہونے والے کچھ رشتوں کو حرام قرار دے دیاگیا تاکہ بالکل قریبی رشتوں کے درمیان تعلق، شہوانی جذبات سے اوپر رہے۔ انسان کی عزت وبڑائی کا معیار وہ دکھائی دینے والی چیز يں نہیں ہیں جن پر لوگ ایک دوسرے کی عزت وبڑائی کو ناپتے ہیں۔ بلکہ بڑائی کا معیار وہ نہ دکھائی دینے والا ایمان ہے جو صرف اللہ کے علم ميں ہوتا ہے۔ گویا کسی کا عزت والا ہونا یا بے عزت والا ہونا ایسی چیز نہیں جو آدمی کو معلوم ہو۔ یہ تمام تر نامعلوم چیز ہے اور اس کا فیصلہ آخرت میں اللہ کی عدالت میں ہونے والا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو آدمی سے برتری کا احساس چھین لیتا ہے۔ اور برتری کا احساس ہی وہ چیز ہے جو بیشتر معاشرتی خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔

۞ وَالْمُحْصَنَاتُ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۖ كِتَابَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ ۚ وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَٰلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ ۚ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً ۚ وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا حَكِيمًا

📘 انسان کے اندر بہت سی فطری خواہشیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک شہوانی خواہش ہے جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ شریعت تمام انسانی جذبات کی حد بندی کرتی ہے۔ اسی طرح اس نے شہوانی جذبات کے لیے بھی حدود اور ضابطے مقرر کيے ہیں۔ شریعت الٰہی کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان صرف وہی شہوانی تعلق صحیح ہے جو نکاح کی صورت میں ایک سنجیدہ معاشرتی معاہدہ کی حیثیت سے قائم ہو۔ پھر یہ کہ جس طرح فطری جذبات کی تسکین ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ خاندانی زندگی میں تقدس کی فضا موجود رہے۔ اس مقصد کے لیے نسب یا رضاعت یا مصاہرت کے تحت قائم ہونے والے کچھ رشتوں کو حرام قرار دے دیاگیا تاکہ بالکل قریبی رشتوں کے درمیان تعلق، شہوانی جذبات سے اوپر رہے۔ انسان کی عزت وبڑائی کا معیار وہ دکھائی دینے والی چیز يں نہیں ہیں جن پر لوگ ایک دوسرے کی عزت وبڑائی کو ناپتے ہیں۔ بلکہ بڑائی کا معیار وہ نہ دکھائی دینے والا ایمان ہے جو صرف اللہ کے علم ميں ہوتا ہے۔ گویا کسی کا عزت والا ہونا یا بے عزت والا ہونا ایسی چیز نہیں جو آدمی کو معلوم ہو۔ یہ تمام تر نامعلوم چیز ہے اور اس کا فیصلہ آخرت میں اللہ کی عدالت میں ہونے والا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو آدمی سے برتری کا احساس چھین لیتا ہے۔ اور برتری کا احساس ہی وہ چیز ہے جو بیشتر معاشرتی خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔

وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ۚ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِإِيمَانِكُمْ ۚ بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ ۚ فَانْكِحُوهُنَّ بِإِذْنِ أَهْلِهِنَّ وَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ مُحْصَنَاتٍ غَيْرَ مُسَافِحَاتٍ وَلَا مُتَّخِذَاتِ أَخْدَانٍ ۚ فَإِذَا أُحْصِنَّ فَإِنْ أَتَيْنَ بِفَاحِشَةٍ فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ ۚ ذَٰلِكَ لِمَنْ خَشِيَ الْعَنَتَ مِنْكُمْ ۚ وَأَنْ تَصْبِرُوا خَيْرٌ لَكُمْ ۗ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ

📘 انسان کے اندر بہت سی فطری خواہشیں ہیں۔ انھیں میں سے ایک شہوانی خواہش ہے جو عورت اور مرد کے درمیان پائی جاتی ہے۔ شریعت تمام انسانی جذبات کی حد بندی کرتی ہے۔ اسی طرح اس نے شہوانی جذبات کے لیے بھی حدود اور ضابطے مقرر کيے ہیں۔ شریعت الٰہی کے مطابق عورت اور مرد کے درمیان صرف وہی شہوانی تعلق صحیح ہے جو نکاح کی صورت میں ایک سنجیدہ معاشرتی معاہدہ کی حیثیت سے قائم ہو۔ پھر یہ کہ جس طرح فطری جذبات کی تسکین ضروری ہے اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ خاندانی زندگی میں تقدس کی فضا موجود رہے۔ اس مقصد کے لیے نسب یا رضاعت یا مصاہرت کے تحت قائم ہونے والے کچھ رشتوں کو حرام قرار دے دیاگیا تاکہ بالکل قریبی رشتوں کے درمیان تعلق، شہوانی جذبات سے اوپر رہے۔ انسان کی عزت وبڑائی کا معیار وہ دکھائی دینے والی چیز يں نہیں ہیں جن پر لوگ ایک دوسرے کی عزت وبڑائی کو ناپتے ہیں۔ بلکہ بڑائی کا معیار وہ نہ دکھائی دینے والا ایمان ہے جو صرف اللہ کے علم ميں ہوتا ہے۔ گویا کسی کا عزت والا ہونا یا بے عزت والا ہونا ایسی چیز نہیں جو آدمی کو معلوم ہو۔ یہ تمام تر نامعلوم چیز ہے اور اس کا فیصلہ آخرت میں اللہ کی عدالت میں ہونے والا ہے۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو آدمی سے برتری کا احساس چھین لیتا ہے۔ اور برتری کا احساس ہی وہ چیز ہے جو بیشتر معاشرتی خرابیوں کی اصل جڑ ہے۔

يُرِيدُ اللَّهُ لِيُبَيِّنَ لَكُمْ وَيَهْدِيَكُمْ سُنَنَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَيَتُوبَ عَلَيْكُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ

📘 زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔ ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔

وَاللَّهُ يُرِيدُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْكُمْ وَيُرِيدُ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ الشَّهَوَاتِ أَنْ تَمِيلُوا مَيْلًا عَظِيمًا

📘 زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔ ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔

يُرِيدُ اللَّهُ أَنْ يُخَفِّفَ عَنْكُمْ ۚ وَخُلِقَ الْإِنْسَانُ ضَعِيفًا

📘 زندگی کے طریقے جو قرآن میں بتائے گئے ہیں وہ کوئی نئے نہیں ہیں۔ ہر دور میں اللہ اپنے پیغمبروں کے ذریعہ ان کا اعلان کراتا رہا ہے۔ ہر زمانہ کے خدا پرست لوگوں کا اسی پر عمل تھا۔ مگر قدیم آسمانی کتابوں کے محفوظ نہ رہنے کی وجہ سے یہ طریقے گم ہوگئے۔ اب اللہ نے اپنے آخری رسول کے ذریعہ ان کو عربی زبان میں اتارا اور ان کو ہمیشہ کے لیے محفوظ کردیا۔ آج جب کوئی گروہ ان طریقوں پر اپنی زندگی کو ڈھالتا ہے تو گویا وہ صالحین کے اس ابدی قافلہ میں شامل ہوجاتا ہے جن کو اللہ کی رحمتوں میں حصہ ملا، جو ہر زمانہ میں اللہ کے اُس راستہ پر چلے جس کو اللہ نے اپنے وفادار بندوں کے لیے کھولا تھا۔ ہر انسانی گروہ میں ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں صدیوں کے رواج سے جڑ جمالیتی ہیں۔ وہ لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح چھا جاتی ہیں کہ ان کے خلاف سوچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ جب اللہ کا کوئی بندہ معاشرتی اصلاح کا کام شروع کرتا ہے تو اس قسم کے لوگ چیخ اٹھتے ہیں۔ اپنے مانوس طریقوں کو چھوڑ کرنامانوس طریقوں كو اختيار كرنا ان كے ليے سخت دشوار هوجاتا هے۔ وه ايسي اصلاحي تحريك كے دشمن بن جاتے هيں، جو ان كو ان كے باپ داداكے طريقوں سے ہٹانا چاہتی ہو۔ اس سلسلہ میں مذہبی طبقہ کاردعمل اور بھی زیادہ شدید ہوتا ہے۔ جب دین کا اندرونی پہلو کمزور ہوتا ہے تو خارجی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ اب آداب وقواعد کا ایک ظاہری ڈھانچہ بنا لیا جاتا ہے۔ لوگ دین کی اصلی کیفیات سے خالی ہوتے ہیںاور ظاہری آداب وقواعد کی پابندی کرکے سمجھتے ہیں کہ وہ خدا کے دین پر قائم ہیں۔ یہ خود ساختہ دین اسلاف سے منسوب ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن جاتا ہے اور نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ خدا کا سادہ اور فطری دین ان کو اجنبی معلوم ہوتا ہے، اور اپنا جکڑ بندیوں والا دین عین برحق نظرآتا ہے۔ ایسی حالت میں جو تحریک اصلی اور ابتدائی دین کو زندہ کرنے کے لیے اٹھے وہ اس کے شدید مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ اس ميں ان کو اپنی دین داری کی نفی ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مثلاً خدا کی شریعت میں حیض کے زمانہ میں عورت کے ساتھ مباشرت ناجائز ہے، اس کے علاوہ دوسرے تعلقات اسی طرح رکھے جاسکتے ہیں جس طرح عام دنوںمیں ہوتے ہیں۔ یہودیوں نے اس سادہ حکم پر اضافہ کرکے یہ مسئلہ بنایا کہ ایام ماہواری میں عورت کی پکائی ہوئی چیز کو کھانا، اس کے ہاتھ کا پانی پینا، اس کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا، اس کو اپنے ہاتھ سے چھونا، سب ناجائز یا کم ازکم تقویٰ کے خلاف ہے۔ اس طرح حائضہ عورت سے مکمل دوری گویا پارسائی کی علامت بن گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں جب خدا کی اصلی شریعت کو زندہ کیا تو یہودی بگڑ گئے۔ وہ چیز جس پر انھوں نے اپنی پارسائی کی عمارت کھڑی کی تھی دفعۃً گرتی ہوئی نظر آئی — خدا کے سادہ دین کو جب بھی زندہ کیا جائے تو وہ لوگ اس کے سخت مخالف ہوجاتے ہیں،جو بناوٹی دین کے اوپر اپنی دین داری کی عمارت کھڑی كيے ہوئے ہوں۔ یہ ان سے سرداری چھیننے کے ہم معنی ہوتا ہے اور سرداری کا چھننا کوئی برداشت نہیں کرتا۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ ۚ وَلَا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا

📘 ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔ دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔

وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَىٰ فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَىٰ وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰ أَلَّا تَعُولُوا

📘 تمام انسان باعتبار پیدائش ایک ہیں۔ بالآخر ایک ہی عورت اور ایک ہی مرد سب کے ماں اور باپ ہیں۔ اس لحاظ سے ضروری ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کو اپنا سمجھے۔ سب کے سب ایک مشترک گھرانے کے افراد کی طرح مل جل کر انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ رہیں۔پھر ان میں جو خوني رشتے ہیں ان میں یہ نسلی اتحاد اور زیادہ قریبی ہوجاتا ہے اس لیے خوني رشتوں میں حسن سلوک کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ انسان کے درمیان اس باہمی حسن سلوک کی اہمیت صرف اخلاقی اعتبار سے نہیں ہے بلکہ یہ خود آدمی کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے۔ کیوں کہ تمام انسانوں کے اوپر عظیم وبرتر خداہے۔ وہ آخر میں سب سے حساب لینے والا ہے اور دنیا میں ان کے عمل کے مطابق آخرت میں ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ انسان کے معاملہ کو صرف انسان کا معاملہ نہ سمجھے بلکہ اس کو اللہ کا معاملہ سمجھے۔ وہ اللہ کی پکڑ سے ڈرے اور اپنے آپ کو اس عمل کا پابند بنائے جو اس کو اللہ کے غضب سے بچانے والا ہو۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص رحم کو جوڑے گا اس سے جڑوں گا اور جو شخص رحم کو کاٹے گا میں اس سے کٹوں گا (مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ)مسند احمد، حديث نمبر 6494۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ سے تعلق کا امتحان بندوں سے تعلق کے معاملہ میں لیاجاتا ہے۔ وہی شخص اللہ سے ڈرنے والا ہے جو بندوں کے حقوق کے معاملے میں اللہ سے ڈرے، وہی شخص اللہ سے محبت کرنے والا ہے جو بندں کے ساتھ محبت میں اس کا ثبوت دے۔ یہ بات عام انسانی تعلقات میں بھی مطلوب ہے۔ مگر رحمی رشتوں سے حسن سلوک کے معاملے میں اس کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف اللہ کے بعد دوسرے نمبر پرہے۔ یتیم لڑکے اور لڑکیاں کسی خاندان یا سماج کا سب سے زیادہ کمزور حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے خدا سے ڈر کا سب سے زیادہ سخت امتحان یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ یتیموںکے بارے میں وہی کرے جو انصاف اور خیر خواہی کا تقاضا ہو اور جس میں یتیموں کے حقوق زیادہ سے زیادہ محفوظ رہنے کی ضمانت ہو۔ یہ بہت گناہ کی بات ہے کہ مشترک اثاثہ کی ایسی تقسیم کی جائے جس میں اچھی چیزیں اپنے حصے میں رکھ لی جائیں اور دوسرے کے حصے میں خراب چیزیں ڈال کر گنتی پوری کردی جائے۔

وَمَنْ يَفْعَلْ ذَٰلِكَ عُدْوَانًا وَظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيهِ نَارًا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا

📘 ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔ دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔

إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلًا كَرِيمًا

📘 ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔ دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔

وَلَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللَّهُ بِهِ بَعْضَكُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ ۚ لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبُوا ۖ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا اكْتَسَبْنَ ۚ وَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا

📘 ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔ دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔

وَلِكُلٍّ جَعَلْنَا مَوَالِيَ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ ۚ وَالَّذِينَ عَقَدَتْ أَيْمَانُكُمْ فَآتُوهُمْ نَصِيبَهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدًا

📘 ایک کا مال دوسرے تک پہنچنے کی ایک صورت یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کی ضرورت فراہم کرے اور اس سے اپنی محنت کا معاوضہ لے۔ یہ تجارت ہے اور شریعت کے مطابق، یہی کسب معاش کا صحیح طریقہ ہے۔ اس کے بجائے چوری، دھوکا، جھوٹ، رشوت، سود، جوا وغیرہ سے جو مال کمایا جاتا ہے وہ خدا کی نظر میں ناجائز طریقے سے کمایا ہوا مال ہے۔ یہ لوٹ کی مختلف قسمیں ہیں، اور جو لوگ تجارت کے بجائے لوٹ کو اپنا ذریعہ معاش بنائیں خواه وہ دنیا میں کامیاب رہیں مگر آخرت میں ان کے لیے آگ کا عذاب ہے۔ آدمی کی جان کا معاملہ بھی یہی ہے۔آدمی کو مارنے کا حق صرف ایک قائم شدہ حکومت کو ہے جو خدا کے قانون کے تحت باقاعدہ الزام ثابت ہونے کے بعد اس کے خلاف کارروائی کرے۔ اس کے سوا جو شخص کسی کو اس کی زندگی سے محروم کرنے کی کوشش کرتاہے، وہ فعل حرام کا ارتکاب کرتا ہے جس کے لیے اللہ کے یہاں سخت سزا ہے۔ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا جرم عدوان اور سرکشی ہے، یعنی حد سے نکلنا اور ناحق کسی کو ستانا۔ جو لوگ عدوان اور ظلم سے اپنے کو بچائیں ان کے ساتھ اللہ یہ خصوصی معاملہ فرمائے گا کہ وہ آخرت کی دنیا میں اس طرح داخل ہوں گے کہ ان کی معمولی کوتاہیاں اور لغزشیں ان سے دور کی جاچکی ہوں گی۔ دنیا میں ایک آدمی اور دوسرے آدمی کے درمیان فرق رکھاگیا ہے۔ کسی کو جسمانی اور ذہنی قوتوں میں کم حصہ ملا ہے اور کسی کو زیادہ ۔ کوئی اچھے حالات میں پیدا ہوتا ہے اور کوئی برے حالات میں۔ کسی کے پاس بڑے بڑے ذرائع ہیں اور کسی کے پاس معمولی ذرائع۔ آدمی جب کسی دوسرے کو اپنے سے بڑھا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر فوراً اس کے خلاف جلن پیدا ہوجاتی ہے۔ اس سے اجتماعی زندگی میں حسد، عداوت اور باہمی کش مکش پیدا ہوتی ہے۔ مگر ان چیزوں کے اعتبار سے اپنے یا دوسرے کو تولنا نادانی ہے۔ یہ سب دنیوی اہمیت کی چیزیں ہیں۔ یہ دنیا میں ملی ہیں اور دنیا ہی میں رہ جانے والی ہیں۔ اصل اہمیت آخرت کی کامیابی کی ہے اور آخرت کی کامیابی میں ان چیزوں کا کچھ بھی دخل نہیں۔ آخرت کی کامیابی کا انحصار اس عمل پر ہے جو آدمی ارادہ و اختیار سے اللہ کے لیے کرتا ہے۔ اس لیے بہترین عقل مندی یہ ہے کہ آدمی حسد سے اپنے آپ کو بچائے اور اللہ سے توفیق کی دعاکرتے ہوئے اپنے آپ کو آخرت کے لیے عمل کرنے میں لگا دے۔

الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّهُ بَعْضَهُمْ عَلَىٰ بَعْضٍ وَبِمَا أَنْفَقُوا مِنْ أَمْوَالِهِمْ ۚ فَالصَّالِحَاتُ قَانِتَاتٌ حَافِظَاتٌ لِلْغَيْبِ بِمَا حَفِظَ اللَّهُ ۚ وَاللَّاتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ فَعِظُوهُنَّ وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ وَاضْرِبُوهُنَّ ۖ فَإِنْ أَطَعْنَكُمْ فَلَا تَبْغُوا عَلَيْهِنَّ سَبِيلًا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيًّا كَبِيرًا

📘 جہاں بھی آدمیوں کا کوئی مجموعہ ہو، خواہ وہ خاندان کی صورت میں ہو یا مملکت کی صورت میں، ضروری ہے کہ اس کے اوپر سردار اور سربراہ ہو، اور یہ سربراہ لازماً ایک ہی ہوسکتا ہے۔ دنیا کے بارے میں اللہ کا بنایا ہوا جو منصوبہ ہے اس میں خاندان کی سربراہی کے لیے مرد کو متعین کیاگیا ہے اور اسی کے لحاظ سے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ مرد کی بناوٹ اور عورت کی بناوٹ میں جو حیاتیاتی اور نفسیاتی فرق ہے وہ اللہ کے اسی تخلیقی منصوبہ کی مطابقت میں ہے۔ اب اگر کچھ لوگ اللہ کے منصوبہ کے خلاف چلیں تو وہ صرف بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ خدا کا کارخانہ تو مرد اور عورت کو بدستور اپنے منصوبہ کے مطابق بناتا رہے گا جس میں ’’قوامیت‘‘ کی صلاحیتیں مرد کو دی گئی ہوں گی اور ’’اطاعت‘‘ کی صلاحیتیں عورت کو۔ جب کہ ان کے معاشرتی استعمال میں خدائی تخلیق کی رعایت نہ ہورہی ہوگي۔ ایسے ہر تضاد کا نتیجہ اس دنیا میں صرف بگاڑ ہے۔ بہترین عورت وہ ہے جو اللہ کے تخلیقی منصوبہ میںاپنے کو شامل کرتے ہوئے مرد کی برتری تسلیم کرلے۔ اسی طرح بہترین مرد و ہ ہے جو اپنی برتر حيثيت کی بنا پر اس حقیقت کو بھول نہ جائے کہ خدا اس سے بھی زیادہ برتر ہے۔ خدا كي عدالت میں عورت مرد کا کوئی فرق نہیں، یہ فرق تمام تر صرف انتظام دنیا کے اعتبار سے ہے، نہ کہ آخرت میںتقسیم انعامات کے اعتبار سے۔ مرد کوچاہیے کہ وہ عورت کے حق میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا پورا اہتمام کرے۔ کوئی عورت اگر ایسی ہو جو مرد کی انتظامی بڑائی کو نہ مانے تو ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ مرد کے اندر انتقام کا جذبہ ابھر آئے یا وہ الزمات لگا کر عورت کو بدنام کرے۔ کوئی بھی برتری کسی کو انصاف کی پابندی سے بری الذمہ نہیں کرتی۔ البتہ خصوصی حالات میں مرد کو یہ حق ہے کہ عورت کے اندر اگر وہ سرتابی دیکھے تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ یہ اصلاح اولاً سمجھانے بجھانے سے شروع ہوگی۔ پھر دباؤ ڈالنے کے لیے ترکِ کلام اور ترک ِتعلق کیا جاسکتا ہے،وغيره۔ دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حَکَم (arbitrator)بنانے پر راضی ہوجائیں۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طورپر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گا جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔

وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا

📘 جہاں بھی آدمیوں کا کوئی مجموعہ ہو، خواہ وہ خاندان کی صورت میں ہو یا مملکت کی صورت میں، ضروری ہے کہ اس کے اوپر سردار اور سربراہ ہو، اور یہ سربراہ لازماً ایک ہی ہوسکتا ہے۔ دنیا کے بارے میں اللہ کا بنایا ہوا جو منصوبہ ہے اس میں خاندان کی سربراہی کے لیے مرد کو متعین کیاگیا ہے اور اسی کے لحاظ سے اس کی تخلیق ہوئی ہے۔ مرد کی بناوٹ اور عورت کی بناوٹ میں جو حیاتیاتی اور نفسیاتی فرق ہے وہ اللہ کے اسی تخلیقی منصوبہ کی مطابقت میں ہے۔ اب اگر کچھ لوگ اللہ کے منصوبہ کے خلاف چلیں تو وہ صرف بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنیں گے۔ کیوں کہ خدا کا کارخانہ تو مرد اور عورت کو بدستور اپنے منصوبہ کے مطابق بناتا رہے گا جس میں ’’قوامیت‘‘ کی صلاحیتیں مرد کو دی گئی ہوں گی اور ’’اطاعت‘‘ کی صلاحیتیں عورت کو۔ جب کہ ان کے معاشرتی استعمال میں خدائی تخلیق کی رعایت نہ ہورہی ہوگي۔ ایسے ہر تضاد کا نتیجہ اس دنیا میں صرف بگاڑ ہے۔ بہترین عورت وہ ہے جو اللہ کے تخلیقی منصوبہ میںاپنے کو شامل کرتے ہوئے مرد کی برتری تسلیم کرلے۔ اسی طرح بہترین مرد و ہ ہے جو اپنی برتر حيثيت کی بنا پر اس حقیقت کو بھول نہ جائے کہ خدا اس سے بھی زیادہ برتر ہے۔ خدا كي عدالت میں عورت مرد کا کوئی فرق نہیں، یہ فرق تمام تر صرف انتظام دنیا کے اعتبار سے ہے، نہ کہ آخرت میںتقسیم انعامات کے اعتبار سے۔ مرد کوچاہیے کہ وہ عورت کے حق میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کا پورا اہتمام کرے۔ کوئی عورت اگر ایسی ہو جو مرد کی انتظامی بڑائی کو نہ مانے تو ایسا ہرگز نہ ہونا چاہیے کہ مرد کے اندر انتقام کا جذبہ ابھر آئے یا وہ الزمات لگا کر عورت کو بدنام کرے۔ کوئی بھی برتری کسی کو انصاف کی پابندی سے بری الذمہ نہیں کرتی۔ البتہ خصوصی حالات میں مرد کو یہ حق ہے کہ عورت کے اندر اگر وہ سرتابی دیکھے تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ یہ اصلاح اولاً سمجھانے بجھانے سے شروع ہوگی۔ پھر دباؤ ڈالنے کے لیے ترکِ کلام اور ترک ِتعلق کیا جاسکتا ہے،وغيره۔ دو آدمیوں میں جب باہمی اختلاف ہو تو دونوں کا ذہن ایک دوسرے کے بارے میں متاثر ذہن بن جاتا ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں خالص واقعاتی انداز سے سوچ نہیں پاتے۔ ایسی حالت میں معاملہ کو طے کرنے کی بہترین صورت یہ ہے کہ دونوں اپنے سوا کسی دوسرے کو حَکَم (arbitrator)بنانے پر راضی ہوجائیں۔ دوسرا شخص معاملہ سے ذاتی طورپر وابستہ نہ ہونے کی وجہ سے غیر متاثر ذہن کے تحت سوچے گا اور ایسے فیصلہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائے گا جو حقیقت واقعہ کے مطابق ہو۔

۞ وَاعْبُدُوا اللَّهَ وَلَا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَبِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَالْجَارِ ذِي الْقُرْبَىٰ وَالْجَارِ الْجُنُبِ وَالصَّاحِبِ بِالْجَنْبِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُورًا

📘 انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

الَّذِينَ يَبْخَلُونَ وَيَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَيَكْتُمُونَ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۗ وَأَعْتَدْنَا لِلْكَافِرِينَ عَذَابًا مُهِينًا

📘 انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

وَالَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ رِئَاءَ النَّاسِ وَلَا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَلَا بِالْيَوْمِ الْآخِرِ ۗ وَمَنْ يَكُنِ الشَّيْطَانُ لَهُ قَرِينًا فَسَاءَ قَرِينًا

📘 انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

وَمَاذَا عَلَيْهِمْ لَوْ آمَنُوا بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَنْفَقُوا مِمَّا رَزَقَهُمُ اللَّهُ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِهِمْ عَلِيمًا

📘 انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

وَآتُوا النِّسَاءَ صَدُقَاتِهِنَّ نِحْلَةً ۚ فَإِنْ طِبْنَ لَكُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ نَفْسًا فَكُلُوهُ هَنِيئًا مَرِيئًا

📘 تمام انسان باعتبار پیدائش ایک ہیں۔ بالآخر ایک ہی عورت اور ایک ہی مرد سب کے ماں اور باپ ہیں۔ اس لحاظ سے ضروری ہے کہ ہر آدمی دوسرے آدمی کو اپنا سمجھے۔ سب کے سب ایک مشترک گھرانے کے افراد کی طرح مل جل کر انصاف اور خیر خواہی کے ساتھ رہیں۔پھر ان میں جو خوني رشتے ہیں ان میں یہ نسلی اتحاد اور زیادہ قریبی ہوجاتا ہے اس لیے خوني رشتوں میں حسن سلوک کی اہمیت اور زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ انسان کے درمیان اس باہمی حسن سلوک کی اہمیت صرف اخلاقی اعتبار سے نہیں ہے بلکہ یہ خود آدمی کا اپنا ذاتی مسئلہ ہے۔ کیوں کہ تمام انسانوں کے اوپر عظیم وبرتر خداہے۔ وہ آخر میں سب سے حساب لینے والا ہے اور دنیا میں ان کے عمل کے مطابق آخرت میں ان کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کرنے والا ہے۔ اس لیے آدمی کو چاہیے کہ انسان کے معاملہ کو صرف انسان کا معاملہ نہ سمجھے بلکہ اس کو اللہ کا معاملہ سمجھے۔ وہ اللہ کی پکڑ سے ڈرے اور اپنے آپ کو اس عمل کا پابند بنائے جو اس کو اللہ کے غضب سے بچانے والا ہو۔ حدیث قدسی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص رحم کو جوڑے گا اس سے جڑوں گا اور جو شخص رحم کو کاٹے گا میں اس سے کٹوں گا (مَنْ وَصَلَهَا وَصَلْتُهُ وَمَنْ قَطَعَهَا بَتَتُّهُ)مسند احمد، حديث نمبر 6494۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ سے تعلق کا امتحان بندوں سے تعلق کے معاملہ میں لیاجاتا ہے۔ وہی شخص اللہ سے ڈرنے والا ہے جو بندوں کے حقوق کے معاملے میں اللہ سے ڈرے، وہی شخص اللہ سے محبت کرنے والا ہے جو بندں کے ساتھ محبت میں اس کا ثبوت دے۔ یہ بات عام انسانی تعلقات میں بھی مطلوب ہے۔ مگر رحمی رشتوں سے حسن سلوک کے معاملے میں اس کی اہمیت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ وہ صرف اللہ کے بعد دوسرے نمبر پرہے۔ یتیم لڑکے اور لڑکیاں کسی خاندان یا سماج کا سب سے زیادہ کمزور حصہ ہوتے ہیں۔ اس لیے خدا سے ڈر کا سب سے زیادہ سخت امتحان یتیم لڑکوں اور لڑکیوں کے بارے میں ہوتا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ یتیموںکے بارے میں وہی کرے جو انصاف اور خیر خواہی کا تقاضا ہو اور جس میں یتیموں کے حقوق زیادہ سے زیادہ محفوظ رہنے کی ضمانت ہو۔ یہ بہت گناہ کی بات ہے کہ مشترک اثاثہ کی ایسی تقسیم کی جائے جس میں اچھی چیزیں اپنے حصے میں رکھ لی جائیں اور دوسرے کے حصے میں خراب چیزیں ڈال کر گنتی پوری کردی جائے۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا

📘 انسان کے پاس جو کچھ ہے سب اللہ کا دیا ہوا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ انسان اپنے آپ کو اللہ کے حوالے کردے ، وہ اس کا عبادت گزار بن جائے۔ جب آدمی اس طرح اللہ والا بنتا ہے تو اس کے اندر فطری طورپر تواضع کا مزاج پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا یہ مزاج ان انسانوں سے تعلقات میںظاہر ہوتا ہے جن کے درمیان وہ زندگی گزار رہا ہو۔ اس کا یہ مزاج ماں باپ کے معاملہ میں حسن سلوک کی صورت اختیار کرلیتاہے۔ ہر شخص جس سے اس کا واسطہ پڑتا ہے وہ اس کو ایسا انسان پاتا ہے جیسے وہ اللہ کو اپنے اوپر کھڑا ہوا دیکھ رہا ہو۔ وہ ہر ایک کا حق اس کے تعلق کے موافق اور اس کی حاجت مندی کے مناسب ادا کرنے والا بن جاتا ہے۔ جو شخص بھی کسی حیثیت سے اس کے رابطے میں آتاہے اس کو نظر انداز کرنا اس کو ایسا لگتا ہے جیسے وہ خود اپنے کو اللہ کے یہاں نظر انداز کيے جانے کا خطرہ مول لے رہا ہے۔ جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالے نہ کرے اس کے اندر فخر کی نفسیات ابھرتی ہے۔ اس کے پاس جو کچھ ہے اس کو وہ اپنی محنت وقابلیت کا کرشمہ سمجھتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمائی کو صرف اپنا حق سمجھتا ہے۔ کمزور رشتہ داروں یا محتاجوں سے تعلق جوڑنا اس کو اپنے مقام سے نیچے درجہ کی چیز معلوم ہوتی ہے۔ وہ اپنی مصلحتوں یا خواہشوں کی تسکین میں خوب مال خرچ کرتا ہے مگر وہ مدیں جن میں خرچ کرنا اس کی اَنا کو غذا دینے والا نہ ہو وہاں خرچ کرنے میں اس كا دل تنگ ہوتا ہے۔ نمائش کے مواقع پر خرچ کرنے میں وہ فیاض ہوتا ہے اور خاموش دینی مواقع پر خرچ کرنے میں بخیل۔ جو لوگ خدا کی نعمت سے تواضع کے بجائے فخر کی غذا لیں، جو خدا کے ديے ہوئے مال کو خدا کی بتائی ہوئی جگهوں میں خرچ نه كريں، البتہ اپنے نفس کے تقاضوں پر خرچ کرنے کے لیے فیاض ہوں، ایسے لوگ شیطان کے ساتھی ہیں۔ شیطان نے ان کو کچھ سامنے کا نفع دکھایا تو وہ اس کی طرف دوڑ پڑے اور خدا جس ابدی نفع کا وعدہ کررہا تھا اس سے ان کو دل چسپی نہ ہوسکی۔ ان کے لیے خدا کے یہاں سخت عذاب کے سوا اور کچھ نہیں۔ آدمی خود جو کام نہ کرے اس کو وہ غیر اہم بتاتا ہے۔ یہ اپنے معاملہ کو نظریاتی معاملہ بنانا ہے، یہ اپنے کو حق بجانب ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ مگر اس قسم کی کوئی بھی کوشش اللہ کے یہاں کسی کے کام آنے والی نہیں۔

فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَىٰ هَٰؤُلَاءِ شَهِيدًا

📘 حق کا داعی جب آتا ہے تو وہ ایک معمولی انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے گرد ظاہری بڑائیاں اور رونقیں جمع نہیں ہوتیں۔ اس لیے وقت کے بڑے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ایک ایسا شخص بھی ان سے زیادہ حق وصداقت والا ہوسکتا ہے جو دنیوی شان وشوکت میںان سے کم ہو۔ مگر جب قیامت آئے گی اور خدا کی عدالت قائم ہوگی تو وہ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہی شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا وہ آخرت کی عدالت میں خدائی گواہ بنادیاگیا ہے۔ وہی وہ شخص ہے جس کے بیان پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کے فیصلے ہوں۔ یہ وہاں مجرم کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور وہ خدا کی طرف سے بولنے والے کے مقام پر۔ یہ ایسا سخت اور ہولناک لمحہ ہوگا کہ لوگ چاہیں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کے اندر سما جائیں۔ مگر ان کی یہ شرمندگی ان کے کام نہ آئے گی۔خدا کے یہاں ان کے قول و عمل سے لے کر ان کی سوچ تک کا ریکارڈ موجود ہوگااور خدا انھیں دکھا دے گا کہ حق کے داعی کا انکار جو انھوں نے کیا وہ ناواقفیت کے سبب سے نہ تھا بلکہ گھمنڈ کی وجہ سے تھا۔ انھوںنے اپنے کو بڑا سمجھا اور داعیٔ حق کو چھوٹا جانا۔ حقیقت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھنے اور جاننے کے باوجود محض اس لیے اس کے منکر ہوگئے کہ اس کو ماننے میں ان کی اپنی بڑائی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔ شریعت میں غیر معمولی حالات میںغیر معمولی رخصت دی گئی ہے۔ مرض یا سفر یا پانی کا نہ ہونا یہ تینوں آدمی کے لیے غیر معمولی حالتیں ہیں۔ اس ليےان مواقع پر یہ رخصت دی گئی کہ اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو وضو یا غسل کے بجائے تیمم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عام وضو پانی سے ہوتا ہے۔ تیمم گویا مٹی سے وضو کرنا ہے۔ وضو کا مقصد آدمی کے اندر پاکی کی نفسیات پیدا کرنا ہے اور تیمم، وضو نہ کرسکنے کی صورت میں، اس پاکی کی نفسیات کو باقی رکھنے کی ایک مادی تدبیر ہے۔ ’’نماز اس وقت پڑھو جب کہ تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو‘‘ —یہاں یہ آیت شراب کا ابتدائی حکم بتانے کے لیے آئی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نماز کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بھی بتارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو فہم وشعور کے تحت ادا کی جاتی ہے۔ نماز محض اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اور کچھ حرکات کو صحتِ ادا کے ساتھ دہرایا جائے۔ اسی کے ساتھ نماز میں آدمی کے ذہن کا حاضر رہنا بھی ضروری ہے۔ وہ نماز کو جان کر نماز پڑھے، اپنی زبان اور اپنے جسم سے وہ جس خدا کے سامنے جھکنے کا ارادہ کررہا ہے، اسی خدا کے سامنے اس کی سوچ اور اس کا ارادہ بھی جھک گیا ہو۔ اس کا جسم جس خدا کی عبادت کررہا ہے، اسکا شعور بھی اسی خدا کا عبادت گزار بن جائے۔

يَوْمَئِذٍ يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا وَعَصَوُا الرَّسُولَ لَوْ تُسَوَّىٰ بِهِمُ الْأَرْضُ وَلَا يَكْتُمُونَ اللَّهَ حَدِيثًا

📘 حق کا داعی جب آتا ہے تو وہ ایک معمولی انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے گرد ظاہری بڑائیاں اور رونقیں جمع نہیں ہوتیں۔ اس لیے وقت کے بڑے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ایک ایسا شخص بھی ان سے زیادہ حق وصداقت والا ہوسکتا ہے جو دنیوی شان وشوکت میںان سے کم ہو۔ مگر جب قیامت آئے گی اور خدا کی عدالت قائم ہوگی تو وہ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہی شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا وہ آخرت کی عدالت میں خدائی گواہ بنادیاگیا ہے۔ وہی وہ شخص ہے جس کے بیان پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کے فیصلے ہوں۔ یہ وہاں مجرم کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور وہ خدا کی طرف سے بولنے والے کے مقام پر۔ یہ ایسا سخت اور ہولناک لمحہ ہوگا کہ لوگ چاہیں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کے اندر سما جائیں۔ مگر ان کی یہ شرمندگی ان کے کام نہ آئے گی۔خدا کے یہاں ان کے قول و عمل سے لے کر ان کی سوچ تک کا ریکارڈ موجود ہوگااور خدا انھیں دکھا دے گا کہ حق کے داعی کا انکار جو انھوں نے کیا وہ ناواقفیت کے سبب سے نہ تھا بلکہ گھمنڈ کی وجہ سے تھا۔ انھوںنے اپنے کو بڑا سمجھا اور داعیٔ حق کو چھوٹا جانا۔ حقیقت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھنے اور جاننے کے باوجود محض اس لیے اس کے منکر ہوگئے کہ اس کو ماننے میں ان کی اپنی بڑائی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔ شریعت میں غیر معمولی حالات میںغیر معمولی رخصت دی گئی ہے۔ مرض یا سفر یا پانی کا نہ ہونا یہ تینوں آدمی کے لیے غیر معمولی حالتیں ہیں۔ اس ليےان مواقع پر یہ رخصت دی گئی کہ اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو وضو یا غسل کے بجائے تیمم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عام وضو پانی سے ہوتا ہے۔ تیمم گویا مٹی سے وضو کرنا ہے۔ وضو کا مقصد آدمی کے اندر پاکی کی نفسیات پیدا کرنا ہے اور تیمم، وضو نہ کرسکنے کی صورت میں، اس پاکی کی نفسیات کو باقی رکھنے کی ایک مادی تدبیر ہے۔ ’’نماز اس وقت پڑھو جب کہ تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو‘‘ —یہاں یہ آیت شراب کا ابتدائی حکم بتانے کے لیے آئی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نماز کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بھی بتارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو فہم وشعور کے تحت ادا کی جاتی ہے۔ نماز محض اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اور کچھ حرکات کو صحتِ ادا کے ساتھ دہرایا جائے۔ اسی کے ساتھ نماز میں آدمی کے ذہن کا حاضر رہنا بھی ضروری ہے۔ وہ نماز کو جان کر نماز پڑھے، اپنی زبان اور اپنے جسم سے وہ جس خدا کے سامنے جھکنے کا ارادہ کررہا ہے، اسی خدا کے سامنے اس کی سوچ اور اس کا ارادہ بھی جھک گیا ہو۔ اس کا جسم جس خدا کی عبادت کررہا ہے، اسکا شعور بھی اسی خدا کا عبادت گزار بن جائے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْرَبُوا الصَّلَاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَىٰ حَتَّىٰ تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلَا جُنُبًا إِلَّا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّىٰ تَغْتَسِلُوا ۚ وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَىٰ أَوْ عَلَىٰ سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا

📘 حق کا داعی جب آتا ہے تو وہ ایک معمولی انسان کی صورت میں ہوتا ہے۔ اس کے گرد ظاہری بڑائیاں اور رونقیں جمع نہیں ہوتیں۔ اس لیے وقت کے بڑے اس کو حقیر سمجھ کر نظر انداز کردیتے ہیں۔ ان کو یقین نہیں آتا کہ ایک ایسا شخص بھی ان سے زیادہ حق وصداقت والا ہوسکتا ہے جو دنیوی شان وشوکت میںان سے کم ہو۔ مگر جب قیامت آئے گی اور خدا کی عدالت قائم ہوگی تو وہ حیرت کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہی شخص جس کو انھوں نے بے قیمت سمجھ کر ٹھکرا دیا تھا وہ آخرت کی عدالت میں خدائی گواہ بنادیاگیا ہے۔ وہی وہ شخص ہے جس کے بیان پر لوگوں کے لیے جنت اور جہنم کے فیصلے ہوں۔ یہ وہاں مجرم کے مقام پر کھڑے ہوں گے اور وہ خدا کی طرف سے بولنے والے کے مقام پر۔ یہ ایسا سخت اور ہولناک لمحہ ہوگا کہ لوگ چاہیں گے کہ زمین پھٹ جائے اور وہ اس کے اندر سما جائیں۔ مگر ان کی یہ شرمندگی ان کے کام نہ آئے گی۔خدا کے یہاں ان کے قول و عمل سے لے کر ان کی سوچ تک کا ریکارڈ موجود ہوگااور خدا انھیں دکھا دے گا کہ حق کے داعی کا انکار جو انھوں نے کیا وہ ناواقفیت کے سبب سے نہ تھا بلکہ گھمنڈ کی وجہ سے تھا۔ انھوںنے اپنے کو بڑا سمجھا اور داعیٔ حق کو چھوٹا جانا۔ حقیقت کو اس کی برہنہ صورت میں دیکھنے اور جاننے کے باوجود محض اس لیے اس کے منکر ہوگئے کہ اس کو ماننے میں ان کی اپنی بڑائی ختم ہوتی ہوئی نظر آتی تھی۔ شریعت میں غیر معمولی حالات میںغیر معمولی رخصت دی گئی ہے۔ مرض یا سفر یا پانی کا نہ ہونا یہ تینوں آدمی کے لیے غیر معمولی حالتیں ہیں۔ اس ليےان مواقع پر یہ رخصت دی گئی کہ اگر نقصان کا اندیشہ ہو تو وضو یا غسل کے بجائے تیمم کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ عام وضو پانی سے ہوتا ہے۔ تیمم گویا مٹی سے وضو کرنا ہے۔ وضو کا مقصد آدمی کے اندر پاکی کی نفسیات پیدا کرنا ہے اور تیمم، وضو نہ کرسکنے کی صورت میں، اس پاکی کی نفسیات کو باقی رکھنے کی ایک مادی تدبیر ہے۔ ’’نماز اس وقت پڑھو جب کہ تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو‘‘ —یہاں یہ آیت شراب کا ابتدائی حکم بتانے کے لیے آئی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وہ نماز کے بارے میں ایک اہم حقیقت کو بھی بتارہی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز ایک ایسی عبادت ہے جو فہم وشعور کے تحت ادا کی جاتی ہے۔ نماز محض اس کا نام نہیں ہے کہ کچھ الفاظ اور کچھ حرکات کو صحتِ ادا کے ساتھ دہرایا جائے۔ اسی کے ساتھ نماز میں آدمی کے ذہن کا حاضر رہنا بھی ضروری ہے۔ وہ نماز کو جان کر نماز پڑھے، اپنی زبان اور اپنے جسم سے وہ جس خدا کے سامنے جھکنے کا ارادہ کررہا ہے، اسی خدا کے سامنے اس کی سوچ اور اس کا ارادہ بھی جھک گیا ہو۔ اس کا جسم جس خدا کی عبادت کررہا ہے، اسکا شعور بھی اسی خدا کا عبادت گزار بن جائے۔

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يَشْتَرُونَ الضَّلَالَةَ وَيُرِيدُونَ أَنْ تَضِلُّوا السَّبِيلَ

📘 اللہ کی کتاب کسی گروہ کو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اپنی سوچ اور اپنے عمل کو درست کرے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے، جیسا کہ یہود ہوئے، توخدا کی کتاب سے وہ ہدایت کے بجائے گمراہی کی غذا لینے لگتی ہے۔ خدا کے احکام اس کے لیے خشک جزئیاتی بحثوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔اب اس کے یہاں اعتقادیات کے نام پر فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ وہ اس کے لیے ایسی سرگرمیوں کی تعلیم دینے والی کتاب بن جاتی ہے جس کا آخرت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسے لوگ اپنی روایتی نفسیات کی وجہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی ہر بات کو خدا کی بات ثابت کریں وہ اپنے عمل کا دینی جواز فراہم کرنے کے لیے خدا کی کتاب کو بدل دیتے ہیں۔ خدا کے کلمات کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا کروہ اس کی خود ساختہ تشریح کرتے ہیں۔ وہ الفاظ میں الٹ پھیر کرکے اس سے ایسا مفہوم نکالتے ہیں جس کا اصل خدائی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیںہوتا۔ ’’یہود کو کتاب کا کچھ حصہ ملاتھا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو خدا کی کتاب کے الفاظ پڑھنے کو ملے مگر خدا کی کتاب پر عمل کرنا جو اصل مقصود تھا، اس سے وہ دور رہے۔ لفظ کے معاملہ میں وہ حامل کتاب بنے رہے مگر عمل کے معاملہ میں انھوںنے عام دنیا دارانہ قوموںکا راستہ اختیار کرلیا۔ مزید یہ کہ عام لوگ دنیاداری کو دنیا داری کے نام پر کرتے ہیں اور انھوں نے یہ ڈھٹائی کی کہ اپنی دنیاداری کے لیے خدا کی کتاب سے سند پیش کرنے لگے۔ پھر ان کی گمراہی اپنی ذات تک نہیں رکی۔ وہ اپنے کو خدا کے دین کا نمائندہ سمجھتے تھے اس لیے جب غیریہودی عربوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دینا شروع کیا تو یہود اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کے لیے خود پیغمبر کے مخالف ہوگئے۔ انھوںنے آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو اس شبہ میں مبتلا کرنا شروع کیا کہ یہ خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں بلکہ محض ذاتی حوصلہ کے تحت دین خدا کے عَلَم بردار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ مگر اس معرکہ میںاللہ غیر جانب دار نہیں۔ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے وفاداروں کا ساتھ دے گا اور انھیں کامیاب کرکے رہے گا۔ ’’لعنت‘‘ دراصل بے حسی کی آخری صورت ہے۔ آدمی کی بے حسی جب اس نوبت کو پہنچ جائے کہ اس کوحق اور ناحق کی کوئی تمیز نہ رہے تو اسی کو لعنت کہتے ہیں۔

وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِأَعْدَائِكُمْ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَفَىٰ بِاللَّهِ نَصِيرًا

📘 اللہ کی کتاب کسی گروہ کو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اپنی سوچ اور اپنے عمل کو درست کرے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے، جیسا کہ یہود ہوئے، توخدا کی کتاب سے وہ ہدایت کے بجائے گمراہی کی غذا لینے لگتی ہے۔ خدا کے احکام اس کے لیے خشک جزئیاتی بحثوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔اب اس کے یہاں اعتقادیات کے نام پر فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ وہ اس کے لیے ایسی سرگرمیوں کی تعلیم دینے والی کتاب بن جاتی ہے جس کا آخرت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسے لوگ اپنی روایتی نفسیات کی وجہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی ہر بات کو خدا کی بات ثابت کریں وہ اپنے عمل کا دینی جواز فراہم کرنے کے لیے خدا کی کتاب کو بدل دیتے ہیں۔ خدا کے کلمات کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا کروہ اس کی خود ساختہ تشریح کرتے ہیں۔ وہ الفاظ میں الٹ پھیر کرکے اس سے ایسا مفہوم نکالتے ہیں جس کا اصل خدائی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیںہوتا۔ ’’یہود کو کتاب کا کچھ حصہ ملاتھا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو خدا کی کتاب کے الفاظ پڑھنے کو ملے مگر خدا کی کتاب پر عمل کرنا جو اصل مقصود تھا، اس سے وہ دور رہے۔ لفظ کے معاملہ میں وہ حامل کتاب بنے رہے مگر عمل کے معاملہ میں انھوںنے عام دنیا دارانہ قوموںکا راستہ اختیار کرلیا۔ مزید یہ کہ عام لوگ دنیاداری کو دنیا داری کے نام پر کرتے ہیں اور انھوں نے یہ ڈھٹائی کی کہ اپنی دنیاداری کے لیے خدا کی کتاب سے سند پیش کرنے لگے۔ پھر ان کی گمراہی اپنی ذات تک نہیں رکی۔ وہ اپنے کو خدا کے دین کا نمائندہ سمجھتے تھے اس لیے جب غیریہودی عربوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دینا شروع کیا تو یہود اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کے لیے خود پیغمبر کے مخالف ہوگئے۔ انھوںنے آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو اس شبہ میں مبتلا کرنا شروع کیا کہ یہ خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں بلکہ محض ذاتی حوصلہ کے تحت دین خدا کے عَلَم بردار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ مگر اس معرکہ میںاللہ غیر جانب دار نہیں۔ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے وفاداروں کا ساتھ دے گا اور انھیں کامیاب کرکے رہے گا۔ ’’لعنت‘‘ دراصل بے حسی کی آخری صورت ہے۔ آدمی کی بے حسی جب اس نوبت کو پہنچ جائے کہ اس کوحق اور ناحق کی کوئی تمیز نہ رہے تو اسی کو لعنت کہتے ہیں۔

مِنَ الَّذِينَ هَادُوا يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَنْ مَوَاضِعِهِ وَيَقُولُونَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَرَاعِنَا لَيًّا بِأَلْسِنَتِهِمْ وَطَعْنًا فِي الدِّينِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ قَالُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا وَاسْمَعْ وَانْظُرْنَا لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَقْوَمَ وَلَٰكِنْ لَعَنَهُمُ اللَّهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا

📘 اللہ کی کتاب کسی گروہ کو اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ اس سے اپنی سوچ اور اپنے عمل کو درست کرے۔ مگر جب آسمانی کتاب کی حامل کوئی قوم زوال کا شکار ہوتی ہے، جیسا کہ یہود ہوئے، توخدا کی کتاب سے وہ ہدایت کے بجائے گمراہی کی غذا لینے لگتی ہے۔ خدا کے احکام اس کے لیے خشک جزئیاتی بحثوں کا موضوع بن جاتے ہیں۔اب اس کے یہاں اعتقادیات کے نام پر فلسفیانہ قسم کی موشگافیاں جنم لیتی ہیں۔ وہ اس کے لیے ایسی سرگرمیوں کی تعلیم دینے والی کتاب بن جاتی ہے جس کا آخرت کے مسئلہ سے کوئی تعلق نہ ہو۔ ایسے لوگ اپنی روایتی نفسیات کی وجہ سے ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اپنی ہر بات کو خدا کی بات ثابت کریں وہ اپنے عمل کا دینی جواز فراہم کرنے کے لیے خدا کی کتاب کو بدل دیتے ہیں۔ خدا کے کلمات کو اس کے موقع ومحل سے ہٹا کروہ اس کی خود ساختہ تشریح کرتے ہیں۔ وہ الفاظ میں الٹ پھیر کرکے اس سے ایسا مفہوم نکالتے ہیں جس کا اصل خدائی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیںہوتا۔ ’’یہود کو کتاب کا کچھ حصہ ملاتھا‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ ان کو خدا کی کتاب کے الفاظ پڑھنے کو ملے مگر خدا کی کتاب پر عمل کرنا جو اصل مقصود تھا، اس سے وہ دور رہے۔ لفظ کے معاملہ میں وہ حامل کتاب بنے رہے مگر عمل کے معاملہ میں انھوںنے عام دنیا دارانہ قوموںکا راستہ اختیار کرلیا۔ مزید یہ کہ عام لوگ دنیاداری کو دنیا داری کے نام پر کرتے ہیں اور انھوں نے یہ ڈھٹائی کی کہ اپنی دنیاداری کے لیے خدا کی کتاب سے سند پیش کرنے لگے۔ پھر ان کی گمراہی اپنی ذات تک نہیں رکی۔ وہ اپنے کو خدا کے دین کا نمائندہ سمجھتے تھے اس لیے جب غیریہودی عربوں نے پیغمبر آخر الزماں کا ساتھ دینا شروع کیا تو یہود اپنی دینداری کا بھرم قائم رکھنے کے لیے خود پیغمبر کے مخالف ہوگئے۔ انھوںنے آپ کی زندگی اور آپ کی تعلیمات میں طرح طرح کے شوشے نکال کر لوگوں کو اس شبہ میں مبتلا کرنا شروع کیا کہ یہ خدا کے بھیجے ہوئے نہیں ہیں بلکہ محض ذاتی حوصلہ کے تحت دین خدا کے عَلَم بردار بن کر کھڑے ہوگئے ہیں۔ مگر اس معرکہ میںاللہ غیر جانب دار نہیں۔ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں اپنے وفاداروں کا ساتھ دے گا اور انھیں کامیاب کرکے رہے گا۔ ’’لعنت‘‘ دراصل بے حسی کی آخری صورت ہے۔ آدمی کی بے حسی جب اس نوبت کو پہنچ جائے کہ اس کوحق اور ناحق کی کوئی تمیز نہ رہے تو اسی کو لعنت کہتے ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ آمِنُوا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَطْمِسَ وُجُوهًا فَنَرُدَّهَا عَلَىٰ أَدْبَارِهَا أَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّا أَصْحَابَ السَّبْتِ ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّهِ مَفْعُولًا

📘 کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتاہے مگروہ حقیقۃً نہیں سنتا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نه ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی ناسمجھی کا حال ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا ديے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سُن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پچھلے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لیے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لیے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لیے آدمی کا اس طرح اندھا بہرا ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو اپنی توفیق سے محروم کردیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھاتو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا — بے حسی جب اپنی آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم پیغمبروں کی نسل سے ہیں، اس بنا پر ہمارا گر وہ مقدس گروہ ہے۔ انھوں نے بے شمار روایتیں اور کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو ان کے نسلي شرف اور گروہی فضیلت کی تصدیق کرتی تھیں۔ وہ انھیں خوش خیالیوں میں جی رہے تھے انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ قائم کرلیا تھا کہ ہر وہ شخص جو یہودی ہے اس کی نجات یقینی ہے۔ کوئی یہودی کبھی جہنم کی آگ میں نہیں ڈالا جائے گا۔ ’’وہ اپنے کو پاکیزہ ٹھہراتے ہیں حالاں کہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ ٹھہرائے‘‘ کا فقره اس خیال کی تردید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنا پر کسی کو فضیلت یا شرف نہیں مل جاتا۔ بلکہ اس کا تعلق خدا کے قانون عدل سے ہے۔ جو شخص خدائی قانون کے مطابق اپنے کو شرف کا مستحق ثابت کرے وہ شر ف والا ہے اور جو شخص اپنے عمل سے اپنے کو مستحق ثابت نہ کرسکے وہ محض کسی گروہ سے وابستگی کی بنا پر شرف کا مالک نہیں بن جائے گا۔ گروہی نجات کا عقیدہ خواہ یہودی قائم کریں یا کوئی اور ایسا عقیدہ بنالے، وہ سراسر باطل ہے۔ جو لوگ ایسا عقیدہ بناتے ہیں وہ اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مگر یہ خدا پر جھوٹ لگانا ہے۔ کیوں کہ خدا نے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی۔ خدا اگر ایک انسان اور دوسرے انسان میں گروہی تعلق کی بنا پر فرق کرنے لگے تو یہ ظلم ہوگا اور خدا سراسر عدل ہے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں۔

إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ۚ وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا

📘 کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتاہے مگروہ حقیقۃً نہیں سنتا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نه ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی ناسمجھی کا حال ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا ديے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سُن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پچھلے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لیے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لیے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لیے آدمی کا اس طرح اندھا بہرا ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو اپنی توفیق سے محروم کردیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھاتو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا — بے حسی جب اپنی آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم پیغمبروں کی نسل سے ہیں، اس بنا پر ہمارا گر وہ مقدس گروہ ہے۔ انھوں نے بے شمار روایتیں اور کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو ان کے نسلي شرف اور گروہی فضیلت کی تصدیق کرتی تھیں۔ وہ انھیں خوش خیالیوں میں جی رہے تھے انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ قائم کرلیا تھا کہ ہر وہ شخص جو یہودی ہے اس کی نجات یقینی ہے۔ کوئی یہودی کبھی جہنم کی آگ میں نہیں ڈالا جائے گا۔ ’’وہ اپنے کو پاکیزہ ٹھہراتے ہیں حالاں کہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ ٹھہرائے‘‘ کا فقره اس خیال کی تردید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنا پر کسی کو فضیلت یا شرف نہیں مل جاتا۔ بلکہ اس کا تعلق خدا کے قانون عدل سے ہے۔ جو شخص خدائی قانون کے مطابق اپنے کو شرف کا مستحق ثابت کرے وہ شر ف والا ہے اور جو شخص اپنے عمل سے اپنے کو مستحق ثابت نہ کرسکے وہ محض کسی گروہ سے وابستگی کی بنا پر شرف کا مالک نہیں بن جائے گا۔ گروہی نجات کا عقیدہ خواہ یہودی قائم کریں یا کوئی اور ایسا عقیدہ بنالے، وہ سراسر باطل ہے۔ جو لوگ ایسا عقیدہ بناتے ہیں وہ اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مگر یہ خدا پر جھوٹ لگانا ہے۔ کیوں کہ خدا نے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی۔ خدا اگر ایک انسان اور دوسرے انسان میں گروہی تعلق کی بنا پر فرق کرنے لگے تو یہ ظلم ہوگا اور خدا سراسر عدل ہے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں۔

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنْفُسَهُمْ ۚ بَلِ اللَّهُ يُزَكِّي مَنْ يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا

📘 کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتاہے مگروہ حقیقۃً نہیں سنتا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نه ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی ناسمجھی کا حال ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا ديے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سُن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پچھلے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لیے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لیے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لیے آدمی کا اس طرح اندھا بہرا ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو اپنی توفیق سے محروم کردیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھاتو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا — بے حسی جب اپنی آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم پیغمبروں کی نسل سے ہیں، اس بنا پر ہمارا گر وہ مقدس گروہ ہے۔ انھوں نے بے شمار روایتیں اور کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو ان کے نسلي شرف اور گروہی فضیلت کی تصدیق کرتی تھیں۔ وہ انھیں خوش خیالیوں میں جی رہے تھے انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ قائم کرلیا تھا کہ ہر وہ شخص جو یہودی ہے اس کی نجات یقینی ہے۔ کوئی یہودی کبھی جہنم کی آگ میں نہیں ڈالا جائے گا۔ ’’وہ اپنے کو پاکیزہ ٹھہراتے ہیں حالاں کہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ ٹھہرائے‘‘ کا فقره اس خیال کی تردید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنا پر کسی کو فضیلت یا شرف نہیں مل جاتا۔ بلکہ اس کا تعلق خدا کے قانون عدل سے ہے۔ جو شخص خدائی قانون کے مطابق اپنے کو شرف کا مستحق ثابت کرے وہ شر ف والا ہے اور جو شخص اپنے عمل سے اپنے کو مستحق ثابت نہ کرسکے وہ محض کسی گروہ سے وابستگی کی بنا پر شرف کا مالک نہیں بن جائے گا۔ گروہی نجات کا عقیدہ خواہ یہودی قائم کریں یا کوئی اور ایسا عقیدہ بنالے، وہ سراسر باطل ہے۔ جو لوگ ایسا عقیدہ بناتے ہیں وہ اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مگر یہ خدا پر جھوٹ لگانا ہے۔ کیوں کہ خدا نے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی۔ خدا اگر ایک انسان اور دوسرے انسان میں گروہی تعلق کی بنا پر فرق کرنے لگے تو یہ ظلم ہوگا اور خدا سراسر عدل ہے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں۔

وَلَا تُؤْتُوا السُّفَهَاءَ أَمْوَالَكُمُ الَّتِي جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ قِيَامًا وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا

📘 مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لیے کیا۔ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس ليے اس کے مال کی حفاظت اور اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے تاکہ سماج کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہوسکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کرسکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لیے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ دنیا میں کمزور کا حق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نهيں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔

انْظُرْ كَيْفَ يَفْتَرُونَ عَلَى اللَّهِ الْكَذِبَ ۖ وَكَفَىٰ بِهِ إِثْمًا مُبِينًا

📘 کبھی ایسا ہوتا ہے کہ آدمی ایک بات کو سنتاہے مگروہ حقیقۃً نہیں سنتا۔یہ اس وقت ہوتا ہے جب کہ آدمی اس بات کو سمجھنے کے معاملہ میں سنجیدہ نه ہو اور اس پر عمل کرنے سے اس کو کوئی دل چسپی نہ ہو۔ یہ مزاج جب اپنے آخری درجہ میں پہنچتا ہے تو آدمی کی ناسمجھی کا حال ایسا ہوجاتا ہے جیسے اس کے چہرے کے نشانات مٹا ديے گئے ہوں اور اب وہ چیزوں کو اس طرح دیکھ اور سُن رہا ہو جیسے کوئی شخص سر کے پچھلے حصہ کی طرف سے چیزوں کو دیکھے اور سنے جہاں نہ دیکھنے کے لیے آنکھ ہے اور نہ سننے کے لیے کان۔ حق بات کو سمجھنے کے لیے آدمی کا اس طرح اندھا بہرا ہوجانا اس بات کی علامت ہے کہ حق کے ساتھ مسلسل بے پروائی کی بنا پر خدا نے اس کو اپنی توفیق سے محروم کردیا ہے۔ خدا نے اس کو کان دیا مگر اس نے نہیں سنا، خدا نے اس کو آنکھ دی مگر اس نے نہیں دیکھاتو اب خدا نے بھی اس کو ویسا ہی بنا دیا جیسا اس نے خود سے اپنے کو بنا رکھا تھا — بے حسی جب اپنی آخری درجہ میں پہنچتی ہے تو وہ مسخ کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ یہود کا یہ خیال تھا کہ ہم پیغمبروں کی نسل سے ہیں، اس بنا پر ہمارا گر وہ مقدس گروہ ہے۔ انھوں نے بے شمار روایتیں اور کہانیاں گھڑ رکھی تھیں جو ان کے نسلي شرف اور گروہی فضیلت کی تصدیق کرتی تھیں۔ وہ انھیں خوش خیالیوں میں جی رہے تھے انھوں نے بطور خود یہ عقیدہ قائم کرلیا تھا کہ ہر وہ شخص جو یہودی ہے اس کی نجات یقینی ہے۔ کوئی یہودی کبھی جہنم کی آگ میں نہیں ڈالا جائے گا۔ ’’وہ اپنے کو پاکیزہ ٹھہراتے ہیں حالاں کہ اللہ جس کو چاہے پاکیزہ ٹھہرائے‘‘ کا فقره اس خیال کی تردید ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کسی نسل یا گروہ سے وابستگی کی بنا پر کسی کو فضیلت یا شرف نہیں مل جاتا۔ بلکہ اس کا تعلق خدا کے قانون عدل سے ہے۔ جو شخص خدائی قانون کے مطابق اپنے کو شرف کا مستحق ثابت کرے وہ شر ف والا ہے اور جو شخص اپنے عمل سے اپنے کو مستحق ثابت نہ کرسکے وہ محض کسی گروہ سے وابستگی کی بنا پر شرف کا مالک نہیں بن جائے گا۔ گروہی نجات کا عقیدہ خواہ یہودی قائم کریں یا کوئی اور ایسا عقیدہ بنالے، وہ سراسر باطل ہے۔ جو لوگ ایسا عقیدہ بناتے ہیں وہ اس کو خدا کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ مگر یہ خدا پر جھوٹ لگانا ہے۔ کیوں کہ خدا نے کبھی ایسی تعلیم نہیں دی۔ خدا اگر ایک انسان اور دوسرے انسان میں گروہی تعلق کی بنا پر فرق کرنے لگے تو یہ ظلم ہوگا اور خدا سراسر عدل ہے، وہ کبھی کسی کے ساتھ ظلم کرنے والا نہیں۔

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ أُوتُوا نَصِيبًا مِنَ الْكِتَابِ يُؤْمِنُونَ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوتِ وَيَقُولُونَ لِلَّذِينَ كَفَرُوا هَٰؤُلَاءِ أَهْدَىٰ مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا

📘 آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔ لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ ۖ وَمَنْ يَلْعَنِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ نَصِيرًا

📘 آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔ لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

أَمْ لَهُمْ نَصِيبٌ مِنَ الْمُلْكِ فَإِذًا لَا يُؤْتُونَ النَّاسَ نَقِيرًا

📘 آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔ لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

أَمْ يَحْسُدُونَ النَّاسَ عَلَىٰ مَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ ۖ فَقَدْ آتَيْنَا آلَ إِبْرَاهِيمَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَآتَيْنَاهُمْ مُلْكًا عَظِيمًا

📘 آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔ لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

فَمِنْهُمْ مَنْ آمَنَ بِهِ وَمِنْهُمْ مَنْ صَدَّ عَنْهُ ۚ وَكَفَىٰ بِجَهَنَّمَ سَعِيرًا

📘 آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔ لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا سَوْفَ نُصْلِيهِمْ نَارًا كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا لِيَذُوقُوا الْعَذَابَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَزِيزًا حَكِيمًا

📘 آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔ لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۖ لَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ ۖ وَنُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِيلًا

📘 آسمانی کتاب کی حامل کسی قوم پر جب زوال آتا ہے تو وہ عمل کے بجائے خوش عقیدگی کی سطح پر جینے لگتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے درمیان جبت يعني توہمات خوب پھیلتے ہیں۔ جو چیز حقیقی عمل کے ذریعے ملتی ہے اس کو وہ عملیات اور فرضی عقیدوں اور سفلی اعمال کے راستے سے پانے کی کوشش شروع کردیتی ہے۔ ایسے لوگ دین کے معاملہ کو ’’پاک کلمات‘‘اور ’’بابرکت نسبتوں‘‘ کا معاملہ سمجھ لیتے ہیں جس کے محض زبانی تلفظ یا رسمی تعلق سے معجزاتی واقعات ظاہر ہوتے ہوں۔ اسی کے ساتھ ان کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ زبان سے دین کا نام لیتے ہوئے اپنی عملی زندگی کو طاغوت يعني شیطان کے حوالے کردیتے ہیں۔ وہ حقیقی زندگی میں نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات پر چل پڑتے ہیں مگر اسی کے ساتھ اپنے اوپر دین کا لیبل لگا کر سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرنے لگیں وہی خدا کا دین ہے۔ ایسی حالت ميں جب ان کے درمیان بے آمیز حق کی دعوت اٹھتی ہے تو وہ سب سے زیادہ اس کے مخالف ہوجاتے ہیں۔ کیوں کہ ان کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ ان کی دینی حیثیت کی نفی کررہی ہے۔ منكرينِ حق کا وجود ان کے لیے اس قسم کا چیلنج نہیں ہوتا اس لیے منكروںکے معاملہ میں وہ نرم ہوتے ہیں مگر حق کے داعی کے لیے ان کے دل میں کوئی نرم گوشہ نہیںہوتا۔ ان کے اندر حاسدانہ آگ بھڑک اٹھتی ہے کہ جب دین کے اجارہ دار ہم تھے تو دوسرے کسی شخص کو دین کی نمائندگی کا درجہ کیسے مل گیا۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ خدا آدمی کی قلبی استعداد کی بنیاد پر کسی کو اپنے دین کا نمائندہ چنتا ہے، نہ کہ نمائشی چیزوں کی بنیاد پر۔ لعنت یہ ہے کہ آدمی اللہ کی رحمتوں اور نصرتوں سے بالکل دور کردیا جائے۔ کھانا اور پانی بند ہونے سے جس طرح آدمی کی مادی زندگی ختم ہوجاتی ہے اسی طرح خدا کی نصرت سے محرومی کے بعد آدمی کی ایمانی زندگی کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔ لعنت زدہ آدمی لطیف احساسات کے اعتبار سے اس طرح ایک ختم شدہ انسان بن جاتا ہے کہ اس کے اندر حق اور ناحق کی تمیز باقی نہیں رہتی۔ کھلی کھلی نشانیاں سامنے آنے کے بعد بھی اس کو اعتراف کی توفیق نہیں ہوتی۔ وہ لایعنی شوشوں اور واقعی دلائل کے درمیان فرق نہیں کرتا۔

۞ إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ أَنْ تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ ۚ إِنَّ اللَّهَ نِعِمَّا يَعِظُكُمْ بِهِ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ سَمِيعًا بَصِيرًا

📘 ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔ مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ ۖ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا

📘 ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔ مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

وَابْتَلُوا الْيَتَامَىٰ حَتَّىٰ إِذَا بَلَغُوا النِّكَاحَ فَإِنْ آنَسْتُمْ مِنْهُمْ رُشْدًا فَادْفَعُوا إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ ۖ وَلَا تَأْكُلُوهَا إِسْرَافًا وَبِدَارًا أَنْ يَكْبَرُوا ۚ وَمَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ ۚ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَيْهِمْ أَمْوَالَهُمْ فَأَشْهِدُوا عَلَيْهِمْ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ حَسِيبًا

📘 مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لیے کیا۔ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس ليے اس کے مال کی حفاظت اور اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے تاکہ سماج کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہوسکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کرسکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لیے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ دنیا میں کمزور کا حق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نهيں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ وَيُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُضِلَّهُمْ ضَلَالًا بَعِيدًا

📘 ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔ مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ تَعَالَوْا إِلَىٰ مَا أَنْزَلَ اللَّهُ وَإِلَى الرَّسُولِ رَأَيْتَ الْمُنَافِقِينَ يَصُدُّونَ عَنْكَ صُدُودًا

📘 ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔ مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

فَكَيْفَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ بِمَا قَدَّمَتْ أَيْدِيهِمْ ثُمَّ جَاءُوكَ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا

📘 ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔ مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ يَعْلَمُ اللَّهُ مَا فِي قُلُوبِهِمْ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَعِظْهُمْ وَقُلْ لَهُمْ فِي أَنْفُسِهِمْ قَوْلًا بَلِيغًا

📘 ہر ذمہ داری ایک امانت ہے اور اس کو ٹھیک ٹھیک اداکرنا ضروری ہے۔ اسی طرح جب کسی سے معاملہ پڑے تو آدمی کو چاہیے کہ وہ وهي کرے جو انصاف کا تقاضا ہو، خواہ معاملہ دوست کا ہو یا دشمن کا۔ اگر امانت داری اور انصاف کا طریقہ بظاہر اپنے فائدوں اور مصلحتوں کے خلاف نظر آئے تب بھی اس کو انصاف اور سچائی ہی کے طریقے پر قائم رہنا ہے۔ کیوں کہ بہتری ا س میں ہے جو اللہ بتائے، نہ کہ اس میں جو ہمارے نفس کو پسند ہو۔ جهاں كهيں مسلم حکومت قائم هے وهاں كے مسلمانوں كو چاهيے كه وه اس كے قوانين كي پاسداري كريں اور اگر حکومتی معاملات میں پرامن طور پر حصہ لینے کا موقع ہو تو مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس میں حصہ لیں۔ ایسے مواقع نہ ہونے کی شکل میں، یعنی جهاں اسلامي حكومت قائم نهيں هے تو وهاں وه اپنے اندر كے قابلِ اعتماد افراد کو اپنا سربراہ بنالیں اور ان کی ہدایات لیتے ہوئے دینی زندگی گزاریں۔ جب کسی معاملہ میں اختلاف ہو تو ہر فریق پر لازم هے کہ وہ اس بات کو مان لے جو اللہ اور رسول کی طرف سے آرہی ہو۔ہر آدمی کو اختلاف رائے کی آزادی ہے مگر اجتماعی فیصلہ کو نہ ماننے کی آزادی کسی کو بھی حاصل نہیں۔ اجتماعی نظام مسلم معاشرہ کی اجتماعی ضرورت ہے۔ مدینہ کے ابتدائی زمانہ میں اختلافی معاملات میں فیصلہ لینے کے لیے بیک وقت دو عدالتیں پائی جاتی تھیں۔ ایک، یہودي سرداروں کی جو پہلےسے چلی آرہی تھی۔ دوسری، رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو ہجرت کے بعد قائم ہوئی۔ مسلمانوں میں جو لوگ اپنے مفاد کی قربانی کی قیمت پر دینداربننے کے لیے تیار نہ تھے وہ ایسا کرتے کہ جب ان کو اندیشہ ہوتا کہ ان کا مقدمہ کمزور ہے اور وہ رسولِ خدا کی عدالت سے اپنے موافق فیصلہ نہ لے سکیں گے تو وہ کعب بن اشرف یہودی کی عدالت میں چلے جاتے۔ یہ بات سراسر ایمان کے خلاف ہے ۔ آدمی اگر اللہ کے فیصلہ پر راضی نہ ہو بلکہ اپنی پسند کافیصلہ لینا چاہے تو اس کا ایمان کا دعویٰ جھوٹا ہے، خواہ وہ اپنے رویہ کو حق بجانب ثابت کرنے کے لیے کتنے ہی خوب صورت الفاظ اپنے پاس رکھتا ہو۔ تاہم ایسے لوگوں سے نہ الجھتے ہوئے ان کو مؤثر انداز میں نصیحت کرنے کا کام پھر بھی جاری رہنا چاہیے۔

وَمَا أَرْسَلْنَا مِنْ رَسُولٍ إِلَّا لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللَّهِ ۚ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ جَاءُوكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللَّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُوا اللَّهَ تَوَّابًا رَحِيمًا

📘 رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّىٰ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُوا تَسْلِيمًا

📘 رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

وَلَوْ أَنَّا كَتَبْنَا عَلَيْهِمْ أَنِ اقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ أَوِ اخْرُجُوا مِنْ دِيَارِكُمْ مَا فَعَلُوهُ إِلَّا قَلِيلٌ مِنْهُمْ ۖ وَلَوْ أَنَّهُمْ فَعَلُوا مَا يُوعَظُونَ بِهِ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ وَأَشَدَّ تَثْبِيتًا

📘 رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

وَإِذًا لَآتَيْنَاهُمْ مِنْ لَدُنَّا أَجْرًا عَظِيمًا

📘 رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

وَلَهَدَيْنَاهُمْ صِرَاطًا مُسْتَقِيمًا

📘 رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولَٰئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ ۚ وَحَسُنَ أُولَٰئِكَ رَفِيقًا

📘 رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

لِلرِّجَالِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ وَلِلنِّسَاءِ نَصِيبٌ مِمَّا تَرَكَ الْوَالِدَانِ وَالْأَقْرَبُونَ مِمَّا قَلَّ مِنْهُ أَوْ كَثُرَ ۚ نَصِيبًا مَفْرُوضًا

📘 مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لیے کیا۔ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس ليے اس کے مال کی حفاظت اور اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے تاکہ سماج کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہوسکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کرسکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لیے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ دنیا میں کمزور کا حق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نهيں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔

ذَٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ عَلِيمًا

📘 رسول اس لیے نہیں آتا کہ لوگ بس اس کے عقیدت مند ہوجائیں اور اس کی بارگاہ میں الفاظ کے گلدستے پیش کرتے رہیں۔ رسول اللہ اس لیے آتا ہے کہ آدمی اس سے اپنی زندگی کا طریقہ معلوم کرے اور اس پر عملاً کاربند ہو۔ اس معاملہ میں آدمی کو اتنازیادہ شدید ہونا چاہیے کہ نازک مواقع پر بھی وہ رسول اللہ کی اطاعت سے نہ ہٹے۔ جب دوآدمیوں کا مفاد ایک دوسرے سے ٹکرا جائے اور دو آدمیوں کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف تلخی ابھر آئے اس وقت بھی آدمی کو اپنے نفس کو دبانا ہے اور بالارادہ اپنے كو رسول والے طریقہ کا پابند بنانا ہے۔ نزاع کے موقع پر جو شخص رسول کی رہنمائی کو قبول کرے وہی رسول کو ماننے والا ہے۔ حتی کہ رسول کا طریقہ اپنے ذوق اور اپنی مصلحت کے خلاف ہو تب بھی وہ دل کی رضا مندی کے ساتھ اس کو قبول کرلے۔ وہ اپنے احساس کو اتنا زندہ رکھے کہ اگر وقتی طورپر کبھی اس سے غلطی ہوجائے تو وہ جلد ہی چونک اٹھے۔ وہ جان لے کہ رسول کو چھوڑ کر وہ شیطان کے پیچھے چل پڑا تھا۔ وہ فوراً پلٹے اور معافی کا طالب ہو۔ جو شخص نفسیاتی جھٹکوں کے مواقع پر دین پر قائم نہ رہ سکے اس سے کیا امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ان شدید تر مواقع پر ثابت قدم رہے گا جب کہ وطن کو چھوڑ کر اور جان ومال کی قربانی دے کر آدمی کو اپنے ایمان کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ نفس پرستی اور مصلحت پسندی کی زندگی اختیار کرنے کے نتیجہ میں آدمی جو سب سے بڑی چیز کھوتا ہے وہ صراط مستقیم ہے۔ یعنی وہ راستہ جس کو پکڑ کر آدمی چلتا رہے یہاں تک کہ اپنے رب تک پہنچ جائے۔ یہ راستہ خدا کی کتاب اور رسول کی سنت میں واضح طورپر موجود ہے۔ مگر آدمی جب اپنی سوچ کو تحفظات کا پابند کرلیتا ہے تو وضاحت کے باوجود وہ صراطِ مستقیم کو دیکھ نہیں پاتا۔وہ دین کا مطالعہ اپنی خواہشوں اور مصلحتوں کے زیر اثر کرتاہے، نہ کہ دين کی بے آمیز صورت میں۔ اس کے ذہن میں اپنے حسب حال دین کا ایک خود ساختہ تصور قائم ہوجاتا ہے۔ وہ ایمان کا مدعی ہو کر بھی ایمان سے محروم رہتا ہے۔ ایسے لوگ اس جنت کے مستحق کیسے ہوسکتے ہیں جہاں وہ لوگ بسائے جائیں گے جنھوں نے ہر قسم کی مصلحتوں سے اوپر اٹھ کر دین کو اختیار کیا تھا۔ وہ لوگ جو خدا کے عہد کو پورا کرنے والے ہیں، جو حق کی گواہی آخری حدتک دینے والے ہیں اور جن کی زندگیاں حد درجہ پاکیزہ ہیں۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا خُذُوا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوا ثُبَاتٍ أَوِ انْفِرُوا جَمِيعًا

📘 موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔ خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

وَإِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَيُبَطِّئَنَّ فَإِنْ أَصَابَتْكُمْ مُصِيبَةٌ قَالَ قَدْ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيَّ إِذْ لَمْ أَكُنْ مَعَهُمْ شَهِيدًا

📘 موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔ خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

وَلَئِنْ أَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِنَ اللَّهِ لَيَقُولَنَّ كَأَنْ لَمْ تَكُنْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُ مَوَدَّةٌ يَا لَيْتَنِي كُنْتُ مَعَهُمْ فَأَفُوزَ فَوْزًا عَظِيمًا

📘 موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔ خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

۞ فَلْيُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ الَّذِينَ يَشْرُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا بِالْآخِرَةِ ۚ وَمَنْ يُقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيُقْتَلْ أَوْ يَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِيهِ أَجْرًا عَظِيمًا

📘 موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔ خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

وَمَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ الَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا

📘 موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔ خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

الَّذِينَ آمَنُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ الطَّاغُوتِ فَقَاتِلُوا أَوْلِيَاءَ الشَّيْطَانِ ۖ إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطَانِ كَانَ ضَعِيفًا

📘 موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ اس لیے یہاں ہر ایک کو عمل کی آزادی ہے۔ یہاں شریر لوگوں کو بھی موقع ہے کہ وہ خدا کے بندوں کو اپنے ظلم کا نشانہ بنائیں اور اسی کے ساتھ خدا کے نیک بندوں کو اپنے اقرار ایمان کا ثبوت اس طرح دینا ہے کہ وہ شریر لوگوں کی طرف سے ڈالی جانے والی مصیبتوں کے باوجود ثابت قدم رہیں۔ اہلِ ایمان کو خدا کے دشمنوں کے مقابلہ میں ہر وقت چوکنا رہنا ہے۔ پرامن تدبیروں اور جنگي تیاریوں سے ان کو پوری طرح اپنے بچاؤ کا انتظام کرنا هے۔ ان کو متفرق طورپر بھی اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنا ہے اور مل کر بھی۔ اسی کے ساتھ خود مسلمانوں کی صف میں بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں ، جیسا کہ غزوۂ احد میں ظاہر ہوا، جو دنیا کے نقصان کا خطرہ مول لیے بغیر آخرت کا سودا کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ ان کاموں میں تو خوب حصہ لیتے ہیں جن میں دنیوی فائدہ کا کوئی پہلو ہو۔ مگر ایسا دینی کام جس میں دنیوی اعتبار سے نقصان کا اندیشہ ہو اس سے علیحدگی کے لیے خوبصورت عذر تلاش کرلیتے ہیں۔ ان کی یہ ذہنیت اس لیے ہے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود عملاً وہ اسی موجودہ دنیا کی سطح پر جی رہے ہیں۔ اگر ان کو یقین ہو کہ اصل اہمیت کی چیز آخرت ہے تو دنیا کی کامیابی وناکامی ان کے لیے ناقابلِ لحاظ بن جائے ۔ اللہ کی راہ کا مجاہد حقیقۃً وہ ہے جو صرف آخرت کا طالب ہو، جو دنیا کے فائدوں اور مصلحتوں کو قربان کرکے اللہ کی راہ میں بڑھے، نہ کہ وہ جو ایسے جہاد کا غازی بننا پسند کرے جس میں کوئی زخم لگے بغیر بڑے بڑے کریڈٹ ملتے ہوں، جس میں الفاظ بول کر شہرت وعزت کا مقام حاصل ہوتا ہو۔ خدا کی راہ کی لڑائی وہ ہے جو اس بندۂ خدا کو پیش آئے جو صرف خدا کے لیے اٹھا ہو۔ وہ لوگوں کو جہنم سے ڈرائے اور لوگوں کو جنت کی طرف بلائے۔ کسی سے وہ مادی یا سیاسی جھگڑا نہ چھیڑے۔ پھر بھی شریر لوگ اس سے لڑنے کے لیے کھڑے ہوجائیں۔ اور شیطان کی راہ میں لڑنے والے وہ لوگ ہیں جو کسی بندۂ خدا سے اس بنا پر لڑ پڑیں کہ اس کی باتوں سے ان کی اَنانیت پر ضرب پڑتی ہے۔ اس کے پیغام کے پھیلاؤ میں ان کو اپنا معاشی یا سیاسی خطرہ دکھائی دیتا ہے۔ اس کے دلائل کو توڑنے کے لیے وہ جارحیت کے سوا اور کوئی دلیل اپنے پاس نہیں پاتے۔

أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ قِيلَ لَهُمْ كُفُّوا أَيْدِيَكُمْ وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ إِذَا فَرِيقٌ مِنْهُمْ يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً ۚ وَقَالُوا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَيْنَا الْقِتَالَ لَوْلَا أَخَّرْتَنَا إِلَىٰ أَجَلٍ قَرِيبٍ ۗ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْيَا قَلِيلٌ وَالْآخِرَةُ خَيْرٌ لِمَنِ اتَّقَىٰ وَلَا تُظْلَمُونَ فَتِيلًا

📘 ہجرت سے پہلے مکہ میںاسلام کے مخالفین مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے۔ مارنا پیٹنا، ان کی معاشیات کو تباہ کرنا، ان کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، ان کو تبلیغ کی اجازت نہ دینا، ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا، يه سب انھوں نے مسلمانوں کے لیے جائز کرلیا تھا ۔ جو شخص اسلام قبول کرتا اس پر وہ ہر قسم کا دباؤ ڈالتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائے۔ مخالفین اسلام کی اس جارحیت نے مسلمانوں کے لیے اصولاً جائز کردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار جنگ کی اجازت مانگتے۔ مگر آپ ہمیشہ یہ کہتے کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیاگیا۔ تم صبر کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبل از وقت کوئی اقدام کرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ مکہ میں مسلمانوں کی اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرسکتے۔ اس وقت مکہ والوں کے مقابلہ میں تلوار اٹھانا اپنی مصیبتوں کو اور بڑھانے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ طاقت ور دشمن جو ابھی تک صرف انفرادی ظلم کررہا ہے اس کو اپنی طرف سے مکمل جنگی کارروائی کرنے کا جواز فراہم کردیا جائے۔ عملی اقدام ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ اس کے لیے ضروری تیاری کرلی گئی ہو۔ اس سے پہلے اہلِ ایمان سے صرف انفرادی احکام کا تقاضا کیا جاتا ہے جو ہر حال میں آدمی کے لیے ضروری ہیں۔ یعنی اللہ سے تعلق جوڑنا، بندوں کے حقوق ادا کرنا اور دین کی راہ میں جو مشکلیں پیش آئیں ان کو برداشت کرنا۔ قرآن میں قربانی کے احکام آئے تو مصلحت پرست لوگوں کو اپنی زندگی کا نقشہ بکھرتا ہوا نظر آیا۔ وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ احد میں شکست ہوئی تو اس کو وہ رسول کی بے تدبیری کا نتیجہ بتا کر رسول کی رہنمائی کے بارے میں لوگوں کو بدظن کرنے لگے۔ فائدہ والی باتوں کو اللہ کا فضل بتا کر وہ اپنی اسلامیت کا مظاہرہ کرتے اور عملی اسلام سے گریز کے لیے رسول کو غلط ثابت کرتے — خدا کو مان کر آدمی کے لیے ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر چلتا رہے۔ مگر خدا کے داعی کو ماننے کے بعد اس کا ساتھ دینا بھی ضروری ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔

أَيْنَمَا تَكُونُوا يُدْرِكْكُمُ الْمَوْتُ وَلَوْ كُنْتُمْ فِي بُرُوجٍ مُشَيَّدَةٍ ۗ وَإِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ يَقُولُوا هَٰذِهِ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۖ وَإِنْ تُصِبْهُمْ سَيِّئَةٌ يَقُولُوا هَٰذِهِ مِنْ عِنْدِكَ ۚ قُلْ كُلٌّ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ۖ فَمَالِ هَٰؤُلَاءِ الْقَوْمِ لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ حَدِيثًا

📘 ہجرت سے پہلے مکہ میںاسلام کے مخالفین مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے۔ مارنا پیٹنا، ان کی معاشیات کو تباہ کرنا، ان کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، ان کو تبلیغ کی اجازت نہ دینا، ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا، يه سب انھوں نے مسلمانوں کے لیے جائز کرلیا تھا ۔ جو شخص اسلام قبول کرتا اس پر وہ ہر قسم کا دباؤ ڈالتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائے۔ مخالفین اسلام کی اس جارحیت نے مسلمانوں کے لیے اصولاً جائز کردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار جنگ کی اجازت مانگتے۔ مگر آپ ہمیشہ یہ کہتے کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیاگیا۔ تم صبر کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبل از وقت کوئی اقدام کرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ مکہ میں مسلمانوں کی اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرسکتے۔ اس وقت مکہ والوں کے مقابلہ میں تلوار اٹھانا اپنی مصیبتوں کو اور بڑھانے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ طاقت ور دشمن جو ابھی تک صرف انفرادی ظلم کررہا ہے اس کو اپنی طرف سے مکمل جنگی کارروائی کرنے کا جواز فراہم کردیا جائے۔ عملی اقدام ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ اس کے لیے ضروری تیاری کرلی گئی ہو۔ اس سے پہلے اہلِ ایمان سے صرف انفرادی احکام کا تقاضا کیا جاتا ہے جو ہر حال میں آدمی کے لیے ضروری ہیں۔ یعنی اللہ سے تعلق جوڑنا، بندوں کے حقوق ادا کرنا اور دین کی راہ میں جو مشکلیں پیش آئیں ان کو برداشت کرنا۔ قرآن میں قربانی کے احکام آئے تو مصلحت پرست لوگوں کو اپنی زندگی کا نقشہ بکھرتا ہوا نظر آیا۔ وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ احد میں شکست ہوئی تو اس کو وہ رسول کی بے تدبیری کا نتیجہ بتا کر رسول کی رہنمائی کے بارے میں لوگوں کو بدظن کرنے لگے۔ فائدہ والی باتوں کو اللہ کا فضل بتا کر وہ اپنی اسلامیت کا مظاہرہ کرتے اور عملی اسلام سے گریز کے لیے رسول کو غلط ثابت کرتے — خدا کو مان کر آدمی کے لیے ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر چلتا رہے۔ مگر خدا کے داعی کو ماننے کے بعد اس کا ساتھ دینا بھی ضروری ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔

مَا أَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللَّهِ ۖ وَمَا أَصَابَكَ مِنْ سَيِّئَةٍ فَمِنْ نَفْسِكَ ۚ وَأَرْسَلْنَاكَ لِلنَّاسِ رَسُولًا ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا

📘 ہجرت سے پہلے مکہ میںاسلام کے مخالفین مسلمانوں کو بہت ستاتے تھے۔ مارنا پیٹنا، ان کی معاشیات کو تباہ کرنا، ان کو مسجد حرام میں عبادت سے روکنا، ان کو تبلیغ کی اجازت نہ دینا، ان کو گھر بار چھوڑنے پر مجبور کرنا، يه سب انھوں نے مسلمانوں کے لیے جائز کرلیا تھا ۔ جو شخص اسلام قبول کرتا اس پر وہ ہر قسم کا دباؤ ڈالتے تاکہ وہ اسلام کو چھوڑ کر اپنے آبائی مذہب کی طرف لوٹ جائے۔ مخالفین اسلام کی اس جارحیت نے مسلمانوں کے لیے اصولاً جائز کردیا تھا کہ وہ ان کے خلاف تلوار اٹھائیں۔ چنانچہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بار بار جنگ کی اجازت مانگتے۔ مگر آپ ہمیشہ یہ کہتے کہ مجھ کو جنگ کا حکم نہیں دیاگیا۔ تم صبر کرو اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی کرتے رہو۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ قبل از وقت کوئی اقدام کرنا اسلام کا طریقہ نہیں۔ مکہ میں مسلمانوں کی اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ اپنے دشمنوں کے خلاف فیصلہ کن اقدام کرسکتے۔ اس وقت مکہ والوں کے مقابلہ میں تلوار اٹھانا اپنی مصیبتوں کو اور بڑھانے کے ہم معنی تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ طاقت ور دشمن جو ابھی تک صرف انفرادی ظلم کررہا ہے اس کو اپنی طرف سے مکمل جنگی کارروائی کرنے کا جواز فراہم کردیا جائے۔ عملی اقدام ہمیشہ اس وقت کیا جاتا ہے جب کہ اس کے لیے ضروری تیاری کرلی گئی ہو۔ اس سے پہلے اہلِ ایمان سے صرف انفرادی احکام کا تقاضا کیا جاتا ہے جو ہر حال میں آدمی کے لیے ضروری ہیں۔ یعنی اللہ سے تعلق جوڑنا، بندوں کے حقوق ادا کرنا اور دین کی راہ میں جو مشکلیں پیش آئیں ان کو برداشت کرنا۔ قرآن میں قربانی کے احکام آئے تو مصلحت پرست لوگوں کو اپنی زندگی کا نقشہ بکھرتا ہوا نظر آیا۔ وہ اپنی کمزوری کو چھپانے کے لیے طرح طرح کی باتیں کرنے لگے۔ احد میں شکست ہوئی تو اس کو وہ رسول کی بے تدبیری کا نتیجہ بتا کر رسول کی رہنمائی کے بارے میں لوگوں کو بدظن کرنے لگے۔ فائدہ والی باتوں کو اللہ کا فضل بتا کر وہ اپنی اسلامیت کا مظاہرہ کرتے اور عملی اسلام سے گریز کے لیے رسول کو غلط ثابت کرتے — خدا کو مان کر آدمی کے لیے ممکن رہتا ہے کہ وہ اپنے نفس پر چلتا رہے۔ مگر خدا کے داعی کو ماننے کے بعد اس کا ساتھ دینا بھی ضروری ہوجاتا ہے جو آدمی کے لیے مشکل ترین کام ہے۔

وَإِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ أُولُو الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينُ فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًا

📘 مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لیے کیا۔ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس ليے اس کے مال کی حفاظت اور اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے تاکہ سماج کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہوسکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کرسکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لیے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ دنیا میں کمزور کا حق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نهيں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔

مَنْ يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ وَمَنْ تَوَلَّىٰ فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا

📘 خدا کے داعی کو ماننا ’’اپنے جیسے انسان‘‘ کو ماننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی خدا کو مانتا ہے مگر وہ خدا کے داعی کو ماننے پر ر اضی نہیں ہوتا۔ مگرآدمی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خدا کے داعی کو پہچانے اور اس كے ساتھ اپنے کو کھڑا کرے۔ داعی کے معاملہ کو جب آدمی خدا کا معاملہ نہ سمجھے تو وہ اس کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوتا۔ سامنے وہ رسمی طورپر ہاں کر دیتا ہے مگر جب الگ ہوتا ہے تو اپنی سابقہ روش پر چلنے لگتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن کا پھیلانا سراسر غیر ذمہ دارانہ فعل ہو۔ جو لوگ خدا کے داعی کے ساتھ اس قسم کا بے پروائی کا سلوک کریں وہ خدا کے یہاں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نہیں جانتے تھے۔ آدمی اگر ٹھہر کر سوچے تو داعی کی صداقت کو جاننے کے لیے وہ کلام ہی کافی ہے جو خدا نے اس کی زبان پر جاری کیا ہے۔ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کا کوئی بیان کسی بھی مسلمہ صداقت کے خلاف نہیں۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہو۔ اس میں کوئی ایسا بیان نہیں جو سابق آسمانی کتابوں کے ذریعہ جانی ہوئی کسی حقیقت سے ٹکراتا ہو۔ اس میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جو تجربی علوم سے دریافت شدہ کسی واقعہ کے غیر مطابق ہو۔ حقائقِ واقعی سے یہ مکمل مطابقت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ تاہم کسی بھی سچائی کا سچائی نظر آنا اس پر موقوف ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ قرآن کا اختلاف کثیر سے خالی ہونا اس شخص کو دکھائی دے گا جو قرآن میں ’’تدبر‘‘ کرے۔ جو شخص تدبر کرنا نہ چاہے اس کے لیے بے معنی اعتراضات نکالنے کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا ہے جب تک قیامت آکر موجودہ امتحانی حالات کا خاتمہ نہ کردے۔ اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کے افراد اتنے خود شناس ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلے میں اپنی نااہلی کو جان لیں۔ وہ کسی معاملہ کو اہل تر شخص کے حوالے کرکے اس کی رہنمائی پر راضی ہوجائیں۔ یہ خود شناسی ہی واحد چیز ہے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو شیطان کے پیچھے چل پڑنے سے بچاتی ہے۔ آدمی اگر اپنے آپ کو نہ جانے تو وہ اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی نازک معاملات میں کود پڑتا ہے اور پھر خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں بولنے سے زیادہ چپ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شیطان کی مدد کرنا ہے کہ آدمی جو بات سنے اس کو دوسروں کے سامنے دہرانے لگے۔

وَيَقُولُونَ طَاعَةٌ فَإِذَا بَرَزُوا مِنْ عِنْدِكَ بَيَّتَ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ غَيْرَ الَّذِي تَقُولُ ۖ وَاللَّهُ يَكْتُبُ مَا يُبَيِّتُونَ ۖ فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ وَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ وَكِيلًا

📘 خدا کے داعی کو ماننا ’’اپنے جیسے انسان‘‘ کو ماننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی خدا کو مانتا ہے مگر وہ خدا کے داعی کو ماننے پر ر اضی نہیں ہوتا۔ مگرآدمی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خدا کے داعی کو پہچانے اور اس كے ساتھ اپنے کو کھڑا کرے۔ داعی کے معاملہ کو جب آدمی خدا کا معاملہ نہ سمجھے تو وہ اس کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوتا۔ سامنے وہ رسمی طورپر ہاں کر دیتا ہے مگر جب الگ ہوتا ہے تو اپنی سابقہ روش پر چلنے لگتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن کا پھیلانا سراسر غیر ذمہ دارانہ فعل ہو۔ جو لوگ خدا کے داعی کے ساتھ اس قسم کا بے پروائی کا سلوک کریں وہ خدا کے یہاں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نہیں جانتے تھے۔ آدمی اگر ٹھہر کر سوچے تو داعی کی صداقت کو جاننے کے لیے وہ کلام ہی کافی ہے جو خدا نے اس کی زبان پر جاری کیا ہے۔ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کا کوئی بیان کسی بھی مسلمہ صداقت کے خلاف نہیں۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہو۔ اس میں کوئی ایسا بیان نہیں جو سابق آسمانی کتابوں کے ذریعہ جانی ہوئی کسی حقیقت سے ٹکراتا ہو۔ اس میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جو تجربی علوم سے دریافت شدہ کسی واقعہ کے غیر مطابق ہو۔ حقائقِ واقعی سے یہ مکمل مطابقت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ تاہم کسی بھی سچائی کا سچائی نظر آنا اس پر موقوف ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ قرآن کا اختلاف کثیر سے خالی ہونا اس شخص کو دکھائی دے گا جو قرآن میں ’’تدبر‘‘ کرے۔ جو شخص تدبر کرنا نہ چاہے اس کے لیے بے معنی اعتراضات نکالنے کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا ہے جب تک قیامت آکر موجودہ امتحانی حالات کا خاتمہ نہ کردے۔ اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کے افراد اتنے خود شناس ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلے میں اپنی نااہلی کو جان لیں۔ وہ کسی معاملہ کو اہل تر شخص کے حوالے کرکے اس کی رہنمائی پر راضی ہوجائیں۔ یہ خود شناسی ہی واحد چیز ہے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو شیطان کے پیچھے چل پڑنے سے بچاتی ہے۔ آدمی اگر اپنے آپ کو نہ جانے تو وہ اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی نازک معاملات میں کود پڑتا ہے اور پھر خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں بولنے سے زیادہ چپ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شیطان کی مدد کرنا ہے کہ آدمی جو بات سنے اس کو دوسروں کے سامنے دہرانے لگے۔

أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ ۚ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللَّهِ لَوَجَدُوا فِيهِ اخْتِلَافًا كَثِيرًا

📘 خدا کے داعی کو ماننا ’’اپنے جیسے انسان‘‘ کو ماننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی خدا کو مانتا ہے مگر وہ خدا کے داعی کو ماننے پر ر اضی نہیں ہوتا۔ مگرآدمی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خدا کے داعی کو پہچانے اور اس كے ساتھ اپنے کو کھڑا کرے۔ داعی کے معاملہ کو جب آدمی خدا کا معاملہ نہ سمجھے تو وہ اس کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوتا۔ سامنے وہ رسمی طورپر ہاں کر دیتا ہے مگر جب الگ ہوتا ہے تو اپنی سابقہ روش پر چلنے لگتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن کا پھیلانا سراسر غیر ذمہ دارانہ فعل ہو۔ جو لوگ خدا کے داعی کے ساتھ اس قسم کا بے پروائی کا سلوک کریں وہ خدا کے یہاں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نہیں جانتے تھے۔ آدمی اگر ٹھہر کر سوچے تو داعی کی صداقت کو جاننے کے لیے وہ کلام ہی کافی ہے جو خدا نے اس کی زبان پر جاری کیا ہے۔ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کا کوئی بیان کسی بھی مسلمہ صداقت کے خلاف نہیں۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہو۔ اس میں کوئی ایسا بیان نہیں جو سابق آسمانی کتابوں کے ذریعہ جانی ہوئی کسی حقیقت سے ٹکراتا ہو۔ اس میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جو تجربی علوم سے دریافت شدہ کسی واقعہ کے غیر مطابق ہو۔ حقائقِ واقعی سے یہ مکمل مطابقت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ تاہم کسی بھی سچائی کا سچائی نظر آنا اس پر موقوف ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ قرآن کا اختلاف کثیر سے خالی ہونا اس شخص کو دکھائی دے گا جو قرآن میں ’’تدبر‘‘ کرے۔ جو شخص تدبر کرنا نہ چاہے اس کے لیے بے معنی اعتراضات نکالنے کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا ہے جب تک قیامت آکر موجودہ امتحانی حالات کا خاتمہ نہ کردے۔ اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کے افراد اتنے خود شناس ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلے میں اپنی نااہلی کو جان لیں۔ وہ کسی معاملہ کو اہل تر شخص کے حوالے کرکے اس کی رہنمائی پر راضی ہوجائیں۔ یہ خود شناسی ہی واحد چیز ہے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو شیطان کے پیچھے چل پڑنے سے بچاتی ہے۔ آدمی اگر اپنے آپ کو نہ جانے تو وہ اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی نازک معاملات میں کود پڑتا ہے اور پھر خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں بولنے سے زیادہ چپ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شیطان کی مدد کرنا ہے کہ آدمی جو بات سنے اس کو دوسروں کے سامنے دہرانے لگے۔

وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ أَوِ الْخَوْفِ أَذَاعُوا بِهِ ۖ وَلَوْ رَدُّوهُ إِلَى الرَّسُولِ وَإِلَىٰ أُولِي الْأَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِينَ يَسْتَنْبِطُونَهُ مِنْهُمْ ۗ وَلَوْلَا فَضْلُ اللَّهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّيْطَانَ إِلَّا قَلِيلًا

📘 خدا کے داعی کو ماننا ’’اپنے جیسے انسان‘‘ کو ماننا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آدمی خدا کو مانتا ہے مگر وہ خدا کے داعی کو ماننے پر ر اضی نہیں ہوتا۔ مگرآدمی کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ خدا کے داعی کو پہچانے اور اس كے ساتھ اپنے کو کھڑا کرے۔ داعی کے معاملہ کو جب آدمی خدا کا معاملہ نہ سمجھے تو وہ اس کے بارے میں سنجیدہ بھی نہیں ہوتا۔ سامنے وہ رسمی طورپر ہاں کر دیتا ہے مگر جب الگ ہوتا ہے تو اپنی سابقہ روش پر چلنے لگتا ہے۔ وہ اس کے خلاف ایسی باتیں پھیلاتا ہے جن کا پھیلانا سراسر غیر ذمہ دارانہ فعل ہو۔ جو لوگ خدا کے داعی کے ساتھ اس قسم کا بے پروائی کا سلوک کریں وہ خدا کے یہاں یہ کہہ کر نہیں چھوٹ سکتے کہ ہم نہیں جانتے تھے۔ آدمی اگر ٹھہر کر سوچے تو داعی کی صداقت کو جاننے کے لیے وہ کلام ہی کافی ہے جو خدا نے اس کی زبان پر جاری کیا ہے۔ قرآن کے کلام الٰہی ہونے کا ایک واضح ثبوت یہ ہے کہ اس کا کوئی بیان کسی بھی مسلمہ صداقت کے خلاف نہیں۔ اس میں کوئی ایسی چیز نہیں جو انسانی فطرت کے خلاف ہو۔ اس میں کوئی ایسا بیان نہیں جو سابق آسمانی کتابوں کے ذریعہ جانی ہوئی کسی حقیقت سے ٹکراتا ہو۔ اس میں کوئی ایسا اشارہ نہیں جو تجربی علوم سے دریافت شدہ کسی واقعہ کے غیر مطابق ہو۔ حقائقِ واقعی سے یہ مکمل مطابقت اس بات کا یقینی ثبوت ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے آیا ہوا کلام ہے۔ تاہم کسی بھی سچائی کا سچائی نظر آنا اس پر موقوف ہے کہ آدمی سنجیدگی کے ساتھ اس کو سمجھنے کی کوشش کرے۔ قرآن کا اختلاف کثیر سے خالی ہونا اس شخص کو دکھائی دے گا جو قرآن میں ’’تدبر‘‘ کرے۔ جو شخص تدبر کرنا نہ چاہے اس کے لیے بے معنی اعتراضات نکالنے کا دروازہ اس وقت تک کھلا ہوا ہے جب تک قیامت آکر موجودہ امتحانی حالات کا خاتمہ نہ کردے۔ اسلامی معاشرہ وہ ہے جس کے افراد اتنے خود شناس ہوں کہ وہ دوسرے کے مقابلے میں اپنی نااہلی کو جان لیں۔ وہ کسی معاملہ کو اہل تر شخص کے حوالے کرکے اس کی رہنمائی پر راضی ہوجائیں۔ یہ خود شناسی ہی واحد چیز ہے جو اجتماعی زندگی میں کسی کو شیطان کے پیچھے چل پڑنے سے بچاتی ہے۔ آدمی اگر اپنے آپ کو نہ جانے تو وہ اہلیت نہ رکھتے ہوئے بھی نازک معاملات میں کود پڑتا ہے اور پھر خود بھی ہلاک ہوتا ہے اور دوسروں کو بھی ہلاک کرتا ہے۔ اجتماعی معاملات میں بولنے سے زیادہ چپ رہنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شیطان کی مدد کرنا ہے کہ آدمی جو بات سنے اس کو دوسروں کے سامنے دہرانے لگے۔

فَقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا تُكَلَّفُ إِلَّا نَفْسَكَ ۚ وَحَرِّضِ الْمُؤْمِنِينَ ۖ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَكُفَّ بَأْسَ الَّذِينَ كَفَرُوا ۚ وَاللَّهُ أَشَدُّ بَأْسًا وَأَشَدُّ تَنْكِيلًا

📘 دین داری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طورپر جہاں ہے وہیں رہے، وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ البتہ کچھ اوپری مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دین دار بن گیا ہوں۔ ایسے دین سے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مگر جب دین کے ایسے تقاضے پیش كيے جائیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں، جس میںآدمی کو اپنی بنی بنائی زندگی اجاڑنا پڑے تو اس کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں دو فریق ہوجاتے ہیں۔ ایک طبقہ دعوت کے مخالفین کا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستے مظاہر کے ذریعہ اپنی دین داری کا سکہ قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی والے دین کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے دین کو اختیار کرنا ان کو برتری کے مقام سے اترنے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جس کی فطرت زندہ ہوتی ہے۔ وہ چیزوں کو مفاد اور مصلحت سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے۔ ایک بات کا حق ثابت ہوجانا ہی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے۔ یہ صورت حال کبھی اتنی سنگین ہوجاتی ہے کہ حق کی تائید وحمایت میں زبان کھولنا جہاد کے ہم معنی بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، حق کے بارے میں خاموشی یا مخالفت کا رویہ اختیار کرنا آدمی کو انعام کا مستحق بنا دیتا ہے۔تاہم جہاں تک سچے اہل ایمان کا تعلق ہے ان کو ہر حال میں یہ حکم ہے کہ عام معاشرتی تعلقات کو اس اختلاف سے متاثر نہ ہونے دیں۔ اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں۔ مسلمان کا رویہ دوسروں کے رد عمل میں نہیں بننا چاہیے بلکہ اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرکے بننا چاہیے۔ یہ معاملہ اللہ سے متعلق ہے کہ وہ کس کو کیا بدلہ دے اور کسی کے لیے کیا فیصلہ کرے۔ نازک حالات میں دعوت حق کو زندہ رکھنے کی ضمانت صرف یہ ہوتی ہے کہ کم از کم داعی اپنی ذات کی سطح پر یہ عزم رکھے کہ وہ ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہے گا خواہ کوئی تائید کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ایسے حالات میں داعی کا عزم اس کو اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بدر صغریٰ کا غزوہ ہے جو احد کے صرف ایک ماہ بعد پیش آیا۔ اس وقت مدینہ میں ایسی کیفیت چھائی ہوئی تھی کہ صرف ستر آدمی رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ مگر اس مختصر قافلہ کو اللہ کی یہ خصوصی مدد ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکرین کا زورتوڑے۔ مگر خدا کی یہ سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سروسامانی کے باوجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لیے نکل پڑے ہوں۔

مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَهُ نَصِيبٌ مِنْهَا ۖ وَمَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً سَيِّئَةً يَكُنْ لَهُ كِفْلٌ مِنْهَا ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ مُقِيتًا

📘 دین داری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طورپر جہاں ہے وہیں رہے، وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ البتہ کچھ اوپری مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دین دار بن گیا ہوں۔ ایسے دین سے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مگر جب دین کے ایسے تقاضے پیش كيے جائیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں، جس میںآدمی کو اپنی بنی بنائی زندگی اجاڑنا پڑے تو اس کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں دو فریق ہوجاتے ہیں۔ ایک طبقہ دعوت کے مخالفین کا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستے مظاہر کے ذریعہ اپنی دین داری کا سکہ قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی والے دین کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے دین کو اختیار کرنا ان کو برتری کے مقام سے اترنے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جس کی فطرت زندہ ہوتی ہے۔ وہ چیزوں کو مفاد اور مصلحت سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے۔ ایک بات کا حق ثابت ہوجانا ہی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے۔ یہ صورت حال کبھی اتنی سنگین ہوجاتی ہے کہ حق کی تائید وحمایت میں زبان کھولنا جہاد کے ہم معنی بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، حق کے بارے میں خاموشی یا مخالفت کا رویہ اختیار کرنا آدمی کو انعام کا مستحق بنا دیتا ہے۔تاہم جہاں تک سچے اہل ایمان کا تعلق ہے ان کو ہر حال میں یہ حکم ہے کہ عام معاشرتی تعلقات کو اس اختلاف سے متاثر نہ ہونے دیں۔ اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں۔ مسلمان کا رویہ دوسروں کے رد عمل میں نہیں بننا چاہیے بلکہ اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرکے بننا چاہیے۔ یہ معاملہ اللہ سے متعلق ہے کہ وہ کس کو کیا بدلہ دے اور کسی کے لیے کیا فیصلہ کرے۔ نازک حالات میں دعوت حق کو زندہ رکھنے کی ضمانت صرف یہ ہوتی ہے کہ کم از کم داعی اپنی ذات کی سطح پر یہ عزم رکھے کہ وہ ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہے گا خواہ کوئی تائید کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ایسے حالات میں داعی کا عزم اس کو اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بدر صغریٰ کا غزوہ ہے جو احد کے صرف ایک ماہ بعد پیش آیا۔ اس وقت مدینہ میں ایسی کیفیت چھائی ہوئی تھی کہ صرف ستر آدمی رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ مگر اس مختصر قافلہ کو اللہ کی یہ خصوصی مدد ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکرین کا زورتوڑے۔ مگر خدا کی یہ سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سروسامانی کے باوجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لیے نکل پڑے ہوں۔

وَإِذَا حُيِّيتُمْ بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ حَسِيبًا

📘 دین داری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طورپر جہاں ہے وہیں رہے، وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ البتہ کچھ اوپری مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دین دار بن گیا ہوں۔ ایسے دین سے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مگر جب دین کے ایسے تقاضے پیش كيے جائیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں، جس میںآدمی کو اپنی بنی بنائی زندگی اجاڑنا پڑے تو اس کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں دو فریق ہوجاتے ہیں۔ ایک طبقہ دعوت کے مخالفین کا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستے مظاہر کے ذریعہ اپنی دین داری کا سکہ قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی والے دین کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے دین کو اختیار کرنا ان کو برتری کے مقام سے اترنے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جس کی فطرت زندہ ہوتی ہے۔ وہ چیزوں کو مفاد اور مصلحت سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے۔ ایک بات کا حق ثابت ہوجانا ہی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے۔ یہ صورت حال کبھی اتنی سنگین ہوجاتی ہے کہ حق کی تائید وحمایت میں زبان کھولنا جہاد کے ہم معنی بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، حق کے بارے میں خاموشی یا مخالفت کا رویہ اختیار کرنا آدمی کو انعام کا مستحق بنا دیتا ہے۔تاہم جہاں تک سچے اہل ایمان کا تعلق ہے ان کو ہر حال میں یہ حکم ہے کہ عام معاشرتی تعلقات کو اس اختلاف سے متاثر نہ ہونے دیں۔ اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں۔ مسلمان کا رویہ دوسروں کے رد عمل میں نہیں بننا چاہیے بلکہ اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرکے بننا چاہیے۔ یہ معاملہ اللہ سے متعلق ہے کہ وہ کس کو کیا بدلہ دے اور کسی کے لیے کیا فیصلہ کرے۔ نازک حالات میں دعوت حق کو زندہ رکھنے کی ضمانت صرف یہ ہوتی ہے کہ کم از کم داعی اپنی ذات کی سطح پر یہ عزم رکھے کہ وہ ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہے گا خواہ کوئی تائید کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ایسے حالات میں داعی کا عزم اس کو اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بدر صغریٰ کا غزوہ ہے جو احد کے صرف ایک ماہ بعد پیش آیا۔ اس وقت مدینہ میں ایسی کیفیت چھائی ہوئی تھی کہ صرف ستر آدمی رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ مگر اس مختصر قافلہ کو اللہ کی یہ خصوصی مدد ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکرین کا زورتوڑے۔ مگر خدا کی یہ سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سروسامانی کے باوجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لیے نکل پڑے ہوں۔

اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ ۚ لَيَجْمَعَنَّكُمْ إِلَىٰ يَوْمِ الْقِيَامَةِ لَا رَيْبَ فِيهِ ۗ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ حَدِيثًا

📘 دین داری کی ایک صورت یہ ہے کہ آدمی عملی طورپر جہاں ہے وہیں رہے، وہ اپنی حقیقی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ کرے۔ البتہ کچھ اوپری مظاہر کا اہتمام کرکے سمجھے کہ میں دین دار بن گیا ہوں۔ ایسے دین سے کسی کو ضد نہیں ہوتی۔ لوگ اس کی مخالفت کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ مگر جب دین کے ایسے تقاضے پیش كيے جائیں جو قربانی کا مطالبہ کرتے ہوں، جس میںآدمی کو اپنی بنی بنائی زندگی اجاڑنا پڑے تو اس کے سامنے آنے کے بعد لوگوں میں دو فریق ہوجاتے ہیں۔ ایک طبقہ دعوت کے مخالفین کا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سستے مظاہر کے ذریعہ اپنی دین داری کا سکہ قائم كيے ہوئے ہوتے ہیں۔ وہ قربانی والے دین کے مخالف بن جاتے ہیں۔ کیوں کہ ایسے دین کو اختیار کرنا ان کو برتری کے مقام سے اترنے کے ہم معنی نظر آتا ہے۔ دوسرا طبقہ وہ ہوتا ہے جس کی فطرت زندہ ہوتی ہے۔ وہ چیزوں کو مفاد اور مصلحت سے اوپر اٹھ کر دیکھتا ہے۔ ایک بات کا حق ثابت ہوجانا ہی اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے کہ وہ اس کو قبول کرلے۔ یہ صورت حال کبھی اتنی سنگین ہوجاتی ہے کہ حق کی تائید وحمایت میں زبان کھولنا جہاد کے ہم معنی بن جاتاہے۔ اس کے برعکس، حق کے بارے میں خاموشی یا مخالفت کا رویہ اختیار کرنا آدمی کو انعام کا مستحق بنا دیتا ہے۔تاہم جہاں تک سچے اہل ایمان کا تعلق ہے ان کو ہر حال میں یہ حکم ہے کہ عام معاشرتی تعلقات کو اس اختلاف سے متاثر نہ ہونے دیں۔ اور ان کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ اختیار نہ کریں۔ مسلمان کا رویہ دوسروں کے رد عمل میں نہیں بننا چاہیے بلکہ اس قسم کی چیزوں کو نظر انداز کرکے بننا چاہیے۔ یہ معاملہ اللہ سے متعلق ہے کہ وہ کس کو کیا بدلہ دے اور کسی کے لیے کیا فیصلہ کرے۔ نازک حالات میں دعوت حق کو زندہ رکھنے کی ضمانت صرف یہ ہوتی ہے کہ کم از کم داعی اپنی ذات کی سطح پر یہ عزم رکھے کہ وہ ہر حال میں اپنے موقف پر قائم رہے گا خواہ کوئی تائید کرنے والا ہو یا نہ ہو۔ایسے حالات میں داعی کا عزم اس کو اللہ کی خصوصی نصرت کا مستحق بنا دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال بدر صغریٰ کا غزوہ ہے جو احد کے صرف ایک ماہ بعد پیش آیا۔ اس وقت مدینہ میں ایسی کیفیت چھائی ہوئی تھی کہ صرف ستر آدمی رسول اللہ کے ساتھ نکلے۔ مگر اس مختصر قافلہ کو اللہ کی یہ خصوصی مدد ملی کہ مکہ والوں پر ایسا رعب طاری ہوا کہ وہ مقابلہ میں نہ آسکے۔ خدا کی سنت ہے کہ وہ منکرین کا زورتوڑے۔ مگر خدا کی یہ سنت اس وقت ظاہر ہوتی ہے جب کہ دین کے علم بردار اپنی بے سروسامانی کے باوجود خدا کے دشمنوں کا زور توڑنے کے لیے نکل پڑے ہوں۔

۞ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا ۚ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَنْ يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا

📘 آدمی جب اللہ کے دین کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں بار بار ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں یہ جانچ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے کا ایک امتحان ’’ہجرت‘‘ ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جب دنیا کے فائدے اور مصلحتیں حائل نظر آئیں تو فائدوں اور مصلحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف بڑھ جانا۔ حتی کہ اگر رشتہ دار اور گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو بھی چھوڑ دینا۔ ایسا نازک موقع پیش آنے کی صورت میں اگر ایسا ہو کہ آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو نظر انداز کرکے حق کی طرف بڑھے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ ایسے موقع پر آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں سے لپٹا رہے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو کمزور کیا۔ جو شخص پہلی راہ پر چلے اس کے اندر حق کی مزید قبولیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، وہ برابر حق کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص دوسری راہ اختیار کرے اس کے اندر حق کی قبولیت کا مادہ گھٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنا بے حس ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ جب دین کے سخت تقاضے سامنے آتے ہیں تو لوگوں میں مختلف گروہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مخلصین کا ہوتا ہے اور کوئی مخالفین کا۔ اور کچھ ایسے لوگوں کا جو ظاہر میں حق سے قریب مگر اندر سے اس سے دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اہلِ ایمان ہر ایک سے ا س کے حسب حال معاملہ کریں۔ وہ فتنہ کے استیصال میں سخت اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے میں نرم ہوں۔ وہ کمزوروں کے ساتھ رعایت کا سلوک کریں۔ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود ان کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ کسی کو اگر اللہ خاموش کرکے بٹھا دے تو اس سے بلا ضرورت لڑائی نہ چھیڑیں۔

وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا فَتَكُونُونَ سَوَاءً ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا

📘 آدمی جب اللہ کے دین کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں بار بار ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں یہ جانچ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے کا ایک امتحان ’’ہجرت‘‘ ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جب دنیا کے فائدے اور مصلحتیں حائل نظر آئیں تو فائدوں اور مصلحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف بڑھ جانا۔ حتی کہ اگر رشتہ دار اور گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو بھی چھوڑ دینا۔ ایسا نازک موقع پیش آنے کی صورت میں اگر ایسا ہو کہ آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو نظر انداز کرکے حق کی طرف بڑھے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ ایسے موقع پر آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں سے لپٹا رہے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو کمزور کیا۔ جو شخص پہلی راہ پر چلے اس کے اندر حق کی مزید قبولیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، وہ برابر حق کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص دوسری راہ اختیار کرے اس کے اندر حق کی قبولیت کا مادہ گھٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنا بے حس ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ جب دین کے سخت تقاضے سامنے آتے ہیں تو لوگوں میں مختلف گروہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مخلصین کا ہوتا ہے اور کوئی مخالفین کا۔ اور کچھ ایسے لوگوں کا جو ظاہر میں حق سے قریب مگر اندر سے اس سے دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اہلِ ایمان ہر ایک سے ا س کے حسب حال معاملہ کریں۔ وہ فتنہ کے استیصال میں سخت اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے میں نرم ہوں۔ وہ کمزوروں کے ساتھ رعایت کا سلوک کریں۔ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود ان کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ کسی کو اگر اللہ خاموش کرکے بٹھا دے تو اس سے بلا ضرورت لڑائی نہ چھیڑیں۔

وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ فَلْيَتَّقُوا اللَّهَ وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا

📘 مال نہ عیش کے لیے ہے اور نہ اظہار فخر کے لیے۔ وہ آدمی کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ وہ دنیا میں اس کے قیام وبقا کا سامان ہے۔ مال کا ذریعۂ زندگی ہونا ایک طرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کو بذات خود مقصود بنا لینا درست نہیں۔ دوسرے یہ کہ یہ انتہائی ضروری ہے کہ مال کو ضائع ہونے سے بچایا جائے اور اس کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا پورا اہتمام کیا جائے۔ کسی کے مال کو ٹھیک ٹھیک ادا نہ کرنا گویا خدا کے اس انتظام میں فساد ڈالنا ہے جو خدا نے اپنے بندوں کی رزق رسانی کے لیے کیا۔ یتیم کسی سماج کا سب سے کمزور حصہ ہوتا ہے اس ليے اس کے مال کی حفاظت اور اس کے معاملہ میں ہر قسم کے ظلم سے اپنے کو بچانا اور بھی زیادہ ضروری ہے۔ حتی کہ یہ بھی ضروری ہے کہ آدمی انصاف کے مطابق ان کے ساتھ جو معاملہ کرے اس کو لکھ کر اس پر گواہی لے لے تاکہ سماج کے اندر شکایت اور اختلاف کی فضا پیدا نہ ہو اور وہ لوگوں کے سامنے بری الذمہ ہوسکے۔ جب بھی آدمی کے ہاتھ میں کسی کا معاملہ ہو تو اس کو یہ سمجھ کر معاملہ کرنا چاہیے کہ اس کی ہر کوتاہی اللہ کے علم میں ہے۔ صاحب معاملہ اپنی کمزوری کی وجہ سے خواہ اس کے خلاف کچھ نہ کرسکے مگر خدا اس کو ضرور قیامت کے دن پکڑے گا اور اگر اس نے حق کے خلاف معاملہ کیا ہے تو وہ اس کو سخت سزا دے گا اور اس کے لیے کسی طرح بھی خدا کی سزا سے بچنا ممکن نہ ہوگا۔ دنیا میں کمزور کا حق دبا کر آدمی خوش ہوتا ہے۔ مگر ہر ناجائز مال جو آدمی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے، وہ گویا اپنے پیٹ میں آگ ڈال رہا ہے۔دنیا میں ایسے مال کا آگ ہونا بظاہر محسوس نہیں ہوتا مگر آخرت میں یہ حقیقت کھل جائے گی۔ یہاں آدمی کو عمل کی آزادی ضرور دی گئی ہے مگر نتیجہ آدمی کے اپنے اختیار میں نهيں۔ جو شخص اپنے کو برے انجام سے بچانا چاہتا ہے اس کو دوسروں کے ساتھ بھی برا نہیں کرنا چاہیے۔ آدمی کو چاہيے کہ وہ دوسروں کے لیے نفع بخش بنے، وہ اپنی استعداد کے مطابق دوسروں کو دے۔ اگر کوئی شخص دینے کی حیثیت میںنہیں ہے توآخری اسلامی درجہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کا دل نہ دکھائے، وہ اپنی زبان کھولے تو سیدھی اور سچی بات کہنے کے لیے کھولے، ورنہ خاموش رہے۔

إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ أَوْ جَاءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَنْ يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا

📘 آدمی جب اللہ کے دین کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں بار بار ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں یہ جانچ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے کا ایک امتحان ’’ہجرت‘‘ ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جب دنیا کے فائدے اور مصلحتیں حائل نظر آئیں تو فائدوں اور مصلحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف بڑھ جانا۔ حتی کہ اگر رشتہ دار اور گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو بھی چھوڑ دینا۔ ایسا نازک موقع پیش آنے کی صورت میں اگر ایسا ہو کہ آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو نظر انداز کرکے حق کی طرف بڑھے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ ایسے موقع پر آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں سے لپٹا رہے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو کمزور کیا۔ جو شخص پہلی راہ پر چلے اس کے اندر حق کی مزید قبولیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، وہ برابر حق کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص دوسری راہ اختیار کرے اس کے اندر حق کی قبولیت کا مادہ گھٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنا بے حس ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ جب دین کے سخت تقاضے سامنے آتے ہیں تو لوگوں میں مختلف گروہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مخلصین کا ہوتا ہے اور کوئی مخالفین کا۔ اور کچھ ایسے لوگوں کا جو ظاہر میں حق سے قریب مگر اندر سے اس سے دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اہلِ ایمان ہر ایک سے ا س کے حسب حال معاملہ کریں۔ وہ فتنہ کے استیصال میں سخت اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے میں نرم ہوں۔ وہ کمزوروں کے ساتھ رعایت کا سلوک کریں۔ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود ان کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ کسی کو اگر اللہ خاموش کرکے بٹھا دے تو اس سے بلا ضرورت لڑائی نہ چھیڑیں۔

سَتَجِدُونَ آخَرِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوا إِلَى الْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا فِيهَا ۚ فَإِنْ لَمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوا أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُولَٰئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا مُبِينًا

📘 آدمی جب اللہ کے دین کو اختیار کرتا ہے تو اس کے بعد اس کی زندگی میں بار بار ایسے مرحلے آتے ہیں جہاں یہ جانچ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلہ میں سنجیدہ ہے یا نہیں۔ اسی سلسلے کا ایک امتحان ’’ہجرت‘‘ ہے۔ یعنی دین کی راہ میں جب دنیا کے فائدے اور مصلحتیں حائل نظر آئیں تو فائدوں اور مصلحتوں کو چھوڑ کر اللہ کی طرف بڑھ جانا۔ حتی کہ اگر رشتہ دار اور گھر بار کو چھوڑنے کی ضرورت پیش آئے تو اس کو بھی چھوڑ دینا۔ ایسا نازک موقع پیش آنے کی صورت میں اگر ایسا ہو کہ آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں کو نظر انداز کرکے حق کی طرف بڑھے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو پختہ کیا۔ اس کے برعکس، اگر ایسا ہو کہ ایسے موقع پر آدمی اپنے فائدوں اور مصلحتوں سے لپٹا رہے تو اس نے حق کے ساتھ اپنے قلبی تعلق کو کمزور کیا۔ جو شخص پہلی راہ پر چلے اس کے اندر حق کی مزید قبولیت کا مادہ پیدا ہوتا ہے، وہ برابر حق کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ اور جو شخص دوسری راہ اختیار کرے اس کے اندر حق کی قبولیت کا مادہ گھٹتا رہتا ہے یہاں تک کہ وہ اتنا بے حس ہوجاتا ہے کہ اس کے اندر حق کو قبول کرنے کی صلاحیت باقی نہیں رہتی۔ جب دین کے سخت تقاضے سامنے آتے ہیں تو لوگوں میں مختلف گروہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مخلصین کا ہوتا ہے اور کوئی مخالفین کا۔ اور کچھ ایسے لوگوں کا جو ظاہر میں حق سے قریب مگر اندر سے اس سے دور ہوتے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ اہلِ ایمان ہر ایک سے ا س کے حسب حال معاملہ کریں۔ وہ فتنہ کے استیصال میں سخت اور اخلاقی ذمہ داریوں کو نبھانے میں نرم ہوں۔ وہ کمزوروں کے ساتھ رعایت کا سلوک کریں۔ دوسروں سے متاثر ہونے کے بجائے خود ان کو متاثر کرنے کی کوشش کریں۔ کسی کو اگر اللہ خاموش کرکے بٹھا دے تو اس سے بلا ضرورت لڑائی نہ چھیڑیں۔

وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً ۚ وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا ۚ فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ ۖ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ ۖ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللَّهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا

📘 ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو حقوق ہیں ان میں سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اس کی جان کا احترام کرے۔ اگر ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو قتل کردے تو اس نے سب سے بڑا معاشرتی جرم کیا۔ ایک شخص جب دوسرے شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اس کے اوپر آخری ممکن وار کرتا ہے۔ نیز یہ وہ جرم ہے جس کے بعد مجرم کے لیے اپنے جرم کی تلافی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ قتل عمد کی سزا خلود فی النار ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مارڈالے اس سے اللہ اتنا غضب ناک ہوتا ہے کہ اس کو ملعون قرار دے کر اس کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔ البتہ قتل خطا کا جرم ہلکا ہے۔ کوئی شخص کسی مسلمان کو غلطی سے مارڈالے، اس کے بعد اس کو غلطی کا احساس ہو وہ اللہ کے سامنے روئے گڑگڑائے اور مقررہ قاعدہ کے مطابق اس کی تلافی کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے گا۔ غلطی کے بعد مال خرچ کرنا یا مسلسل روزے رکھنا گویا خود اپنے ہاتھوں اپنے کو سزا دینا ہے۔جب آدمی کے اوپر شدت سے یہ احساس طاری ہوتا ہے کہ اس سے غلطی ہوگئی تو وہ چاہتا ہے کہ اپنے اوپر اصلاحی عمل کرے۔ اللہ نے بتایا کہ ایسی حالت میں آدمی کو اپنی اصلاح کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ یہاں اصلاً قتل کا حکم بتایا گیاہے۔ تاہم اسی نوعیت کے دوسرے معاشرتی جرائم بھی ہیں اور مذکورہ حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دوسری چیزوں کے بارے میں شریعت کا تقاضا کیا ہے۔ ایک مسلمان کا فرض جس طرح یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کو زندگی سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے، اسی طرح ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق بھی ہے کہ وہ اس کو بے عزت نہ کرے۔ اس کا مال نہ چھینے۔ اس کو بے گھر نہ کرے۔ اس کے روزگار میں خلل نہ ڈالے۔ اس کے سکون کو غارت کرنے کا منصوبہ نہ بنائے۔ وہ چیزیں جو اس کے لیے زندگی کے اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں سے کسی چیزکو اس سے چھیننے کی کوشش نہ کرے۔ ایک آدمی اگر غلطی سے ایسا کوئی فعل کربیٹھے جس سے اس کے مسلمان بھائی کو اس قسم کا کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہیے اور غلطی کے احساس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے بھائی کے نقصان کی تلافی کرے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ آدمی قصداً ایسی کارروائی کرے جس کا سوچا سمجھا مقصد اپنے بھائی کو نقصان پہنچانا اور اس کو پریشان کرنا ہو تو درجہ کے فرق کے ساتھ یہ بھي اسی نوعیت کا جرم ہے جیسا قتل عمد۔

وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا

📘 ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کے جو حقوق ہیں ان میں سب سے بڑا حق یہ ہے کہ وہ اس کی جان کا احترام کرے۔ اگر ایک مسلمان کسی دوسرے مسلمان کو قتل کردے تو اس نے سب سے بڑا معاشرتی جرم کیا۔ ایک شخص جب دوسرے شخص کو قتل کرتا ہے تو وہ اس کے اوپر آخری ممکن وار کرتا ہے۔ نیز یہ وہ جرم ہے جس کے بعد مجرم کے لیے اپنے جرم کی تلافی کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ قتل عمد کی سزا خلود فی النار ہے۔ جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر مارڈالے اس سے اللہ اتنا غضب ناک ہوتا ہے کہ اس کو ملعون قرار دے کر اس کو ہمیشہ کے لیے جہنم میں ڈال دیتا ہے۔ البتہ قتل خطا کا جرم ہلکا ہے۔ کوئی شخص کسی مسلمان کو غلطی سے مارڈالے، اس کے بعد اس کو غلطی کا احساس ہو وہ اللہ کے سامنے روئے گڑگڑائے اور مقررہ قاعدہ کے مطابق اس کی تلافی کرے تو امید ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف کردے گا۔ غلطی کے بعد مال خرچ کرنا یا مسلسل روزے رکھنا گویا خود اپنے ہاتھوں اپنے کو سزا دینا ہے۔جب آدمی کے اوپر شدت سے یہ احساس طاری ہوتا ہے کہ اس سے غلطی ہوگئی تو وہ چاہتا ہے کہ اپنے اوپر اصلاحی عمل کرے۔ اللہ نے بتایا کہ ایسی حالت میں آدمی کو اپنی اصلاح کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ یہاں اصلاً قتل کا حکم بتایا گیاہے۔ تاہم اسی نوعیت کے دوسرے معاشرتی جرائم بھی ہیں اور مذکورہ حکم سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان دوسری چیزوں کے بارے میں شریعت کا تقاضا کیا ہے۔ ایک مسلمان کا فرض جس طرح یہ ہے کہ وہ اپنے بھائی کو زندگی سے محروم کرنے کی کوشش نہ کرے، اسی طرح ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر یہ حق بھی ہے کہ وہ اس کو بے عزت نہ کرے۔ اس کا مال نہ چھینے۔ اس کو بے گھر نہ کرے۔ اس کے روزگار میں خلل نہ ڈالے۔ اس کے سکون کو غارت کرنے کا منصوبہ نہ بنائے۔ وہ چیزیں جو اس کے لیے زندگی کے اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہیں، ان میں سے کسی چیزکو اس سے چھیننے کی کوشش نہ کرے۔ ایک آدمی اگر غلطی سے ایسا کوئی فعل کربیٹھے جس سے اس کے مسلمان بھائی کو اس قسم کا کوئی نقصان پہنچ جائے تو اس کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہونا چاہیے اور غلطی کے احساس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ اللہ سے معافی مانگے اور اپنے بھائی کے نقصان کی تلافی کرے۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کہ آدمی قصداً ایسی کارروائی کرے جس کا سوچا سمجھا مقصد اپنے بھائی کو نقصان پہنچانا اور اس کو پریشان کرنا ہو تو درجہ کے فرق کے ساتھ یہ بھي اسی نوعیت کا جرم ہے جیسا قتل عمد۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ ۚ كَذَٰلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا ۚ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا

📘 عرب کے مخالف قبائل میں کچھ ایسے افراد تھے جو اندر مسلمان تھے مگر ہجرت کرکے ابھی اپنے قبیلہ سے کٹے نہیں تھے۔ ایک غزوہ میں ایسا ایک شخص مسلمان کی تلوار کی زد میں آگیا۔اس نے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ظاہر کیا کہ میں تمھارا دینی بھائی ہوں۔ بعض پر جوش مسلمانوں نے پھر بھی اس کو قتل کردیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے کو بچانے کی خاطر السلام علیکم کہہ رہا ہے۔ مگر السلام علیکم کہنے کی حد تک بھی کوئی شخص مسلمان ہو تو اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ حتی کہ جنگ کے موقع پر بھی نہیں جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ کسی مسلمان کا ماراجانا اللہ کے نزدیک اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ساری دنیا کا فنا ہوجانا بھی اس کے مقابلہ میں کم ہے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ) سنن الترمذي، حديث نمبر 1395۔ جب بھی کوئی شخص اس قسم کا اسلامی جوش دکھاتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی اسلامیت کو ناقابلِ تسلیم قرار دے کر اس کو سزا دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہمیشہ دنیوی محرکات ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی مادی لالچ، کبھی انتقام کی آگ، کبھی اپنے کسی حریف کو میدان سے ہٹانے کا شوق، بس اس قسم کے جذبات ہیں جو اس کے باعث بنتے ہیں۔ اگر آدمی کے سینہ میں اللہ سے ڈرنے والا دل ہو تو وہ اسلام کا اظہار کرنے والے کے الفاظ کو قبول کرلے گا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کرکے خاموش ہوجائے گا۔ عمل کے لحاظ سے مسلمانوں کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو فرائض کے دائرہ میں اسلامی زندگی اختیار کریں۔ وہ اللہ کی عبادت کریں او رحرام و حلال کے حدود کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ دوسرے لوگ وہ ہيں جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کریں۔ وہ خود اسلام کو اپناتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام پر لانے کی کوشش کریں اور اس راہ کی مصیبتوں کو برداشت کریں۔ وہ اسلام کے محاذ پر اپنی جان ومال کو لے کر حاضر ہوجائیں۔ وہ فرائض کے حدود میں نہ ٹھہریں بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کے لیے پیش کردیں۔ یہ دونوں ہی گروہ مخلص ہیں اور دونوں اللہ کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیںگے۔ مگر دوسرے گروہ کا معاملہ بنيادی طورپر الگ ہے۔ انھوں نے ناپ کر خدا کی راہ میں نہیں دیا اس لیے خدا بھی ان کو ناپ کر نہیں دے گا۔ انھوں نے مصلحتوں کی پروا کیے بغیر خدا کے مشن میں اپنے آپ کو شریک کیا اس لیے خدابھي پروا کیے بغیر ان کو اپنی رحمتوں میں لے لے گا۔

لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ ۚ فَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً ۚ وَكُلًّا وَعَدَ اللَّهُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَفَضَّلَ اللَّهُ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْرًا عَظِيمًا

📘 عرب کے مخالف قبائل میں کچھ ایسے افراد تھے جو اندر مسلمان تھے مگر ہجرت کرکے ابھی اپنے قبیلہ سے کٹے نہیں تھے۔ ایک غزوہ میں ایسا ایک شخص مسلمان کی تلوار کی زد میں آگیا۔اس نے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ظاہر کیا کہ میں تمھارا دینی بھائی ہوں۔ بعض پر جوش مسلمانوں نے پھر بھی اس کو قتل کردیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے کو بچانے کی خاطر السلام علیکم کہہ رہا ہے۔ مگر السلام علیکم کہنے کی حد تک بھی کوئی شخص مسلمان ہو تو اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ حتی کہ جنگ کے موقع پر بھی نہیں جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ کسی مسلمان کا ماراجانا اللہ کے نزدیک اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ساری دنیا کا فنا ہوجانا بھی اس کے مقابلہ میں کم ہے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ) سنن الترمذي، حديث نمبر 1395۔ جب بھی کوئی شخص اس قسم کا اسلامی جوش دکھاتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی اسلامیت کو ناقابلِ تسلیم قرار دے کر اس کو سزا دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہمیشہ دنیوی محرکات ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی مادی لالچ، کبھی انتقام کی آگ، کبھی اپنے کسی حریف کو میدان سے ہٹانے کا شوق، بس اس قسم کے جذبات ہیں جو اس کے باعث بنتے ہیں۔ اگر آدمی کے سینہ میں اللہ سے ڈرنے والا دل ہو تو وہ اسلام کا اظہار کرنے والے کے الفاظ کو قبول کرلے گا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کرکے خاموش ہوجائے گا۔ عمل کے لحاظ سے مسلمانوں کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو فرائض کے دائرہ میں اسلامی زندگی اختیار کریں۔ وہ اللہ کی عبادت کریں او رحرام و حلال کے حدود کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ دوسرے لوگ وہ ہيں جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کریں۔ وہ خود اسلام کو اپناتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام پر لانے کی کوشش کریں اور اس راہ کی مصیبتوں کو برداشت کریں۔ وہ اسلام کے محاذ پر اپنی جان ومال کو لے کر حاضر ہوجائیں۔ وہ فرائض کے حدود میں نہ ٹھہریں بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کے لیے پیش کردیں۔ یہ دونوں ہی گروہ مخلص ہیں اور دونوں اللہ کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیںگے۔ مگر دوسرے گروہ کا معاملہ بنيادی طورپر الگ ہے۔ انھوں نے ناپ کر خدا کی راہ میں نہیں دیا اس لیے خدا بھی ان کو ناپ کر نہیں دے گا۔ انھوں نے مصلحتوں کی پروا کیے بغیر خدا کے مشن میں اپنے آپ کو شریک کیا اس لیے خدابھي پروا کیے بغیر ان کو اپنی رحمتوں میں لے لے گا۔

دَرَجَاتٍ مِنْهُ وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةً ۚ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا

📘 عرب کے مخالف قبائل میں کچھ ایسے افراد تھے جو اندر مسلمان تھے مگر ہجرت کرکے ابھی اپنے قبیلہ سے کٹے نہیں تھے۔ ایک غزوہ میں ایسا ایک شخص مسلمان کی تلوار کی زد میں آگیا۔اس نے ’’السلام علیکم‘‘ کہہ کر ظاہر کیا کہ میں تمھارا دینی بھائی ہوں۔ بعض پر جوش مسلمانوں نے پھر بھی اس کو قتل کردیا۔ انھوں نے سمجھا کہ یہ مسلمان نہیں ہے اور محض اپنے کو بچانے کی خاطر السلام علیکم کہہ رہا ہے۔ مگر السلام علیکم کہنے کی حد تک بھی کوئی شخص مسلمان ہو تو اس پر ہاتھ اٹھانا جائز نہیں۔ حتی کہ جنگ کے موقع پر بھی نہیں جب کہ یہ اندیشہ ہو کہ دشمن اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ کسی مسلمان کا ماراجانا اللہ کے نزدیک اتنا بڑا حادثہ ہے کہ ساری دنیا کا فنا ہوجانا بھی اس کے مقابلہ میں کم ہے (لَزَوَالُ الدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللهِ مِنْ قَتْلِ رَجُلٍ مُسْلِمٍ) سنن الترمذي، حديث نمبر 1395۔ جب بھی کوئی شخص اس قسم کا اسلامی جوش دکھاتا ہے کہ وہ دوسرے آدمی کی اسلامیت کو ناقابلِ تسلیم قرار دے کر اس کو سزا دینے پر اصرار کرتا ہے تو اس کے پیچھے ہمیشہ دنیوی محرکات ہوتے ہیں۔ کبھی کوئی مادی لالچ، کبھی انتقام کی آگ، کبھی اپنے کسی حریف کو میدان سے ہٹانے کا شوق، بس اس قسم کے جذبات ہیں جو اس کے باعث بنتے ہیں۔ اگر آدمی کے سینہ میں اللہ سے ڈرنے والا دل ہو تو وہ اسلام کا اظہار کرنے والے کے الفاظ کو قبول کرلے گا اور اس کے معاملہ کو اللہ کے حوالے کرکے خاموش ہوجائے گا۔ عمل کے لحاظ سے مسلمانوں کے دو درجے ہیں۔ ایک وہ لوگ جو فرائض کے دائرہ میں اسلامی زندگی اختیار کریں۔ وہ اللہ کی عبادت کریں او رحرام و حلال کے حدود کا لحاظ کرتے ہوئے زندگی گزاریں۔ دوسرے لوگ وہ ہيں جو قربانی کی سطح پر اسلام کو اختیار کریں۔ وہ خود اسلام کو اپناتے ہوئے دوسروں کو بھی اسلام پر لانے کی کوشش کریں اور اس راہ کی مصیبتوں کو برداشت کریں۔ وہ اسلام کے محاذ پر اپنی جان ومال کو لے کر حاضر ہوجائیں۔ وہ فرائض کے حدود میں نہ ٹھہریں بلکہ فرائض سے آگے بڑھ کر اپنے آپ کو اسلام کے لیے پیش کردیں۔ یہ دونوں ہی گروہ مخلص ہیں اور دونوں اللہ کی رحمتوں میں اپنا حصہ پائیںگے۔ مگر دوسرے گروہ کا معاملہ بنيادی طورپر الگ ہے۔ انھوں نے ناپ کر خدا کی راہ میں نہیں دیا اس لیے خدا بھی ان کو ناپ کر نہیں دے گا۔ انھوں نے مصلحتوں کی پروا کیے بغیر خدا کے مشن میں اپنے آپ کو شریک کیا اس لیے خدابھي پروا کیے بغیر ان کو اپنی رحمتوں میں لے لے گا۔

إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ ۖ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ ۚ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا ۚ فَأُولَٰئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَسَاءَتْ مَصِيرًا

📘 مومن کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کو آزاد نہ ماحول ملے جہاں اس کی ایمانی ہستی کے اظہار کے لیے کھلے مواقع ہوں۔ جب بھی ایسا نہ ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اپنا ماحول بدل دے۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔ ہجرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنے کو غیر موافق فضا سے نکالے اور اپنے کو موافق فضا میں لے جائے۔ ایک ادارہ ہے جس میں بعض شخصیتوں کا زور ہے۔ وہاں رہنے والا ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ میں یہاں شخصیت پرست بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر خدا پرست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر وہ آدمی اپنے مفاد کی خاطر ایسے ماحول سے مصالحت کرکے اس میں پڑا رہے اور جو چیز اس کو حق نظر آئے اس کے حق ہونے کا اعلان نہ کرے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح کوئی قوم ہے جس کا ایک قومی مذہب ہے۔ وہ اسی شخص کو اعزاز عطا کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ مذہب کو اپنائے، جو شخص ایسا نہ کرے وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس قوم کا ساتھی بنتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک ماحول میں حق کی دعوت اٹھتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بکھرے ہوئے اہل ایمان اس کی پشت پر جمع ہوں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ وہ اپنے مال سے اس کی مدد کریں۔ مگر ایمان والے اپنے فائدوںاور مصلحتوں کے خول میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے خول سے باہر آئیں اور حق کے قافلہ میں شریک ہو کر اس کی قوت کا باعث بنیں۔ اگر وہ اسی حال میں اپنی زندگی کے دن پورے کردیتے ہیں تو وہ خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں گے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تاہم وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو اس قدر معذور ہوں کہ ان سے کوئی تدبیر نہ بن رہی ہو اور نہ باہر سے ان کے لیے کوئی راہ کھل رہی ہو۔ آدمی اپنے ماحول میں ناموافق حالات دیکھ کرسمجھ لیتا ہے کہ ساری دنیا اس کے لیے ایسی ہی نا موافق ہوگی۔ مگر خدا کی وسیع دنیا میں طرح طرح کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں اگر ’’مکہ‘‘ ہے جہاں داعی کو پتھر مارے جاتے ہیں تو یہاں ’’یثرب‘‘ بھی ہے جہاں داعی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس لیے آدمی کو ماحول سے مصالحت کے بجائے ماحول کی تبدیلی کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ نئے مقام کو اپنا میدان عمل بنانا اس کے لیے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جائے۔

إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ وَالْوِلْدَانِ لَا يَسْتَطِيعُونَ حِيلَةً وَلَا يَهْتَدُونَ سَبِيلًا

📘 مومن کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کو آزاد نہ ماحول ملے جہاں اس کی ایمانی ہستی کے اظہار کے لیے کھلے مواقع ہوں۔ جب بھی ایسا نہ ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اپنا ماحول بدل دے۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔ ہجرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنے کو غیر موافق فضا سے نکالے اور اپنے کو موافق فضا میں لے جائے۔ ایک ادارہ ہے جس میں بعض شخصیتوں کا زور ہے۔ وہاں رہنے والا ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ میں یہاں شخصیت پرست بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر خدا پرست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر وہ آدمی اپنے مفاد کی خاطر ایسے ماحول سے مصالحت کرکے اس میں پڑا رہے اور جو چیز اس کو حق نظر آئے اس کے حق ہونے کا اعلان نہ کرے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح کوئی قوم ہے جس کا ایک قومی مذہب ہے۔ وہ اسی شخص کو اعزاز عطا کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ مذہب کو اپنائے، جو شخص ایسا نہ کرے وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس قوم کا ساتھی بنتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک ماحول میں حق کی دعوت اٹھتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بکھرے ہوئے اہل ایمان اس کی پشت پر جمع ہوں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ وہ اپنے مال سے اس کی مدد کریں۔ مگر ایمان والے اپنے فائدوںاور مصلحتوں کے خول میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے خول سے باہر آئیں اور حق کے قافلہ میں شریک ہو کر اس کی قوت کا باعث بنیں۔ اگر وہ اسی حال میں اپنی زندگی کے دن پورے کردیتے ہیں تو وہ خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں گے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تاہم وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو اس قدر معذور ہوں کہ ان سے کوئی تدبیر نہ بن رہی ہو اور نہ باہر سے ان کے لیے کوئی راہ کھل رہی ہو۔ آدمی اپنے ماحول میں ناموافق حالات دیکھ کرسمجھ لیتا ہے کہ ساری دنیا اس کے لیے ایسی ہی نا موافق ہوگی۔ مگر خدا کی وسیع دنیا میں طرح طرح کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں اگر ’’مکہ‘‘ ہے جہاں داعی کو پتھر مارے جاتے ہیں تو یہاں ’’یثرب‘‘ بھی ہے جہاں داعی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس لیے آدمی کو ماحول سے مصالحت کے بجائے ماحول کی تبدیلی کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ نئے مقام کو اپنا میدان عمل بنانا اس کے لیے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جائے۔

فَأُولَٰئِكَ عَسَى اللَّهُ أَنْ يَعْفُوَ عَنْهُمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَفُوًّا غَفُورًا

📘 مومن کی فطرت چاہتی ہے کہ اس کو آزاد نہ ماحول ملے جہاں اس کی ایمانی ہستی کے اظہار کے لیے کھلے مواقع ہوں۔ جب بھی ایسا نہ ہو تو آدمی کو چاہیے کہ اپنا ماحول بدل دے۔ اسی کا نام ہجرت ہے۔ ہجرت اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے یہ ہے کہ آدمی اپنے کو غیر موافق فضا سے نکالے اور اپنے کو موافق فضا میں لے جائے۔ ایک ادارہ ہے جس میں بعض شخصیتوں کا زور ہے۔ وہاں رہنے والا ایک آدمی محسوس کرتا ہے کہ میں یہاں شخصیت پرست بن کر تو رہ سکتا ہوں مگر خدا پرست بن کر نہیں رہ سکتا۔ اب اگر وہ آدمی اپنے مفاد کی خاطر ایسے ماحول سے مصالحت کرکے اس میں پڑا رہے اور جو چیز اس کو حق نظر آئے اس کے حق ہونے کا اعلان نہ کرے، یہاں تک کہ اسی حال میں مر جائے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح کوئی قوم ہے جس کا ایک قومی مذہب ہے۔ وہ اسی شخص کو اعزاز عطا کرتی ہے جو اس کے قوم پرستانہ مذہب کو اپنائے، جو شخص ایسا نہ کرے وہ اس کو قبول کرنے سے انکار کردیتی ہے۔ ایسی حالت میں اگر ایک شخص اس قوم کا ساتھی بنتا ہے اور اسی حال میں اس کی موت آجاتی ہے تو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ اسی طرح ایک ماحول میں حق کی دعوت اٹھتی ہے۔ اس وقت ضرورت ہوتی ہے کہ بکھرے ہوئے اہل ایمان اس کی پشت پر جمع ہوں۔ وہ اپنی صلاحیتوں کو اس کی خدمت میں لگائیں۔ وہ اپنے مال سے اس کی مدد کریں۔ مگر ایمان والے اپنے فائدوںاور مصلحتوں کے خول میں پڑے رہتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ اپنے خول سے باہر آئیں اور حق کے قافلہ میں شریک ہو کر اس کی قوت کا باعث بنیں۔ اگر وہ اسی حال میں اپنی زندگی کے دن پورے کردیتے ہیں تو وہ خدا کے یہاں اس حال میں پہنچیں گے کہ انھوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا۔ تاہم وہ لوگ اس سے مستثنیٰ ہیں جو اس قدر معذور ہوں کہ ان سے کوئی تدبیر نہ بن رہی ہو اور نہ باہر سے ان کے لیے کوئی راہ کھل رہی ہو۔ آدمی اپنے ماحول میں ناموافق حالات دیکھ کرسمجھ لیتا ہے کہ ساری دنیا اس کے لیے ایسی ہی نا موافق ہوگی۔ مگر خدا کی وسیع دنیا میں طرح طرح کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں اگر ’’مکہ‘‘ ہے جہاں داعی کو پتھر مارے جاتے ہیں تو یہاں ’’یثرب‘‘ بھی ہے جہاں داعی کا استقبال کیا جاتا ہے۔ اس لیے آدمی کو ماحول سے مصالحت کے بجائے ماحول کی تبدیلی کے اصول کو اپنانا چاہیے۔ عین ممکن ہے کہ نئے مقام کو اپنا میدان عمل بنانا اس کے لیے نئے امکانات کا دروازہ کھولنے کا سبب بن جائے۔